Uncategorized

Barg E Zard by Zumar Fatima Episode 20

اپنے خلاف تجھ کو کیا کیونکہ علم تھا
خود کو تیرے خلاف نہیں کر پاؤں گا میں

فجر کا وقت تھا۔نماز کا وقت تھا۔چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ بیڈ سے اٹھ گیا۔رات کا منظر یاد آیا تو اُس نے بے اختیار صفیہ کی جانب دیکھا۔وہ سُو رہی تھی۔گھنے بال آدھے صوفے پر اور آدھے صوفے سے نیچے لٹک رہے تھے۔چہرے پر ملائمت کے ساتھ آنسوؤں کے مٹے نشانات واضح تھے۔سعد اللّٰہ صوفے کے قریب گیا اور جُھک کر قریب سے دیکھنے لگا۔
“آنکھیں سُوجی ہوئی ہیں۔کیا یہ واقعی دیر تک روتی رہی ہو گی؟”
خود سے پوچھے سوال کا جواب آنکھوں کے سامنے سُوجی آنکھوں کی صورت میں تھا۔
وہ سیدھا ہو گیا۔
“مجھے نہیں معلوم تھا تم اتنی جلدی ہتھیار پھینک دو گی تمھیں تنگ کرنے سے پہلے تک میرا یہ خیال تھا کہ پہلے ہی دن میری تم سے ٹھکائی ہو جائے گی لیکن تم بھی ڈر گئیں حق ہا۔کتنا منہوس ہو میں اور کتنا خوفناک بھی۔”
سعد اللّٰہ نے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ایک ہمدردانہ نگاہ سے سوئی صفیہ کو دیکھا۔پھر وضو کرنے چلا گیا۔
نماز پڑھنے کے بعد وہ کمرے سے نکل گیا۔اس کا ارادہ کچھ دیر چہل قدمی کرنے کا تھا۔
چلتے چلتے وہ کھیتوں کی جانب چلا گیا جہاں حشمت پہلے سے موجود تھا۔
حشمت کو وہاں دیکھ کر وہ حیران ہوا۔
“اوئے بخشی تو اتنی صبح کیا کر رہا ہے۔”
حشمت نے گردن گھمائی۔سعد اللّٰہ جب بہت موڈ میں ہوتا تھا تو اسے بخشی بلاتا تھا۔
“جو آپ کر رہے ہیں۔”
“میں تو چہل قدمی کرنے آیا ہو لیکن تم چہل قدمی کرتے نظر نہیں آ رہے۔”
سعد اللّٰہ نے اُس کے ہاتھ میں موجود کدال دیکھ کر کہا۔
“سعد اللّٰہ بھائی میرا اور کوئی کام ہے نہیں اس لیے یہاں آ جاتا ہوں۔فجر میں اٹھ جاتا ہوں۔گھر بیٹھ کر کیا کروں۔ آپ نے چائے پی ہے ؟”
سعد اللّٰہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“بیگم نئی نئی ہے۔ہاتھ سے مہندی کا رنگ نہیں اترا اسے اٹھا کر چائے تو نہیں بنوا سکتا ناں۔”
حشمت کی بتیسی دیکھائی دی۔
“چلیں میں ناں تو نیا نیا ہوں ناں میرے ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی ہے۔میں بناتا ہوں۔”
حشمت نے کدال ایک جانب رکھا اور چائے بنانے چلا گیا۔
سعد اللّٰہ وہیں پڑی چارپائی پر بیٹھ کر اطراف کا جائزہ لینے لگا۔ٹھنڈی ٹھنڈی نسیم سحر اس کے گھنے بالوں کی بلائیں لے رہی تھی۔
کچھ دیر بعد حشمت لُوٹا اس کے ہاتھ میں چائے تھی۔
“سعد اللّٰہ بھائی یہ لیں چائے پیئیں۔”
سعد اللّٰہ کپ لینے لگا تو ٹھٹھکا۔ڈش حشمت کے بجائے ایک لڑکی کے ہاتھ میں تھی۔
“یہ کیا بکواس ہے حشمت؟”
غصے نے ایک لمحے میں چہرے کے تاثرات بگاڑے تھے۔
“صبر سرکار یہ آپ سے مدد مانگنے آئی ہیں۔”
حشمت نے اس کے غصے کی دم پر پاؤں رکھا۔
“میری بیوی نے مجھے دیکھا ناں تو میرا قتل کر دے گی۔”
حشمت نے اس لڑکی سے ٹرے کے کر خود سعد اللّٰہ کے سامنے پیش کر دی۔جس میں سے اس نے اپنا کپ اٹھا لیا۔
“کیا مدد چاہیے؟”
“بتاؤ ریشم!” حشمت نے ریشم کو ہمت دی۔
“سعد اللّٰہ بھائی میری مدد کریں۔ آپ کے بارے میں سب کو معلوم ہے۔آپ کہیں گے تو سب مانیں گے۔”
ریشم شروع ہوئی تو سعد اللّٰہ نے کپ واپس حشمت کو تھمایا۔
“آپ پہلے یہاں بیٹھ جاؤ ۔”
سعد اللّٰہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا اور جگہ اس لڑکی کے لیے چھوڑ دی۔جب وہ سکون سے بیٹھ گئی تو وہ بولا۔
“آپ کس کی بیٹی ہو اور کہاں سے تعلق ہے آپکا؟”
سعد اللّٰہ اسے پہچاننے سے قاصر تھا اور واضح طور پر اسے اس لڑکی کی پہچان جاننی تھی۔
“میں ڈیم سے پرے والے گاؤں سے آئی ہوں۔رفیق الطاف کی بیٹی ہوں۔”
اس نے پلو سے اپنا چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔ آنکھیں بھی جھکی ہوئی تھیں۔سعد اللّٰہ نے بھی ایک کے بعد دوسری نگاہ نہیں ڈالی تھی۔
“آپ نے کیا منوانا ہے؟”
“محبت!”
وہ بولی۔ سعد نے بھی بے اختیار اسے دیکھا۔
“محبت۔۔۔۔ مطلب ؟”
اس کے چہرے پر ناسمجھی کی چھاپ چھائی۔
“مطلب یہ کہ مطیب کہتا ہے میرے گھر والے نہ مانے گے۔بھاگ کر شادی کر لیتے ہیں۔پھر جب راز کھلے گا تو کوئی کیا بگاڑ لے گا۔ آپ عزت دار ہو بتاؤ۔عزت بگڑ جائے تو جان کا لحاظ کون کرتا ہے؟
آپ کو عزت سے آگے کچھ منظور ہے؟
آپ کو سننے میں کتنا نا مناسب لگا ہو گا کہ ایک لڑکی کہہ رہی ہے کہ اس کا معاشقہ ہے اور وہ اپنے یار کے ساتھ بھاگنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔”
ریشم بول رہی تھی اور اس کے لفظوں سے سعد اللّٰہ کو لگا جیسے کوئی اسے کانٹوں کی بچھونے پر گھسیٹ رہا ہو۔چہرہ یک لخت سرخ پڑا۔
“اچھا اچھا ٹھیک ہے میں سمجھ گیا۔آپ اصل میں چاہتی ہو کہ وہ لڑکا بھی مان جائے اور گھر والے بھی۔”
سعد اللّٰہ نے جلدی سے اسے روکا۔وہ مزید بولتی تو لفظ چماٹ بن کر سعد اللّٰہ کے منہ پر لگتے۔
ریشم نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تاکہ میرا نام گندے طریقے سے علاقے میں کوئی نہ لے۔”
سعد اللّٰہ کے کانوں کی لوئیں پل بھر میں سرخ ہو گئی تھیں۔
اس نے زور وشور سے اثبات میں سر ہلایا۔
“بالکل بالکل ایسا ہی ہو گا۔”
وہ سینے پر ہاتھ رکھتے تابعداری سے بولا۔سر چکرا رہا تھا۔مشکل سے وہ صورتحال سمجھ کر بول پا رہا تھا۔
“حشمت ان کے گھر والوں سے ملو اور ان کے بھائیوں سے کہو مجھ سے آ کر ملیں اور مطیب سے میں خود جا کر ملتا ہو۔ آپ بے فکر رہیں بہن۔آپ کی جانب کوئی انگلی نہیں اُٹھے گی۔یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔”
ایک ایک لمحہ عذاب تھا۔وہ آگاہ ہوا تھا کچھ لمحے کے لیے اس کی ذات سناٹے میں آ گئی تھی۔
“ٹھیک ہے میں چلتی ہوں لیکن سعد اللّٰہ بھائی مہربانی ہو گی اگر یہ بات ہمارے درمیان رہے۔”
سعد اللّٰہ نے سر ہلایا۔نگاہیں زمین میں گڑھی جا رہی تھیں۔
“میں نے زبان دی ہے کوئی انگلی آپ کی جانب نہیں اُٹھے گی محترمہ!”
وہ بول تو ریشم کو رہا تھا مخاطب وہ تصور کے پردے پر صفیہ ایمل گلزار سے تھا۔
“حشمت انھیں چھوڑ آؤ۔”
سعد اللّٰہ کے کہنے پر حشمت ریشم کے ساتھ چلا گیا۔سعد اللّٰہ کتنے ہی لمحے کچھ دیر پہلے ہوئی گفتگو کے بھنور میں الجھتا کڑھتا رہا۔
“جو باتیں میں نے آج کی ہیں۔مجھے اُس روز کرنی چاہیے تھیں۔صفیہ ایسے ہی خوفزدہ رہی ہو گی جیسے ریشم۔۔۔۔۔۔اور میں مطیب کی طرح بے وقوف۔”
وہ بالوں میں انگلیاں چلاتے چارپائی پر بیٹھ گیا۔سوچتے سوچتے وہ دوبارہ وہیں موجود تھا۔جہاں اس دن صفیہ نے سعد اللّٰہ اور عزت میں سے ان دونوں کی عزت کو چنا تھا۔ہاں ان دونوں کی عزت،ان کے خاندان کا وقار ،عزت دستار سب کچھ چنا تھا اور سعد اللّٰہ ،سعد اللّٰہ سوچنے لگا کہ اس دن وہ اعتبار بھی ہار گیا تھا۔وہ عورت سچی تھی سو جیت گئی تھی۔وہ جھوٹا تھا اس لیے آج ہارا بیٹھا تھا۔کچھ سوچ کر وہ اٹھا اور اپنے ٹریکٹر پر جا کر بیٹھا۔سٹارٹ کیا اور زمینوں سے نکلتا چلا گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on