Uncategorized

20s Loves by Zoya Khan Zoshis Episode 11

اُن کی شادی کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا یشل زندگی میں آگے بڑھ رہی تھی جبکہ حنظلہ اسماعیل صاحب کے کہنے پر دکان پر جانے لگا تھا گھر والے ابھی بھی ناراض ہی تھے پورا پورا دن یشل کمرے میں گزار دیتی تھی اُس نے ویلاگنگ بھی چھوڑ دی تھی۔
دوسری طرف تعبیر کے سسرال والے شادی جلدی کرنے پر زور دے رہے تھے جس وجہ سے میر شاہ پریشان تھے ابھی ہی یشل کی شادی میں اتنا پیسہ لگا تھا اب تعبیر کی شادی کے لیے کوئی انتظام نہیں تھا۔۔۔
” تعبیر کے سسرال سے کال آئی تھی وہ لوگ کہ رہے ہیں کہ ہم اسے سادگی سے رخصت کر دیں وہ لوگ جہیز لینے سے بھی منع کر رہے ہیں۔ ” یوسف صاحب دکان سے گھر آئے تھے اور ان کی بات سن کر میر شاہ سوچ میں پڑ گئے تھے۔ ۔
” تو تم حامی بھر لو تھوڑا قرض اٹھا کر تھوڑی بہت جو چیزیں ہیں جو تعبیر کہے ہم وہ اسے دے دیں گے اب جب اس کے سسرال والے ہی رخصتی کے لیے ضد کر رہے ہیں تو رخصت کر دیتے ہیں بیٹیاں جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔ ۔ ” تعبیر وہیں کھڑی ساری باتیں سن رہی تھی۔
” ٹھیک ہے میں ان لوگوں کو یہ خبر پہنچا دیتا ہوں۔ ۔ ” یوسف صاحب نے یحیٰی کے ابو کو کال ملا دی تھی۔ تھوڑی دیر اور پھر بات کر کے وہ کال کٹ کرتے موبائل کو ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔ ۔
” وہ لوگ کہ رہے ہیں اسی ہفتے کے جمعہ والے دن نکاح کر لیتے ہیں کیونکہ اگلے ہفتے پھر وہ ملک سے باہر جا رہے ہیں پھر پتہ نہیں ان کی واپسی کب ہے۔۔ ” وہ عباس صاحب کی بات دوہرا رہے تھے۔
” ٹھیک ہے بس پھر گھر میں شادی کی تیاریاں شروع کریں اور یہ خبر اسماعیل کو بھی دے دو۔ ۔ ” میر شاہ تعبیر کے سر پر ہاتھ رکھ اپنے کمرے کی طرف چل دیے تھے۔۔
……………………………

” ماما جلدی سے کھانا لائیں بہت بھوک لگی ہے میں واپس دکان جاؤں گا تو بابا آئیں گے۔ ” حنظلہ دوپہر کا کھانا کھانے روز ہی گھر آتا تھا گھر میں داخل ہوتے اس نے انعم بیگم کو آواز لگائی تھی۔
” آجاؤ تم بھی کھا لو کھانا تمہاری بیگم سے بنوایا ہے دیکھو کیا بنایا ہے یہ پتلا پانی سالن اور اس میں کوئی ذائقہ بھی نہیں ہے۔۔ ” انعم بیگم نے تیکھی نگاہ یشل پر ڈالی تھی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا تھا جب وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے دیتی ہوں یشل کو برا بھلا کہنے کا۔۔
“ارے ماما اتنا اچھا تو ہے مجھے تو بہت مزے کا لگ رہا ہے ایک کام کرو یشل کھانا نکال کر تم کمرے میں لے آؤ میں منھ ہاتھ دھو لیتا ہوں ۔۔ ” وہ سالن کو روٹی سے لگاتے ہوئے کھا کر تعریف کرنے لگا تھا جس پر یشل کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے جبکہ انعم بیگم منھ بنا گئی تھیں۔
“ماما آپ کو جو بھی کھانا ہے بتا دیں میں آپ کو بازار سے لا دیتا ہوں۔۔ ” پھر وہ انعم بیگم سے بولا تھا یشل کھانا لینے کچن میں آگںٔی تھی۔۔
“نہیں رہنے دو تم کھانا کھا کر جاؤ دکان پر ۔۔ ” انعم بیگم منا کرتی اپنے کمرے کی طرف چل دی تھیں۔۔
یشل کھانا لیتی کمرے میں آںٔی تو حنظلہ بیڈ پر بیٹھا انتظار کر رہا تھا وہ کھانا اُس کے سامنے رکھتی خود صوفے پر جا کر بیٹھی تھی۔۔ حنظلہ یہ دیکھ حیرت زدہ تھا کیونکہ یشل اور وہ کھانا ساتھ ہی کھاتے تھے۔
“تم نے کھانا کھا لیا۔؟ ” وہ سوال کر گیا
“ن۔ نہیں۔ “یشل نے ایک لفظی جواب دیا۔
“تو آجاؤ ساتھ کھانا کھا لو۔ ” وہ یشل کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ کو بخوبی دیکھ رہا تھا۔
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ ” وہ حنظلہ کو نظر انداز کرتی دیگر کاموں میں لگ گئی تھی۔۔
“نخرے کر رہی ہو پر میں بھی منا کر ہی رہو گا۔۔ “وہ زبردستی یشل کا ہاتھ پکڑے لقمہ بنا کر اُس کو کھلا چکا تھا پھر وہ اپنی ناراضگی بھول کر ساتھ ساتھ کھانے لگی تھی۔ اُن کی زندگی ایسے ہی گزر رہی تھی۔ روٹھنا منانا چلتا رہتا تھا۔۔
حنظلہ ہمیشہ ایسے ہی رہنا۔ جو مرد رنگ بدلتے ہوں وہ عورت کو پسند نہیں ہوتے عورت تو بس چاہتی ہے مرد ہمیشہ ایک سا رہے شروع سے آخر تک” وہ حنظلہ کے کندھے سے سر ٹیکاںٔے ہوںٔے تھی۔ اور وہ لقمے بنا کر اُس کو کھانا کھیلا رہا تھا۔
“وعدہ ہمیشہ ایسے ہی رہونگا۔۔ ” وہ محبت سے کہہ رہا تھا یشل ہولے سے مسکرا دی تھی۔۔۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on