ایبک ملک بےحد تیزی سے اپنی سیاہ لینڈ میں سوار ہونے لگا تھا مگر پورٹکو کے انٹرس پر ابھرنے والی زنانہ قدموں کی آہٹ پر لاشعوری طور پر پلٹا اور پھر نگاہیں جھکانا بھول گیا۔لجین اسے اپنے سامنے پا کر خوف زدہ سی ہو کے تیزی سے پورچ میں سے نکلنے لگی تھی۔
“اتنا سج دھج کر جانے کی کیا ضرورت ہے؟” ایک منٹ میں اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے وہ آگے بڑھا اور کرختگی سے اس سے استفسار کرنے لگا تھا،وہ بےاختیار ہی ہڑبڑا کر ایک قدم پیچھے ہٹی اور اسے اچھنبے سے دیکھنے لگی۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو،میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔جواب دو۔” اس نے دانتوں پہ دانت جمائے تھے۔وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی۔
“پ پلیز آپ دور رہیں مجھ سے۔” وہ ہکلائی۔ایبک کی پیشانی پر بل نمایاں ہوئے۔
“میں نے تمہیں کتنی مرتبہ کہا ہے کہ سادگی میں رہا کرو، ایک تو تم پہلے بیمار ہو اوپر سے خود کو اتنا سجا لیتی ہو۔”بےاختیار ہی جھک کر اس کا کانپتا ہاتھ اپنے آہنی ہاتھ میں تھامتے ہوئے ایک جھٹکے سے لجین کو اپنی جانب کھینچتے سخت گیر نگاہوں سے اس کی لرزتی پلکوں کو دیکھنے لگا تھا۔ایبک ملک کا یہ جارہانہ انداز اس نازک کلی کو کانپتے پر مجبور کر گیا تھا۔
“تم اپنی حفاظت خود کیوں نہیں کرتی؟ کیوں خود کو سنبھال نہیں سکتی؟ کیا نواب اتنا فضول انسان تھا کہ تم ہر ایرے غیرے میں اسے دیکھتی ہو؟” اس کے کھلے بالوں کو شانوں پر سے جھٹکتے ہوئے وہ تیکھے لہجے میں طنز کر رہا تھا۔
“آپ جانتے ہو نواب کو؟” لجین نے بےقراری سے اس کی جانب دیکھا تھا۔وہ ساکت نگاہوں سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جو نواب کے ذکر پر لمحوں میں چمکی تھیں۔
“بالوں کو باندھو اور آئندہ اگر تم نے کسی کو بھی نواب سمجھ کر چپکنے کی کوشش کی تو میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا۔” اس کی ڈری سہمی نگاہوں میں براہِ راست جھانکتے ہوئے ایبک ملک نے دھمکی دی تھی،اور اسکا لہجہ اس قدر سنجیدہ تھا کہ گویا سچ میں اپنے کہہ پر عمل کر گزرتے گا،لجین نے تیزی سے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بنایا تھا۔
“گڈ، تمہاری طبیعت کیسی ہے اب؟” وہ دھیمی سی مسکراہٹ لیے استفسار کرتا ایک قدم پیچھے ہٹا تو لجین اپنی جان بچ جانے پر حیرت زدہ رہ گئی۔
“آپ….آپ مجھ سے اس طرح بات کیوں کرتے ہیں؟ کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟ ہم کبھی جرمنی میں ملے ہیں؟ آپ کیا لگتے ہو میرے؟” لجین کانپتی آواز کے ہمراہ استفسار کرتی نم آنکھوں سے اس کے چھ فٹ سے نکلتے قد و قامت کو دیکھ رہی تھی،سیاہ شلوار سوٹ پر ہم رنگ دھاگے کی کڑھائی والی واسکٹ پہنے وہ کسی ریاست کا بادشاہ لگ رہا تھا۔وہ اکثر سوچتی تھی کہ ایبک ملک جیسا شاندار مرد اس کی فکر کیوں کرتاہے؟ اس پر حق کیوں جاتا ہے؟
“بتائیں مجھے کیا لگتے ہیں آپ میرے؟” براہِ راست اس کی نشیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے استفسار کیا تھا جس پر وہ دھیمی سی مسکراہٹ لیے بولنے کے لیے لب وا کیے ہی تھت کہ پورٹکو وے پر قدموں کی آہٹ سن کر ایک نگاہ لجین کے چہرے پر ڈالتا اس کی کلائی چھوڑ کر تیزی سے پلٹ کے لمبے ڈگ بھرتا گاڑی میں سوار ہو گیا تھا۔لجین اپنی دھڑکنوں کی بےترتیبی کو سنبھالتی نے گردن گھما کر تشکر بھری نگاہوں سے آنے والے شخص کو دیکھنےلگی مگر اگلے ہی پل اس کی سانسیں حلق میں ہی اٹک گئی تھیں۔واصق انگلی پر گاڑی کی_رنگ گھوماتے ہوئے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہا تھا،دائیں ہاتھ میں فون پر محو گفتگو وہ مسکراتے ہوئے جیسے ہی اس کی جانب متوجہ ہوا ایک لمحے کو چونک کر رکا،لجین شرمندہ سی آر جھکا گئی تو واصق بھی رات کا واقع یاد کرتے ہوئے خفگی سےرخ پھیر گیا۔لجین نے پلٹ کر ایبک کو دیکھا تھا جو سائیڈ مرر سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
واصق اپنی گاڑی میں سوار ہو کر گاڑی بیک لینے لگا تو ایبک نے شیشہ ڈاؤن کر کے اسے ہاتھ ہلایا تھا وہ بھی بدلے میں مسکرا دیا نجانے کیوں لجین کو اس کا یہ انداز بہت چبھا تھا اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ اسے جتا رہا ہو کہ “اس ریاست کا ہر ایک شخص اس کاہے اور وہ تو درمیان میدان میں تنہا کھڑی ہے۔”
ایسی کڑوی سوچ پر لجین سختی سے لب بھینچ کر سر جھکا کر بوجھل قدموں سے واپس پلٹی تھی۔کسی کی نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا جب تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل نہ ہوئی۔
Al Hub by Tayyaba Choudhary Episode 2 online reading

