Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 5

قسط_5شاہ حویلی برقی قمقموں سے جگمگا رہی تھی شادی کے گیت حویلی میں گونج رہے تھے۔ایک ایک کر کے پوری حویلی مہمانوں سے بھر گئی تھی۔۔عمائم زارون اور آبگینے کے ساتھ کل رات ہی حویلی پہنچی تھی ضوریز آنا چاہتے تھے مگر وہ اس بار بھی اپنا وعدہ وفا نہیں کر سکے تھے۔۔حویلی میں آج تیمور کی مہندی رکھی گئی تھی جو آج صبح ہی ڈیوٹی سے واپس آیا تھا اور اب طلال کے کمرے میں باقی سب کے ساتھ تیار ہو رہا تھا۔۔”یار نوشے میاں انوکھے دولہا ہو تم جو اپنی مہندی کے دن تشریف لائے ہو” کرتا پہنتے طلال نے تیمور کو چھیڑا جو اپنے کپڑے نکال ڈھونڈ رہا تھا۔۔”یار یہ میری اماں جی نے میرے کپڑے کہاں رکھ دئیے ؟” جھنجھلاہٹ سے کہتا وہ اپنے کپڑے دیکھ رہا تھا ایک تو سفر کی تھکن دوسرا لڑکوں نے آتے ہی اسے گھیر لیا تھا۔”ہائے میری جان تھوڑا صبر نکاح کل ہے””بکواس مت کر” اس نے طلال کی کمر میں دھموکا جڑا۔۔”اینو یار میری کپڑے کہاں ہیں؟” اس نے وہیں سے آئینہ کو پکارا تھا۔”تو اتنا پریشان کیوں ہو رہا ہے؟ جا پہلے شاور لے میں دیکھتا ہوں آئینہ کو وہ لا کر دے گی””جلدی ہاں “”ہاں ہاں میرے بے صبرے دولہے” جاتے جاتے بھی طلال اسے چھیڑنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔”جا نا”تیمور نے زبردستی سے باہر دھکیلا تھا اور خود فریش ہونے کی خاطر واشروم میں بند ہوا۔۔___________”آئینہ بہن ؟””جی میرے پیارے بھائی؟”طلال کے طرز تخاطب پر وہ بھی شرارت سے اسے اسی کے انداز میں پکارتے باہر آئی۔”زرا میرے کمرے میں اپنے بھائی کو تو دیکھ لیں اسے کپڑے نہیں مل رہے ان صاحب کو””پر بھیا کے کپڑے تو ان کے والے روم میں ہیں نا ؟””ہاں تو جاؤ اور دیکھو جلدی سے ورنہ مجھے چھوڑے گا نہیں وہ” طلال کے انداز پر وہ نے ساختہ کھلکھلا کر ہنسی تو گال میں پڑے گڑھے واضح ہوئے تھے۔۔”زرو ؟ مانے میں بھائی کے پاس سے آرہی ہوں٫” ان دونوں کو کہتے وہ اپنی فراک اٹھائے اوپر کی جانب بڑھی تھی۔”بھیا بھی نا میں نے بولا بھی تھا روم میں ہے سامان مگر طلال بھیا کے روم میں ڈھونڈ رہے ہیں” خود ہی خود باتیں کرتے اس نے تیمور کے کمرے کا دروازے کھولا اور اندر داخل ہوئی مگر اندر داخل ہوتی ہی اسکے نگاہیں سامنے کھڑے زراون پر پڑیں جو اس وقت شرٹ لیس آئینے کے سامنے کھڑا تھا اسے یوں دروازے کے بیچ کھڑے دیکھ وہ بری طرح سے بوکھلایا تھا اور یہی حال آئینہ جلال کا تھا تیزی سے رخ موڑتے اس نے دروازے پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی دل تیزی سے دھڑکا تھا۔۔”یہ کیا طریقہ ہے دروازہ ناک بھی ہوتا ہے””سوری وہ۔۔۔ بھائی کے کپڑے” آنسو ایک بار پھر پلکوں پر ٹکے تھے ہمیشہ اسکے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا تھا بے بسی سے اس کے اپنے لب کاٹے تھے۔زارون نے گردن گھما کر سائیڈ صوفے پر رکھے تیمور کے کپڑے دیکھے۔”میں دے دوں گا آپ جاؤ ٫” اسکے کہتے ہی وہ تیر کی تیزی سے بھاگ کر کمرے میں آئی تھی۔ایمانے اور زروا نے حیرت سے اسے دیکھا۔”کیا ہوگیا اینا کیا بھوت دیکھ لیا ہے؟””بھوت ؟” بھوت کے نام پر اسے زارون شاہ یاد آیا پرفیکٹ باڈی گیلے ماتھے پر بکھرے بال اسکی انکھیں۔۔ اسکے ماتھے پر پڑی سلوٹ یاد کر اس نے بے اختیار جھرجھری سی لی۔۔”کیا ہوگیا کچھ بولو گی ؟””نہیں کچھ نہیں وہ بس سب نیچے بلا رہے ہیں رسم کے لئے اور میں تیار بھی نہیں ہوئی”خود کو نارمل کرتے اس نے اپنا دھیان بٹانا چاہا۔ جس میں وہ کامیاب بھی ہوئی تھی۔۔__________حویلی کی چھت پر اس وقت مہندی کا فنکشن رکھا گیا تھا ڈھولک کی تھاپ پر بجتے گانے۔۔تیمور کو طلال اور مومن لے کر آئے تھے جو اس وقت سفید کرتے پاجامے میں نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا وہ ہوبہو جلال کی کاپی تھا۔۔زرمینے کے محبت سے اپنے بیٹے کو دیکھا اور پھر آئینہ کو۔۔جو زرد رنگ کی فراک پہنے ہلکے سے میک میں بھی سب کو مات دے رہی تھی۔”ماشاءاللہ آئینہ بہت پیاری لگ رہی ہے زری” عمائم نے زرمینے کا ہاتھ تھاما جس پر وہ ہولے سے مسکرا دیں۔۔”زری آج ایک بہت اہم بات کرنی ہے ویسے تو ہم باقاعدہ طور پر تم سے اور جلال سے بات کرنا چاہتے تھے مگر ابھی موقع ہے تو سوچا بات کرلوں “”جی کہیں نا آپی کیا بات ہے””میں اپنے زارون کے لئے آئینہ کا ہاتھ مانگنا چاہتی ہوں۔۔۔ دیکھو اگر تمہیں کوئی اعتراض ہے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں میں باہر لڑکیاں دیکھ رہی تھی تو سوچا گھر میں ہی دیکھ لوں “عمائم کا پروپوزل کی بات کرنا زرمینے کو خوشی سے دوچار کرگیا تھا زارون جیسا قابل شخص ان کی بیٹی کو ملے اور بھلا انہیں کیا چاہیے تھا۔”آپی میں اس بارے میں ان سے بات کروں گی پھر ہی میں آپ کو کوئی جواب دے سکتی ہوں””میں انتظار کروں گی تمہارے جواب کا”عمائم نے مسکرا کر کہتے ایک طرف کھڑے اپنے بیٹے کو دیکھا جو گاہے بگاہے مسکراتی نگاہوں سے اپنی ماں اور بہن کو دیکھتا اور پھر واپس موبائل میں گم ہوجاتا۔۔”افف کیا کروں اس لڑکے کا” سر پیٹتے وہ اٹھ کر اس کے پاس آئیں جو موبائل میں گم تھا انہیں اپنے پاس دیکھتے چونکا۔”فنکشن انجوائے کرو زارون اور اسے رکھو۔۔۔””کر تو رہا ہوں انجوائے دیکھیں اب کیا ان بچوں کی طرح ڈانس کروں ؟””ہاں کرو مجھے کوئی مسئلہ نہیں “”خدا کا خوف کریں یار مما٫””زارون وہ دیکھو آئینہ کو کتنی پیاری لگ رہی ہے نا؟”عمائم کے اشارے پر ناچاہتے ہوئے بھی اس نے سامنے کی جانب دیکھا جہاں وہ اپنے بھائی کے پاس بیٹھی اس سے کچھ کہہ رہی تھی۔سادہ کا میک اپ آنکھوں میں گہری کاجل کی لکیر۔۔ زرد رنگ کے لباس میں کھلتی وہ کسی بات پر ہنسی تو گالوں میں پڑے ڈمپل واضح ہوتے اسے مزید حسین بنا گئے تھے۔۔”پیاری ہے نا ؟”ان کی بات پر چونکتے اسے کچھ لمحے پہلے کا منظر یاد آیا تو ماتھے پر بل پڑے تھے۔”پتا نہیں” اسکے جواب پر عمائم اسے گھور کر رہ گئیں۔۔_____________رات گہری ہوتی جا رہی تھی وہ حویلی جہاں کچھ لمحے پہلے شور شرابا تھا اب سناٹے میں ڈوبی ہوئی تھی۔سبھی لوگ اپنے اپنے کمروں میں گہری نیند میں گم تھے تھے پچھلے دروازے سے سیاہ ہڈی میں موجود ہو شخص اندر داخل ہوا تھا۔بائیں ہاتھ میں موجود چابی کو گھماتا وہ سیدھا اندر آیا تھا۔اب اسکے قدم اوپری منزل کی جانب تھے دبے قدموں سیڑھیاں چڑھتے وہ سبھی کمروں سے گزرتے اس ایک کمرے کے سامنے آکر رکا۔۔۔چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔اس نے دروازے کا ہنڈل گھمایا دروازہ کھلتا چلا گیا۔سامنے ہی بیڈ پر موجود نازک وجود گہری نیند میں گم تھا۔آہستہ سے دروازہ بند کرتے وہ مضبوط قدم اٹھاتے بیڈ کے پاس آکر رکا نگاہیں بے خبر سوئی اس لڑکی پر تھیں جو اسکی آمد سے بے خبر سکون کی نیند سو رہی تھی۔۔”کتنی پیاری ہے نا تمہیں اپنی نیند” اسکے پاس بیٹھتے اس نے ہاتھ بڑھا کر اس لڑکی کے ماتھے پر پڑے بالوں کو کان کے پیچھے کیا۔اس کے نازک نقوش اس آدمی کے سامنے تھے۔۔وہ یوں اسکے چہرے کو تک رہا تھا جیسے اس دنیا میں اس سے بڑا ضروری کوئی کام نا ہو۔۔”میری بغیر اتنی خوش کیوں ہو ؟ تمہیں میرا خیال نہیں آتا ؟” چہرے کے دونوں اطراف ہاتھ رکھے وہ بڑی فرصت سے اسکے چہرے کو حفظ کر رہا تھا۔سوئے وجود نے نگاہوں کی تپش پر الجھتے کروٹ بدلی تو بال اسکی پشت پر بکھرتے ایک طرف ہوئے تو گردن پر موجود سیاہ تل واضح ہوا تھا۔جسے دیکھ ان آنکھوں میں خماری سی اترنے لگی ۔اس تل کو چھونے کی طلب شدت سے دل میں جاگی تھی۔”کاش تمہیں چھونے کا حق رکھتا تو آج یوں سکون سے نا سو رہی ہوتیں ” وہ جیسے بدمزہ ہوا تھا اس دوری پر۔۔۔”سو لو جتنا سونا ہے بہت جلد نیندیں حرام ہونے والی ہیں ” اسکے پاس بیٹھتے وہ اسکے بالوں سے اٹھتی مہک کو سانسوں میں اتارتے آنکھیں موندے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا جبکہ بیڈ پر سویا وجود اسکی موجودگی سے لاعلم تھا۔۔۔____________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on