حویلی سے نکلتے ہی عبداللّٰہ زمینوں کی جانب چلا گیا۔وہ جانتا تھا کہ سعد اللّٰہ کا پتہ وہیں سے چل سکتا ہے۔
وہ ابھی جا رہا تھا کہ سامنے سے حشمت آتا دکھائی دیا۔وہ پاس آیا تو عبداللّٰہ نے گھور کر اسے دیکھا۔
“میں جانتا ہوں کہ تم جانتے ہو۔میں آخری دفعہ پوچھ رہا ہوں بتاؤ سعد اللّٰہ کہاں ہے؟”
عبداللّٰہ نے غصے سے استفسار کیا۔
“میں نہیں جانتا عبداللّٰہ بھائی،جانتا ہوتا تو صبح بتا دیتا۔بار بار آپ کو یوں زمینوں پر بلانے سے مجھے کیا فائدہ ہو گا؟”
حشمت نے سکون سے جواب دیا اور یہی سُکون عبداللّٰہ کو آگ لگا رہا تھا۔اگر اس طرح سعد اللّٰہ غائب ہوتا اور حشمت کو بھی معلوم نہ ہوتا تو حشمت کا سکون قابلِ دید نہ ہوتا۔وہ عبداللّٰہ کے ساتھ بھاگ دوڑ کر رہا ہوتا ناں کہ زمینوں پہ چہل قدمی۔
“دیکھو حشمت حویلی والے سب پریشان ہیں۔صفیہ اپنے گھر رہنے کے بجائے واپس آ گئی کیونکہ وہ سعد اللّٰہ کے بارے میں بہت زیادہ پریشان ہے۔مکلاوے کا دن ہے اور وہ گھر سے غائب ہے۔شام پڑ رہی ہے اور صبح سے اس کا رخِ روشن کسی نے نہیں دیکھا۔مجھے صرف یہ بتا دو کہ وہ صبح یہاں آیا تھا؟”
عبداللّٰہ نے حتیٰ المقدور لہجے کو نرم رکھا۔ورنہ اس کا غصہ اس وقت ساتویں آسمان پر تھا۔صفیہ کا بے بس چہرہ عبداللّٰہ کو غصہ دلا رہا تھا۔وہ محبت کرنے کی سزا بھگت رہی تھی۔
“عبداللّٰہ بھائی میں یقین دلا رہا ہوں کہ مجھے کچھ نہیں معلوم۔وہ یہاں آئے بھی ہیں تو بھی نہیں معلوم کیونکہ میں آج زرا لیٹ آیا تھا۔فجر کی نماز آج گھر پڑھی تھی۔”
حشمت بول رہا تھا جب اچانک ایک خیال عبداللّٰہ کے ذہن میں کوندا۔
“ٹریکٹر کہاں ہے۔کیا گیراج میں کھڑا ہے؟”
عبداللّٰہ ہوچھ کر گیراج کی جانب بڑھا۔اس کے پیچھے پیچھے حشمت بھی چلا گیا۔جانتا تھا اب عبداللّٰہ کو علم ہو جائے گا کیونکہ گیراج میں تو ٹریکٹر تھا ہی نہیں۔وہ تو حشمت نے صبح ہی نکال کر باہر کھڑا کر دیا تھا اور سعد اللّٰہ اُسی پر تو گیا ہوا تھا۔ عبداللّٰہ نے گیراج میں دیکھا اور اسے خالی پا کر غصے سے مڑا۔
“ٹریکٹر کہاں ہے؟”
حشمت گڑبڑا گیا۔
Barg E Zard by Zumar Fatima Episode 21

