برگِ زرد
قسط 18
عبد الرحمان پہلے اپنی زمینوں کی جانب گیا اور ایک نظر ڈال کر سعد اللّٰہ کی زمینوں کی جانب آ گیا۔ عبداللہ، عبدالرحمان کو دیکھتے ہی اس کی جانب دوڑا۔
” عبد الرحمان بھائی آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟”
عبد الرحمان اس کے قریب آ کر رہا پھر بولا۔
” یہی سوال میں سعد اللّٰہ سے پوچھنے یہاں آیا ہوں۔”
عبداللہ شرمندہ ہوا۔
“عبد الرحمان بھائی میں بہت شرمندہ ہوں۔ہم سب کے منع کرنے کے باوجود سعد اللّٰہ یہاں آ گیا۔ آپ بے فکر رہیں میں تھوڑی دیر میں اسے کسی طرح سمجھا بجھا کر گھر واپس بھیج دوں گا۔”
عبد الرحمنان مسلسل اس طرف دیکھ رہا تھا جس طرف سعد اللّٰہ کھڑا مسلسل لوڈنگ والوں کو سنائے جا رہا تھا۔
” تمھیں یا تمھارے پورے خاندان میں سے کسی کو شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے عبداللہ، جسے شرمندہ ہونا چاہیے مجھے باڈی لینگویج سے وہ بالکل شرمندہ نظر نہیں آ رہا۔
میرے خیال سے مجھے سعد اللّٰہ سے خود بات کرنی چاہیے کہ شادی کے اگلے دن اگر وہ کھیتوں میں کام نہیں کرے گا تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔”
عبد الرحمان نے ایک قدم ہی بڑھایا جب عبداللّٰہ اس کے سامنے آ کر اسے روک گیا۔
” میرے خیال سے آپ کو آج اسے کچھ نہیں کہنا چاہیے عبد الرحمان بھائی۔”
” اور میرا خیال یہ کہتا ہے عبداللّٰہ کہ مجھے سعد اللّٰہ سے آج ہی کے دن بات کرنی چاہیے۔”
عبد الرحمان نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
اس کے لہجے میں کوئی لچک نہ پاتے ہوئے کچھ دیر بے بسی سے وہ عبد الرحمان کو دیکھتا رہا پھر سائیڈ پر ہو گیا۔وہ عبد الرحمان کی ضد سے واقف تھا اور سعد اللّٰہ کو بھی جانتا تھا۔ آج کچھ ناں کچھ تو ہونا طے تھا۔
سعد اللّٰہ!
سعد اللّٰہ ویسے ہی اپنی کام میں مصروف رہا۔
سعد اللّٰہ!
اس دفعہ آواز میں درشتگی شامل ہوئی اور وہ بھی پلٹا۔ اک دم اس کے چہرے پر مسکان اتری اور وہ قدم اُٹھاتا عبد الرحمان کی جانب چلتا آیا۔
” ارے آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟”
وہ خوش دلی سے اس کے گلے آ لگا۔
عبد الرحمان نے بازو نہیں اٹھائے تو سعد اللّٰہ خود ہی پرے ہو گیا لیکن مسکان اب بھی چہرے سے جدا نہیں ہوئی تھی۔
” آج یہاں ہونے کی کوئی خاص وجہ؟”
عبد الرحمان نے استفہامیہ انداز میں پوچھا۔
” کوئی خاص نہ بس ہوا کھانے آیا تھا پھر لوڈنگ تک کے لیے رک گیا۔”
اس کے جواب نے عبد الرحمان کے سر سے دھوئیں نکلوا دیئے۔
” تم کسی ڈربے میں نہیں رہتے سعد اللّٰہ کہ ہوا کھانے اتنے دور آنا پڑے اور ناں ہی میں کوئی بچہ ہوں جسے تم بہلا لو گے۔”
عبد الرحمان نے شدید غصے میں بھی صبر کا دامن تھامے رکھا۔
” میں آپ کو کیوں بہلاؤں گا۔ آپ میری بیوی نہیں ہیں اور جہاں تک رہا سوال ڈربے کا تو بیوی آجانے کے بعد شاہی گھر بھی گھٹن زدہ ہو جاتا ہے۔ آپ خود کی جانب بھی دیکھیں آپ بھی تو یہیں موجود ہیں۔”
سعد اللّٰہ نے غیر سنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔
عبد الرحمان نے دو قدم بڑھا کر درمیانی فاصلہ ختم کیا اور پھر بولا۔
“بات یہ ہے کہ میرے ہاتھ میری بہن کی وجہ سے بندھے ہیں ۔میں تمھارے معیار تک آ کر تم سے بحث نہیں کر سکتا ورنہ تم بھی اچھے سے جانتے ہو کہ میں یہاں کیا کہنے آیا ہوں اور کیا چاہتا ہوں بہتر ہے کہ تم سنو۔ اپنا سانس گھر جا کر درست کرو ورنہ تمھاری حالت خراب کر دوں گا۔”
سعد اللّٰہ پلکیں جھپکنا پیچھے ہوا۔چہرا تن سا گیا تھا۔
” کہتے ہیں بہنوئی کو دھمکی نہیں لگایا کرتے۔”
سعد اللّٰہ بولا اور پھر مسکرا دیا۔ عبد الرحمان کو سمجھنے میں الجھن ہوئی آیا وہ اسے سمجھا رہا تھا یا الٹا دھمکا رہا تھا۔
” لوگ جو بھی کہتے ہیں اس سے نکل آؤ۔جو میں کہہ رہا ہوں وہ مانو۔ باقی جو بھی نتائج ہوں گے میں بھگت لوں گا۔جانتا ہوں میں نے اب ساری زندگی بھگتنا ہی ہے۔”
“آپ جانتے ہیں عبد الرحمان بھائی آپ ان مسائل کو بھی اپنے دامن میں بھر لیتے ہیں جس کا آپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ آپ سکون کریں اور زیادہ مت سوچا کریں۔خواہ مخواہ کی الجھنیں پال لیتے ہیں۔”
وہ بے نیازی سے بولتے ہوئے رخ موڑنے لگا جب عبد الرحمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔
” میرا تمھیں مشورہ ہے سعد اللّٰہ الجھنیں مت پیدا کرو بعض الجھنیں غلط فہمی اور غلط فہمی دشمنی کو جنم دیتی ہے۔”
عبد الرحمان رسان سے بولا۔سعد اللّٰہ نے اثبات میں سر ہلایا اور لوڈر کی جانب چلا گیا۔
عبد الرحمان خاموشی سے واپس پلٹا۔سعد اللّٰہ کا رویہ انتہائی مایوس کن تھا۔
“میں نے آپ کو منع کیا تھا۔”
عبداللہ بولا۔
“ہونہہ بعض دفعہ بات کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے ورنہ دل کی باتیں دل میں بہت گھٹن بھر دیتی ہیں۔”
عبداللہ نے ایک گہری سانس خارج کی۔
“جو آپ کو مناسب لگے۔”
فلحال وہ فقط یہی کہہ پایا کیونکہ دیکھ سکتا تھا کہ اس وقت سراسر غلطی سعد اللّٰہ کی ہی تھی۔

