قسط_26″ہلال ؟” ایمانے کی پکار پر اپنی موبائل میں مصروف ہلال نے سر اٹھائے اسے دیکھا جو عین دروازے کے بیچ و بیچ کھڑی اسکی اجازت کی منتظر تھی ۔”میرے کمرے میں آنے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہے ایمانے”اسکی بات پر سر ہلاتے وہ اندر آگئی۔۔”وہ” وہ تذبذب کا شکار تھا۔ہلال نے اسکا ہاتھ تھام اسے اپنے سامنے بٹھایا۔۔”جو کہنا ہے کہو میں سن رہا ہوں” وہ اتنی نرمی سے بات کر رہا تھا کہ ایمانے کو یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ یہ وہی ہلال ہے..”تم اتنی نرمی سے بات کر رہے ہو تو مجھے الجھن ہو رہی ہے”اسکی بات پر ہلال مسکرا دیا۔۔۔”اب وہ حالات نہیں ہیں کہ میں تمہیں تنگ کروں””ایسا کیوں ہوگیا ہلال؟””کیونکہ ہم نے سب کو اپنی طرح سمجھ لیا تھا۔۔انہیں لگتا ہے بدلہ صرف وہی لے سکتے ہیں “”ہم۔۔ ہلال کیا ہم “”ایمانے میں مما سے بات کر چکا ہوں نکاح اسی ہفتے ہوگا کیونکہ اگر وہ آدمی یہاں آگیا تو بہت مسئلہ ہوگا” ایمانے کو انکار کی طرف جاتے دیکھ وہ جلدی سے بولا جس پر ایمانے نے منہ بنایا۔۔ساری زندگی جس سے چڑتی آئی اس نے اپنی مرضی سے شادی کرنا پڑ رہی تھی۔۔”آبگینے کے آنے کا تو ویٹ کرلو۔۔””اسے وقت لگے گا آنے میں تم بس اسکے لئے دعا کرو”اپنی گرفت میں ایمانے کا ہاتھ تھامے وہ مسکرا دیا۔۔جبکہ دل میں ہوک سی اٹھی تھی ہر چیز کو سنبھال کر رکھا تھا مگر اب ہر چیز بکھرتی جا رہی تھی۔کل رات ہی مامون نے اسکی بات ہوئی تھی انہوں نے بتایا کہ آبگینے کو ڈائیورس پیپر ریسو ہوئے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔ہلال کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا وہ خاندان کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی سب کی آنکھوں کا تارا۔۔۔مومن اور اس میں چند سالوں کو فرق تھا مگر پھر بھی مومن کے بجائے وہ سب کی لاڈلی تھی ۔”تمہیں برباد کرنے والے کی میں نسلیں برباد کردوں گا آبی۔۔۔ اسے سزا میں دوں گا اور اس طرح دونگا کہ ساری زندگی وہ تمہارے قدموں میں پڑ کر معافی مانگے گا۔۔۔”غصے سے مٹھیاں بھینچ اس نے عہد کیا تھا۔۔زروا اور آئینہ محفوظ تھیں۔۔ ایمانے کو وہ خود محفوظ رکھ رہا تھا مگر آبگینے۔اس کا بھائی اسکا کزن اسکا باپ کوئی اسے محفوظ نہیں رکھ سکا تھا۔۔جاذب شاہ اور ضوریز شاہ نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ جلد از جلد ایمانے اور زروا کی شادی ہو جائے تاکہ ان پر چھایا خطرہ ٹل سکے۔۔نورے اس بات کے لئے راضی نہیں تھیں ان کے خاندان پر اتنی بڑی قیامت ٹوٹی تھی مگر زارون نے انہیں سمجھایا اپنی بہن کی اذیت دل کو مار رہی تھی مگر باقی سب کی حفاظت بھی اسکے زمے تھی۔۔اگلے دو دنوں میں بہت سادگی سے نکاح کی تیاریاں ہوئی تھیں۔۔زروا کا دل اداس تھا کیونکہ گھر میں کوئی خوش نہیں تھا۔۔مگر حقیقت تو یہ تھی انہیں یہ سب کرنا ہی تھا دل ہو یا نہیں انہیں یہ لازمی کرنا تھا••••••••••
Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 26

