نہیں جاؤنگی، ددا میں راحیل کو پسند کرتی ہوں وہ بہت اچھا لڑکا ہے آپ اُس سے ایک بار مل تو لیں۔۔ ” وہ میر شاہ کے قدموں میں بیٹھی تھی۔۔۔۔
“شاہین اس لڑکی کو کمرے میں لے جاؤ دو دن میں اس کے نکاح کا انتظام کرتا ہو. ” یوسف صاحب کی ڈھاڑ پر شاہین بیگم یشل کو کمرے میں لے جا رہی تھیں۔۔
“راحیل سے میں محبت کرتی ہوں اُس کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرونگی سُن لیں آپ سب۔۔ “یشل کے گال پر یوسف صاحب کا ہاتھ اُٹھا تھا اور اُس کا چہرہ لال ہو گیا تھا سب حیرت کے مارے منہ پر ہاتھ رکھ گئے تھے جس بیٹی سے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی آج اُس پر ہاتھ اُٹھ گیا تھا۔۔
“بابا ایک بار اُس سے مل لیں آپ لوگ۔۔ ” وہ روتے روتے اب یوسف صاحب سے التجاء کر رہی تھی تعبیر کی آنکھیں یشل کو روتے دیکھ نم ہوگئی تھیں۔
“اس لیے تمہیں آزادی دی تھی کہ ایک دن تم ہماری عزت کو نیلام کروگی۔.. ” یوسف صاحب کا دوسری بار ہاتھ اُٹھا تھا پر ہوا میں ہی رہہ گیا تھا کیونکہ حنظلہ نے اُن کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا تھا یشل جو تھپڑ پڑنے کے ڈر سے آنکھیں بند کر گئی تھی اُس نے آنکھیں کُھولیں تو اپنے سامنے حنظلہ کو پایا جو دیوار بن کر اُس کے سامنے کھڑا تھا۔۔
“نہیں چاچو آپ یشل پر ایسے ہاتھ نہیں اُٹھا سکتے۔۔ آپ کیا !
یہاں کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ یشل کو مارے یا اُس کے ساتھ زبردستی کریں۔۔ “حنظلہ یشل کی طرف داری کر رہا تھا یہ لمحہ سب کے لیے نیا تھا وہ جو ہر وقت اُس کے مخالف ہوتا تھا جو اُس کو چوٹ پہنچانے کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتا تھا آج وہ ہی حنظلہ یشل میر کے لیے دیوار بن گیا تھا۔۔
” جب وہ کہہ رہی ہے تو مل لیں ایک بار اُس لڑکے کی فیملی سے میں اور یشل دونوں ہی اس شادی کے لیے راضی نہیں ہیں تو پھر زبردستی کیوں کر ریے ہیں ددا؟ ” حنظلہ نے یشل کو دیکھا تھا جو ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔
“ٹھیک ہے آج بُلا لو اُس لڑکے کو اگر تو وہ آگیا ہم اس یشل کا فیصلہ مان لے گے۔۔ ” میر شاہ کی روعب دار آواز نے سب کے کانوں میں سکون کی لہر دوڑا دی تھی۔۔ یشل تعبیر اپنے کمرے میں آگںٔی تھیں۔۔
“راحیل فون اُٹھا لو۔۔ ” یشل پریشانی کے عالم میں بار بار کال لگا رہی تھی تعبیر بیٹھی یہ ہی سوچ رہی تھی جب یشل ہمت کر کے بول سکتی ہے تو وہ کیوں نہیں کہہ سک رہی تھی زاہد اُسے بالکل بھی اپنے لیے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا وہ ہر وقت یشل سے اُس کا موازنہ کرتا تھا کبھی اُس کی رنگت پر سوال اُٹھاتا تو کبھی اُس کے کپڑوں پر شادی کے دن بھی قریب آرہے تھے یہ سب سوچتے وہ یشل سے بات کرنے کا ارادہ کرتی یشل کو پکار گئی تھی۔۔
” یشل مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔ ” تعبیر نے کہا۔۔
“ہاں بولو میں سُن رہی ہوں۔۔ ” یشل نے مصروف انداز میں کہا۔۔
“تعبیر راحیل کال نہیں اُٹھا رہا ہے۔۔ تعبیر کچھ بولتی اس سے پہلے ہی یشل بول پڑی تعبیر یشل کو دیکھ بعد میں بات کرنے کا ارادہ کر گئی۔ ۔
بھاںٔی کس کی یادوں میں کھوںٔے ہوںٔے ہیں۔۔؟ ” انشاء جو پانی پینے آںٔی تھی یحییٰ بیگ کو ویسے ہی سوچوں میں محو دیکھ پوچھ بیٹھی۔۔
میں کس کو سوچ رہا ہوں گا میں تو یہاں بس پانی پینے ایا تھا اور آج تمہاری وہ دوست نہیں آئی یحییٰ نے استفسار کیا۔
” میری کون سی دوست بھاںٔی.”انشاء انجان بنی
” ارے بھئی جو اس دن ڈر گئی تھی. “یحییٰ نے یاد دلانے کی کوشش کی تو انشاء نے اُمڈ آنے والی مسکراہٹ کو روکنے کی سعی کی۔۔
” بھائی دراصل وہ میری دوست ہے میری بھابھی نہیں جو میرے ساتھ ہی رہے لیکن اگر آپ چاہیں تو میری بھابھی بن سکتی ہے۔ “انشاء اب یحییٰ بیگ کو تنگ کر رہی تھی…
” میرا وہ مطلب نہیں تھا اور یہ تم کیا ہر وقت گھر میں بیٹھ کر ناول پڑھتی رہتی ہو پڑھائی پر فوکس کرو جب ڈیڈ واپس آئیں گے تو پھر مجھ سے ہی سوال کریں گے نا کہ میں نے ان کی لاڈلی کا کتنا خیال رکھا ہے یحیی نے انشاء کے سر پر ہلکی سی چٹ لگائی۔ ۔۔
” ویسے سنو انشاء میں کہہ رہا تھا تم سب کب سے میری شادی کے پیچھے لگے تھے تو اب میں شادی کے لیے تیار ہوں تمھاری وہ دوست جس کی آنکھیں چمکدار سیاہ ہیں وہ مجھے پسند ہے ۔۔ ” یحییٰ کب سے انشاء کے ساتھ ہی بیٹھا تھا وہ ہر بات سیدھی طرح کہنے کا عادی تھا ابھی بھی وہ اپنے دل کی بات بنا ٹال مٹول کریں انشاء سے کہہ گیا تھا۔۔
“بھاںٔی کیا کہا آپ نے ؟ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی میرا مطلب مشہور بزنس ٹيکون یحییٰ بیگ جنہیں ہر لڑکی سے چڑھ تھی جو شادی نہ کرنے کی ضد میں ۳۵ عمر کے ہوگںٔے اُنہیں میری وہ جھلی پڑھاکو دوست پسند آگںٔی ہے” انشاء شوکٹ کے مارے اُچھلی تھی پھر ہاتھ سے ماںٔیک بناتی وہ اداکاری پر اُتر آئی تھی یحییٰ اُسے اتنا خوش دیکھ مُسکرا اُٹھا تھا۔۔
“انشاء۔۔ ” یحییٰ بیگ کی ایک آواز پر وہ چُپ ہوںٔی تھی پھر وہ وہاں سے نکل گیا تھا جبکہ انشاء تعبیر کے گھر جانے کا سوچ رہی تھی تعبیر نے انشاءکو اپنے رشتے کے بارے میں نہیں بتایا تھا ایک تو وہ یہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ انشاء کو بتائے کیسے کہ وہ اس کے بنا ہی رشتہ پکا کر چکی تھی اور دوسرا یہ کہ وہ خود یہی سوچ رہی تھی کہ گھر والوں کو زاہد کی اصلیت بتا کر اس رشتے کو ختم کر دے گی تو انشا کو یہ بات بتانی ہی نہیں پڑے گی۔ ۔

