قسط_25آج انہیں اسپتال میں چوتھا دن شروع ہوا تھا۔آبگینے کی حالت اب خطرے سے باہر تھی مگر اسے مسلسل بے ہوشی کے انجیکشن دئیے جا رہے تھے کیونکہ ہوش میں آتے ہی اسکی سانسیں اکھڑنے لگتی تھیں۔وہ ایک ٹراما سے گزر رہی تھی۔ اسکی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی زیادہ اسٹریس اس کے برین کو ڈیمج کر سکتا تھا۔۔یہ چار دن ضوریز شاہ اور عمائم نے بہت مشکل سے گزارے تھے۔آج چوتھے دن جا کر اسے ٹھیک سے ہوش آیا تھا مگر وہ بالکل چپ تھی۔۔ضوریز شاہ اور عمائم اسکے پاس آئے وہ چھت کو گھور رہی تھیں آنکھوں میں ویرانی تھی سیاہ حلقوں نے آنکھوں کو گھیر لیا تھا وہ اتنی بیمار ہوگئی تھی عمائم کا دل کٹا تھا۔۔”آبی” اس کے پاس بیٹھتے انہوں نے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھ اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔مگر اس جامد وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی۔۔عمائم کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔”میری شہزادی کیسی ہے اب؟” ضوریز نے اسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا ۔۔ایک آنسو ٹوٹ کر آبگینے کے گال پر بہا تھا۔۔”آبگینے رو کیوں رہی ہو دیکھو مما بابا یہاں ہیں نا آپ کے پاس” مامون کمرے میں داخل ہوتے اسکے پاس آ گئے نرمی سے اسکا چہرہ صاف کیا۔۔عمائم اپنی بیٹی کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی تھیں روتے ہوئے وہ باہر بڑھ گئیں۔۔مامون کے اشارے پر ضوریز شاہ ان کے پیچھے گئے تھے۔۔”میری شہزادی گڑیا تو ایسے چپ ہوگئی ہے کیا اپنے مامون بابا سے ناراض ہے؟” بولتے ساتھ انہوں نے اسکا بیڈ اجسٹ کر اسے سہارا دے کر بیٹھایا۔آبگینے نے پہلی بار نگاہیں اٹھائے انہیں دیکھا کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں شکوے اذیت۔۔”آبگینے””میں۔۔۔ بابا کا مان۔۔۔ عزت” وہ سسکی۔۔ ٹوٹے پھوٹے لفظ۔۔دروازے کے پاس کھڑے اسکے ماں باپ تکلیف میں مبتلا ہوئے۔۔”میں اسے معاف نہیں کرو۔۔۔ بابا۔۔۔”مامون کے سینے سے سر ٹکائے وہ سسکی۔۔مامون شیرازی نے سختی سے اپنے جبڑے بھینچے۔۔”آبگینے رونا بند کرو میری بچی کمزور نہیں ہے نا؟””بابا ناراض کردیا۔۔” ٹوٹے جملے۔۔ ضوریز شاہ سے مزید برداشت نہیں ہوا تھا اندر آتے انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگایا جو باپ کا سہارا ملتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ڈاکٹر نے اسے اسٹریس لینے سے منع کیا تھا۔۔”سوری بابا سوری” اس نے ہاتھ جوڑے تھے وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہی تھی اسکی اپنی مرضی کرنے کی سزا کیسے ملی تھی۔۔”آبگینے بس۔۔۔ چپ بہت رو لیا اب بالکل بھی نہیں رونا” وہ اسے اپنے ساتھ لگائے پرسکون کر رہے تھے۔۔۔عمائم مزید وہاں کھڑی نہیں رہ سکیں۔۔جس بیٹی کو اتنا سنبھال کر رکھا تھا آج وہ یوں رل گئی تھی۔۔موت کی دہلیز پر موجود وہ اپنی بیٹی کے لئے کچھ نہیں کر سکی تھیں۔۔آبگینے کو سلاتے وہ باہر آگئے۔۔عمائم کو وہ ہوٹل بھیج چکے تھے وہ جانا نہیں چاہتی تھیں مگر ضوریز شاہ نہیں چاہتے تھے وہ یہاں ہاسپٹل میں رہیں۔۔”مامون ہمیں واپس پاکستان جانا ہے “”ٹکٹس میں نے کنفرم کروا دئیے ہیں ڈونٹ وری””مامون میں نے جان کر کچھ نہیں کیا تھا””میں جانتا ہوں بھائی””میری بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔۔ میں اس شخص کا سایہ بھی اپنی بیٹی پر نہیں پڑنے دوں گا””وہ اس شخص کے نکاح میں ہے بھائی”مامون کی بات پر ضوریز شاہ کے چہرے پر بے بسی چھائی۔۔”اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا ہے۔۔ “”آبگینے ٹھیک ہو جائے پھر ہم سوچیں گے اس بارے میں ابھی آپ خود کو مضبوط رکھیں کیونکہ آپ اور بھابھی مضبوط ہونگے تو ہی آبی کو سنبھال سکیں گے”مامون کی بات پر وہ سر ہلا گئے۔۔••••••••••••زارون اس وقت اسٹڈی میں موجود تھا۔۔جب دروازے کر کھٹکے کی آواز نے اسے چونکایا۔”مجھے آپ سے بات کرنی ہے” مٹھیوں میں اپنی قمیض جکڑے وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔زارون شاہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو آج نجانے کتنے دنوں بعد کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔”, آئینہ” زارون نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا مگر وہ سرعت سے اپنا ہاتھ پیچھے کر گئی۔۔”مجھے آپ سے طلاق چاہیے” دو قدم پیچھے لیتے اس نے وہ جان لیوا الفاظ ادا کئے جو زارون شاہ کے قدموں سے زمین نکال گئے تھے۔”دماغ خراب ہے آپ کا کیا بکواس ہے یہ ؟” غصے سے فائل پھینکتے وہ اسکے روبرو کھڑا ہوا تھا۔”میرا دماغ بالکل جگہ پر ہے میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی آپ کی قربت میرے لئے باعث اذیت ہے زارون شاہ مجھے طلاق دے دیں”اسکی زبان ایک بار بھی نہیں لڑکھڑائی تھی۔اسکے مطالبے پر زارون شاہ کا دماغ بھک سے اڑا جبھی اسے بازو سے تھام وہ اسے اپنے بے حد قریب کرگیا۔”آئینہ زارون شاہ۔۔۔ اب اگر یہ لفظ زبان سے ادا ہوا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھ آئی”اسے اپنے بے حد قریب کئے وہ بمشکل اپنا غصہ ضبط کر رہا تھا ۔”نہیں آئی سمجھ۔۔ چھوڑیں مجھے دور رہیں ہاتھ مت لگائیں مجھے”اسکی گرفت میں مچلتے وہ چلائی ۔”لگاؤں گا ہاتھ چھووں گا حق رکھتا ہوں میں بیوی ہیں آپ میری””ایک طوائف طوائف ہی رہتی ہے زارون شاہ بیوی نہیں بنتی” اپنے ہی لفظ پر وہ سسکی تھی۔”بس چپ” وہ دھاڑا تھا۔”چپ کروانے سے سچ نہیں بدل جائے گا میں آپ کے قابل نہیں ہوں زارون خدا کے لئے مجھ پر اور خود پر رحم کھائیں چھوڑ دیں مجھے دنیا کو طعنے دے گی”وہ زارون شاہ کے آگے ہاتھ جوڑ گئی اسے اس حالت میں دیکھ زارون شاہ کے دل کو کسی نے چیر کر رکھ دیا تھا۔۔۔”آئینہ بس سمجھ آرہی نا بس۔۔۔” اسے اپنے مزید قریب کرتے وہ بےبس ہوا تھا۔۔”میں مر جاؤں گی زارون” وہ تڑپی زارون نے اسے اپنی بانہوں میں بھینچا۔۔”میرے ہوتے ہوئے کچھ نہیں ہوگا “”میں طوائف””آئینہ اس گھٹیا عورت کی بات پر ایمان لے آئی مجھ پر یقین نہیں ہے؟” اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے زارون نے بے بسی سے اسے دیکھا جس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔”آئینہ میرے لئے آج بھی اتنی پاک ہے جتنی پہلی تھی آئینہ یہ ساری باتیں ہمارے پاک رشتے کو خراب کردیں گے خدا کے لئے ایسا مت ہونے دینا”اسکے آگے ہاتھ جوڑتے وہ التجا کر رہا تھا آئینہ کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔فوراً سے زارون کے ہاتھ تھامے وہ سسک کر رو دی۔۔اس شخص کا اعتبار ہی تو سب کچھ تھا اگر وہ یہ بھی نا پاتی تو مر جاتی ۔۔•••••••••
Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 25

