Uncategorized

Barg E Zard by Zumar Fatima Episode 21

مغرب کی آذان کے ساتھ عبداللّٰہ گھر واپس آیا۔
ریشماں نماز پڑھ رہی تھیں۔سلام پھیرتے ہی عبداللّٰہ کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
“ٹریکٹر لے کر کہیں گیا ہے۔پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔میں نے حشمت سے بہت پوچھا لیکن اس نے کچھ نہیں بتایا کہ سعد اللّٰہ کہاں گیا ہے؟
واپس آ جائے گا۔ آپ لوگ آرام کریں۔”
ریشماں جائے نماز سمیٹ کر اُس کے پاس آئیں۔
ٹریکٹر پر کہاں گیا ہو گا۔اس نے صبح سے کچھ کھایا بھی ہو گا یا نہی؟”
عبداللّٰہ کو تاؤ آیا۔
“حد ہے اماں!وہ شخص جس نے حویلی کے سولہ بندوں کو سولی پر ٹنگا ہوا ہے۔جسے کسی شے کا کیا خیال نہیں کوئی لحاظ نہیں۔ آپ کو اس کے کھانے کی فکر ہے۔ اتنا بے چارہ نہیں ہے کہیں ناں کہیں سے کچھ کھایا ہو گا۔بیٹھ جاؤ سکون کرو۔”
وہ تھک کر ایک صحن میں لگی کئی چارپائیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔صفیہ بھی کچن میں کھڑی عبداللّٰہ کی گفتگو سن رہی تھی۔ابھی وہ باتوں میں مصروف تھے کہ امتیاز باہر آئے۔
“عبداللّٰہ جا ذرا صفیہ کو بُلا اور مجھے میرا حقًہ بھی لا کر دے۔”
عبداللّٰہ نے ریشماں کو دیکھا پھر امتیاز کی جانب جو اب ایک چارپائی پر بیٹھ رہے تھے۔
“خیریت صفیہ سے کیا کہنا ہے؟”
وہ تجسّس سے نہیں کسی انہونی کے احساس تلے پوچھ رہا تھا۔جو کچھ چل رہا تھا عبداللّٰہ نہیں چاہتا تھا کہ مزید کوئی بدمزگی پھیلے۔
“ارے تجھ سے پوچھنا ہوتا یا تجھے بتانا ہوتا تو صفیہ کو کیوں بلاتا یا صفیہ نے تجھے اپنا منشی رکھا ہوا ہے؟
تو نے سارے سوال جواب کرنے ہیں؟”
عبداللّٰہ نے بہتر جانا کہ اٹھ جائے کیونکہ جتنی عزت اس کی ہو گئی تھی اتنی کافی تھی۔
“ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے سعد اللّٰہ کا غصہ مجھ پر نکالتے ہیں۔میں آگے سے کچھ کہتا جو نہیں ہوں۔وہ آگے سے جواب دیتا ہے۔لاجواب کر دیتا ہے اسی لیے سب مُجھ پر چڑھائی کرتے ہیں۔”
عبداللّٰہ من ہی من میں گھلتا پہلے مردانے گیا وہاں سے حقّہ لے کر باہر آیا۔ نیچے میں پانی بھرا۔پھر چلم میں تمباکو ڈال کر اسے شعلہ دیکھایا۔نلی منہ سے لگا کر اسے گڑگڑایا اور تیار کر کے نانا کے پاس رکھ دیا۔
“تو آگر جنت میں چلا گیا تو تیرے اعمال نامے میں زیادہ تر یہی لکھا ہو گا کہ یہ شخص نانا کو حقّہ گڑگڑا کر دیتا تھا۔”
عبداللّٰہ کا موڈ جو پہلے انتہائی خراب تھا تھوڑا بہت درست ہوا۔وہ صفیہ کو بلانے چلا گیا۔
وہ اندر گیا تو صفیہ پہلے ہی کچن سے باہر کی جانب آ رہی تھی۔ عبداللّٰہ نے اسے تکا اور ٹہر گیا۔
“جانتی ہو نانا کیوں بلا رہے ہیں؟”
عبداللّٰہ نے پوچھنا مناسب سمجھا۔صفیہ کے اثبات میں سر ہلایا۔
“کیا کہو گی؟”
“تم کیا چاہتے ہو؟”
صفیہ نے خوبرو عبداللّٰہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“سچ بول دو۔”
وہ ہنسی۔پھر عبداللّٰہ کو سائیڈ پر کرتے ہوئے باہر چلی گئی۔جا کر نانا کے سامنے بیٹھ گئی پر اعتماد۔
نانا نے ایک گہرا کش لیا اور صفیہ کی جانب کچھ دیر دیکھتے رہے پھر دھواں منہ سے نکالنے کے بعد بولے۔
“شادی دو لوگوں کے درمیان ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کا پردہ بن جاتے ہیں۔تم نے سعد اللّٰہ کا خوب پردہ رکھا لیکن مجھے نظر آ رہا ہے کہ وہ تمھارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہا۔سامنے سامنے سعد اللّٰہ کی حرکتیں نا قابلِ قبول ہیں جانے اکیلے میں اس کا رویہ کیسا ہو؟
میں نے صرف یہ کہنے کے لیے بلایا ہے کہ بیٹی اس گھر میں تم اکیلی نہیں ہو۔وہ نامناسب رویہ اختیار کرے اس سے پہلے مجھے آ کر بتانا۔میں اس کی طبعیت بالکل درست کر دوں گا۔”
نانا بول کر خاموش ہو گئے۔کچھ دیر صفیہ انتظار کرتی رہی کہ وہ مزید بولیں لیکن انھیں خاموش پا کر بولی۔
“آپ فکر نہ کریں وہ کبھی میرے ساتھ نامناسب رویہ اختیار نہیں کرے گا۔وہ۔میرا شوہر ہونے سے پہلے ایک اچھا انسان ہے۔ آپ نے اس کی تربیت کی ہے۔وہ ایک عورت کے ساتھ کبھی بھی وہ سب نہیں کرے گا جو آپ سب کی نگاہ میں گناہ ہو۔”
عبداللّٰہ نے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on