Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 3

قسط_03گانے گھنگرو ہنسی قہقہے۔۔۔ایک نظر نیچے ناچتی لڑکیوں کو دیکھ اس عورت نے کھڑکی بند کی اور اپنے تخت پر آ بیٹھی۔”کھڑکی کیوں بند کردی خالہ؟”کمرے میں آتی تیس سالہ شبنم نے کھانے کی ٹرے اس عورت کے آگے رکھی۔۔”جان چھڑانے کی کوشش کر رہی ہوں شبنم۔۔ ایک بار پہلے بھی یہی کیا تھا اور دیکھ واپس اسی در پر آگئی””بھول جاؤ پرانی باتیں جو ہو گیا سو ہو گیا””کس بارے میں بات کر رہی ہے شبنم؟”کمرے میں آتی کشمالہ بائی کی کرخت آواز پر شبنم نے دانتوں تلے لب دبایا۔۔۔”کچھ نہیں بائی””جا دیکھ بڑے صاحب آنے والے ہیں لڑکیوں کو بول تیار رہیں”حکم ملتے ہی شبنم تیزی سے باہر نکلی تھی جبکہ کشمالہ بائی اس عورت کے سامنے آ بیٹھی۔۔”کیوں خود کو اذیت دے رہی ہے ارسلہ ؟ ایک حکم کر اس خاندان کی بیٹوں کو یہاں کی زینت نا بنایا تو نام بدل دینا میرا””اس خاندان کی بیٹیوں کی ماں کو میں نے پالا ہے آپا ۔۔۔ اس کی بچیوں کو یہاں کی زینت نہیں نہیں بنا سکتی”ارسلہ عائلہ کے لہجے میں دکھ ہلکورے لے رہا تھا ۔۔سالوں پہلے اسی قید سے نکل کر گئی تھی عمر شاہ کی محبت کی خاطر ۔ اور پھر نورے اور شہرے کے جانے کے بعد اس نام نہاد شوہر نے مار مار کر گھر سے نکال دیا تب یہ بہن ہی اسے واپس لائی تھی اسی کوٹھے میں جگہ دی۔۔کہانی جگہ سے شروع ہوئی تھی وہیں آکر ختم ہوئی تھی مگر دل میں عمر شاہ کے خاندان کے خلاف نفرت پہلے سے زیادہ ہوگئی تھی۔۔”نورے کی اولاد نا سہی زرمینہ کی اولاد تو یہاں آ سکتی ہے نا وہ بھی تو عمر شاہ کی بیٹی ہے,”بائی کی بات پر عائلہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔”وہ بھی شاہ خاندان کا حصہ ہے اپنے خاندان کی بیٹی کو کوٹھے کی زینت بنے دیکھیں گے تو احساس ہوگا کسی کوٹھے والی کی زندگی کیسی ہوتی ہے” ان کے لہجے میں شاہ حویلی والوں کے لئے صرف و صرف نفرت تھی اور اسی نفرت کا نشانہ وہ ایک معصوم جان کو بنانا چاہتے تھے ۔۔”مجھے چاہیے مجھے عمر شاہ کی بیٹی نہیں تو نواسی اس کوٹھے میں چاہیے آپا۔۔۔ جو میں نے محسوس کیا وہ ان سب کو کرنا چاہیے نا میں نے اپنا گھر چھوڑا اپنے لوگ اس ایک عمر شاہ کی خاطر اور انہوں نے مجھے در بدر کر دیا مجھے برباد کردیا ان کی بیٹی بھی تو برباد ہونی چاہیے نا؟”کشمالہ بائی کا ہاتھ تھامے وہ کہہ رہی تھی مگر وہ یہ بھول گئی تھی جس کے بارے میں وہ بات کر رہی وہ اسکا خون ہے اسکی نواسی ہے۔۔”میں نے اپنی جوانی برباد کی اب مرنے سے پہلے میں ان سب کو برباد دیکھنا چاہتی ہوں جیسے میں ہوئی تھی””وہ ہونگے برباد میری بہن اس کوٹھے میں آئے گی عمر شاہ کی نواسی اور اسکی زندگی اتنی مشکل ہوگی کہ شاہ خاندان کی نسلیں یہ تڑپ یاد رکھیں گے” لہجے میں صرف نفرت تھی تپش تھی جو سامنے والے کو جھلسا کر رکھ دینے والی تھی۔۔۔____________”اینا؟” زرمینے شاہ کی آواز پر وہ جو نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی تیزی سے نیچے آئی۔”جی امی ؟””میں اور بھابھی جا رہے ہیں خیال رکھنا نانو کا اور گھر کا””پھپھو ہم ہیں نا اس کا دھیان رکھنے کے لئے آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں؟””کیونکہ وہ جانتی ہیں ہمارے جاتے ہی آپ نے نکل جانا ہے گشت پر ” نورے شاہ کی بات پر وہ کھلکھلائی۔۔”یار مما۔۔۔ وہاں بی بی جان میرا انتظار کرتی ہیں نا”نورے کے کندھے سے ٹھوڑی ٹکائے لاڈ سے کہتی نورے شاہ کے گال پر پیار کر گئی۔”اچھا اب ہوگئے نا لاڈ جاؤ اندر اور خیال رکھنا ہے ” ان دونوں کو کہتے وہ لوگ باہر بڑھی تھیں جبکہ زروا نے جلدی سے آئینہ کا ہاتھ تھاما جو اوپر جانے کی تیاریوں میں تھی۔”تمہیں پتا ہے اینا۔۔۔ کل مما اور بڑی مما زارون بھیا کی شادی کی بات کر رہی تھیں”آس پاس دیکھتے اس نے رازداری سے کہا تھا۔جس پر آئینہ جلال پھیکا سا مسکرائی۔۔”جانتی ہوں “”اور جاننے کے بعد بھی تم مسکرا رہی ہو آئینہ تم پاگل ہو ؟ جسے پسند کرتی ہوں اسکی شادی ہونے دو گی اور اسکی شادی کی بریانی بھی کھاؤ گی؟””شٹ اپ زروا ” اسکی بات پر زچ ہوتے اس نے اپنا بازو اسکے ہاتھ سے چھڑایا اور اوپر کی جانب بڑھی مگر زروا اسکے پیچھے آتی سختی سے اسکا بازو اپنی گرفت میں جکڑ گئی۔۔”اگر تم نہیں بولو گی تو میں جا کر بڑی مما کو بتا دوں گی آئینہ۔۔۔ ایسے محبت پر گیو اپ نہیں کرو””زروا پلیز””آئینہ میری جان “”زروا مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے میں بابا کو یہ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہی کہ مجھے آگے پڑھنا ہے گاؤں میں نہیں شہر میں جا کر اور تم کہتی ہو۔ میں اپنے ماں باپ کو بتاؤں کے میں زارون شاہ کو پسند کرتی ہوں؟ کیا مذاق ہے زروا”اپنا بازو اس سے چھڑائے وہ بیڈ پر آ بیٹھی چہرے پر اداسی نے ڈیرہ جمایا تھا۔”تو تم زارون بھیا کی شادی کسی اور سے ہونے دو گی؟””زروا۔۔۔ وہ مجھ سے بات تک نہیں کرتے مجھے تو لگتا ہے شاید انہوں میرے وجود کا علم بھی نہیں ہوگا اگر میں سامنے آئی تو انہیں یاد آیا ہوگا کہ ہاں آئینہ جلال نام کی بھی کوئی لڑکی ہے ورنہ شاید تو وہ میری موجودگی سے بھی لاعلم ہونگے یہ میری غلطی ہے میں نے انہیں پسند کیا “”میری جان ادھر دیکھو میں بھی اس ایک شخص کو پسند کرتی ہوں نا دیکھا ہے نا تم نے کتنا کھڑوس ہے وہ؟””کھڑوس تو نہیں ہیں وہ؟””میرے معاملے میں تو ہیں” اس نے منہ بنایا”پاگل ہو تم ایسا کچھ نہیں””افف چھوڑو یہ بتاؤ کیری کھاؤ گی خان حویلی کے احاطے میں جو پیڑ ہے وہاں کیریاں لگی ہیں””خبردار زروا جو تم نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی””ارے میری جان کسی بچے سے کہہ کر لاؤں گی ڈونٹ وری بس تم خوش رہو میں آتی ہوں تب تک”آئینہ کے گال پر پیار کرتے وہ تیزی سے اپنا دوپٹہ سر پر جماتے اسکے کمرے سے نکلتے بہت دھیان سے حویلی سے نکلی تھی۔۔___________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on