Uncategorized

Al Hub by Tayyaba Chudhary Episode 3 Online Reading

خوش فہمی اور حقیقتِ منتظر میں چند لمحے کا فرق ہوتا،جو ان لمحوں میں سنبھل گیا وہ حقیقت میں رہ گیا اور جس نے ہوش کھو دیئے گویا وہ خوش فہمی کی بھول بھلیاں میں الجھ گیا۔لجین کا بھی حال واصق ملک کو لے کر کچھ ایسا ہی ہوا تھا،وہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید سچ میں واصق اس کا دوست بن گیا ہے،اور جب یہ خوش گمانی ختم ہوئی وہ برداشت نہیں کر پائی تھی۔قصور اس کا بھی نہیں تھا بینش کے بعد وہ واحد شخص تھا جس نے اسے پاگل نہیں سمجھا تھا، جس نے اچھے سے بات کی اور واصق ملک سے غلطی یہ ہوئی کہ انجانے میں وہ اس کا دل دکھا بیٹھا تھا۔ساری رات روتے گزر گئی،لجین اس کا نظر انداز کرنا برداشت نہیں کر پائی تھی۔
ولیمے کے فنکشن میں بھی وہ لڑکی واصق کے ساتھ ساتھ ہی نظر آ رہی تھی۔ نجانے کیوں لجین کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا،وہ کتنی اہمیت دے رہا تھا اسے،ہنس ہنس کر بات کرنا،اور وہ لڑکی بار بار جب واصق کے شانے یا ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارتی تو لجین کو یوں لگتا جیسے وہ ہاتھ اس کے دل پر پڑا رہا ہو، اس کیفیت کو کوئی نام نہ دے پا رہی تھی۔سب سے الگ تھلگ بیٹھی ان دونوں کو بہت غور سے دیکھتی رہی تھی۔بہت کوشش کے باوجود وہ نگاہیں ان پر سے ہٹا نہیں پائی تھی۔   
“وہ حریم ہے،واصق ملک کی خالہ زاد اور ایبک ملک کی سالی….پولیٹکس سائنس کر رکھی ہے، بہت مغرور لڑکی ہے۔اپنی فیملی سے بہت محبت کرتی ہے اور شاید…..واصق ملک سے بھی۔ آج کل فری ہے تو واصق کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔”بینش نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے رازدارانہ انداز میں آگاہ کیا تھا،لجین نے لب بھینچ کر ان دونوں کو دیکھا….وہ ساتھ میں اچھے لگ رہے تھے۔
“واصق ملک بھی تو اسے ڈیٹ کر رہا ہے نا؟” اس نے ان پر سے نگاہیں ہٹاتے ہوئے سپاٹ لہجے میں استفسار کیا تھا۔
“کیا پتہ کہ اب واصق ملک کس نیچر کا شخص ہے باہر رہ کر آیا ہے، اور تم تو اچھی طرح سے جانتی ہو جب  پاکستانی لڑکے باہر جاتے ہیں تو کچھ نہ کچھ تو گل کھلا کر ہی لوٹتے ہیں…خیر….” وہ ایک لمحے کو رکی۔
“تم اس پر سے نگاہ ہٹا کر کہیں ادھر ایبک ملک پر بھی جما لو وہ تمہیں ہی دیکھتا ہے۔مجھے لگتا ہے وہ تمہیں اس جیل سے رہا کروا سکتا ہے۔” بینش نے اُس کو ایبک ملک  کی جانب متوجہ کیا تھا۔لجین نے رخ موڑ کر دائیں جانب دیکھا تھا جہاں ایبک ملک چند آدمیوں کے درمیان کھڑا مبہم سی مسکراہٹ لیے محو گفتگو تھا۔
“کمال ہے نا آج تم دونوں کا ڈریس میچنگ ہے۔”بینش نے چھیڑا تھا۔ پہلی مرتبہ لجین نے اس کے آسمانی رنگ کے لٹھے کے شلوار سوٹ کو دیکھتے ہوئے اپنی میکسی پر نگاہ ڈالتے ہوئے خفگی سے بینش کی جانب دیکھنے لگی۔
“تمیز کرو بینش! وہ شادی شدہ ایک بچے کا باپ ہے،اور اس کی عمر بھی لگ بھگ تیس سال تو ہو گی ہی مجھے غلط راستہ مت دکھاؤ۔” وہ سختی سے گویا ہوئی تھی۔باجوہ مینشن سے فرار کا راستہ تلاشتے ہوئے نجانے وہ کیا کیا نہیں سوچ چکی تھی مگر اس وقت بینش کی باتیں اسے زہر سے کم نہ لگیں۔
“دیکھو مینا! پریکٹیکل ہو کر سوچو وہ شخص جس کی ایک نظرِ کرم کو نجانے کتنی لڑکیاں منتظر ہیں وہ تمہاری طرف بڑھا ہے پھر تم کیوں اس سے بھاگ رہی ہو؟ اور رہی شادی کی بات تو سب جانتے ہیں کہ مناہل ملکانی بیگم کی پسند ہیں ایبک نے محض ماں کی محبت میں شادی کی تھی۔”
“ہاں بچہ بھی ماں کی محبت میں ہی پیدا ہو گیا نا؟”طنزیہ انداز میں کہتی وہ گہری سانس بھر کر لب بھینچ گئی۔
“گلے پڑے ڈھول کو بجانا تو پڑتا ہے۔” بینش کی زومعنی بات پر وہ پہلوؤں بدل کر رہ گئی تھی۔
“اچھا بس بہت ہوا مزید کوئی بکواس نہیں کرنا۔”لجین نے درتشگی سے کہتے ہوئے جیسے ہی نگاہیں اٹھائی تھیں سامنے کھڑے ایبک ملک سے نگاہیں ملتے ہی وہ دھیمی سی مسکراہٹ لیے نیچلے لب کو دانتوں تلے دبائے سر جھکا گیا جب کہ لجین اس کے یوں دیکھنے اور پھر دلفریب انداز میں مسکرانے پر ایک مرتبہ پھر سے پریشان ہو گئی تھی۔
“مینا! وہ تمہیں پسند کرتا ہے،تم کیوں یہ بات نہیں سمجھ رہی؟” بینش نے اکتا کر اس کا ہاتھ دبایا تھا۔
“چپ کرو مہا اول فول بکے جا رہی ہے۔وہ ایک شادی شدہ مرد ہے۔ تم مجھے بھٹکانے کی کوشش مت کر،پہلے ہی میری زندگی تنگ ہے اسے تاریک ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہوں اور تم ہو کہ مجھے ایسے خواب دیکھنے پر مجبور کررہی ہو جن کی کوئی تعبیر کی نہیں ہے۔” لجین نے اس کی بات کاٹتے ہوئے ڈپٹنے والے انداز میں کر تنبیہہ کی۔
“اگر شادی شدہ نہ ہوتا تو؟” اس نے استفسار کیا۔
“پھر بھی نہیں…..بینش! میرے دل میں کسی کے لیے بھی گنجائش پیدا نہیں ہو گی،اور خاص طور پر ایبک ملک کے لیے تو بلکل بھی نہیں۔” اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے اس نے اٹل انداز میں کہا تھا۔
“مگر یہاں سے نکلنا تو ہے نا یا پھر ساری عمر ان لوگوں کی نوکر بنی رہنا چاہتی ہو؟ اور تانے سنتے مر جانا چاہتی ہو؟سارا دن گدھے کی مانند کام کرتی ہو،تمہاری دوائیں ختم ہو جائیں تو وقت پر تمہیں نہیں ملتی۔آخر تم کیوں یہاں سے نہیں نکلنا چاہتی؟” وہ جذباتی ہو کر اسے ڈانٹنے لگی تھی۔
“بینش! تم جانتی ہو نا نواب کے متعلق۔”
“ہاں وہ ہی کوئی اجنبی…..جو محض خوابوں میں آتا ہے اور تمہیں دورہ پڑ جاتا ہے،دیکھو لجین! وہ محض تمہاری سوچ ہے اور کچھ نہیں،اگر واقع ہی کوئی ایسا شخص ہوتا تو پانچ سالوں میں تم تک پہنچ نہ جاتا؟ مگر ایسا کوئی انسان ہے ہی نہیں۔” اس نے آنکھیں گھماتے ہوئے اکتاہٹ بھرے انداز میں کہا،اس نے لجین کو سچائی کا آئینہ دکھایا تھا۔
“نہیں بینش! وہ خواب نہیں مجھے لگتا ہے وہ سب حقیقت میں ہو چکا ہے۔ کیا پتہ میں شادی شدہ ہوں؟ تم کہتی ہو نا جب میں اپنے حواسوں میں نہیں رہتی  تو میں کہتی ہوں کہ کپڑے پریس کر دیئے ہیں، کیک بیک کر دیا ہے،باہر چلیں….یا پھر کچھ ایسا ہی کیا پتہ یہ سب میری وہ یادیں ہیں جو مجھے یاد نہیں رہیں؟ کیا پتہ نواب میرا شوہر ہو؟” اس کی بات پر بینش ایک پل کے لیے سوچ میں پڑی پھر شانے آچکا کر ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی تھی۔
“میں ٹھیک ہونا چاہتی ہوں۔ مجھے میرے پاسٹ کے متعلق جانا ہے، نواب کے متعلق جاننا ہے۔”
“یہ بات اپنے تایا سے کہنے کی ہمت پیدا کرو۔”
“تم جانتی ہو نا کہ میں تمہارے سوا کسی سے دل کی بات شیئر نہیں کر سکتی۔” اس نے افسردگی سے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور تھکے ہوئے انداز میں کرسی پر بیٹھ گئی۔
“کاش بینش! میں بھی نارمل ہوتی تو ان سب کی طرح قہقہے لگا رہی ہوتی، جس طرح حریم، واصق ملک کے ساتھ پرسکون ہے میں بھی اپنے لائف پارٹنر کے ساتھ خوش اور مطمئن ہوتی۔ میرا بھی ایک گھر ہوتا۔” اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی۔بینش دلبرشتہ کو کر اس کے شانے کو سہلانے لگی۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا مینا! تم بلکل ٹھیک ہو جاؤ گی۔” بینش نے ہمیشہ اس کی ڈھارس بندھی تھی۔
“مجھے نواب مل جائے گا نا؟” اس نے سر اٹھا کر کیسی امید بھری نگاہوں سے تصدیق چاہی تھی۔ بینش نے بےاختیار ہی ڈرتے ہوئے لجین کے شانے سے ہاتھ اٹھا لیا۔
“ارے ڈرو نہیں میں حواسوں میں پوچھ رہی ہوں۔نجانے کیوں مجھے آج اس کی یاد آ رہی ہے…..پتہ نہیں وہ کون ہے؟ کیسا ہے؟ مجھ سے اس کا کیا رشتہ ہےاس نے مجھے آگ سے بچایا ہے مگر وہ آگ کیسی تھی؟ کہاں لگی تھی؟” وہ پرسوچ انداز میں بڑبڑاتی ہوئی سر تھام گئی تھی۔
“بینش! آج دل چاہ رہا ہے وہ میرے سامنے آئے اور میں اس سے لپٹ کر رو دوں،محض ایک وہ ہی تو میرا اپنا ہے اس بھری دنیا میں۔” اس نے سینے پر بازو لپیٹتے ہوئے آنکھیں موند کر بہت مدھم آواز میں کہا تھا چند آنسو رخساروں پر لڑکھڑا گئے۔
“ارے او بینش! اس کے ساتھ کب سے گپیں ہانک رہی ہے،ادھر آ کر اپنا کام کر۔” تائی اماں کی کرخت آواز پر جہاں بینش ہڑبڑا گئی تھی وہاں ہی وہ بھی آنسوؤں پر ضبط کرتی لب بھینچے سر جھکا گئی۔
“جی میم آئی” بینش اس کی پیٹھ تھپک کر سرعت سے تائی اماں کی جانب بڑھ گئی تھی۔لجین مارے باندھے وہاں بیٹھی رہی۔کھانا بھی اس نے بڑی بےدلی سے کھایا تھا۔سارے فنکشن میں واصق ملک اور حریم ملک منظر عام پر رہے تھے،لجین کو ان کے ساتھ ہونے سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ واصق ملک نے اسے مخاطب کرنا تو دور کنار،اس کی جانب ایک نظر بھی دیکھا تک نہ تھا۔
“اس جیسے امیر لوگوں کے لیے دوستی کا مطلب محض چند گھنٹے کی وقت گزاری ہے،مت سوچو اس کے متعلق۔” لجین نے اپنے دل کو ڈپٹ کر شانت کروا دیا تھا اور خود کو سمجھانے لگی کہ پرائے لوگوں سے امیدیں وابستہ نہیں کی جاتیں۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on