Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 28

قسط_28آبگینے کی عدت ختم ہوتے ہی حویلی میں آج ولیمے کی تقریب تھی۔گاؤں کے سبھی لوگوں کے لئے کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ایسے میں آبگینے سب سے الگ تھلگ اپنے کمرے میں بند تھی بہت مشکلوں سے آئینہ اس سے بات کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔”آبگینے میری جان کچھ تو بات کرو”اسکا ہاتھ تھامے آئینہ نے نرمی سے اسے پکارا۔”بھابھی میں نے””جو کیا وہ گزر گیا وہ ماضی کا حصہ بن گیا ہے ابگینے””مگر یہ بات مجھے اپنی لپیٹ میں لے گئی ہے میری سانس گھٹتی ہے””میری جان۔۔ اس ایک شخص کی وجہ سے اتنے سارے لوگوں کو کیوں اداس کرتی ہو تمہارے بھیا بہت اداس ہے آبگینے “اسکی بات پر نم آنکھوں سے آبگینے نے آئینہ کو دیکھا۔”میں کیا کروں بھابھی””بھول جاؤ سب۔۔ میں اغوا ہوگئی تھی میں مر جانا چاہتی تھی مگر مجھے خود کو سنبھالنا پڑا کیونکہ زارون مجھے دیکھ کر بکھر رہے تھے ہمارے فیصلے ہمارے اپنوں کو توڑ دیتے ہیں””بھابھی میں کسی کا سامنا نہیں کر سکتی سب کی نگاہیں مجھے اپنے جسم کے آر پار گھستی محسوس ہوتی ہیں” آنسو اسکے گال بھگو رہے تھے ۔آئینہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔”سنبھالو خود کو آبگینے ہمیں اس فیز سے نکلنا ہے””سارا درد میرے حصے میں کیوں بھابھی کیا وہ شخص یونہی خوش رہے گا؟””وہ کبھی خوش نہیں رہے گا ساری زندگی اسے یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے کسی کو برباد کیا ہے””کیا واقعی””بالکل تم دیکھنا وہ کبھی خوش نہیں رہے گا اور اگر وہ تمہیں خوش دیکھے گا تو اسے یہ درد اور ہوگا کہ وہ تمہیں برباد نہیں کر سکا۔۔ تم خوش ہو اسکے اتنا برا کرنے کے بعد بھی وہ تمہیں برباد نہیں کر سکا۔۔”آئینہ اسے نئی راہ دیکھا رہی تھی۔۔آبگینے سمجھی تھی یا نہیں مگر اس نے سمجھ کر سر ہلا دیا تھا۔۔۔••••••••••••رات کا اندھیرا اس بڑی سے عمارت پر جو ڈھانپے ہوئے تھا ایسا میں سیاہ چادر میں چہرہ چھپائے وہ نسوانی وجود آہستہ سے سب سے نگاہیں بچائے عمارت کے پچھلے دروازے سے نکل کر ویرانے میں ائی تھی۔آس پاس دیکھتے اس نے اپنے پہلو سے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا جو دوسری ہی بیل پر ریسیو ہوا تھا۔۔”ہیلو””کہا تھی جب سے تیرے فون کا انتظار کر رہی تھی میں نگار ” فون کی دوسری طرف سے کشمالہ بائی کی آواز پر نگار نے محتاط انداز میں آس پاس دیکھا”نگرانی بہت زیادہ ہے بہت مشکلوں سے یہاں آئی ہوں””بتا کیا خبر ہے؟””کچھ خبر نہیں ہے وہ پولیس والا طلال۔۔ بالکل بھی میری باتوں میں نہیں آ رہا بائی””میں نے تجھے پہلے ہی کہا تھا کیا فائدہ ہوا اتنی مار دھاڑ کا؟””میری مار دھاڑ سے کم از کم تمہارے وہ لڑکیوں والی لانچ تو سمندر پار پہنچ گئی نا”اسکی بات پر کشمالہ بائی کھل کر مسکرائی”اگر وہ نہیں مانتا تو واپس آجانا نگار۔۔۔ “”مجھے وہ چاہیے میں نے اسکی وجہ سے اپنی خوابوں کو چھوڑا ہے بائی۔۔۔””دیکھ لے نگار۔۔ یہ انتظار کہیں تجھے خوار نا کردے “”میں کر لوں گی انتظار۔۔ ویسے بھی محبت میں سب جائز ہوتا ہے نا؟””بالکل اور جب دشمن سے ہی محبت ہو جائے تو زیادہ مزہ آتا ہے” بائی کی بات پر وہ مسکرا دی۔۔وہ زر نگار تھی اپنی ماں کی بیٹی۔۔ ماحول سے لاکھ اختلاف سہی مگر اپنی ماں سے نفرت تو وہ کبھی نہیں۔ کر سکتی تھی اس عورت نے بنا یہ سوچتے اسے جوان کیا تھا کہ اسکے باپ نے اس بیٹی کو اپنانے سے انکار کردیا تھا۔ہاں وہ نگار تھی کشمالہ بائی کا وہ مہرہ جو بنا کسی کی نظروں میں آئے سامنے والے کو چاروں شانے چت کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔۔۔”فون رکھتی ہوں اب موقع ملا تو پھر بات کروں گی” فون رکھتے وہ اسی خاموشی سے واپس اپنے کمرے میں آگئی جس خاموشی سے وہ یہاں سے باہر گئی تھی بنا کسی کی نظروں میں آئے۔۔ ۔••••••••••••••ولیمہ کی تقریب گو کہ بہت سادہ تھی مگر پھر بھی تھکن سے ان سب کا ہی برا حال تھا ۔آئینہ کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں آئی تھی جب زارون شاہ نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔۔”زارون””تھینک یو سو مچ” اسکی گردن پر اپنی ناک مس کرتا وہ آئینہ کو خود میں سمیٹنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔”زارون۔۔۔ کیا ہوا ہے؟””میری بہن کو ایک نئی راہ دیکھانے کے لئے شکریہ ” اسکی گردن پر سے بال ہٹاتا وہ ہولے سے وہاں اپنے لب رکھتا آئینہ کے گرد اپنی گرفت مضبوط کرگیا۔۔”زارون زرا دور تو ہوں پلیز میں نے شاور لینا ہے””بعد میں لینا فلحال میرا دور ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے” آبگینے کو یہاں آئے دو ماہ ہوگئے تھے اور آج پہلی بار زارون نے اسے مسکراتے دیکھا تھا۔وجہ وہ جانتا تھا اور اب اسی وجہ کا پورے دل سے شکر ادا کر رہا تھا۔۔”زارون” اسکی بڑھتی قربت پر آئینہ گھبرائی جو گردن سے ٹھوڑی اور اب لبوں پر آتا اسکے لبوں۔ کو اپنی گرفت میں قید کرتا اسے یونہی لئے بیڈ پر گرا تھا۔۔آئینہ نے گرنے کے خوف سے مضبوطی سے اسکے کندھے کو تھاما۔۔۔”زارون ڈور تو لاک”آئینہ نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ اسکے ہونٹوں پر قفل لگاتا اپنی بے باکیوں سے اسکی جان نکال رہا تھا۔اس سے پہلے اسکی جسارتیں حد پار کرتیں نورے کی آواز پر آئینہ ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کرتے اٹھی۔اسکا اٹھنا تھا کہ سر بری طرح چکرایا تھا۔”آئینہ” اس سے پہلے وہ گرتی زارون نے سختی سے اسے اپنے حصار میں قید کیا۔۔”آر یو اوکے ؟””میں ٹھیک ہوں بس چکر آگیا تھا”گہرا سانس بھرتے اس نے خود کو ریلکس کیا۔”کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے آرام کرو میں چچی کو کہتا ہوں””زارون میں ٹھیک ہوں پکا آپ پریشان مت ہوں” زارون کے گال پر ہاتھ رکھتے اس نے ہولے سے اسکی ٹھوڑی کو چوما۔””اب اپنا جانا خود مشکل کر رہی ہیں آپ جان من”زارون کی بات پر کھلکھلاتے وہ اسکی گرفت سے نکلتے باہر بھاگی تھی۔۔•••••••••••

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on