Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 30

قسط_30طلال کے کمرے میں موجود بیڈ سے ٹیک لگائے مضطرب سی بیٹھی تھی۔۔اپنے وجود پر موجود زرق برق لباس اسے چبھ رہا تھا۔طلال ابھی تک نہیں آیا تھا وہ اسکا انتظار کرنا چاہتی تھی وہ اس پر یہ تاثر نہیں دینا چاہتی تھی کہ اسکے ساتھ کوئی زور زبردستی ہوئی ہے۔۔۔گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور طلال باہر آیا۔۔”سوری آبگینے میں لیٹ ہو گیا” معذرت خواہ انداز میں کہتے وہ بیگ ایک سائیڈ رکھتے اپنی قمیض ہے اوپری بٹن کھولتا بیڈ پر آ ٹکا۔۔”اٹس اوکے”اسکے نرمی سے کہنے پر طلال مسکرایا۔”ویسے اتنی نرمی سے بات کرنا کہاں سے دیکھا ہے پہلے تو ایسی بالکل نہیں تھیں “اس نے جان کر چھیڑا تھا۔۔”اب میں بالکل پہلے جیسی نہیں رہی وقت اور حالات انسان کو بدل دیتے ہیں””مگر میں نے سنا ہے اگر انسان کوشش کرے تو واپس سے اپنا پرانا والا ورژن واپس لا سکتا ہے”اسکی بات پر وہ چونک کر طلال کو دیکھنے لگی۔۔”وہ کیسے ؟””نئے ہمسفر کے ساتھ خوش رہ کر” وہ مسکرایا آبگینے مسکرا بھی نہیں سکی۔۔”مسکرا لو اسکے پیسے نہیں لگتے” شرارت سے کہتا وہ اٹھ کر وہ بیگ اٹھائے اسکے سامنے آیا۔۔”یہ آپ کی منہ دیکھائی”بیگ سے مخملی کیس باہر نکالتے اس نے آبگینے کے سامنے رکھا جس میں موجود دو سنہرے کنگن جگمگا رہے تھے۔۔”مے آئے ؟”اجازت پر آبگینے نے ہولے سے سر ہلایا۔طلال نے اسکا ہاتھ تھام اسکی کلائی میں وہ کنگن پہنائے تھے جن کی خوبصورتی اسکے ہاتھ میں سج کر مزید بڑھی تھی۔۔”طلال آپ نے اتنی آسانی سے ماضی کیسے بھلا دیا؟” آبگینے نے اچانک سوال کیا۔۔طلال نے مسکرا کر اسے دیکھا۔”ماضی بھولتے نہیں ہیں میں بھی نہیں بھولا بس میں ماضی سے سبق سیکھ لیا ہے اسے یاد کر کے سوائے اذیت کے کچھ بھی نہیں ملے گا٫”آبگینے کے گال پر رکھ اس نے نرمی سے ہاتھ کے انگوٹھے کی مدد سے اسکا گال سہلایا۔اس زرا سے لمس پر وہ سمٹی مگر طلال آگے ہوتے اس کے ماتھے پر لب رکھتا اسے ساکت کر گیا۔”طلال””ماضی میں رہنا ہے یا اس سے باہر نکلنا ہے کہ فیصلہ صرف اور صرف تمہارا ہے کوئی زبردستی نہیں ہے آبگینے”طلال کی بات پر اس نے مضبوطی سے بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں جکڑا۔۔۔ہر چیز مشکل تھی بہت مشکل۔۔۔۔۔طلال اسکے جھکے سر کو دیکھ رہا تھا ۔”ٹیک یور ٹائم میں چینج کرلوں” اسے کہتا وہ بیڈ سے اٹھا تھا مگر وہ آگے نہیں بڑھ پایا اسکا ہاتھ آبگینے کی گرفت میں تھا۔”وہ سب بھول جانا چاہتی ہوں پلیز” آنکھوں میں آنسو تھے طلال نے جھک کر اسکا چہرہ تھام اسکے ماتھے پر لب رکھے۔۔یہ فیصلہ آسان نہیں تھی۔۔طلال اسکے چہرے پر جھکا آبگینے نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے وہ اسکی سانسوں پر قابض تھا کئی تلخ یادیں اسکے دماغ میں آنے لگی تھیں جنہیں جھٹک اس نے طلال کی بانہوں میں خود کو چھپایا تھا۔۔ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کرتے طلال نے اسے خود میں سمیٹ کر اسے اپنے نام کیا تھا۔۔۔۔__________________باہر بارش تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور اندر وہ نشے میں دھت موبائل پر موجود آبگینے اور طلال کی شادی کی تصاویر دیکھ رہا تھا۔۔”کیا فائدہ ہوا میرا تمہیں برباد کرنے کا جب تک ایک بار پھر آباد ہوگئی ہاں؟”آبگینے سے مخاطب ہوتے وہ اٹھ کر بالکونی میں آگیا۔۔”میرا دل نہیں بھرا تھا تم سے۔۔ تمہیں مزید میرے پاس رہنا تھا تاکہ تمہارا باپ اور تڑپے اتنی جلدی تڑپ ختم ہوگئی”اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اسکے نفرت میں کمی نہیں آئی تھی۔۔”دھوکے باز نکلی تم آبگینے اپنے باپ کی طرح دھوکہ باز۔۔۔ نفرت کرتا ہوں تم سے کاش میں تمہیں مار دیتا جان سے” وہ پاگل ہوگیا تھا اسکے قدم پیچھے کی جانب پڑ رہے تھے ۔۔”آئی ہیٹ یو ” نفرت سے کہتے اس نے ریلنگ سے ٹیک لگائی۔۔”کل ایک اور لڑکی کو برباد کرنا ہے سوچ رہا ہوں کچھ ایسا کروں کہ اسے تمہاری طرح ہیپی اینڈنگ نا ملے” بارش اسے بھگو رہی تھی اور وہ خود سے بڑبڑا رہا تھااس نے ایک پیر ریلنگ پر رکھا۔گارڈ سے بات کرتا کولن اچانک چونکا اور جیسے ہی اس نے اوپر دیکھا اسکی جان لبوں پر آئی۔۔”کاپو کیا کر رہے ہیں گر جائیں گے””میں برباد کرنے کے لئے آیا ہوں سب کو کولن میں نے اس لڑکی کو بھی برباد کر دیا”ایک اور قدم ریلنگ پر بڑھائے وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔”کاپو ایسا کچھ بھی کرنا” اسے اوپر چڑھتے دیکھ کولن تیزی سے اندر بھاگا تھا گارڈز اسے کور کرنے کے لئے اکھٹے ہوئے تھے مگر بہت دیر ہو چکی تھی بنا کسی کی سنے اس نے اوپر سے چھلانگ لگائی تھی۔۔۔بارش میں اسکا خون شامل ہوا تھا۔کولن نے اسکا وجود دیکھا جو ساکت پڑا تھا۔۔۔۔__________________

ائیر پورٹ سے نکلتے ہلال نے شہرے اور ایمانے کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما۔”اپنی بیوی کا ہاتھ تھامو اپنی بیوی کے لئے ہوں میں” شہرے کو اپنی طرف کرتے مامون نے شہرے کا ہاتھ تھاما جس پر ایمانے مسکرا دی.مقررہ وقت پر وہ اپنے گھر پہنچے تھے ہلال کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے مامون اسٹڈی میں داخل ہوئے وہ بھی ان کے ساتھ ہی اندر داخل ہوا تھا”ڈیڈ؟ سب ٹھیک ہے؟””ہلال وہ ڈرگز ڈیلر ایک بار رپھر ایکٹو ہو چکے ہیں ہمیں ایکشن لینا ہوگا۔۔”ان کی بات پر اس نے گہرا سانس لیا وہ پچھلے چار سے انڈر کور کام کر رہا تھا مگر یہ ایسا ناسور تھا جو نا جانے کہاں تم پھیلا ہوا ان کی جنگ نا ختم ہونے والی تھی ہر بار کچھ نیا ان کے سامنے آ جاتا تھا جو پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتا۔۔”اگر ایسا ہے تو ہمیں مام اور ایمانے کو نہیں لانا چاہیے تھا ڈیڈ۔۔۔””تم جانتے ہو اپنی ماں کو۔۔ میں وہاں اسے چھوڑ بھی نہیں سکتا تھا۔۔”اب بتائیں کیا کرنا ہے؟ میں رات میٹنگ بلاتا ہوں تب تک آپ ریسٹ کریں”وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا جب شہرے کی تیز پکار پر وہ دونوں تیزی سے نیچے آئے”دیکھو ایمانے کو کیا ہوا ہے ” انہوں نے صوفے پر بے ہوش ایمانے کو دیکھا ہلال گھبرا کر اس تک پہنچتا فوراً اسے بانہوں میں بھرے باہر بھاگا تھا مامون اور شہری مومن کو برابر میں چھوڑتے تیزی سے اسکے پیچھے نکلے ۔۔۔وہ اسے لئے سیدھا ہاسپٹل لایا تھا اندر ڈاکٹر اسکا ٹریٹمنٹ کر رہی تھیں شہرے اسکے پاس ہی تھی مگر ہلال کو کسی پل سکون نہیں تھا ۔۔کچھ ہی دیر بعد شہرے باہر آئی تو چہرے پر خوشی کی چمک تھی۔۔ایمانے امید سے تھی اس ایک خبر نے وہاں موجود ان تینوں نفوس کو بے تحاشہ خوشی سے سرشار کیا تھا۔۔اتنی بڑی خبر یوں ملے گی اس نے بالکل نہیں سوچا تھا۔”مبارک ہو اولڈ مین آپ کا بیٹا جیت گیا” مامون شیرازی کے گلے لگتے ہلال اترایا جس پر وہ آنکھیں گھما کر رہ گئے جبکہ شہرے ہنس پڑیں۔۔کل تک وہ ان کے لئے بچہ تھا اور اب وہ خود بچے کو باپ بننے والا تھا آخر وہ کیسے خوش نا ہوتیں۔۔۔ہلال تو فوراً سے پہلے ایمانے کے پاس آیا جو شرمائی لجائی سی بیٹھی تھی۔”شکریہ نہیں بولوں گا ڈارلنگ کیونکہ “”ہلال خبردار جو کوئی بے ہودہ بات کی”اسکے منہ کھولنے سے پہلے ہی ایمانے اسے ٹوک گئی۔۔”اب کریڈٹ تو لینے دو نا” منہ بناتا وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا۔۔”بہت شکریہ مجھے زندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ دینے کے لئے””کوئی تو کہہ رہا تھا کہ وہ شکریہ ادا نہیں کرے گا٫””نہیں کروں گا تو بیوی ناراض ہو جائے گی٫” شرارت سے کہتے وہ اسے یونہی حصار میں لئے باہر بڑھا جہاں مامون اور شہرے گاڑی میں ان کے منتظر تھی۔۔ایمانے کو گاڑی میں بیٹھاتے وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا تھا ان کے گاڑی سے نکلتے ہی پاس موجود ماسک لگایا ڈاکٹر ان کی گاڑی کو دیکھتے مسکرایا۔”تو فائنلی تمہاری کمزوری ہمارے ہاتھ لگ گئی ڈیول۔۔۔۔ بہت جلد اس دنیا سے تمہارا صفایا ہو جائے گا”نفرت سے کہتے وہ آگے میسج فارورڈ کرنے لگا۔اس انجان دشمن سے جنگ اب آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔۔__________________

حویلی سے سب کراچی شفٹ ہوگئے تھے۔ہر چیز اپنی جگہ پر سیٹ ہو چکی تھی ضوریز شاہ کے برابر والے گھر میں جازب شاہ اور نورے اپنے بچوں کے ساتھ موجود تھی ولی الگ رہنا چاہتا تھا مگر نورے کی ضد کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ رہ رہا تھا زروا کو اور بھلا کیا چاہئے تھی۔ایسے ہی سکون بھرے دنوں میں ان سب کو ایمانے کی خوشی کی خبر ملی تھی۔نورے تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں اور یہی حال زروا اور طلال کا تھا ماموں اور خالہ بننے کی خوشی حد سے زیادہ تھی۔۔”کیا کہتی ہو ہمیں بھی اس بارے میں سوچنا چاہیے کہ نہیں؟” زروا کو بانہوں میں بھرے ولی نے اپنی ٹھوڑی اسکے کندھے پر ٹکائی۔”خبردار ایسا سوچئے گا بھی مت ابھی میرے پیپرز ہونے والے ہیں٫ ” اسکے صاف انکار پر ولی نے معصوم سا چہرہ بنائے اسے دیکھا۔”ولی میں سچ میں آپ کو نہیں سنبھال پاتی آپ کے جونئیر کو کیسے سنبھالوں گی”؟اس نے بیچارگی سے ولی کو دیکھا۔”ارے اس میں کون سی بڑی بات نورے ہیں نا تم بچے پیدا کرو اور وہ پالیں گیں””بہت سر چڑھا کر رکھا ہے میری مما نے آپ کو وہ بھی فضول میں””تو تم دل میں بٹھا لو نا “”آپ الریڈی وہاں ہیں” اسکے سینے پر سر رکھتے زروا نے محبت سے اسکی ٹھوڑی کو چھوا۔۔”اتنا پیار خیریت ہے؟””بالکل خیریت ہے آپ پریشان مت ہوں اور مجھے اب پڑھنے دیں”اسے دور کرتے وہ کتاب پر توجہ دینے لگی مگر اب ایسا ممکن نہیں تھا۔۔اسکی کتابیں سمیٹتے وہ اسے خود میں اسے سب فراموش کر گیا۔۔۔__________________”زارون؟” زارون اسٹڈی میں تھا جب آئینہ نے اسے پکارا۔”ہمم؟””طوبیٰ کی کال آ رہی ہے” اسکے بتانے پر لیپ ٹاپ پر چلتی اسکی انگلیاں تھمی۔”موبائل سوئچ آف کردو “”آپ ایک بار بات سن تو لیں”آئینہ اسکے قریب آئی جو ماتھے پر بل ڈالے کام کرنے میں مصروف تھا۔۔”آئینہ مجھے””میں جانتی ہوں آپ اس سے بات نہیں کرنا چاہتے تو ضرور کوئی وجہ ہوگی مگر ایک آخری بار بات سننے میں حرج کیا ہے؟””وہ دریہ کی بھتیجی ہے””کون دریہ؟” آئینہ کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے۔۔”دریہ میری سگی ماں”اسکے اچانک بتانے پر آئینہ شاکڈ سی اسے دیکھنے لگی ۔”آپ کی ماں؟””ہمم۔۔ وہی ماں جو مجھے بس دولت کے لالچ میں چھوڑ گئی اور واپس آئی تو اسے بس بابا کی دولت چاہیے تھی اور اب بھی اسے پیسوں کی ضرورت ہے تو اسے مجھ سے ملنا ہے””آپ مل لیں ایک بار ہو سکتا ہے اس بار وہ لالچ میں نہیں ہوں””ایک انسان کی فطرت کبھی نہیں بدلتی اگر وہ سالوں پہلے ایسا کر سکتی ہیں تو اب بھی کر سکتی ہیں میں کوئی فرشتہ نہیں ہو آئینہ میرا دل دکھا تھا میں چاہوں بھی تو انہیں معاف نہیں کر سکتا میرا بچپن بنا ماں کے گزر رہا تھا اگر مما نہیں آتی تو میں شاید کبھی ماں کی ممتا محسوس ہی نہیں کر سکتا۔۔میرا دل راضی نہیں ہوتا انہیں معاف کرنے کے لئے””زارون۔۔ زندگی بہت مختصر ہوتی ہے ناجانے کب ختم ہو جائے کسے پتا ۔۔ اس لئے اگر آپ کسی سے ناراض ہیں تو اسے معاف کردیں یہ نا ہو کہ بعد میں آپ کے حصے میں محض پچھتاوا آئے۔۔””آئینہ “”انہوں نے آپ کو ہرٹ کیا آپ کے ساتھ جو کیا قدرت نے انہیں دیکھیں آپ سے محروم رکھا اگر وہ آپ کے ساتھ ہوتیں تو یقیناً آپ پر فخر کرتیں وہ ساری زندگی اس پچھتاوے میں رہی ہونگی کی انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا ہر روپوں کے عوض انہوں نے ہیرا گنوا دیا۔۔””آپ کو ان سے ایک آخری بار ملنا چاہیے ایک آخری الوداع ” اسکی بات پر زارون نے اپنا چہرہ اسکے پہلو میں چھپائے آئینہ کے گرد بازو باندھے۔۔یہ دنیا کا سب سے مشکل کام تھا کہ جس نے دل دکھایا ہو اسے معاف کیا جائے مگر اسے یہ کرنا تھا۔۔__________________

“آبگینے ؟” وہ چینج کر کے آیا تو آبگینے کو اسی پوزیشن میں بیٹھے پایا جہاں وہ اسے چھوڑ کر گیا تھا۔۔”جی؟””کیا سوچ رہی ہو کب سے؟” اسکی گود میں سر رکھتے اس نے آبگینے کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھے۔۔”کچھ بھی بس ایسے ہی””ایسے ہی کیا مجھے بھی بتاؤ کیا سوچ رہی تھیں تاکہ میں بھی تمہارے ساتھ سوچوں ” اسکا چہرہ جھکا کر اپنے روبرو کرتے وہ باضد ہوا آبگینے ہولے سے مسکراتے اسکے ماتھے پر ٹھوڑی ٹکا گئی۔۔طلال کی محبت توجہ نے اسے کسی حد تک نارمل کر دیا تھا وہ زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی مگر اب وہ پہلے جیسی باتونی آبگینے نہیں رہی تھی۔۔وہ سمجھدار ہوگئی تھی اسنے اپنی غلطی سے بہت بڑا سبق سیکھا تھا چھپ کر کئے کام کبھی آپ کو عزت نہیں دیتے۔۔ اس کا ایک غلط فیصلہ اس پر بہت بھاری پڑا تھا مگر وہ اب غلطیوں پر بیٹھ کر پچھتاتی نہیں تھی کیونکہ اب اسکے پاس طلال تھا۔۔”میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں”بہت دیر بعد وہ بولی تو اپنے لفظوں سے طلال کو حیران کر گئی۔۔وہ پچھلے کئی وقت سے اسے آگے پڑھنے کے لئے فورس کر رہا تھا وہ چاہتا تھا وہ آگے پڑھے اپنے سارے خواب پورے کرے۔۔”اور اتنا نیک خیال کیوں آیا ؟””میں نے سوچا کل جب آپ ریٹائرمنٹ لینگے تو میں بزنس وومن بن کر آپ کو سنبھال لوں گی” اسکی بات پر ہنستا وہ اسکا چہرہ مزید جھکائے اسکے ہونٹوں پر مہر ثبت کر گیا۔۔”اتنا نیک خیال کچھ زیادہ جلدی نہیں آگیا ؟”اٹھ کر بیٹھتے اس نے آبگینے کے دونوں ہاتھ تھامے۔۔”بس آگیا نا “”تو ٹھیک ہے کل چلتے ہیں یونی بات کرتے ہیں ان سے کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے٫” طلال کے پاس اسکے لئے پلینز ہی پلینز تھے وہ مسکراتے ہوئے اسے سن رہی تھی جس نے اسکی زندگی کو ایک بار پھر رنگوں سے بھر دیا تھا۔۔۔__________________نگار کے لئے اس جگہ پر رہنا مشکل ترین ہوتا جا رہا تھا وہ آزاد زندگی گزارنے کی قائل یہاں بند ہو کر رہ گئی تھی۔وہ طلال کو دیکھنا چاہتی تھی مگر اپنی شادی کے بعد سے وہ ایک بار بھی یہاں نہیں آیا وہ ایک بار اس سے ملنا چاہتی تھی یہ سوچ وہ بنا کسی کی پرواہ کئے خود کو چادر سے کور کرتے وہ باہر نکل آئی۔اسکا ارادہ پولیس اسٹیشن جانے کا تھا وہ آج ہر حال میں طلال سے ملنا چاہتی تھی۔اور شاید یہ اسکی قسمت ہی تھی کہ طلال اسے باہر ہی مل گیا۔”طلال شاہ؟” نگار کے پکارنے پر طلال نے مڑ کر دیکھا جہاں وہ آنکھوں میں چمک لئے اسے دیکھ رہی تھی۔”نگار آپ یہاں کر رہی ہیں ؟””آپ سے ملنے آئی ہوں میرا اظہار اتنا ڈرا گیا کہ شادی کرلی؟””ایسا کچھ نہیں ہے””ایسا ہی ہے آپ میرے سارے احسان بھول گئے اتنا تو خیال کر لیتے کہ آپ کے لئے میں نے اپنے جسم پر کئی زخم برداشت کئے ہیں٫””نگار میں اسکے لئے آپ کا شکر گزار””آپ کا شکریہ نہیں چاہیے آپ کی محبت چاہیے اگر آپ چاہیں تو میں آپ کشمالہ بائی کا پتا دے سکتی ہوں “اسکی بات پر وہ چونکا۔۔۔ اور پھر فوراً سنبھل گیا۔۔”میں آپ کو کچھ نہیں دے سکتا نا مجھے آپ سے کچھ چاہیے مجھے بہت کام ہیں میں چلتا ہوں آئندہ یوں مجھ سے ملنے نہیں آئیے گا٫” اسے کہتے وہ تیزی سے اندر بڑھتا ولی کا نمبر ڈائل کرگیا۔”نگار پر نظر رکھوائیں میں آدمی بھیج رہا ہوں آپ الرٹ رہیں” ولی کو کہتا وہ اپنے آدمی کو نگار کے پیچھے روانہ کر گیا۔۔جو ہاسٹل جانے کے بجائے انجان راستوں پر چل رہی تھی یہ جانے بغیر کے کوئی ہے جو اسکے پیچھے ہے۔۔آس پاس محتاط نگاہوں سے دیکھتے وہ موڑ کاٹ کر آگے بڑھی اور پھر آگے موجود ایک سیاہ گاڑی میں بیٹھتے وہ وہاں سے روانہ ہوئی تھی۔۔وہیں دوسری طرف ملک سے دور ایمانے اور شہرے ہاسپٹل سے چیک کے بعد نکل رہی تھیں جب اچانک مخالف سمت سے آتی گاڑی سے نکلتا شخص شہرے کو پیچھے دھکا دیتا ایمانے کو بے ہوش کرتا گاڑی میں ڈالے وہاں سے نکلا تھا

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on