Uncategorized

Barg E Zard by Zumar Fatima Episode 21


“یہ عورت کبھی سعد اللّٰہ کا ساتھ دینا نہیں چھوڑے گی۔بہت ہے اچھا نصیب لے کر اُترا ہے یہ بدتمیز انسان۔”
وہ کچن میں کھڑا صفیہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔
صفیہ مزید بات کرتی اس سے پہلے سعد اللّٰہ حویلی کا دروازہ کھولتے اندر داخل ہوا۔ایک دم سب کی نگاہیں اس کی جانب اٹھی تھیں۔صفیہ نشست سے کھڑی ہو گئی۔ عبداللّٰہ کچن سے نکل کر باہر آ گیا۔نانا کا منہ کی جانب جاتا منہال نیچے ہو گیا۔
سکینہ نے بھی پہلو بدلا اور سر اس جانب گُھوما جہاں سے سعد اللّٰہ داخل ہوا تھا۔
بالاج جو نماز ادا کرنے کے بعد حویلی میں داخل ہوئے اسے گیٹ کے سامنے کھڑا دیکھ کر رُک گئے۔
“کہاں تھے تم؟”
سعد اللّٰہ نے گردن گُھما کر بالاج کو دیکھا۔اُس نے شاپر سامنے کیا۔
“یہ کیا ہے؟”
ماتھے پر تیوری نمایاں ہوئی۔
“مچھلی!”
سکون سے جواب دیا گیا۔
“تم مکلاوے کے دن مچھلیوں کا شکار کرنے چلے گئے۔”
غصے سے بالاج کی آواز بلند ہوئی اور بالاج کی آواز سن کر وہاں ریشماں اور فضیلت بھی آ گئیں تھیں۔
“میں نے کل ہی بتا دیا تھا کہ میں ایسی کسی رسم کو نہیں مانتا اور نہ ہی بن سنور کر اپنے سسرال جاؤں گا۔تو پھر مجھ سے امید لگا کر آپ کو ناامیدی کے ساتھ ساتھ میں مچھلی ہی دے سکتا ہوں۔”
بالاج کا غصہ مزید بڑھا۔جی چاہا ایک چماٹ اس کے رخ روشن پر چھاپ دی جائے لیکن انہوں نے غصہ قابو میں رکھا۔
“تمھیں کس نے خوش فہمی میں مبتلا کیا ہے کہ وہاں تمھارا انتظار کیا جا رہا تھا؟”
“تو پھر مجھ سے گھر کے دروازے پر سوال جواب کیوں کیئے جا رہے ہیں ابا؟”
سعد اللّٰہ نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا۔
“میں نے کیا ٹرالی میں لاد کر لے جانا تھا صفیہ ایمل گلزار کو کہ میں نہیں تھا تو وہ نہیں جا سکتی تھی؟”
سوالیہ انداز میں آبرو بھی بھینچ گئے۔
“سعد اللّٰہ صاحب نہ تو صفیہ کو آپ کی ٹرالی کی ضرورت ہے ناں ہی آپ کی۔مکلاوا ہو گیا ہے۔سب حویلی والے افتخار حویلی سے آپ کے بغیر بھی ہو آئے ہیں۔ اب آپ اپنے خود ساختہ خوش فہمی کے تخت سے اتر آئیں۔”
سعد اللّٰہ کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔پھر سر جھٹک گیا۔
“بہت خوب۔ اب اجازت ہو تو میں جاؤں۔تھک گیا ہوں!”
سعد اللّٰہ نے اجازت طلب نگاہوں سے بالاج کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو بالاج نے جانے کا اشارہ کر دیا۔جسے پاتے ہی وہ صفیہ کی جانب آیا۔مچھلی والا شاپر اُسے پکڑایا اور ایک نظر اس پر ڈال کر کمرے کی جانب چلا گیا۔
“کیا آتے ساتھ بتانے کی ضرورت تھی ؟
دل کٹ گیا ہو گا بیچارے کا!
دیکھا اس کا چھوٹا سا منہ نکل آیا تھا۔”
ریشماں بڑبڑائیں۔
“شکر ہے خیریت سے عافیت سے ہے میرا بچہ۔”
وہ دل ہی دل میں کچھ دم پڑھنے لگیں اور پھر سعد اللّٰہ کے پیچھے چلی گئیں۔
ــــــــــــــــــــــــــ۔ ــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــ

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on