“یحییٰ ہم پاکستان کب واپس جائیں گے مجھے سب کی بہت یاد آتی ہے تعبیر یحییٰ کے ساتھ بہت خوش تھی اس نے اس رشتے کو دل سے قبول کر لیا تھا یحییٰ اُس سے عمر میں بڑا ضرور تھا لیکن بہت اچھی طبیعت کا تھا اور تعبیر کو بہت خوش رکھ رہا تھا۔
” تعبیر ہم ابھی تو آئے ہیں امریکہ اتنی جلدی پاکستان نہیں جا سکتے اور میرا تو سارا کام باہر کا ہے پر تم پریشان نہیں ہو جیسے مجھے چھٹیاں مل جائے ہم ضرور جائیں گے۔ ” وہ تعبیر کو تسلی دے رہا تھا وہ اس وقت کچن میں تھے یہاں وہ دونوں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہ رہے تھے۔
” تمہیں پتہ ہے میں سب سے پہلے تمہاری آنکھوں پر مر مٹا تھا اور جب میں نے تمہیں پردے میں دیکھا تھا تو میں پل بھر میں تمہیں جان گیا تھا۔ ” یحییٰ گھمبیر لہجے میں بول رہا تھا اور تعبیر کے گال سرخ ہو رہے تھے۔۔
” جی جی مجھے بالکل پتہ ہے کہ جناب آپ میری ان کالی آنکھوں پر مر مٹے تھے۔۔ ” وہ کافی نکالتی یحییٰ کے ہاتھ میں پکڑا گئی تھی۔
اور میں آپ کی سادگی پر مر مٹی ہوں۔۔ ” وہ ہولے سے مسکراتی یحییٰ کو پیار بھرے انداز میں بول رہی تھی یحییٰ تعبیر کے ماتھے پہ پیار کی مہر ثابت کر گیا تھا وہ دونوں ایک ساتھ بہت خوش تھے۔
وہ بہت غصے میں تھا تیز باںٔیک چلاتے وہ گھر پہنچا تھا یشل کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا نا جانے اب کیا ہونے والا تھا ۔۔۔
“یششششششششل میرا دل کر رہا ہے تمھیں مییں۔۔ ” اُس نے یشل کو ایک جھٹکے سے چُھوڑا تھا وہ گِرتے گِرتے بچی تھی وہ ڈھاڑا تھا انعم بیگم کمرے سے نکل آئی تھیں۔
“کیا ہو گیا کیوں چیخ رہے ہو۔۔ ” انعم بیگم استفسار کر رہی تھی حنظلہ یشل کو گھسیٹے ہوںٔے یوسف صاحب کے پورشن کی طرف آیا تھا پیچھے انعم بیگم دونوں کے پیچھے پیچھے گئی تھیں۔۔۔
“پوچھیں اپنی بیٹی سے یہ چھپ چھپ کر کیا کرنے جاتی ہے۔۔ ” وہ آج بہت تکلیف میں تھا۔۔ یشل کے زبان پر کفل لگ گیا تھا۔
“یشل کیا کہ رہا ہے حنظلہ بتاؤ۔؟ شاہین بیگم آگے کی طرف بڑھی تھیں۔
” یہ کیا بتائیے گی میں بتاتا ہوں یہ ماڈلنگ کر رہی ہے وہ بھی چھپ کر، آپ لوگوں کو اندازہ بھی ہے اسے وہاں اتنے مردوں میں دیکھ کر مجھے کیسا لگا تھا۔۔ ” وہ دونوں ہاتھ بلند کیے ہوا تھا۔۔ شاہین بیگم اور انعم بیگم نے منھ پر ہاتھ رکھ لیا تھا یوسف اور اسماعیل صاحب بھی اُسی وقت گھر میں داخل ہوںٔے تھے۔
“کیا کمی کی تھی میں نے یشل تم مجھ سے بولتی اگر تمھیں پیسے چاہیے تھے تو۔ ” وہ نم آنکھو سے یشل کے سامنے آیا یشل روتے روتے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
“ن۔ نہیں حنظلہ۔ می۔ میں ت۔ تو۔
یشل تم نے مجھے میری نظروں میں گِرا دیا میں سب سے کہتا تھا تم ایسی نہیں ہو پر تم نے ثابت کر دیا کہ تم بھروسے کے قابل نہیں ہو۔۔ ” اُس کی آنکھوں میں کرب تھا۔۔
“مجھے صفائی کا موقع تو دو۔۔ ” وہ ہاتھ جوڑتے حنظلہ سے ایک موقع مانگ رہی تھی۔
“بولو اب کیا رہ گیا ہے مجھے کچھ سُننا نہیں ہے میں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔۔ ” سارے بڑے دھم سادے سارا تماشا دیکھ رہے تھے۔۔
“حنظلہ میر تم اس حالت میں نہیں ہو کہ مجھ سے سوال کرو تم میرے پیٹھ پیچھے انشاء کے ساتھ چکر چلا رہے ہو۔ مجھے دھوکہ دے رہے ہو۔۔ ” یشل آنسوؤں کو صاف کر گئی تھی کیا غلطی صرف اُس کی تھی۔۔
“تم دونوں بیٹھ کر بات کرو۔۔ ” اسماعیل صاحب نے دونوں کو ٹوکا۔۔
“ن۔ نہیں بڑے بابا یہ جو مجھ سے سوال کر رہا ہے اس سے پوچھے یہ بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور لڑکی سے کیوں ملتا ہے۔۔ ” اب وہ بھی چُپ رہنے والوں میں سے نہیں تھی۔
“ہلکے بولو یشل یہ میرے بابا ہیں۔ ” وہ دونوں کے سر پر خون سوار تھا۔۔
“تم بتاؤ حنظلہ مجھ سے کیا کمی رہ گئی کہ تم دوسری جگہ جانے لگے۔۔ ” وہ حنظلہ کا گریبان پکڑ کر بولی۔۔
“پیار کرتا ہوں میں اُس لڑکی سے، تمھیں کوئی مسئلہ ہے تو ہوتا رہے۔۔ ” حنظلہ نے اپنی عنبر آنکھیں یشل کی آنکھوں میں گاڑھی۔۔ یشل کا دل کسی نے مٹھی میں لیا تھا۔ حنظلہ جو درد محسوس کر رہا تھا وہ درد اپنے الفاظوں سے یشل تک پہنچا رہا تھا۔
“حنظلہ وہ لڑکی تمھاری بیوی نہیں ہے تم آج اُس کی زبان بول رہے ہو اور اُس کے نظریہ سے دیکھ رہے ہو۔ ” یشل نے اپنی نگاہ اُس کے چہرے سے ہٹاںٔی۔
“وہ کم ازکم دھوکے باز تو نہیں ہے اور بیوی نہیں ہے تو کیا ہوا بیوی بن جائے گی۔۔ ” وہ سرد مہری سے بولا۔۔ مرد کو اپنی بیوی پر یقین ہونا چاہیے رشتوں کی پہلی بنیاد یقین ہی ہوتا ہے۔۔
“تم میری اجازت کے بنا دوسری شادی نہیں کر سکتے۔۔ ” اُس بے روعب جمایا۔
“اسلام نے اجازت دی ہے میں دو شادی کروں یا چار تم مجھے نہیں روک سکتی اچھا ہوا تمھیں پتا لگ گیا پر تم یہ ماڈلنگ نہیں کرو گی۔۔ ” وہ بے رحم بنا۔
“یشل چھوڑو حنظلہ کا گریبان وہ تمھارا شوہر ہے یشل تم نے پھر وہی کیا”
کیا زیب دیتا ہے عزت دار گھر کی لڑکیوں کو ماڈلنگ کرنا۔۔” یوسف صاحب دونوں کے بیچ میں آںٔے تھے۔۔
“بابا عزت دار گھر کے مردوں کو بھی زیب نہیں دیتا بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری عورت کے پاس جانا۔۔ ” وہ ایک بار پھر اکیلی ہوگئی تھی۔۔
“وہ مرد ہے یشل پر تم عورت ہو لوگ دیکھے گے تو کیا کہے گے.. ” اُن کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔
“واہ واہ مطلب مرد ہے تو اُس کے پاس سرٹیفیکیٹ ہے وہ کچھ بھی کرتا پھرے اور عورت سوال بھی نہیں کرسکتی یہ کیسا انصاف ہے بابا۔۔؟ ” یشل کی آواز ایک بار پھر بلند ہوںٔی تھی۔۔
“اگر یہ اپنی مرضی کرسکتا ہے تو میں بھی اپنی مرضی کی مالک ہوں میں نہیں چھوڑ سکتی ماڈلنگ میں نے کانٹریکٹ ساںٔین کیا ہے میں مجبور ہوں۔۔ ” یشل کی بات سن کر سب شاکٹ ہوںٔے تھے۔۔
“یا تو تم اس گھر سے چلی جاؤ یا پھر ماڈلنگ چھوڑ دو یشل کیونکہ میں یہ سب برداشت نہیں کرونگا۔۔ ” حنظلہ نے انگلی اُٹھا کر وارنگ دی۔۔
“اگر یہ بات میں بولوں کہ چھوڑ دو اُس لڑکی کو تو۔۔ نہیں چھوڑ سکتے نہ اس لیے حنظلہ میر تم مجھے چھوڑ دو میں نے اس رشتے کو نبھانے کے لیے اپنے خواب چھوڑے تھے پر اس دن کے لیے نہیں ۔۔ ” وہ داد دیتی سرد مہری کا لبادہ اوڑھ چکی تھی۔۔
“پڑی رہو یہی پر میں تمھیں چھوڑو گا نہیں۔۔ ” حنظلہ ٹیبل پر ٹھوکر مارتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
میر شاہ کب سے دونوں کو لڑتے دیکھ رہے تھے صبح سے ہی اُن کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اور یہ تماشہ دیکھ اُن کے دل میں ٹیس اٹھی تھی۔۔
“ی۔ یشل۔۔ ح۔ ظلہ۔۔۔۔ ” وہ لڑکھڑاتے قدموں سے صوفے سے اُٹھے تھے پر یکدم زمین بوس ہوںٔے تھے وہ دونوں جو ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے میر شاہ کو ایسے گِرتے دیکھ اُن کی جانب بھاگے تھے حنظلہ نے جاتے ہی ان کا سر اپنے پیروں پہ رکھا تھا میر شاہ پورے پسینہ پسینہ ہو رہے تھے۔ ۔
” ددہ یہ کیا ہو گیا آپ کو آنکھیں کھولیں ددہ حنظلہ ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں سے رگڑتے ہوئے بول رہا تھا باقی سب بڑے بھی میر شاہ کے ارد گرد آ گئے تھے۔۔
“یہ۔۔ شل ک۔۔ ک۔۔ کا خ۔۔ خیال رکھنا۔۔ ” وہ لڑکھڑاتی زبان سے ایک جملہ ہی ادا کر پائے تھے اور پھر ان کا جسم بالکل ساکت ہو گیا تھا۔ ۔۔ اُنھو نے حنظلہ کے ہاتھ میں یشل کا ہاتھ دیا تھا پھر وہ سانس نہیں لے سکے تھے۔
” ابا آنکھیں کھولیں حنظلہ انہیں اٹھاؤ ہسپتال لے کے جانا ہے.”اسماعیل صاحب یوسف صاحب سب پریشان ہوںٔے تھے گھر میں چیخو پکار مچ گئی تھی۔۔ یشل میر شاہ کو ایسے دم توڑتے دیکھ بے ہوش ہوگئی تھی۔
میر شاہ کو ہسپتال لے کے جایا گیا تھا ڈاکٹرز نے کہ دیا تھا کہ ان کو ہارٹ اٹیک آیا ہے اور آپ نے لانے میں دیر کر دی ہے تھوڑے گھنٹوں میں گھر پر صفیں ماتم بچھ گیا تھا ہر آنکھ اشکبار تھی۔
تعبیر نہیں آ سکی تھی اس لیے میر شاہ کو جلدی سپردِ خاک کر دیا گیا تھا۔۔ ۔
“ماما میری وجہ سے ددہ ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ ” یشل اُس دن کے بعد سے بالکل خاموش تھی حنظلہ کے ساتھ نہیں گئی تھی ایک مہینہ گزر گیا تھا میر شاہ کو اس دنیا سے گںٔے ۔۔ مگر زخم تازہ تھے۔
“ن۔ نہیں بیٹا اللہ کو جو منظور تھا وہی ہوا ہے۔۔ ” وہ یشل کو پیچھلے ایک مہینے سے یہی بات سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھی پر وہ ہر بار میر شاہ کی موت کا قصور وار خود کوسمجھتی تھی۔ ۔
” دوسری جانب حنظلہ کا بھی حال یشل سے کم برا نہیں تھا اس کے ددا نے اس کی گود میں ہی دم توڑ دیا تھا اُس کے لیے یہ غم ہی بہت بڑا تھا۔۔۔
کب تک حنظلہ تم اس طرح سوگ مناؤ گے۔ ” طلحہ حنظلہ سے ملنے آیا تھا۔
“ساری زندگی کیونکہ میری وجہ سے ددہ ہم سب کو اکیلا چھوڑ گئے ہیں۔۔ ” اُس کی آنکھیں نم تھیں۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے میرے بھائی خود کو سنبھال لو۔۔ ” طلحہ نے تسلی دی۔۔ پر اُس کا پچھتاوا ختم نہیں ہورہا تھا۔

