Latest Novel Revenged Base Romantic Novels

Dil E Beqarar Episode 3|Romantic Novel| |Classic Urdu Material|

وقار صاحب لان میں بیٹھے شام کی چلتی ٹھنڈی ہواؤں کے مزے لے رہے تھے۔ کافی دن بعد اتنا خوش گوار موسم ہوا تھا۔ وہ موسم سے لطف اندوز ہو رہے تھے تبھی پورچ میں فاسق کی گاڑی آ کر رکی۔ فاسق انہیں لان میں بیٹھا دیکھ کر وہیں چلا آیا۔ بخشو کو اپنا کوٹ اور لیپ ٹاپ بیگ تھماتا وہ ان کے پاس ہی لان چیئر پر بیٹھ گیا۔ “کیسی طبیعت ہے دادا جان؟” “بالکل ٹھیک۔۔” “آپ آج آفس آئے تھے اور مجھ سے ملے بغیر چلے گئے؟” “تمہیں مخبری ہو بھی گئی؟” “ظاہر ہے میرے دادا جان آئیں اور مجھے ملے بغیر چلے جائیں۔ سوچنے والی بات تو ہے ایسا کیا ہوا ہے؟” “فاسق بیٹا مجھے تم سے ایک کام ہے۔” “آپ حکم کریں دادا جان۔” فاسق نے بخشو کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے کہا. “تمہارے آفس میں ایک لڑکی کو جاب ڈلوانی ہے۔ اسی کالونی میں رہتی ہے اپنے نانا نانی کے ساتھ۔ اس کے والدین حیات نہیں ہیں۔ حال ہی میں بہاولپور سے یہاں شفٹ ہوئے ہیں۔ میری بہت اچھی دوست ہے۔ میرے دل کے بہت قریب ہے۔” “تو بھیج دیں اسے آفس۔ میں دیکھ لوں گا اگر اس میں قابلیت ہوئی تو ضرور۔” “اس میں قابلیت ہے لیکن یہ جاب قابلیت کے ساتھ ساتھ میری سفارش پر چاہیے۔” “دادا جان آپ سفارش کر رہے ہیں؟” فاسق نے انہیں چھیڑا۔ “بالکل۔۔ اگر اتنی اچھی بچی ہو تو سفارش کرنا فرض بنتا ہے۔” “نام کیا ہے اس کا؟” فاسق کو تجسّس ہوا۔ “میں رانیہ کی بات کر رہا ہوں۔” وقار صاحب نے نرمی سے بتایا۔ پانی پیتے فاسق کو اچھو لگ گیا۔ “اس بد دماغ بدتمیز لڑکی کو؟ نہیں دادا جان ممکن نہیں۔۔ اس کی میرے آفس میں تو کیا میرے آس پاس بھی جگہ نہیں۔” فاسق ہتھے سے اکھڑ گیا۔ “اس کی جگہ تم اپنے آفس میں بھی بناؤ گے اور اپنے آس پاس بھی۔” وقار صاحب نے دھونس جمائی۔ “دادا جان یاد آ گیا وہ آج آئی تھی۔ اس کا اکیڈمک ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔” فاسق نے جان چھڑانی چاہی۔ “ممکن ہی نہیں ہے۔۔ اس کا رزلٹ آنے پر اس کے نانا اور دادا نے ہی تو اس کے ساتھ مٹھائی کھائی ہے۔” وقار صاحب نے مبہم سی مسکراہٹ لیے بتایا۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ انہیں ٹال رہا ہے۔ “وہ شوگر پیشنٹ کو زہر دیتی ہے؟” فاسق نے غم و غصہ سے پوچھا۔ “شوگر فری تھی فاسق۔ بات کو مت بڑھاؤ۔” انہوں نے تحمل مزاجی سے کام لیا۔ “وہ میرے دادا جان کی زندگی کے پیچھے پڑ گئی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں بات کو نہ بڑھاؤں؟” فاسق جان بوجھ کر بات بڑھا رہا تھا۔ “وہ شوگر فری تھی۔ تم تو مجھے کچھ کھانے نہیں دیتے۔ اب اگر اس بچی کو مجھ پر ترس آ ہی گیا ہے تو تم اس طرح سے بات اٹھا رہے ہو۔” وقار صاحب نے اسے ایموشنل کیا۔ “اچھا بھیجیں۔۔ دیکھتے ہیں کیونکہ میں آج ہائرنگ کر چکا ہوں۔” فاسق نے سراسر انہیں ٹالا۔ “میں اسے زبان دے چکا ہوں اور تم اسے یہ ظاہر نہیں کرو گے کہ میں نے تم سے اس کی جاب کا کہا ہے۔” وقار صاحب نے مزید ہدایات دیں۔ “واہ دادا جان واہ۔۔ سفارش میں لگ بھی رہی ہے اور سفارش کا پتہ بھی نہ چلے۔” فاسق کو رانیہ کی سمارٹ نیس پر پتنگے لگ گئے۔ وقار صاحب ہنس پڑے۔ “اس کو ہر لحاظ سے یہ لگنا چاہیے کہ اس کی جاب اس کی قابلیت کی وجہ سے ہوئی ہے۔” “حالانکہ قابلیت اس میں رتی برابر بھی نہیں ہے۔” فاسق نے بتانا اپنا فرض سمجھا۔ “فاسق بہت اچھی بچی ہے۔ اپنے دل میں اس کے لیے نرمی لاؤ کیونکہ۔۔۔۔” “کیونکہ کچھ بھی نہیں دادا جان۔ اس سے آگے رانیہ کی کوئی جگہ نہیں۔” “اگر تم چاہو تو رانیہ کی جگہ اس گھر میں بھی بن سکتی ہے۔ تمہاری دلہن کے روپ میں کیسا رہے گا؟” وقار صاحب نے مسکراتے ہوئے مشورہ مانگا۔ “دادا جان آپ صرف دوستی نبھائیں دشمنی تو نہ کریں۔ اپنے پوتے کی زندگی کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں؟ کیوں مجھے جیتے جی مار کر خود تنہا رہنا چاہتے ہیں؟” فاسق بلبلا اٹھا۔ “استغفر اللہ فضول گوئی مت کرو۔ وہ آئے گی تو ہم دونوں کی تنہائی بانٹ لے گی سوچنا اس بارے میں۔” وقار صاحب خاصے سنجیدہ نظر آ رہے تھے۔ “بخشو تم چائے بناؤ دادا جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پھر انہیں میڈیسن بھی دیتے ہیں تاکہ یہ آرام کریں۔” فاسق تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا۔ بخشو اور وقار صاحب ہنس پڑے۔ فاسق جلتا بھنتا اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا۔ ————————-

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on