قسط_23سیاہ رات میں جنگل مزید خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔اس نے سر اٹھائے ایک نظر سامنے منہ کھولے کھڑے اس خوفناک جنگل کو دیکھا اور پھر اپنے پیچھے۔۔ جہاں سے آتی قدموں کی آواز مزید تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔وہ لوگ کبھی بھی اسکے سر پر پہنچ سکتے تھے ۔سختی سے آنکھیں بند کر اس نے کھول کر خود کو تیار کا تھا۔۔اسکے دایاں بازو چھلا ہوا تھا کوٹ پھٹا ہوا تھا بکھرے بال چہرے پر سرخ نشان۔۔سوجی آنکھیں ۔گہرا سانس بھرتے اس نے جنگل میں قدم رکھا اور پھر تیزی سے وہ درخت سے گرے سوکھے پتوں پر بھاگ رہی تھی۔۔فضا میں گونجتی خشک پتوں کی آواز ماحول میں مزید پراسراریت پھر رہی تھی۔۔”ڈھونڈو اسے وہ یہی ہوگی”آواز جنگل میں گونجی۔۔وہ بھاگ رہی تھی جتنا تیز بھاگ سکتی تھی ۔اسکی منزل کا اسے نہیں پتا تھا ۔اچانک اسکا پیر پتوں سے چھپے اسے پتھر سے بری طرح ٹکرایا۔۔سیاہ رات میں جنگل مزید خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔اس نے سر اٹھائے ایک نظر سامنے منہ کھولے کھڑے اس خوفناک جنگل کو دیکھا اور پھر اپنے پیچھے۔۔ جہاں سے آتی قدموں کی آواز مزید تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔وہ لوگ کبھی بھی اسکے سر پر پہنچ سکتے تھے ۔سختی سے آنکھیں بند کر اس نے کھول کر خود کو تیار کا تھا۔۔اسکے دایاں بازو چھلا ہوا تھا کوٹ پھٹا ہوا تھا بکھرے بال چہرے پر سرخ نشان۔۔سوجی آنکھیں ۔گہرا سانس بھرتے اس نے جنگل میں قدم رکھا اور پھر تیزی سے وہ درخت سے گرے سوکھے پتوں پر بھاگ رہی تھی۔۔فضا میں گونجتی خشک پتوں کی آواز ماحول میں مزید پراسراریت پھر رہی تھی۔۔”ڈھونڈو اسے وہ یہی ہوگی”آواز جنگل میں گونجی۔۔وہ بھاگ رہی تھی جتنا تیز بھاگ سکتی تھی ۔اسکی منزل کا اسے نہیں پتا تھا ۔اچانک اسکا پیر پتوں سے چھپے اسے پتھر سے بری طرح ٹکرایا۔۔وہ منہ کے بل گری تھی ۔دلخراش چیخ گونجتی ان لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر گئی۔۔اسکا پیر بری طرح مڑا تھا کہ اب حرکت کرنا بھی باعث تکلیف تھا ۔”کہاں بھاگ رہی تھیں ڈارلنگ” وہ اب اسکے سر پر پہنچ چکا تھا ۔”تم سے دور غلیظ انسان ۔” وہ نہیں ڈری نہیں تھی۔۔”یہی غلیظ انسان اب تمہیں بتائے گا کہ غلاظت ہوتی کیا ہے” اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے اس نے اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھایا ۔ جسے وہ لمحے میں جھڑک گئی۔”اپنے ناپاک ہاتھ دور رکھو مجھ سے” وہ چیخی نہیں غرائی تھی۔۔”ابھی تک اتنی ہمت ہے؟ مجھے درندہ بننے پر مجبور مت کرو ” اسکے مزید قریب ہوتا وہ ہنسا مذاق اڑانے والی ہنسی۔”تم پہلے سے ایک درندے ہو” اسکا ہاتھ مسلسل کچھ تلاش رہا تھا خود کو بچانا سب سے ضروری تھا۔۔”صحیح کہا اور اب یہ درندہ تمہیں چیڑ پھاڑ کر رکھ دے گا” وہ انگریز تھا غصے سے اسکی رنگت سرخ ہو رہی تھی۔غصے سے کہتے اس نے پاس پڑی لکڑی اٹھاتے اسکی کے زخمی پیر پر ماری اور پھر مارتا چلا گیا۔۔وہ درد برادشت کرنے کی کوشش کرتے کرتے تھکتی بری طرح چیخی تھی۔۔وہ واقعی درندہ تھا ۔ مسلسل ضربوں سے اسکا درد سے برا حال تھا ایک آخری ضرب اسکے سر پر پڑی تھی۔۔ہوش و حواس سے بیگانہ ہونے سے پہلے اس نے اس درندے کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا۔اس نے آنکھیں بند ہونے سے پہلے مرنے کی دعا کی تھی۔۔۔°°°°°°°°°°°
Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 23

