سعد اللّٰہ کمرے میں آیا اور الماری کی جانب بڑھ گیا کپڑے الٹ پلٹ کرتے ایک تہہ شدہ صفحہ اس کے ہاتھ لگا۔
“یہ کیا ہے؟”
سعد اللّٰہ نے صفحہ الٹ پلٹ کر دیکھا پھر کھول لیا۔
“پُرانے دور کی کتاب میں ایک بزرگ نے لکھا کہ جب قدیم یونانی مورخ بکاؤ ہو جاتے تھے تو شراب کا نشہ کر کے اس ایک شخص کو منظر عام پر لے آتے جس سے انھیں محبت ہوا کرتی تھی۔محبت کی کہانیاں لکھی جاتیں اور سراہے جانے کو انعام تصور کیا جاتا لیکن جب اُنھیں ہوش آیا تو اُنھوں نے خود کو مار ڈالا۔”
خون اور قلم (کتاب زندان سے ماخوذ)
سعد اللّٰہ نے اُس تحریر کو دیکھا کچھ سمجھنے کی کوشش کی اور جو اسے سمجھ آیا وہ اس کا سانس سلب کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔
وہ صفحہ صفیہ کی جانب سے وہاں رکھا گیا تھا۔سعد اللّٰہ نے خاموشی سے صفحہ واپس اپنی جگہ پر رکھ دیا۔کپڑے نکالنا ترک کر کے بیڈ پر جا کر بیٹھ گیا۔چوٹ شدید تھی۔اسے برداشت کرنے کے لیے اسے کچھ وقت درکار تھا۔اسے لگا صفیہ نے اسے دبے لفظوں میں بے غیرت کہا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ آیا ایسا ہی ہے۔دو لڑکیاں ایک وقت میں ایک جیسا سوچتی ہیں۔وہیں دو لڑکے بھی ایک جیسا سوچتے ہیں کیوں لڑکیاں لڑکوں جیسا اور لڑکے لڑکیوں جیسا نہیں سوچ سکتے؟
” شاید لڑکوں کو وہ نہیں سننا پڑتا جو لڑکیاں سنتی ہیں۔
ہاں اسی لیے بالکل۔۔۔۔”
وہ اپنی سوچ میں غرق بولا۔
“سعد اللّٰہ ۔۔۔۔۔توں ٹھیک ہے؟”
ریشماں نے اس کا کندھا آ کر ہلایا تب جا کر اسے ریشماں کی موجودگی محسوس ہوئی۔
“آ۔۔۔۔۔ ہاں ہاں ٹھیک ہو کچھ سوچ رہا تھا۔”
وہ تھوڑا سا پرے کو کھسکا تاکہ ماں بیٹھ سکے۔
” کھانا کھانا ہے؟”
سعد اللّٰہ نے نگاہ اٹھا کر ماں کو دیکھا۔
“صبح سے ایک کپ چائے پی ہے بس۔”
بے چارگی سے کہتے اس نے ماں کو بے چارگی شکل پر طاری کرتے ہوئے کہا۔
” تو کس نے کہا تھا منہ اندھیرے چوروں کی طرح گھر سے نکل جانے کو۔جلدی سے نہا دھو کر کپڑے بدل لے۔میں تازہ چپاتیاں ڈال کر تب تک لے آتی ہوں۔”
وہ لاڈ سے سعد اللّٰہ کے لتے لینے کے بعد کھانا لینے جانے لگیں جب سعد اللّٰہ نے ریشماں کو آواز دی۔
“اماں ایک منٹ مجھے مہربانی کپڑے نکال کر دے دو۔میں بہت تھک گیا ہوں۔”
وہ بیڈ پر تقریباً نیم دراز ہوتے ہوئے بولا۔وہ الماری سے ایسے خوفزدہ تھا جیسے وہ جائے گا تو اندر بیٹھا بھوت اس کا منہ نوچ لے گا۔
ریشماں واپس پلٹیں اور الماری کھولی۔
“ایک سوٹ نکالا۔
“یہ ٹھیک ہے۔”
سعد اللّٰہ نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا اور نفی میں سر ہلایا۔
“یہ تنگ ہے۔”
ریشماں دوبارہ الماری میں جھانکنے لگیں۔ایک اور سوٹ نکالا۔
“یہ؟”
اس نے پھر ایک آنکھ کھول کر دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے۔”
ریشماں نے سوٹ بیڈ پر رکھا اور خود چلی گئیں۔سعد اللّٰہ اٹھا کپڑے اٹھائے اور نہانے چلا گیا۔
دس منٹ بعد وہ بالکل تازہ دم نظر آ رہا تھا۔بالوں میں کنگھی پھر رہا تھا جب صفیہ کھانے کی ٹرے لیئے اندر آئی۔سعد اللّٰہ نے نگاہیں بچا کر اس کا چہرہ دیکھا۔اس کے چہرے پر کہیں ناراضگی نظر نہیں آ رہی تھی۔صفیہ نے کھانے کی ٹرے میز پر رکھی اور سعد اللّٰہ کی جانب دیکھا۔
“کھانا کھا لو۔”سعد اللّٰہ ویسے ہی کنگھی کرتا رہا پھر صفیہ کی نظروں سے خائف ہو کر بولا۔
“کھا لوں گا میری ماں نے بھیجا ہے مجھے پتہ ہے کہ کھانا ہے۔”
حسبِ عادت منہ سے پھر الٹی بات نکل گئی۔وہ کچھ دیر اس دیکھتی رہی پھر دروازے تک گئی اور دروازہ بند کر دیا۔واپس پلٹ کر اس کی پاس آ کھڑی ہوئی۔
“تم آج کہاں تھے؟”
سعد اللّٰہ کے جسم پر چیونٹیاں رینگیں۔کہیں اسے پتہ تو نہیں چل گیا۔کچھ دیر دماغ لڑایا جب یقین ہو گیا کہ اسے پتہ نہیں چل سکتا تو بولا۔
“نکاح نامے میں کہیں یہ نہیں لکھا ہوا تھا کہ سانس لینے کے لیے باہر جانے سے پہلے بیوی محترمہ سے پوچھ کر جانا ہے۔”
سعد اللّٰہ نے برش سنگھار میز پر رکھا اور خود صوفے پر جا بیٹھا۔میز گھسیٹ کر قریب کیا۔
“تم مجھے بیوی سمجھتے ہو؟”
ایک اور طنز کا تیر سعد اللّٰہ کے کانوں میں آ لگا۔اس نے نگاہ اٹھا کر صفیہ کو دیکھا جو اپنے سوال کے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔
“ماننے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے۔ہو میری بیوی سارا جہاں کہتا ہے۔ آج بیوی کی وجہ سے ہی گھر کے دروازے پر کھڑا کر کے میری شامت لگائی گئی۔یہ پوچھنا گوارا کیئے بغیر ک کیا آفت ٹوٹی تھی سارا دن کہاں غائب تھے؟
کھانا کھایا؟
پانی پیا؟
نہیں ایسا کچھ نہیں! بس سب کو صفیہ ایمل گلزار نظر آ رہی ہے۔میں اُس پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہوں۔سب تمھارے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔میری ماں کو چھوڑ کر!”
سعد اللّٰہ نے بات مکمل کی پھر ایک نوالہ توڑ کر منہ میں رکھا اور آہستہ آہستہ چبانے لگا تاکہ اس کے اگلے سوال کا جواب تیار کر سکے۔
“مچھلی پکڑنے کے لیے کسی بابا سے مشورہ کِیا تھا کیا کہ آج کا دن متبرک ہو سکتا ہے ضرور جانا؟”
ایک اور طنز۔۔۔۔سعد اللّٰہ مسکرایا۔
“ہاں تو اب سب لوگوں کی طرح میں بھی گھسی ہوئی رسمیں تو نبھانے سے رہا۔”
صفیہ کو تپ چڑھی آخر وہ خود کو سمجھتا کیا تھا؟
“بھائی نے بھی یہ رسم کی ہے گر تمھیں یاد ہو۔”
صفیہ نے داد دیتے لہجے میں یاد دلایا۔
“عبدالرحمان ایک نمبر لکیر کا فقیر ہے۔میری بات یاد رکھنا۔جو لکیر لگا دی جائے وہی پیٹتا رہتا ہے یہ میں ہوں سعد اللّٰہ شمروز،میں نئی رسمیں نکالتا ہوں۔تم گاؤں میں مشہور ہونے دو کہ میں مکلاوے کے روز مچھلی کا شکار کرنے گیا تھا۔دو مہینوں کے اندر اندر جتنی شادیاں ہوں گی۔سب اپنے مکلاوے کے روز مچھلیاں پکڑنے جائیں گے۔شرط لگا لو۔”
صفیہ نے دل ہی دل میں اس کی خوش فہمی پر استغفار کا ودر کیا تھا۔
“جو تم کر رہے ہو اگر تمھارا دل اس سے ٹھنڈا پڑ رہا ہے تو بسم اللّٰہ، کرتے رہو لیکن ایک بات یاد رکھنا۔اس کے بھگتان صرف تمھیں نہیں ساتھ ساتھ تمھاری بہن کو بھی بھگتنا پڑے گا۔اب ساری زندگی میرے بھائی تمھارے تیور تو نہیں دیکھیں گے ناں۔”
سعد اللّٰہ کا منہ کی جانب جاتا ہاتھ رک گیا۔
“دھمکی ہے؟”
آنکھیں اٹھا کر صفیہ کو دیکھتے ہوئے وہ اتنا خوبصورت لگا تھا کہ صفیہ کو بھول گیا کہ اسے کیا کہنا چاہیے۔نا سمجھی میں صفیہ نے کندھے اچکائے۔سعد اللّٰہ نے نوالہ منہ میں ڈال دیا۔
“سعد اللّٰہ ایسی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوا کرتا۔کوئی دشمنوں والی دھمکی لگاؤ۔کھیل کھیلنے میں مزہ آئے اور کھیل کھیلنا ہے تو میرے اور تمھارے درمیان رہنا چاہیے۔جتنے زیادہ لوگ شامل ہوں گے کھیل الجھے گا۔سمجھ رہی ہو ناں کیا کہہ رہا ہوں؟”
صفیہ نے گھور کر اسے دیکھا۔جو اس کی گھوری نظر انداز کرتے نوالے پر نوالہ منہ میں ڈالے رہا تھا۔اس کی بھوک کا اندازہ صفیہ کو ہو رہا تھا۔وہ اسے رغبت سے کھاتے ہوئے کچھ دیر دیکھتی رہی۔پھر بولی۔
“کھیل ہے کون تم یا میں؟”
سعد اللّٰہ نے بنا نوالہ واپس چنگیر میں رکھ دیا۔
“زندگی کھیل ہے۔”گومگو سا جواب دے کر وہ اٹھا۔برتن اٹھائے اور چلتا ہوا اس پاس آیا۔
“میری!”
ایک لفط بول کر اس کے پہلو سے نکل کر دروازے تک گیا۔دروازہ کھول کر کمرے سے باہر چلا گیا۔صفیہ نے سوچا کہ وہ سعد اللّٰہ سے لڑنے آئی تھی یا سمجھانے لیکن نتیجہ یہ تھا کہ اب وہ نہ سعد اللّٰہ سے لڑ سکتی تھی اور سمجھنے والا وہ شخص نہیں تھا۔وہ تھک ہار کر بیڈ پر بیٹھ گئی جہاں کچھ دیر پہلے سعد اللّٰہ براجمان تھا۔
Barg E Zard by Zumar Fatima Episode 21

