Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 22

قسط_22آبگینے کو بانہوں میں بھرے حائثم نے بیڈ کر لٹایا اور خود وہیں اسکے پاس بیٹھ گیا۔نگاہیں آبگینے کے زرد پڑتے چہرے پر جمی تھیں۔کچھ دیر پہلے میرج سرٹیفکیٹ دیکھ اس نے جس طرح ری ایکٹ کیا تھا اسکی وجہ حائثم اچھے سے سمجھ رہا تھا۔وہ ڈسٹرب تھی حد سے زیادہ مگر ابھی یہ وقت وہ ضائع نہیں کر سکتا تھا۔”آبگینے” اسے اٹھتے حائثم مزید اسکے قریب ہوا۔۔”حائئ۔۔ ہم کہاں ؟””ہم ہمارے گھر میں میرے اور تمہارے”آبگینے کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے میں محبت سے بول رہا تھا آبگینے اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔”ہم تو میرج رجسٹرار کے آفس میں تھے نا؟”اسکی بات پر حائثم چونک کر اسے دیکھنے لگا۔۔”آبگینے ؟””حائثم میرا دم گھٹ رہا ہے گرمی لگ رہی ہے”اسکے قریب ہوتے وہ الجھ رہی تھی۔۔حائثم نے ایک نظر اسکو دیکھا۔اسے سمجھنے میں ایک لمحہ نہیں لگا تھا اسے پھر سے ڈرگ دی گئی تھی۔۔مگر اسے ڈرگز دی کس نے تھی سوال یہ تھا۔”حائثم” اسکے قریب ہوتے وہ پاگل ہو رہی تھی۔”یہی ہوں میں آب ڈونٹ وری ” وہ اسے سنبھال رہا تھا جو ہوش و حواس بالکل غافل ہو چکی تھی۔حائثم نے لمحے کو اسے دیکھا اور پھر آہستہ سے اسکے چہرے پر جھکتے وہ اسکی سانسوں پر قابض ہوا تھا۔آبگینے نے نم پلکوں کو اٹھا کر خود پر جھکے حائثم کو دیکھا۔۔اسکی گردن کے گرد بانہیں ڈالے اس نے مزید حائثم کو خود پر جھکایا تھا۔”آبگینے یو رئیلی وانٹ دس؟”اسکے پوچھنے پر آبگینے نے آہستہ سے سر ہلاتے اسکے ہونٹوں پر مہر لگاتے حائثم کو ساکت کیا تھا۔۔”یس آئی وانٹ” آبگینے کی مخمور آواز پر خود کر سے ضبط کھوتے وہ اسکی گردن پر جھکتا اسے بے بس کرنے لگا۔آبگینے کو اپنے لمس سے متعارف کرواتے وہ خود اسکے نازک وجود میں کھونے لگا تھا۔ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کرتا وہ آبگینے کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لئے اسکی سانسوں پر اپنی حکمرانی چلاتا اسے بے بس کر رہا تھا۔۔اور وہ اس کے لمس اور سرگوشیوں پر پاگل ہوتے پگھلتی جا رہی تھی ۔حائثم کے گال پر دانت گاڑ وہ کھلکھلائی ۔۔وہ خود نہیں جانتی تھی آنے والی صبح اسکے لیے کیسا بڑا طوفان لانے والی ہے۔۔”آبگینے نو” اپنی گردن پر آبگینے کے دانت محسوس کر اس نے آبگینے کو باز رکھنا چاہا مگر وہ اور ضدی ہو رہی تھی۔۔”حائثم آئی لو یو” اسکے اقرار پر وہ بری طرح ٹھٹک کر رکا اور اسے دیکھنے لگا۔جو آنکھوں میں جذبات لئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔حائثم سے مزید ان آنکھوں میں دیکھا نہیں گیا۔۔”حائثم سے یو لو می””آئی ڈونٹ لو یو”اسکا نچلا لب اپنی گرفت میں لئے وہ آبگینے کو سسکنے پر مجبور کرگیا تھا ۔”ڈونٹ ہرٹ” وہ کسی بچے کی طرح کر رہی تھی۔”بی مائن” اسکی انگلیوں کی۔میں انگلیاں الجھاتے وہ مکمل پر اس پر حاوی ہوتا اس پر اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا۔خود میں سمیٹتے آبگینے نے خود کو اس کے سپرد کیا تھا جو مکمل اس پر اپنی چھاپ چھوڑے کسی ابر کی طرح چھایا ہوا تھا۔۔گزرتی رات فسوں خیز ماحول اور بانہوں کے حصار میں پڑی آبگینے شاہ۔۔حائثم نے اسکا سر اپنے ہاتھ پر سے ہٹاتے تکیے پر منتقل کیا۔ایک نظر آبگینے کو دیکھتے اس نے دراز سے میرج سرٹیفکیٹ نکال کر اسکی تصویر لی اور پھر وہ تصویر ضوریز شاہ کے نمبر پر سینڈ کرگیا۔”بہت معذرت ضوریز شاہ۔۔ مگر آپ کی بیٹی اب میری ہوئی”میسج بھیج کر وہ پرسکون سا ہوتا ایک نظر بکھری سی آبگینے پر ڈالتا کمرے سے باہر آگیا۔”کولن؟” اسکی پکار پر کولن کسی جن کی طرح حاضر ہوا تھا۔۔”صبح جیٹ تیار رکھنا ہم یہاں سے جا رہے ہیں”حکم ملتے وہ کولن کام پر لگا تھا وہیں حائثم مسکراتا نیچے بیسمنٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔®®®®®®®®®®

آئینہ اغوا ہوگئی تھی یہ خبر حویلی والوں پر کسی بجلی کی طرح گری تھی شائستہ بیگم کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔۔”یا میرے خدایا یہ کیا ہو گیا” نورے نے سر تھاما وہیں زرمینے کو اپنا ہوش نہیں رہا تھا۔زارون ان کے پاس نہیں تھا۔۔جاذب شاہ اور ولی مسلسل آئینہ کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے تھے مگر سب بے سود۔۔”زروا پر ان کا بس نہیں چلا تو انہوں نے ہماری آئینہ کو” جاذب شاہ نے غصے سے مٹھیاں بھینچی۔”جلال کہاں ہے جازب؟”نورے کے سوال پر جاذب شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھینچیں۔دو دن پہلے ہی کسی کام سے جلال ملک سے باہر گیا تھا اور اب آئینہ کا اغوا ہونا۔”ولی طلال میرے ساتھ آؤ”ان دونوں کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے جاذب شاہ اپنی اسٹڈی میں آئے۔”کیا ہوا ہے بابا۔۔””ارسلہ عائلہ۔۔۔”اس ایک نام پر وہ دونوں چونکے۔۔”آپ کو لگتا ہے یہ اس عورت کا کام ہے؟””مجھے سو فیصد یقین ہے ولی””مگر بابا وہ آئینہ کو کیوں نقصان پہنچائیں گی ان کے دشمن تو ہم ہیں نا؟ زروا یا ایمانے کی جگہ آئینہ کیوں؟””نورے۔۔ وہ نورے سے محبت کرتی ہیں نورے کی اولاد کو وہ کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دینگی۔””تو اپنی اولاد۔۔ کے ساتھ؟””بالکل جنہیں بدلہ لینا ہوتا ہے وہ کسی سے بھی لے لیتے ہیں۔۔””اب کیا کرنا ہے زارون سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا ہے””زارون کے آنے سے پہلے ہمیں آئینہ کو وہاں سے لانا ہے ولی۔۔ طلال۔۔ میں نے اپنے لوگ بھیج دئیے ہیں آگے کا تم لوگ سنبھالوں میں حویلی کی سیکورٹی سخت کرتا ہوں باقی شہرے اور باقی سب یہاں آرہے ہیں وہ بحفاظت یہاں آنے چاہیے “”طلال۔۔۔ تم ائیرپورٹ جاؤ میں آئینہ کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں”طلال کو کہتا وہ اسٹڈی سے باہر نکل کر نیچے بڑھا تھا جب اچانک کسی نے اسکا ہاتھ تھام اسے کمرے میں کھینچا۔وہ جو کچھ بولنے لگا تھا زروا کو دیکھ خاموش رہ گیا۔اسکی آنکھیں حد سے زیادہ سرخ ہو رہی تھیں۔”آئینہ کو لے آؤ ولی””میں لے آؤ گا تم رونا بند کرو” اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ نرمی سے بولا۔”ولی وہ بہت ڈرپوک ہے اسکا دل بہت نازک ہے پلیز اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے”وہ سسک رہی تھی ولی نے بے ساختہ اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔”کچھ نہیں ہوگا اسے میرا وعدہ ہے۔۔ بس تمہیں خود کو سنبھالنا ہے گھر والوں کو سنبھالنا ہے اوکے؟”اسکے سمجھانے پر وہ بس اثبات میں سر ہلا گئی۔زروا کے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ وہاں سے نکلا تھا اسے اب بس آئینہ کو ڈھونڈنا تھا کیسے بھی کر کے۔۔۔®®®®®®®®®®®®®

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on