“بھئی آج کھانا بہت مزے کا بنا ہے۔ مزہ آ گیا اتنی عمدہ بریانی کھا کر۔” وقار صاحب نے کھلے دل سے تعریف کی۔ رانیہ کا ہاتھ اب ٹھیک ہو چکا تھا۔ اس دوران فاسق نے اس کا بہت خیال رکھا تھا۔ اس نے اسے کوئی کام کرنے نہیں دیا تھا۔ بلکہ وہ اس کے کام بھی کر دیتا تھا۔ بظاہر تو دادا جان نے فاسق کو سزا سنائی تھی لیکن فاسق کو اب اس کے کام کرنا اچھا لگنے لگا تھا۔ اس کے زخم آہستہ آہستہ بھر رہے تھے، لیکن وہ چاہتا تھا اس کے زخم کبھی نہ بھریں۔ تاکہ وہ اس کے قریب ترین رہ سکے۔ اس کو کھانا کھلانے سے لے کر اس کا ہر کام وہ خود کرتا۔ اس طرح ہی وہ زیادہ سے زیادہ اس کے قریب رہ سکتا تھا۔ دونوں کے اندر خوش کن احساسات نمو پذیر ہو رہے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی موجودگی سے مسرور ہونے لگے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کی کمی کو محسوس کرنے لگے لیکن دونوں ہی اپنے احساسات سے بے خبر تھے اور دونوں ہی ایک دوسرے کو بے خبری میں رکھتے ہوئے یہ بہانے بنا رہے تھے کہ ابھی زخم نہیں بھرا لیکن فائنلی اب تو زخم کا نشان بھی ختم ہو چکا تھا۔ اب تو دونوں کا یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا اور زندگی معمول پر آئی۔ دادا جان کی برتھ ڈے نے ان دونوں کو ایک بار پھر ایک ہونے کا موقع دیا تھا۔ دونوں نے دادا جان کے لیے برتھ ڈے پلان کیا۔ جس میں رانیہ کے نانا جان اور نانی جان بھی آئے تھے۔ گھر میں ہی ان کا خیال رکھتے ہوئے کم آئل میں کھانا بنایا گیا۔ شوگر فری کیک بیک کیا گیا جو کہ تینوں بڑوں کے لیے بہترین تھا۔ بریانی بنانے میں بخشو کی بجائے فاسق نے مدد کی تھی کیونکہ وہ اسی طرح اس کے قریب رہ سکتا تھا۔ کھانا بناتے ہوئے ان دونوں کے درمیان چھیڑ چھاڑ بھی جاری رہی۔ وقار صاحب خوش اور مطمئن تھے کہ اب ان دونوں کی ہمہ وقت لڑنے کی، بحث و تکرار کی آواز نہیں آتی تھی۔ “تم نے دادا جان سے تو تعریف وصول لی۔ اب اپنے ہسبینڈ سے تو تعریف وصولو۔” رانیہ کچن میں چائے بنا رہی تھی تبھی فاسق نے آ کر اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا۔ رانیہ بری طرح بدک گئی۔ “فاسق بخشو آ جائے گا۔” رانیہ اس کا حصار توڑنا چاہا۔ “نہیں آئے گا۔ میں اسے سمجھا کر آیا ہوں کہ اگر وہ آیا تو اس کے پاؤں توڑ دوں گا اور کھانا بھی نہیں کھلاؤں گا۔” فاسق نے اپنا کارنامہ بتایا۔ وہ دونوں ہنس پڑے۔ فاسق نے اس کے بالوں میں چہرہ چھپایا۔ “بریانی بہت مزے کی بنی تھی۔ پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ میں نے تمہاری مدد کی تھی۔” فاسق نے اس کی گردن پر لب رکھے۔ اس بہتان پر رانیہ کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔ وہ اس کا حصار توڑ کر نکلنا چاہتی تھی لیکن فاسق بھی کچا کھلاڑی نہیں تھا۔ ایک انچ نہ ہلا۔ “مدد کی تھی یا صرف تنگ کیا تھا رانیا نے مصنوعی ناراضگی سے کہا۔ “کیسے تنگ کیا تھا؟” فاسق نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔ “ایسے؟ ایسے؟ یا پھر ایسے؟” اس کے چہرے کے ایک ایک نفس کو محبت سے چھو رہا تھا۔چ”چائے بنانے دو نا پلیز۔” رانیہ پزل ہوتے کہا۔ “بنا لو کس نے روکا ہے؟” فاسق نے دوبارہ اس کے گرد حصار باندھتے اس کے بالوں میں چہرہ چھپاتے مخمور لہجے میں کہا۔ رانیہ پزل ہو رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں لرزش واضح تھی۔ “رانی۔۔” اس نے خمار آلود لہجے میں رانیہ کو پکارا۔ “ہمم۔۔۔” “آئی ایم سوری۔۔ کیا تم مجھے معاف کر سکتی ہو؟ میرے ہر برے رویے کے لیے؟” فاسق نے مدہوش آواز میں کہا۔ رانیہ خاموش رہی۔ “کیا ہم زندگی میں وہ سب باتیں بھول کر آگے بڑھ سکتے ہیں؟” اس نے چہرہ اٹھا کر اس کے کندھے پر ٹھوڑی ثکائی۔ رانیہ کی چائے تیار تھی۔ فاسق نے اس کے ہاتھ سے ٹرے لے کر بخشو کو بلایا۔ “خبردار جو تم یہاں سے ایک انچ بھی ہلی۔” فاسق نے رعب سے کہا۔ بخشو بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا۔ “یہ ٹرے لے جاؤ اور خبردار جو تم نے ہمیں ڈسٹرب کیا۔” فاسق نے وارن کرتے اسے ٹرے پکڑائی۔”یاد رہے تمہاری شادی میرے ہی ہاتھوں میں ہے۔” فاسق دھمکی بھی دینا نہ بھولا۔ “فاسق بھائی۔۔” بخشو
Dil E Beqarar Episode last|Romantic Novel| |Classic Urdu Material|
Pages: 1 2

