Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 29

قسط_29آبگینے نے حیرت سے سر اٹھائے اپنے سامنے بیٹھے ماں باپ اور بھائی کو دیکھا۔۔جو بات انہوں نے کی تھی اسکی گنجائش اب آبگینے کی زندگی میں نہیں نکلتی تھی۔۔اسکا سر نفی میں ہلا۔”جلد بازی اور زبردستی نہیں ہے آبگینے یہ فیصلہ سراسر تمہارے ہاتھ میں ہے بیٹا” اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ضوریز شاہ زارون کو اشارہ کرتے باہر بڑھ گئے تھے جو ساکت اپنی خالی ہتھیلیوں کو گھورنے لگی۔۔”تمہارے بابا نے فیصلہ تم پر چھوڑ دیا ہے آبی مگر یہ فیصلہ تم نے سوچ سمجھ کر لینا ہے””آپ کو لگتا ہے مما میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کے قابل ہوں؟”اسکی بات پر عمائم نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔”طلال سے شادی تمہیں ہر چیز سے نکال دے گی آبگینے ،””میں شادی نہیں کرنا چاہتی مما””مما؟ طلال بھائی آبی سے بات کرنا چاہتے ہیں” آئینہ کی مداخلت پر عمائم نے آبگینے کو دیکھا جس کا سر نفی میں ہلا تھا۔”انکار کرنے سے پہلے اسکی سن لو” اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہتے وہ چلے گئی اور ان کے جاتے ہی طلال کمرے میں آیا تھا۔آہستہ سے چلتے وہ عین اسکے سامنے آ بیٹھا۔۔”کچھ بات کرنی تھی “”کہیں””یہ مت سمجھنا آبگینے کے میں یہ شادی تم پر ترس کھا کر یا کسی ہمدردی کے تحت کر رہا ہوں”اسکی بات پر آبگینے نے سر اٹھائے اسے دیکھا۔”تو پھر کیوں کر رہے ہیں””بڑے پاپا اور مما کو بتا چکا ہوں میں بھی کسی سے دھوکہ کھا کر یہاں تک آیا ہوں میں بھی تمہاری طرح کسی کے بدلے کی وجہ سے برباد ہوا تھا”آئینے نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔”کیا مطلب “اسکے پوچھنے پر وہ آبگینے کو سب بتاتا چلا گیا اسکی سن آبگینے کو اپنا آپ یاد آیا تھا۔”یہ دنیا بہت بری ہے آبگینے ہم کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے تو کیوں نا ایک دوسرے پر کرلیں؟””لیکن میں””کوئی دباؤ نہیں ہے ابگینے آج نہیں ایک دو سال بعد سہی بڑے پاپا اور مما تمہاری شادی کا سوچیں گے اور شاید تم تم پر زور دیا جائے اور وہ شخص کیسا ہے اسکے دل میں کیا ہو کون جانے اب فیصلہ تمہارا ہے کہ تمہیں کیا کرنا ہے”وہ ٹھیک کہہ رہا تھا دوسروں پر بھروسہ کرنے سے بہتر تھا وہ طلال کر بھروسہ کر لیتی وہ اپنی زندگی اس کے ساتھ گزار لیتی جسے وہ بچپن سے جانتی تھی۔۔یہ فیصلہ آسان نہیں تھا مگر اسکی زندگی کوئی فیری ٹیل نہیں تھی اسے اپنے لئے سوچنا تھا ایک بار برباد ہونے کے بعد وہ دوبارہ برباد نہیں ہو سکتی تھی۔۔پورا دن وہ طلال کی باتوں کے بارے میں سوچتی رہی اسے نفرت محسوس ہو رہی تھی اس لڑکی سے جس نے طلال کے ساتھ یہ سب کیا کیسے کم ظرف لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو برباد کرتے خوش رہتے ہیں ۔۔اس نے حقیقت کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اس نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا تھا اسے پریٹکل ہو کر سوچنا تھا اسے اب اپنا سوچنا تھا خوش رہنا تھا وہ پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔وہ طلال سے شادی پر راضی ہوگئی تھی اسکے ایک فیصلے سے اسکے گھر والوں کے چہرے کھل اٹھے تھے اسکی دادی ہنس رہی تھیں وہ خوش تھیں اور بھلا اسے کیا چاہیے تھا وہ خوش رہتی تو سب خوش رہتے اگر سب کی خوشی اس سے جڑی تھی تو اسے کسی کو دکھ میں نہیں دیکھنا تھا۔اسکے اقرار کرتے ہی حویلی میں شادی کی تیاریاں شروع ہوئی تھیں ۔ہر چیز ٹھیک ہوگئی تھی اور اب مزید ٹھیک ہونا باقی تھی۔۔____________”یہ پیکنگ کس خوشی میں ہو رہی ہے؟” ولی کمرے میں داخل ہوا تو زروا کو اپنا سامان پیک کرتے پایا۔۔”میرے اکلوتے بھائی کی شادی ہے میں اپنے گھر رہنے جا رہی ہوں٫””کون وہی بھائی جس کی تم سے بنتی نہیں تھی””وہ پرانی بات تھی اب ہم بہن بھائیوں کی بہت بنتی ہے آپ پھپھو کی طرح آگ مت لگائیں””یار تمہاری پھپھو ایسی تو نہیں “”میں اپنی نہیں آپ کی پھپھو کی بات کر رہی ہوں” اسکی بات پر ولی نے ایک جھٹکے سے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا۔”کچھ زیادہ ہی بہادر نہیں ہوگئی بیگم؟””میں ہمیشہ سے بہادر تھی شوہر جی” ولی کی گردن کے گرد بانہیں ڈالے وہ اٹھلائی۔۔ ولی نے جھک کر اسکی ناک کی نوک پر اپنے لب رکھے ۔”مائے لیڈی آپ کہیں نہیں جا رہی ہے” اسکا بیگ سائیڈ کرتے وہ بیڈ پر بیٹھتا اسے اپنے پاؤں پر بیٹھا گیا۔۔”میں جاؤں گی اور لازمی جاؤں گی اور اگر آپ نے جانے نہیں دیا تو میرے بابا مجھے لینے آئیں گے” اترا کر کہتے اس نے جھک کر ولی کی مونچھوں پر لب رکھے۔جواب دیتا ولی ٹہر کر اسے دیکھنے لگا جو دانتوں تلے دبائے شرارت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔”زروا یہ کیا کیا””اسے حرف عام میں کس کہتے ہیں ڈئیر ہسبینڈ” ایک بار پھر جھک کر اسکی ٹھوڑی چومتے وہ اپنا ماتھا ولی کے ماتھے سے ٹکا گئی۔۔”کتنا بھی رومینس کرلو میں پھر بھی جانے نہیں دوں گا” اس نے ہری جھنڈی دیکھائی مگر سامنے بھی زروا تھی۔ایک نظر بند دروازے پر ڈالتے اس نے ولی کے چہرے کو تھاما اس سے پہلے وہ سمجھتا وہ اسکے ہونٹوں پر جھکی تھی۔ولی کے ہونٹوں کے کنارے مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔زروا کے بالوں میں ہاتھ پھنساتا وہ اسکے چہرہ پیچھے کی جانب کئے مدہوش سا اسکے لبوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اسکی کمر پر انگلیوں کا دباؤ بڑھائے زروا کا ایک جھٹکے سے اپنے قریب کرگیا۔۔دونوں کی سانسیں منتشر تھیں اسے یونہی اٹھائے وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹتا اسکے ہونٹوں کو آزادی دئیے زروا کی بیوٹی بون پر لب دھرتا اسکی انگلیوں میں انگلیاں الجھاتے اسے خود میں گم کرنے لگا۔۔کپڑوں کا بیگ زمین پر جا گرا تھا۔زروا نے اٹھنا چاہا مگر وہ شیر اسے اپنے شکنجے میں قید کرتا اسکے فرار کی ساری راہیں مفقود کر گیا تھا۔۔زروا کی سانسیں تیز تھیں۔”ولی پلیز” اسکی شدتوں سے بےحال اس نے ولی کو پکارا۔۔”ابھی سے پلیز ؟””مجھے گھر جانا ہے” اسکے سینے میں چہرہ چھپائے وہ اپنی بات منوانے کی خاطر میں بسور گئی۔”اوکے مگر فلحال مجھے خود کو محسوس کرنے دو” کہتے ساتھ وہ ایک بار پھر اس میں گم ہوتا زروا کے چھکے چھڑا گیا۔۔۔____________”آپ نے بلایا ڈیڈ ؟”ہلال کمرے میں آیا جہاں مامون شیرازی اپنی چئیر پر بیٹھے ہوئے اسکے آتے ہی لیپ ٹاپ اسکرین اسکے سامنے کی۔۔”اسی ہفتے ایک کنسائمنٹ بذریعہ پوٹ دوسرے ملک جا رہی ہے”ان کی بات پر ہلال نے جبڑے بھینچے۔۔”یہ ناسور ناجانے کب ختم ہوگا””یہ ناسور نسل در نسل چلے گا ہم اسے ختم کرنے کی کوشش میں مر جائیں گے مگر پھر کوئی دوسرا اٹھ کھڑا ہوگا۔۔”میں چارج سنبھالوں گا””ہلال تم نہیں میں””ڈیڈ یہ میری جنگ ہے اس فیلڈ میں آنے کا فیصلہ میرا تھا دشمنوں کو ان میں گھس کر برباد مجھے کرنا تھا تو اب انہیں کیفر کردار تک پہنچانا بھی میرے ذمے ہے””ایمانے کو کیا کہو گے تم جانتے ہو وہ بہت حساس ہے تمہیں اس سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی””اسکے بغیر وقت سے پہلے مر جاتا سوچا تھا ساری زندگی اسے خود سے نفرت کرنے کر مجبور کروں گا مگر اسے کسی اور کے ساتھ دیکھ ارادہ بدل دیا میں نے خود بن گیا ہوں میں””یہ غلط ہے””کم از کم میری اپنی بیوی کو اغوا نہیں کیا کسی کی طرح ” اسکے طنز پر مامون شیرازی نے گھور کر اسے دیکھا۔”شرم زرا نہیں آتی نا؟””بالکل بھی آپ کو بھی تو شرم نہیں آئی تھی میری مما کو اغوا کرتے ہوئے””دفع ہوجاؤ تک کھوتے انسان ” مامون شیرازی کے جلنے پر وہ قہقہ لگا اٹھا ۔”بس یہ جو بے بسی ہے نا ڈیڈ اندر تک سکون دے دیتی ہے””اور ابھی سوچو ذرا ایمانے کو پتا چلے گا کہ تم ہی ہو ڈیول ہو اسکے بعد مجھے کتنا سکون ملے گا٫”ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر”ڈونٹ یو ڈئیر ڈیڈ۔۔۔ “”اگر تم چاہتے ہو میں چپ رہوں تو دفع ہوجاؤ پہلی فرصت میں” انہوں نے اسے باہر کا راستہ دیکھایا۔”پتا نہیں مما کو آپ میں دیکھتا کیا ہے””تم میرے آگے چنے بیچتے ہو میرے بچے مامون شیرازی تم سے سو گنا زیادہ ہینڈسم ہے” وہ اترائے ہلال کے آنکھیں گھمائیں۔”لیکن میں آپ لوگوں کی زندگی میں لیٹ آیا تھا مگر میرا بچہ جلدی آئے گا پرامس اس معاملے میں ہراؤں گا آپ کو” انہیں چیلنج کرتا وہ وہاں سے نکل گیا جبکہ وہ دیر تک ہنستے رہے تھے۔۔شہرے کہتی تھی وہ باپ بیٹے کم دوشمن زیادہ ہیں مگر یہ تو وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ ان کا تعلق جس قدر مضبوط ہے۔اس دنیا کی کوئی طاقت ان کے رشتے کو خراب نہیں کر سکتی تھی کبھی بھی نہیں۔۔۔۔____________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on