وہ کل کے فنکشن کے بعد وہ بہت تھک گئی تھی آج کے دن گھر پر ہی ڈھولکی تھی اور کل بارات تھی وہ بمشکل آنکھیں کُھلے اُٹھ بیٹھی تھی اُس کی نظر گھڑی پر پڑی تھی بارہ بج گئے تھے اور اُس کو کسی نے جگایا نہیں تھا وہ فریش ہونے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوںٔی تھی۔۔
“کس کا میسج ہے۔۔ ” وہ جو فریش ہونے جا رہی تھی موبائل بجنے کی آواز پر واپس پلٹی اور موبائل اُٹھا کر چیک کیا تو راحیل کا میسج تھا۔۔
“آج میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔۔ ” یشل نے میسج پڑھا۔۔
“اب ایک دن تو رہہ گیا ہے گھر پر سارے مہمان جمع ہے ایسے میں بالکل نہیں مل سکتی۔” وہ اب جواب لکھ رہی تھی۔۔ تھوڑی دیر میں موبائل بجنے لگا تھا کل آراہی تھی۔۔یشل نے کال اُٹھا کر موبائل کان سے لگایا اُس کے ہاتھ میں مہندی کا رنگ گھیرا آیا تھا۔۔۔
“میں نے تمھارے لیے اتنی محنت سے سراپرںٔز ارینج کیا ہے اور تم اب آنے سے انکار کر رہی ہو۔۔ ” موبائل کے دوسری طرف سے آواز گونجی تھی۔۔۔۔
“راحیل ایک دن بعد تو میں ساری زندگی کے لیے تمھارے پاس آجاؤنگی ویسے بھی شادی سے پہلے ملنا اچھا نہیں ہوتا۔۔ ” یشل مایوں بیٹھ چکی تھی ایسے میں باہر جانا تو ممکن ہی نہیں تھا. وہ ابھی سادہ سے پیلے رنگ کے سوٹ میں تھی
“اگر تمہیں مجھ سے پیار ہے نہ تو آج تم ضرور آؤگی میں انتظار کرونگا تمھارے گھر کے پیچھے والی گلی میں۔۔ ” وہ آخری بات کہتے کال کاٹ چکا تھا اور یشل پریشانی کی حالت میں سوچ میں پڑ گئی تھی کیسے جاںٔےاب کچھ نہ کچھ کر کہ اُسے جانا تو تھا وہ موبائل پر اپنے کل والے ویلوگ کے ویوز وغیرہ دیکھتی موبائل کو چرجینگ پر لگا کر فریش ہونے چل دی تھی۔۔
اب اُس کے یوٹیوب اکاونٹ پر پہلے سے زیادہ ویوز آنے لگے تھے جب سے وہ شادی کی ویلوگ ڈال رہی تھی لوگوں کی تعداد اور بڑھ گئی تھی۔۔ فریش ہو کر وی باہر آںٔی تھی جہاں سب لوگ موجود تھے۔۔ اور سب کے ساتھ خوب باتیں کی تھیں۔ اُسے دو گھنٹے میں نکلنا تھا۔
“کیا کرو کیسے جاؤ؟ ” وہ ٹہلتے ہوئے سوچ رہی تھی پہلے تو تعبیر کی مدد لے سکتی تھی لیکن اب تعبیر سے تو اس کی کوئی بات ہی نہیں ہو رہی تھی ۔ اسے جانا تو تھا ہی اس لیے کچھ سوچتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جانے لگی پھر ٹھہر کے تعبیر سے بولی۔ ۔
” میں دو تین گھنٹے اپنے کمرے میں سونے جا رہی ہوں مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے وہ بلند اواز میں کہتی چلی گئی تھی۔”کمرے میں ا کر یشل نے کمرہ لاک کیا تھا اور پھر الماری سے اپناعبایا نکالا اور پہننے لگی عبایا پہننے کے بعد اس نے سر پر حجاب باندھا تھا اور نقاب لگاتے وہ اپنی گیلری کی طرف آئی تھی اب یہی ایک راستہ تھا گھر سے نکلنے کا بچپن سے وہ چھتیں پھیلانگتے آئی تھی اور یہ تو بس کھڑکی سے نکل کر محلے کی برابر والی گلی سے نکل جانا تھا اونچائی بھی زیادہ نہیں تھی یہ یشل کے لیے بالکل بھی مشکل نہیں تھا وہ گلی میں کود کر تیز تیز قدم لے رہی تھی اس وقت گلی میں سناٹا تھا اس کا یہی ارادہ تھا کہ راحیل سے مل کر تین گھنٹے تک گھر واپس ا جائے گی جب تک یقینا اس کے کمرے میں کوئی نہیں انے والا تھا۔
20s Loves by Zoya Khan Zoshis Episode 8

