“بی بی جی ڈاکٹر صاحب نے آپ کو لینے بھیجا ہے۔”کوثر نے کھڑکی پہ دستک دے کر کہا تو وہ سر ہلاتی ہوئی بیگ سنبھال کر دروازہ کھول کے نیچے اتری۔نظریں اس عمارت پہ جمی ہوئی تھیں۔جس کے باہر…..مینٹل ہیلتھ کیئر کا بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا وہ لب کچلتی،دھڑکتے دل کے ساتھ آہستگی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
“کیا میں واقع ہی پاگل ہوں؟” اس کا دماغ بار بار استفسار کر رہا تھا۔
“یس ، آئی ایم مینٹل” اس نادان دماغ کو دینے کو بس یہ ہی جواب تھا
“بی بی جی! یہ ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب کا گھر ہے۔ آپ چلیں میں ڈاکٹر عافیہ کے پاس جا رہی ہوں انہیں میری ضرورت تھی۔” وہ نرمی سے اسے راستہ دکھاتی گویا ہوئی تو لجین نے مردہ سی مسکراہٹ لیے اثبات میں سر ہلا دیا۔وہ سیڑھاں اتر کر دائیں بائیں دیکھنے لگی۔سڑک کے دونوں جانب ڈاکٹروں کی رہائش گاہ تھیں۔تبھی اس کی نظر ایک لوہے کے بورڈ پہ پڑی۔یہ گھر باقی کے اپارٹمنٹ سے خاصا مختلف تھا۔
“ڈاکٹر واصق ملک،ایم بی بی ایس، ماہر سائیکالوجسٹ”وہ زیر لب بڑبڑاتی ہوئی آگے بڑھی اور جھجھکتے ہوئے ڈور بیل پہ ہاتھ رکھا۔وہ جو کمرے سے پھیلاوا سمیٹ رہا تھا کتابوں کو واپس میز پہ رکھ کر دروازے کی سمت بڑھ آیا۔
“دروازہ تو کھلا ہی تھا۔” دروازہ کھولتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“مجھے عادت نہیں ہے بنا اجازت کے کسی کے گھر میں گھسنے کی۔” وہ بھی سپاٹ لہجے میں بہت کچھ باور کرواتی وہاں ہی جمی رہی تھی۔
“اچھی عادت ہے……اندر آ جاؤ۔”وہ مبہم سا مسکرا کر ایک نگاہ اس کے چہرے پر ڈالتا خود آگے بڑھ گیا۔لجین نے جھجھکتے ہوئے قدم اس کے پیچھے بڑھائے تھے۔
“آپ یہاں سکون سے رہ سکتی ہیں۔میں یہاں ٹھہرتا نہیں ہوں۔ بادل ناخواستہ اگر کبھی رکنا بھی پڑا تو اپنے آفس روم میں رک جاؤں گا۔”وہ صوفے پر سے اپنی ٹی شرٹ اور کتابیں اٹھاتے ہوئے اس کی جانب پلٹا تھا لجین تیوریوں پر بل لیے اسے گھور رہی تھی
“پوچھ سکتی ہوں کہ میں یہاں آپ کے گھر میں کیوں رکوں گی؟” وہ خوف زدہ ہو کر استفسار کرنے لگی۔
“کیونکہ آپ میری مریضہ ہیں۔”
“پھر تو آپ ان سب پاگل خانے کے مریضوں کو اپنے گھر میں ٹھہرنے کی اجازت دیتے ہوں گے جو آپ کے مریض ہیں،ہاں نا؟” وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اسے گھورنے لگی تھی۔وہ اس کی بات پہ ہنستا ہوا کتابیں اٹھا کر کمرے سے منسلک لائبریری میں جا گھسا۔واصق ملک کے اس انداز پر لجین کو تاؤ آیا تھا۔
“مسٹر واصق ملک! میری بات غور سے سنیں۔”وہ بیگ وہاں ہی صوفے پہ پٹختی اس کے پیچھے بڑھی۔
“میں ہمہ تن گوش ہوں جناب!…..سنائیں۔”وہ اب بھی مسکرا رہا تھا اور لجین کا خون کھول اٹھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دیوار کے قریب پڑی میز پر رکھا کرسٹل کا واس اٹھا کر اس کے سر پہ دے مارے۔
“میرے ساتھ فلرٹ مت کرو،اور مجھے میری اصلی جگہ دکھاؤ۔میں ویسی لڑکی ہرگز نہیں ہوں جیسی تم سمجھ رہے ہو۔” اس نے نم پلکوں کو جھپکتے ہوئے سخت لہجے میں کہہ کر سر جھکا لیا تھا۔نجانے یہ شخص اسے کیا سمجھ کے اپنے گھر لے آیا تھا؟
“میں تمہیں ایسی، ویسی ،کیسی،جیسی…..کوئی بھی لڑکی نہیں سمجھ رہا اور نہ ہی فلرٹ کر رہا ہوں۔”واصق ملک دو قدموں کے فاصلے پر رکتے ہوئے اس کی نم آنکھوں میں براہ راست جھانکتے ہوئے سنجیدگی سے گویا ہوا تو ایک انجانی کیفیت کے زیرِ نظریں چرا گئی۔
“مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے خفا ہو مگر خیر ابھی میں اپنے گزشتہ رویوں کی وضاحت نہیں دے سکتا کہ اس وقت ٹائم نہیں ہے مجھے ہسپتال کا راؤنڈ لینا ہے۔” نرمی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ دھیمی سی مسکراہٹ لیے پلٹ کر بک رینک میں کتابیں سیٹ کرنے لگا تھا۔
“مجھے نہیں چاہیے تمہاری وضاحت۔تم جانتے تھے کہ میرا دماغی توازن ٹھیک نہیں اسی لیے ٹائم پاس کر رہے تھے۔” وہ شکوہ کناں تھی۔
“ٹائم پاس؟” واصق شدید صدمے کی کیفیت میں پلٹ کر اس کے پتھرائے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا۔
“دیکھو لجین! آپ پاگل نہیں ہیں بس اپنی کچھ یادیں کھو چکی ہیں جنہیں یاد کرنے کی بدولت آپ ان ہی یادوں کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہی ہیں۔پاگل لوگ کیسے ہوتے ہیں میں آپ کو دکھاتا ہوں۔فلحال فریش ہو جائیں…..پھر ہاسپیٹل چلتے ہیں۔” وہ اس کی بات نظر انداز کرتا سمجھانے والے انداز میں کہہ رہا تھا۔لجین نم آنکھوں سے سر جھکائے لب بھینچ کر پلٹ گئی تھی۔
“ٹائم پاس۔” واصق نے لب بھینچ کر ایک نظر اس کی پشت پر ڈالی اور سر جھٹک کر پلٹا۔الماری میں کتابوں کو ترتیب دیتے ہوئے اس کا دماغ کہیں اور جگہ ہی الجھا ہوا تھا۔
Al Hub by Tayyaba Chaudhary Episode 4 Online Reading

