قسط_10زرمینے جلال نے گھونگھٹ اٹھا کر اپنی لاڈلی کو دیکھا تو جیسے اسکے معصوم حسن کے آگے وہ مہبوت ہوئی تھیں۔۔سرخ روئی متورم آنکھوں میں کاجل کی لکیر ، سرخ رخسار ہونٹوں پر پنک لپ اسٹک سجائے وہ ناک میں نتھ ڈالے سفید فراک اور سرخ زرتار کے آنچل میں چھپی ننھی سی دولہن ان کا دل اداس کر گئی۔جیسے کل کی ہی تو بات تھی جب وہ ان کی گود میں آئی تھی اور اب اتنی جلدی اسکے پرائے ہونے کا وقت آگیا تھا۔۔جھک کر اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے زرمینے نے بمشکل خود کو رونے سے روکا تھا۔۔”زرمینے۔۔ نکاح خواں آرہے ہیں بیٹا ” جاذب شاہ کی پکار کر آئینہ نے سختی سے اپنی ماں کا ہاتھ تھاما تھا۔کچھ ہی لمحے بعد جاذب شاہ جلال اجمل اور ضوریز شاہ کے ہمراہ اندر داخل ہوئے تھے اور ان کے بڑھتے قدم آئینہ جلال اجمل کے دل کی دنیا تہہ و بالا کر رہے تھے دل میں ہزاروں خدشے لئے وہ کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا آپ زارون شاہ کو سونپ گئی۔۔۔ایجاب و قبول کرتے ہی جلال اجمل کے سینے سے لگے وہ سسکی تو وہاں موجود سبھی نفوس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔”بس میری جان ایسے نہیں روتے” شہرے نے فوراً سے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔کہ اسکا رونا بڑھتا جا رہا تھا اور پھر اسے دیکھ زرمینے اور جلال بھی نم آنکھوں کے ساتھ کھڑے تھے۔۔تیمور کے ساتھ لگی وہ بس بے آواز روئے جا رہی تھی اور اپنی بہن کو یوں روتے دیکھ اسکا دل سمٹ سا گیا تھا۔وہ کتنی حساس تھی وہ اچھے سے جانتا تھا۔ولی اور طلال کے ساتھ صوفے پر بیٹھے زراون کو مولوی کو دیکھ بے چینی ہوئی تھی اس تک بھی آئینہ کے رونے کی خبر پہنچ چکی تھی جس پر وہ بس گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔۔”زیادہ بک بک مت کرو تم دونوں۔ اور ہٹو سائیڈ سے” ولی اور طلال کو مسلسل زارون کے کان میں گھسے دیکھ مامون نے لتاڑا تو وہ دونوں منہ بناتے سائیڈ ہوئے۔۔”شیرازی صاحب زرا اپنے بیٹے کو بھی تو یہاں بلائیں یہاں ہم ہی سب کی ڈانٹ کھائے جا رہے ہیں”طلال کی بات پر مامون شیرازی نے ایک مکا اسکے کندھے پر رسید کیا تھا۔۔مولوی صاحب زارون کے پاس آکر بیٹھے اب اس سے اسکی رضا مندی پوچھ رہے تھے۔۔سب کی نگاہیں اس پر ٹکی تھی جو اس وقت سفید شلوار قمیض پر بلیک واسکٹ پہنے کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔۔اسکے قبول کرتے ہی ہر طرف مبارک باد کا شور اٹھا تھا سب نے ایک ایک کر اسے گلے لگایا تھا۔۔تیمور اسکے گلے لگتا ایک لمحے کو رکا۔۔”زارون بھائئ۔۔ میری بہن چھوٹی ہے حساس ہے اسکی غلطیاں نظر انداز کیجئے گا۔۔ اسے کبھی تکلیف مت دیجئے گا” زارون کا ہاتھ تھامے وہ بہت نرمی سے اس سے درخواست کرتا جلال اجمل کی آنکھیں نم کر گیا۔ان کے بچے واقعی بڑے ہوگئے تھے۔۔”میں پوری کوشش کروں گا” زارون نے بھی ایک بھائی کو یقین دلایا تھا وہ ناچاہتے ہوئے بھی ایک رشتے میں بندھ چکا تھا۔___________
Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 10

