“عبداللّٰہ ۔۔۔بھائی یقینی طور پر سعد اللّٰہ بھائی لے کر گئے ہوں گے۔”
حشمت دو قدم پیچھے ہٹ کر بولا مباداً وہ حشمت کا منہ توڑ دیتا۔
“تم دونوں ایک نمبر کے جھوٹے ہو۔صبح بتا نہیں سکتے تھے کہ ٹریکٹر نہیں کھڑا اور ٹریکٹر موجود نہیں ہے پھر بھی تم اتنے پُرسکون ہو؟
کیا ہو اگر سعد اللّٰہ ٹریکٹر نہ لے کر گیا ہو؟
بتاؤ مجھے۔انسان اتنا پرسکون تب ہی ہوتا ہے جب وہ پریقین ہو۔مجھے پورا یقین ہے کہ وہ تمھیں اپنے دم چھلے کو بتا کر گیا ہے کہ کہاں گیا ہے لیکن نہیں، تم نے منہ نہیں کھولنا چاہے وہ بیچاری لڑکی جو بدقسمتی سے اب سعد اللّٰہ صاحب کی بیوی ہے کڑھ کڑھ کر اسے کچھ ہو جائے۔”
حشمت نے خاموشی سے اسے سُنا پھر بولا۔
“میں نے سعد اللّٰہ بھائی کو جاتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن مجھے اتنا یقین ضرور ہے کہ پورے پنڈ میں سعد اللّٰہ بھائی کا ٹریکٹر بہت مشہور ہے۔اُن کے علاؤہ کسی کی مجال نہیں کہ ان کے زمینوں سے آ کر ان کا ٹریکٹر لے جائے۔مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آیا سعد اللّٰہ بھائی لے کر گئے یا نہیں مجھے یقین ہے کہ ان کے بغیر کوئی یہاں سے لے کر نہیں جا سکتا اور صرف اس بنیاد پر آپ مجھے جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔”
حشمت نے پوری تفصیل سنائی۔ عبداللّٰہ نے کن اکھیوں سے اسے تکا۔اتنی لمبی تفصیل کے بعد بھی عبداللّٰہ کو یقین نہیں تھا کہ وہ سچ بول رہا ہے۔
“خیر زیادہ نِمانا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔تمھاری اس بیچاری تقریر کے بعد بھی میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ تمھیں علم نہیں ہے۔گھر چلتا ہوں۔تمھاری شکل دیکھ کر یقین ہے کہ زمین کے اوپر ہی ہو گا وہ تمہارا کچھ قریبی ہوتا سوتا۔کسی کنویں میں نہیں پڑا ہو گا۔”
استغفرُللہ!
حشمت نے بے اختیار عبداللّٰہ کو تادیبی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔بدلے میں عبداللّٰہ نے بھی طنزیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
“جی آ جی صبح سے اماں اور صفیہ اسے کنویں میں ہی پڑا تصور کر رہی ہیں۔”
حشمت محجوب ہوا مگر اب بھی اس نے زبان نہیں کھولی تھی۔مجبوراً عبداللّٰہ واپس پلٹ گیا۔
حشمت بھول گیا وہ کیوں اور کیا کرنے جا رہا تھا۔وہ واپس زمینوں کی جانب پلٹ گیا۔سیدھا کمرے میں گیا اور ایک گلاس پانی غٹا غٹ چڑھا گیا۔
“ایک تو یہ عبداللّٰہ جانے کیا چاہتا ہے مجھ سے۔اب کیا سعد اللّٰہ بھائی کی جاسوسی کرنے لگ جاؤں۔کبھی بھی نہیں۔بندوق سے میرا سر اڑا دے گا لیکن نہیں یہ بات عبداللّٰہ کو سمجھ نہیں آتی کیونکہ عبداللّٰہ کو تو سعد اللّٰہ کچھ نہیں کہے گا۔”
وہ بڑبڑاتا رہا اور بے وجہ چکر کاٹتا رہا۔
کچھ دیر بعد ٹریکٹر کی آواز آئی تو وہ دوڑ کر باہر نکلا۔سعد اللّٰہ لوٹ رہا تھا۔ٹریکٹر گیراج میں کھڑا کرنے کے بعد وہ گیراج سے باہر آیا۔تو حشمت گیراج کے باہر کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔اس نے ایک پودا حشمت کی جانب بڑھایا جسے اس نے ایک سائیڈ پر رکھ دیا۔مغرب ہو رہی تھی اندھیرا چھانے لگا تھا۔
“خیریت ابھی تک یہیں ہو؟”
وہ چلنے لگا ساتھ ساتھ حشمت بھی چل رہا تھا۔سعد اللّٰہ کے ہاتھ میں ایک شاپر تھا جو اس نے حشمت کو پکڑایا اور خود بازوؤں کے کف موڑنے لگا۔
” آپ کے گھر والے پریشان ہو رہے تھے۔ عبداللّٰہ دو دفعہ آ چکا ہے۔کم از کم بتا کر جانا چاہیے تھا۔”
سعد اللّٰہ نے مڑ کر اسے دیکھا پھر مسکرایا اور شاپر واپس لے لیا۔
“تو تم بتا دیتے۔”
کیا؟”
حشمت نے بے یقینی سے پوچھا۔
“یہی کہ تم جانتے ہو کہ میں کہاں ہوں؟”
“کیا سچ میں؟”
“ہوں ہوں!”
سعد اللّٰہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“ہو ہی نہیں سکتا۔میں بتاتا تو آپ نے میرا گلا دبا دینا تھا۔”
سعد اللّٰہ کے دانت دیکھائی دیئے۔
“صحیح اخذ کیا تم نے۔کسی کو یہ بات پتہ چلی تو گردن دبا دوں گا۔”
سعد اللّٰہ نے رک کر کہا پھر کندھا تھپتھپا کر چل دیا۔حشمت وہیں کھڑا رہا کیونکہ اب سعد اللّٰہ کا رخ حویلی کی جانب تھا۔
“اللّٰہ جانے یہ شخص آدم کی اولاد سے کیا چاہتا ہے؟”
وہ سر جھٹک کر واپس مڑ گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

