Uncategorized

Barg E Zard by Zumar Fatima Episode 22

رات ہو چکی تھی۔ہانیہ نے کچن سمیٹنے میں سویرا کی مدد کی اور چائے بنا کر دو کپ لیئے اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔دل ہی دل میں بے چینی تھی۔سعد اللّٰہ کی آج کی حرکت بالکل نظر انداز کرنے کے قابل نہیں تھی لیکن اس میں ہانیہ کا کوئی قصور نہیں تھا۔کمرے میں داخل ہوئی تو عبدالرحمان سوچ میں مستغرق صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ہاتھوں کو باہم ملائے شہادت کیا انگلیاں لبوں کو مقفل کئے ہوئے تھیں۔ہانیہ نے کپ میز پر رکھے اور خود اس کے پاس بیٹھ گئی۔
“عبدالرحمان کیا پریشان ہیں آپ؟”
عبدالرحمان نے اپنی آنکھوں کا ریاض توڑا اور آنکھوں کو دیوار سے ہٹا کر ہانیہ کو دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
“پریشان تب ہوتے ہیں جب کوئی شے متوقع نہ ہو۔ اچانک سے ہو جائے اور انسان حل تلاش کرتا رہ جائے۔مجھے سعد اللّٰہ سے یہی توقع تھی۔وہ صفیہ کو پریشان کرے گا۔”
ہانیہ کا دل کٹ کر رہ گیا۔اس نے بے اعتباری کی نگاہ سے عبدالرحمان کو دیکھا۔
“آپ سعد اللّٰہ بھائی کو بہت برا سمجھتے ہیں ناں۔ ابھی بھی آپ کے دل میں وہ دشمنی والی کدورت ہے۔کہیں ناں کہیں رشتہ داروں سے جو نفرت ہوتی ہے آپ وہی نفرت سعد اللّٰہ بھائی سے کرتے ہیں۔”
عبدالرحمان کا جی چاہا سر پیٹ لے لیکن وہ ہانیہ کو فقط دیکھ کر رہ گیا۔ وہ بھائی کے عشق میں تھی۔سعد اللّٰہ کے خلاف وہ کوئی بھی بات کرتا جواب ایسا ہی آنا تھا۔اس نے پہل کی اور ایک کپ اٹھا کر ہانیہ کو پکڑایا جسے اُس نے نہیں پکڑا۔بس عبدالرحمان کو آنکھیں میچ کر گھورتی رہی جیسے کچھ اخذ کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“ارے میری جان پہلے میری بات تو سن لیں۔پوری بات صحیح ہے۔”
وہ ہانیہ کی جانب گھوم کر بیٹھا اور دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ کر بولا۔
“دراصل سعد اللّٰہ مُجھے نہیں میں سعد اللّٰہ کو برا لگتا ہوں۔سعد اللّٰہ غصے کا تیز ہے اور اسی غصے میں زبان کے جوہر دکھاتا ہے اور پچھتانے پر واپس آ کر معافی بھی مانگتا ہے۔یہ اُس کی سب سے اچھی بات ہے۔اسی لیے وہ مجھے پسند بھی ہے۔”
عبدالرحمان اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔پھر ہاتھ کندھوں سے ہٹا کر ہانیہ کی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے۔
“دوسری بات دشمنی ختم کرنے کے لیے وہ میرے پاس آیا تھا۔اسی نے یہ تجویز کیا تھا کہ صفیہ کی شادی اس سے کر دی جائے اور میں حقیقتاً اس حق میں بھی تھا لیکن کچھ وجوہات کے ہوتے ہوئے کہیں ناں کہیں یہ ممکن نظر نہیں آ رہا تھا جب تک کہ تم سامنے نہیں آئیں۔”
عبدالرحمان کے تم کہنے پر ہانیہ نے نگاہیں اٹھائیں۔حیرے ہی حیرت موجزن تھی۔دل بند ہوا اور ہاتھ بے اختیار عبدالرحمان کے ہاتھوں کی قید سے آزاد ہوئے۔عبدالرحمان نے ہانیہ کی حرکت کو دیکھا لیکن وہ اپنا فسوں نہیں توڑنا چاہتا تھا۔ ہاں وہ اقرار کر چکا تھا لیکن اسے آج سب کچھ کھل کر بتانا تھا۔عبدالرحمان نے دوبارہ ہاتھ تھامے جو ٹھنڈے پڑ رہے تھے۔
“اگر تم اس دن سامنے آ کر بات نہ کرتی تو یہ کائنات ایک طرف کر کھڑی ہو جاتی اور سعد اللّٰہ ان کا سالار ہوتا تب بھی میں اسے اپنی بہن نہ دیتا۔”
اقرار تھا کہ اعتراف جرم ہانیہ کو منہ لال ہو گیا۔شدید غصے سے یا شاید شرم سے لیکن ایک اور وجہ بھی فوراً دماغ میں آئی تھی۔شرمندگی سے!
“مجھے محبت ہو گئی تھی۔”
ایک لطیف جملہ عبدالرحمان کے لبوں سے آزاد ہوا۔ فشارِ خون سے ہانیہ کے گال دھکنے لگے۔عبدالرحمان نےمشکل سے اس کی چہرے سے نگاہیں ہٹائیں اور چائے کا کپ اٹھا کر اس کی جانب بڑھایا۔
“چائے پیو ٹھنڈی ہو رہی ہے۔”
ہانیہ نے چپ چاپ کپ پکڑ لیا۔عبدالرحمان نے بھی اپنا کپ اٹھایا اور ایک گھونٹ پیا۔
“رشتےچائے جیسے میٹھے ہوتے ہیں۔سعد اللّٰہ سے بھی میرا رشتہ ہے بہت زیادہ میٹھا۔”
ہانیہ نے ایک گھونٹ بھرا اور عبدالرحمان کی جناب دیکھ کر بولی۔
“سعد اللّٰہ بھائی ایسا کبھی نہیں بولیں گے۔”
عبدالرحمان نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔ بھلا کیوں؟
“وجہ پوچھیں ناں!”
ہانیہ نے اصرار کیا۔
“کیوں؟”
“کیونکہ وہ میٹھا نہیں کھاتے نا پیتے ہیں۔ اس لیے رشتے ان کے لیے چائے جیسے پھیکے ہوں گے۔”
یہ نئی بات تھی۔عبدالرحمان نے سر ہلایا۔
“اب اس میں کیا کیا جا سکتا ہے۔امید ہی کی جا سکتی ہے کہ رشتوں کی لذت وہ میٹھی چائے پیئے بغیر جانتا ہو۔”
صفیہ نے اپنی چائے ختم کر کے کپ میز پر رکھ دیا۔
“وہ جانتے ہیں۔”
وہ بول کر اٹھ گئی۔
“چائے پی لیں ٹھنڈی ہو گئی تو ٹھنڈی پڑی رشتہ داری کی طرح حلق میں جمتی محسوس ہو گی۔”
عبدالرحمان خاموش رہا۔
اسے ہانیہ کی یہ نوک جھونک پسند تھی۔کم از کم وہ عبدالرحمان سے ڈری سہمی نہیں رہتی تھی۔
ربِّ وصال، وصل کا موسم تو آچکا
اب تو مرا نصیب سنور جانا چاہیے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on