Age Difference Novels Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Arzoo Ishqam by FN Season 2 Episode Last

قسط_لاسٹ”مامون۔۔۔ مامون وہ میری ایمانے کو لے گیا”مامون شیرازی کے سینے سے لگی شہرے نے رو رو کر خود کر ہلکان کر لیا تھا۔مامون کے لئے انہیں سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔۔”شہرے””مامون وہ لوگ اسے لے گئے میری آنکھوں کے سامنے۔۔ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں٫””ریلکس شہرے ہلال گیا ہے وہ ہماری ایمانے کو واپس لازمی لائے گا””مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اگر ایمانے کو کچھ ہو گیا تو میں کبھی خود کو معاف نہیں کروں گی مامون “”ایمانے کو کچھ نہیں ہوگا شہرے ہم اسے کچھ نہیں ہونے دینگے اور جس انسان نے یہ حرکت کی ہے اسے انجام تک پہنچانا ہماری زمہ داری ہے”وہ شہرے کو یقین دلا رہے تھے شہرے روئے جا رہی تھی اور اس شخص کو ان کے ایک ایک آنسوؤں کا حساب دینا تھا۔۔۔شہرے کو بمشکل ریلکس کر وہ باہر آئے۔۔ہلال خبر ملتے ہی نکل چکا تھا مامون شیرازی نے ایک نمبر ڈائل کیا۔۔کال پہلی بیل پر ریسیو ہوئی تھی۔”ڈیوڈ میری بات سنو وہ شخص زندہ نہیں بچنا چاہیے ہلال اسے بخش بھی دے تو تم اسے نہیں بخشوں گے کیونکہ اگر اسے آج چھوڑ دیا تو وہ ایک بار پھر مضبوط ہو کر ہمیں برباد کرنے واپس آئے گا””جو حکم سر””اگلے پندرہ منٹ میں سب کو بیس پر پہنچنے کا حکم کرو” ایک اور حکم دیتا وہ فون بند کرتے اپنے کمرے میں آئے جہاں شہرے اداس سی بیٹھی تھیں۔۔”شہرے میری بات سنیں مجھے جانا ہے””مامون نہیں پلیز”شہرے نے مضبوطی سے ان کا ہاتھ تھاما۔۔”شہرے میں نہیں جاؤ گا تو ایمانے کو کیسے واپس لائیں گے ہم؟””مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے مامون””میں ہوں نا میں سب سنبھال لوں گا بس آپ کو مومن یہاں رہیں میں جا رہا ہو باہر سیکیورٹی موجود ہے ڈرنے کی کوئی بات نہیں” شہرے کو یقین دلاتے وہ باہر نکلے۔۔کانوں میں لگا ائیر پیس فون سے کنیکٹ کرتے انہوں نے ہلال سے رابطہ کیا۔۔”ڈیڈ۔۔ میں ایمانے کو لینے جا رہا ہوں آپ کچھ بھی کریں ان کی کنسائمنٹ آگے نہیں جانی چاہیے چاہے کچھ بھی کیوں نا ہو جائے””تم فکر مت کرو میں سب سنبھال لوں گا تم بس ایمانے کو لے کر آؤ “”ڈیڈ۔۔ میں نے ڈیوڈ کو کال کی تھی آپ کی بات ہو گئی ہے ؟”وہ گاڑی تیزی سے ڈرائیو کرتا انہیں ہر چیز بتا دیا تھا اور پوچھ رہا تھا۔۔۔”سب ہو گیا ہے تم بس جلدی سے ایمانے کو لے آؤ اسکا وہاں رہنا خطرناک ہے اسے ایک آنچ نہیں بھی نہیں آنی چاہیے ہلال””میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا یہ ڈیول کا آپ سے وعدہ ہے”انہیں کہتا وہ فون رکھ گیا۔اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھی جو دشمنوں کو جلا کر راکھ کر دینے والی تھیں۔۔_____________سیاہ کاریڈور میں قدموں کی آواز پر وہ خوف سے خود میں سمیٹتی جا رہی تھی۔۔ باہر پڑنے والے قدموں کی دھمک اسے سیدھا اپنے دل پر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ہاتھ میں بندھی رسی کو کھولنے کی کوشش میں وہ اپنی کلائی پر زخم کر گئی تھی۔۔”مما بابا”وہ سسکی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور سیاہ جوتے میں مقید پیر نظر آئے۔نگاہیں پیر سے ہٹتے اسکے ہاتھ پر گئیں جہاں موجود ریوالور دیکھ اسکی جان نکلی تھی وہ وحشت ناک چہرے والا شخص۔ ۔”پلیز مجھے مت مارنا” گن کا رخ اپنی طرف دیکھ وہ سسکی تھی۔۔۔دل بند ہونے لگا تھا۔۔”اتنی آسانی سے نہیں ماروں گا تجھے تو وہ طوطا ہے جس میں اس دیو کی جان قید ہے تجھے مار دیا تو اس ڈیول کو تڑپانے میں مزہ نہیں آئے گا” گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھتے اس نے گن کا سرا اسکے بال پر ٹکایا ۔خوف سے وہ اپنی سانس تک روک گئی۔آنکھیں سختی سے میچے وہ اپنے گال سے گردن تک اس گن کی چبھن محسوس کررہی تھی۔۔گن اسکی شہہ رگ پر آکر رکی تھی۔۔”ویسے جتنی تو حسین ہے اس ڈیول کا تجھ پر دل آنا بنتا ہے”وہ اسے سر سے پیر تک غلیظ نگاہوں سے گھورتا اسکی جانب اپنا دوسرا ہاتھ بڑھاتے اسکے گال پر اپنے ہاتھ کی پشت سہلائے تڑپنے پر مجبور کر گیاوہ اسے سر سے پیر تک غلیظ نگاہوں سے گھورتا اسکی جانب اپنا دوسرا ہاتھ بڑھاتے اسکے گال پر اپنے ہاتھ کی پشت سہلائے تڑپنے پر مجبور کر گیا۔اسکا غلیظ لمس خود پر سے جھٹکتے وہ بری طرح رو دی۔خود کو جھٹکے جانے پر اس شخص کا ہاتھ اٹھا تھا اور اس نازک وجود کے گال پر نشان چھوڑ گیا تھا۔وہ تیوارا کر زمین پر گری تھی۔۔غصے سے اسکے ماتھے پر گن تانے اس نے ٹریگر پر ہاتھ جمایا۔۔مقابل نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کی تھیں گویا اپنی موت کو قبول کیا ہو”ایک۔۔۔ دو”وہ شخص اب کاؤنٹ ڈاؤن کر رہا تھا۔”تین ۔۔۔۔” اسکے تین کے ساتھ ہی فضا میں گولی کی آواز گونجی تھی اور پھر گہرا سناٹا چھا گیا۔۔اس نے زرا سی آنکھیں کھولے اپنے سامنے دیکھا جہاں خون میں پڑے وجود کو دیکھ وہ ہوش کھوتے ایک جانب گری تھی۔۔۔سیاہ کوٹ میں ملبوس چہرے پر ماسک لگائے وہ شخص دروازے کے عین بیچ میں استادہ تھا ہاتھ میں موجود گن تھی جس سے اس نے مقابل کو چاروں شانے چپ کیا تھا ۔۔آہستہ سے قدم بڑھاتے اس نے بیچ میں بڑے اس آدمی کو ٹھوکر مار اپنی ٹانگ سے ایک طرف کھسکایا اور خود جھک کر اس بے ہوش وجود کے پاس بیٹھ کر اسکا زرد چہرہ دیکھنے لگا۔گال پر انگلیوں کے نشان دیکھ اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے۔۔۔اسکی کلائی پر موجود زخموں پر نظر ڈالتے اس نے اسکی کلائیوں کو آزاد کرتے وہ ماسک کے اوپر سے اسکے زخم پر اپنے لب رکھتے سختی سے آنکھیں موند گیا۔۔۔خون میں ابال سا اٹھنے لگا تھا۔۔۔ کان میں موجود ائیر پیس آن کیا۔۔”اس کمرے میں موجود شخص کی ساری انگلیاں کاٹ کر کتوں کو کھلا دو۔۔” حکم صادر کرتے وہ جھکا اور اس بے ہوش وجود کو اپنی بانہوں میں بھرے کھڑا ہوا تھا۔۔”بہت غلط کیا تم نے بہت ۔۔۔ اس لڑکی کو بیچ میں لا کر تو نے اپنی موت کو دعوت دی ہے اب میرا انتظار کرنا۔۔۔۔” سرگوشی کے سے انداز میں کہتا وہ اس اندھیرے کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا اور اسکے جاتے ہی کئی لوگ اس کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔_______________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on