Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 1

قسط 1آرزو عشقمسیاہ کاریڈور میں قدموں کی آواز پر وہ خوف سے خود میں سمیٹتی جا رہی تھی۔۔ باہر پڑھنے والے قدموں کی دھمک اسے سیدھا اپنے دل پر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ہاتھ میں بندھی رسی جو کھولنے کی کوشش میں وہ اپنی کلائی پر زخم کر گئی تھی۔۔”مما بابا”وہ سسکی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور سیاہ جوتے میں مقید پیر نظر آئے۔نگاہیں پیر سے ہٹتے اسکے ہاتھ پر گئیں جہاں موجود ریوالور دیکھ اسکی جان نکلی تھی وہ وحشت ناک چہرے والا شخص۔ ۔”پلیز مجھے مت مارنا” گن کا رخ اپنی طرف دیکھ وہ سسکی تھی۔۔۔دل بند ہونے لگا تھا۔۔”اتنی آسانی سے نہیں ماروں گا تجھے تو وہ طوطا ہے جس میں اس دیو کی جان قید ہے تجھے مار دیا تو اس ڈیول کو تڑپانے میں مزہ نہیں آئے گا” گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھتے اس نے گن کا سرا اسکے بال پر ٹکایا ۔خوف سے وہ اپنی سانس تک روک گئی۔آنکھیں سختی سے میچے وہ اپنے گال سے گردن تک اس گن کی چبھن محسوس کررہی تھی۔۔گن اسکی شہہ رگ پر آکر رکی تھی۔۔”ویسے جتنی تو حسین ہے اس ڈیول کا تجھ پر دل آنا بنتا ہے”وہ اسے سر سے پیر تک غلیظ نگاہوں سے گھورتا اسکی جانب اپنا دوسرا ہاتھ بڑھاتے اسکے گال پر اپنے ہاتھ کی پشت سہلائے تڑپنے پر مجبور کر گیا۔اسکا غلیظ لمس خود پر سے جھٹکتے وہ بری طرح رو دی۔خود کو جھٹکے جانے پر اس شخص کا ہاتھ اٹھا تھا اور اس نازک وجود کے گال پر نشان چھوڑ گیا تھا۔وہ تیوارا کر زمین پر گری تھی۔۔غصے سے اسکے ماتھے پر گن تانے اس نے ٹریگر پر ہاتھ جمایا۔۔مقابل نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کی تھیں گویا اپنی موت کو قبول کیا ہو”ایک۔۔۔ دو”وہ شخص اب کاؤنٹ ڈاؤن کر رہا تھا۔”تین ۔۔۔۔” اسکے تین کے ساتھ ہی فضا میں گولی کی آواز گونجی تھی اور پھر گہرا سناٹا چھا گیا۔۔اس نے زرا سی آنکھیں کھولے اپنے سامنے دیکھا جہاں خون میں پڑے وجود کو دیکھ وہ ہوش کھوتے ایک جانب گری تھی۔۔۔سیاہ کوٹ میں ملبوس چہرے پر ماسک لگائے وہ شخص دروازے کے عین بیچ میں استادہ تھا ہاتھ میں موجود گن تھی جس سے اس نے مقابل کو چاروں شانے چپ کیا تھا ۔۔آہستہ سے قدم بڑھاتے اس نے بیچ میں بڑے اس آدمی کو ٹھوکر مار اپنی ٹانگ سے ایک طرف کھسکایا اور خود جھک کر اس بے ہوش وجود کے پاس بیٹھ کر اسکا زرد چہرہ دیکھنے لگا۔گال پر انگلیوں کے نشان دیکھ اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے۔۔۔اسکی کلائی پر موجود زخموں پر نظر ڈالتے اس نے اسکی کلائیوں کو آزاد کرتے وہ ماسک کے اوپر سے اسکے زخم پر اپنے لب رکھتے سختی سے آنکھیں موند گیا۔۔۔خون میں ابال سا اٹھنے لگا تھا۔۔۔ کان میں موجود ائیر پیس آن کیا۔۔”اس کمرے میں موجود شخص کی ساری انگلیاں کاٹ کر کتوں کو کھلا دو۔۔” حکم صادر کرتے وہ جھکا اور اس بے ہوش وجود کو اپنی بانہوں میں بھرے کھڑا ہوا تھا۔۔”بہت غلط کیا تم نے بہت ۔۔۔ اس لڑکی کو بیچ میں لا کر تو نے اپنی موت کو دعوت دی ہے اب میرا انتظار کرنا۔۔۔۔” سرگوشی کے سے انداز میں کہتا وہ اس اندھیرے کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا اور اسکے جاتے ہی کئی لوگ اس کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔_______________گرمیوں کی شامیں اب خنکی اوڑھنے لگی تھیں۔۔جاتا موسم اپنے نشانیاں چھوڑ رہا تھا ایسے میں شاہ حویلی میں سالانہ لنگر کی تیاریاں زوروں شوروں سے جا ری تھیں۔”مونا۔۔۔۔ کہاں ہو ؟” آنگن میں بیٹھی گندم صاف کرتی مونا نے نورے شاہ کی پکار پر جلدی سے پلو سے ہاتھ صاف کرتے اپنے قدم اندر بڑھائے تھے۔۔۔”جی بی بی جی آئی””کہاں ہیں مونا میں کب سے پکار رہی ہوں؟””ارے بی بی جی میں گندم کی صفائی کر رہی تھی کیڑے پڑ جاتے تو بی بی جان غصہ ہوتیں۔۔۔” اس نے نجمہ بیگم کا حوالہ دیا تھا۔۔۔”اچھا اچھا۔۔ ویسے تم اکیلے کیوں یہ کام کر رہی ہو یہ زروا اور ایمانے کہاں ہیں انہیں بھی لگایا کرو اپنے ساتھ””مامی زروا آپی تو چھت پر ہیں اور مانے اپیا بڑی نانو کے روم میں “طیبہ(انابیہ کی سب سے چھوٹی بیٹی ) نے اپنی اسٹوری بکس سے نظر اٹھائے اپنی ممانی کو آگاہ کیا۔”افف۔ یہ زروا کو کیا پڑی ہے اس وقت چھت پر جانے کی ہزار بار منع کیا ہے امی نے عصر مغرب کے درمیان چھت پر نا جایا کرو مگر مجال ہے یہ لڑکی میری سن جائے”غصے سے بڑبڑاتے وہ اوپر چھت کی جانب بڑی تھیں مگر اسی وقت گھر میں آتے طلال کی پکار پر اسے رکنا پڑا۔۔”یا خدا یہ کون میری ماں کی بات نہیں سنتا؟” “تمہاری چہیتی بہنیں اور کون؟” ان کے نروٹھے انداز میں کہنے پر وہ مسکراتے انہیں اپنے حصار میں قید کرگیا۔۔۔”میری ایمانے تو ایسی نہیں ضرور یہ زروا ہوگی”اسکی بات پر نورے شاہ نے گھور کر اسے دیکھا۔”زروا ایسی کیا ہوگی وہ بھی تمہاری ہی بہن ہے تینوں بھائی بہن ایک جیسے ہو مجھے تنگ کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے اور ایک وہ ہیں تمہارے بابا۔۔۔ سیاست ہی ختم نہیں ہوتی ان کی” وہ سب کو ایک ساتھ ہی لپیٹ میں لے گئیں جبکہ ان کی بات پر طلال کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔”یار میری ماں کو بابا یاد آرہے ہیں اور فضول میں غصہ ہم بہن بھائیوں پر اترتا ہے”اسکے یوں چھیڑنے پر نورے شاہ نے اسے آنکھیں دیکھائیں جو قد میں ان سے بھی بڑا ہوگیا تھا۔۔۔وقت بہت تیزی سے گزر گیا تھا انہیں تو جیسے کل کی بات لگتی تھی جب وہ نورے شاہ کی گود میں آیا تھا اور اب وہ ایک خوبصورت نوجوان کے روپ میں ان کے سامنے تھا۔لمبا قد خوبصورت آنکھیں وہ ہوبہو جاذب شاہ کی کاپی لگتا تھا اسے۔۔۔”ماما میں بالکل بابا جیسا ہوں نا؟””ہونہہ صرف عادت میں ” ہنکار بھر کر کہتے وہ اسے قہقہ لگانے پر مجبور کر گئیں اپنی ماں کو تنگ کرنے میں اسے الگ ہی مزہ آتا تھا۔۔۔”اچھا اب جاؤ اپنی بہنوں کو دیکھو کل سب کو یہاں جمع ہونا ہے یہاں””اوکے راجر باس”ماتھے پر ہاتھ لے جاتے سلوٹ کرتا وہ انہیں ہنسنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔____________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on