Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode 7

قسط_07″کیا خبر لائے وہ رئیس ؟””جیسا آپ نے کہا تھا ویسا ہی کیا ہے فلحال صرف ڈرایا ہے””بہت اچھے ہمارا صرف ڈرانا ہی ان سب کی نیند حرام کردے گا”حقے کا کش لگاتے وہ ہنسی تھی پہلی فتح کی خوشی آنکھوں سے جھلک رہی تھی۔”باقی کے کام کا کیا بنا؟””نیا مال اس ہفتے کے آخر میں آئے گا “”مال بالکل تازہ ہونا چاہیے رئیس پچھلے بار تین مال میں خرابی کی وجہ سے نقصان ہوگیا تھا ہمارا۔۔””بائی فکر نہیں کرو اس بار مال بالکل تازہ ملے گا قیمت بھی اچھی خاصی ملے گی””چل پھر اس بار کرلیتے ہیں تجھ پر یقین ” پان منہ میں رکھتے حقہ پیر کی مدد سے سرکایا گیا تھا۔”,اچھا اس آج کے بارے میں اندر بیٹھی میری بہن کو پتا نہیں چلنا چاہیے””جو حکم بائی””جا ” اسے جانے کا کہتے وہ اپنے خاص بکسے میں نکال کر پیسے گننے لگیں ۔اس پیسے کی خاطر تو وہ ناجانے کیا کیا کر سکتی تھیں۔۔۔____________حویلی میں ایک دم سے اداسی چھا گئی تھی آئینہ کے آتے ہی اسکا صدقہ اتارا گیا تھا نجمہ بیگم نے اس پر سے پیسے وارے تھے۔۔”جازب بکرے منگوا کر بچی کا صدقہ دو کل اتنی پیاری لگ رہی تھی نظر لگ گئی۔۔جاذب شاہ کو ہدایت دیتے وہ اوپر آئینہ کے پاس آگئیں جو زرمینے سے لگی بیٹھی تھی۔۔”میری چڑیا نے کھانا کھایا” ؟ اسکے پاس بیٹھتے انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔انہیں سب ہی عزیز تھے مگر وہ اس لئے بھی عزیز تھی کہ وہ باقی سب کی نسبت زیادہ شرمیلی سی تھی دل میں جو بھی ہوتا اسے کبھی زبان پر نہیں لاتی تھی اس لئے وہ سب پہلے ہی اسکی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے کیونکہ جانتے تھے وہ خود سے کچھ نہیں بولے گی۔”میں ٹھیک ہوں نانو” انہیں اپنے لئے پریشان دیکھ وہ شرمندہ ہو رہی تھی۔۔”ہاں بالکل میری بچی اتنی بہادر ہے “”دادو زرا ہمیں بھی اتنا پیار کرلیا کریں”زروا نے شرارت سے انہیں چھیڑا جس پر وہ مسکرا اٹھیں۔”پہلے میری آئینہ جیسی پیاری تو بنو””اب یہ زیادتی ہے دادو اپنی نواسی کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے آپ ہمیں ایسے بولیں گیں؟””لو سب ایسا کچھ غلط بھی نہیں بولا میری دادو نے” کمرے میں آتے طلال نے اپنا غصہ ڈالنا ضروری سمجھا جس پر زروا نے آنکھیں گھما کر اپنے اکلوتے بھائی کو دیکھا۔”بول بھی کر رہا ہے طلال بھیا آپ نا تھوڑی شرم کریں دیکھیں تیمور بھیا کی شادی ہوگئی اور آپ ابھی تک ایسے ہی گھوم رہے اگر یہی حال رہا نا آپ کا تو کوئی آپ کو لڑکی نہیں دے گا””ارے چھوڑو ابھی تم جانتی نہیں ہو اپنے بھائی کو دنیا اس پر مرتی ہے””زارون بھائی کی بات کر رہے ہیں نا٫”؟ دانتوں تلے لب دبائے زروا نے اسے چھیڑا جس پر وہ آنکھیں گھما کر رہ گیا ۔”جلتی رہو””اب آپ سے جلیں گے اب اتنے بھی برے دن نہیں آئے ہمارے””بس کرو تم لوگ فوراً اپنا محاذ کھول کر بیٹھ جاتے ہو”کمرے میں داخل ہوتی نورے شاہ نے فوراً سے ان دونوں کو ٹوکا۔”طلال واپس یونیورسٹی کب جوائن کرنی ہے ؟””نیکسٹ ویک سے مما ابھی چھٹیاں انجوائے کرنے دیں”اسکی بات پر وہ سر ہلا گئیں۔۔___________”ضوریز آپ واپس کب آئیں گے؟” عمائم اپنے کمرے میں بیٹھی تھیں ان کے سامنے موبائل رکھا تھا جہاں ضوریز شاہ کی شکل نظر آرہی تھی۔سیاہ شرٹ میں وہ آنکھوں پر گلاسس لگائے بیٹھے تھے۔”ارے میری پیاری بیوی بس آتا ہوں نا””دیکھیں ضوریز میں بتا رہی ہوں اگر آپ نہیں آئے نا تو میں بات نہیں کروں گی آپ سے”وہ سخت خفا تھی ضوریز کے بغیر گزارا بہت مشکل تھا۔”ویسے عمائم اتنا غصہ کرتی ہیں آپ مگر ایک بار بھی نہیں بول رہی کہ آپ مجھے مس کر رہی ہیں؟””یونہہ آپ کو کون مس کرے گا؟””سوچ لیں” ضوریز کے کہنے پر عمائم نے گھور کر انہیں دیکھا تو احساس ہوا وہ گاڑی میں بیٹھے ہیں۔”آپ کار میں ہیں؟ کہاں جا رہے ہیں؟””ہاں ایک بہت ضروری کام سے باہر نکلا ہو” سیدھے بیٹھتے ضوریز نے جواب دیا۔”اچھا عمائم میں تھوڑی دیر بعد بات کرتا ہوں”اس سے پہلے عمائم کچھ بھی سوچتی سمجھتیں فون بند ہوچکا تھا۔”ایک تو ان کے کام اور جلد بازی” فون سائیڈ رکھتے وہ فریش ہونے کی غرض سے اٹھیں باہر سے آوازیں آرہی تھیں۔فریش ہو کر وہ باہر آئی تو آبگینے کی چہکتی آواز نے ان کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرائی تھی”مما۔۔۔۔ ڈیڈی آگئے” آبگینے کی پکار پر عمائم کے ہاتھ سے ٹاول چھوٹ کر گرا تھا۔تیزی سے باہر نکلتے انہوں نے نیچے جھانکا جہاں ضوریز شاہ اور شائستہ بیگم موجود تھیں۔”امی۔۔۔ ضوریز””کیسا لگ ہمارا سرپرائز بچوں ؟” آبگینے اور زروا کو ساتھ لگائے انہوں نے ان دونوں کو باری باری پیار کیا۔”بڑے پپا ورلڈ کا بیسٹ سرپرائز دیا ہے دیکھیں بڑی مما شاکڈ ہوگئی ہیں”ضوریز شاہ سے پیار لیتے زروا شرارت سے کہتے اپنے بابا کے کندھے سے لگی تھی۔۔”بچوں اب زرا ضوریز کو بیٹھنے دو ” نجمہ بیگم کی آواز پر سب نے ضوریز شاہ کے لئے جگہ بنائی تھی جبکہ عمائم تو ابھی تک بے یقین تھیں۔ضوریز شاہ نے مسکراتی نگاہوں سے انہیں دیکھا اور پھر ہولے سے مسکرا دئیے۔ان کی حیات سامنے تھی وہ کیسے نا خوش ہوتے۔____________”آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں آپ آرہے ہیں”ضوریز شاہ کے کندھے سے لگی عمائم نے شکوہ کیا۔”بتا دیتا تو یہ تاثرات مس کر دیتا نا٫””آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں””لیکن پھر بھی آپ ہمیشہ شاکڈ ہوجاتی ہیں٫”ان کے شرارت سے کہنے پر عمائم خود بھی ہنس پڑیں۔۔”اچھا بتائیں جلال سے بات کب کرنی ہے ؟ میں چاہتا ہوں واپس جانے سے پہلے پہلے زارون کی شادی ہو جائے تاکہ پھر آپ میرے ساتھ جا سکیں””مما؟” زارون کی آواز کے ساتھ دروازے پر نوک ہوا تھا۔”عمائم کافی ملے گی؟””اوکے لاتی ہوں” ضوریز کو کہتے وہ کمرے سے نکلی تھیں۔”آجاؤ زارون””آپ نے بلایا بابا ؟””ہاں بیٹھو بیٹھو”ان کے کہنے پر وہ وہیں ان کے سامنے ٹک گیا۔۔”تمہاری مما نے بتایا تو ہوگا کہ ہم نے آئینہ کے حوالے سے جلال سے بات کی تھی؟””ہممم””تو بس ہم کل شادی کی تاریخ طے کر رہے ہیں تم اپنا شیڈول ہمیں چیک کر کے بتا دو تاکہ اسی حساب سے ہم شادی کی تاریخ رکھ سکیں” ان کی بات پر وہ بری طرح چونکا۔”بابا ۔۔۔ میں نے آپ لوگوں کو پہلے بھی کہا تھا کہ وہ اتنی چھوٹی ہے میں کیسے اس سے شادی کرسکتا ہوں””کیا مطلب کیسے کرسکتا ہوں؟”ضوریز شاہ نے ماتھے پر ڈالے اس سے سوال کیا۔”میں نے مما کو کہا ہے اگر شادی کرنی ہی ہے میری تو میری عمر کی کوئی میچور لڑکی دیکھیں۔۔۔ ان فیکٹ میرے پروفیشن کی دیکھیں””یہ بات آپ کو پہلے کرنی چاہیے تھی زراون اب ہم بات کر چکے ہیں ہر چیز طے ہوگئی ہے”ان کے پاس انکار کرنے کی کوئی گنجائش تھی ہی نہیں۔”مگر بابا””زارون شاہ عمر اتنا مسئلہ نہیں ہے وہ آگے شادی کے بعد اپنی پڑھائی جاری رکھے گی اور پھر ابھی یہ فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا ہے اگر طلال اسکا رضاعی بھائی نا ہوتا تو نورے اور جازب اسے فوراً سے اپنے گھر کی بہو بناتے۔۔””بابا””؛”زارون اپنی مما کو مزید مت تنگ کرو بیٹا آپ جانتے ہو نا آپ کی تربیت کو لے کر ہر کوئی عمائم پر نظر رکھتا ہے دنیا کو اتنے سالوں میں بھی یہ تسلی نہیں ہوئی کہ وہ آپ کی ماں ہے انہیں ہر پہلو منفی نظر آتا ہے اور وہ اپنی چھوٹی ذہنیت کی وجہ سے خوبصورت رشتے بھی سیاہ کر دیتے ہیں عمائم کی خواہش کا احترام کرو بیٹا آئینہ گھر کی بچی ہے ماشاءاللہ سمجھدار ہے اور رہی بات عمر کی تو تم دیکھنا وہ تمہیں بہت خوش رکھے گی یہ عمر کا فرق کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔” ان کے پاس اسکے ہر اعتراض کا جواب تھا انکار کرنے کا فائدہ نہیں تھا بڑوں میں بات ہو چکی تھی سوائے راضی ہونے کے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔”میں آپ کو اپنا شیڈول بتا دوں گا””یہ ہوئی نا میرے بیٹے والی بات” اسے سینے سے لگاتے وہ دل سے خوش ہوئے تھے جبکہ وہ مسکرا بھی نہیں سکا تھا_____________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on