زارون اپنے کمرے میں آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا تھا جب سے اسے آبگینے کے بارے میں پتا چلا تھا وہ بالکل خاموش ہوگیا تھا ایسے میں آئینہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔وہ خود ٹوٹی بکھری تھی جو اسے سنبھال رہا تھا وہ خود ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔۔”زارون” اسکے پاس بیٹھتے آئینہ نے اسے پکارا۔۔پکار پر زارون شاہ نے سرخ نگاہوں سے اسے دیکھا تھا وہ رو رہا تھا آئینہ کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔اس نے بہت دل دکھایا تھا اس شخص کا۔۔بنا کچھ بولے آئینہ نے بےاختیار اسکا ماتھا چوما۔۔”میں ہوں آپ کے ساتھ زارون ہر قدم” زارون شاہ کا ہاتھ تھامے وہ اسے اپنے ساتھ کا یقین دلا رہی تھی۔۔”میں اپنی بہن کی اور آپ کی حفاظت نہیں کر سکا آئینہ” آئینہ کو سینے سے لگائے وہ تڑپا تھا۔اس شخص کو اس حالت میں دیکھنا آئینہ کے لئے سب سب سے زیادہ مشکل تھا۔۔”زارون اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ دیکھیں میں بالکل ٹھیک ہو گئی ہوں کیونکہ اپ میرے ساتھ ہیں سب میرے ساتھ ہیں۔ اور آپ دیکھئے گا آبی بھی بالکل ٹھیک ہو جائے گی ۔ وقت لگے گا مگر ہم سب اسے سنبھال لینگے”زارون کے بال سہلاتے وہ اسے ریلکس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ جو اسے سینے سے لگا بکھرتا جا رہا تھا۔وہ مرد تھا مگر تھا تو انسان۔۔ہر ایک کے سامنے مضبوط بن بن کر وہ تھک گیا تھا وہ تو اپنے گھر والوں کے لئے ایک سخت چٹان تھا جو انہیں آنچ بھی نہیں آنے دیتا تھا۔۔”کاش میں اپنی بہن کو وہاں نا بھیجتا کاش بابا ایک غلط فیصلہ نا کرتے “”زارون بابا کی غلطی نہیں ہے “”میں جانتا ہوں اس وقت انہوں نے ثبوتوں پر فیصلہ کیا تھا انہیں نہیں پتا تھا آئینہ کے شہباز ملک کو پھنسایا جا رہا ہے ہر ثبوت ہر گواہ شہباز ملک کے خلاف تھے ہمارا تو کوئی تعلق بھی نہیں تھا اس سے وہ بس ایک بزنس مین تھا “”ذارون ” آئینہ سے اسکی حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی۔۔۔”بابا کا قصور نہیں تھا ۔ لیکن پھر بھی بابا پچھتاؤں میں رہے۔۔۔ انہوں نے جان کر کچھ نہیں کیا تھا مگر اس شخص نے جان کر میری بہن کو تباہ کر دیا۔۔اسے بدلہ لینا تھا نا ہم سے لیتا مجھ سے بابا سے مگر اس نے میری آبگینے کو توڑ کر رکھ دیا ۔۔””زارون آپ ایسے بکھرے گے تو آئینہ کو کون سنبھالے گا؟؟ وہ جلد واپس آ جائے گی ہمیں اسے ایک نئی زندگی دینی ہے اسے واپس سے جوڑنا ہے اسے سنبھالنا ہے”وہ زارون کو سنھبال رہی تھی۔زارون نے سر اٹھائے اسے دیکھا سامنے موجود لڑکی اسے بچی لگتی تھی اسے لگتا تھا وہ اسکے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتی۔۔۔ مگر ان زارون شاہ نے جان لیا تھا وہ لڑکی صرف اسکے لئے اپنی اذیت چھپائے مضبوط بنی کھڑی تھی آخر یہ اسکا کون سا روپ تھا وہ خود کو ٹوٹ چکی تھی مگر زارون شاہ کو جوڑنے کی خاطر وہ کھڑی تھی اسکے ساتھ۔۔۔”مجھے کبھی چھوڑنا مت آئینہ” وہ آخر میں اسکے ہاتھ جوڑتا اسے تڑپا گیا تھا۔۔۔۔آئینہ نے اسکے گرد گرفت مضبوط کی اسے آئینہ کو ہی سنبھالنا تھا۔۔۔••••••••••••••
Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 26

