قسط_10سورج کی سنہری کرنیں کھڑکی کے راستے سے اسپتال کے کمرے میں داخل ہوتیں شہرے کی نیند میں خلل پیدا کرنے کا باعث بنی تھی۔۔مندی آنکھوں کھولے اس نے آس پاس کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کی تھی ۔۔بخار اسکا اتر چکا تھا اور اب وہ خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کررہی تھی۔۔”آپ اٹھ گئیں ؟ اب طبعیت کیسی ہے ؟”نرس اسکے روم میں آئی تو اسے جگا پایا۔۔”میں یہاں ۔۔۔ میرا مطلب مجھے یہاں کون لایا ہے؟””آپ کے ہسبنڈ لائے تھے کل آپ کو یہاں آپ بخار میں تپ رہی تھیں ۔”ہسبنڈ لفظ پر شہرے کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔۔”آپ فریش ہو جائیں ڈاکٹر آنے والے ہیں پھر چیک اپ کے بعد آپ کا ڈسچارج مل جائے گا” وہ نرس عادتاً کافی اچھی تھی شہرے کا دل کیا اسے مدد کے لئے کہے مگر وہ اپنی وجہ سے اس بیچاری نرس کی زندگی مشکل نہیں کرسکتی تھی جو شخص پاکستان سے اسے یہاں لا سکتا ہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا مشکل نہیں تھا۔۔گہرا سانس بھرتے وہ بیڈ سے اٹھ کر روم کے اندر بنے واشروم گئی تھی۔بخار اتر جانے کے باوجود اسے کمزوری ہو رہی تھی۔وہ فریش ہو کر باہر آئی سب کو آزادی سے گھومتے دیکھ اسے اپنی آزادی یاد آنے لگی تھیں۔ڈاکٹر آئیں اسکا چیک اپ کیا اور پھر اسے ضروری ہدایت دیتی وہ واپس چلے گئیں۔۔”چلیں ؟” مامون کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔بلیک جینس پر ہاف سلیوز شرٹ پہنے وہ اس وقت کافی فریش لگ رہا تھا۔ہاف سلیوز سے جھانکتے اسکے بازو۔۔ شہرے کے فوراً سے اپنی نگاہیں اس پر سے ہٹائی تھیں۔۔”اسٹیو میڈم کا سامان گاڑی میں رکھو” اپنے اسسٹنٹ کو کہتا وہ آگے بڑھا ۔شہرے کے دل میں خوف نے اپنا ڈیرہ جمایا تھا۔وہ شخص اتنا خاموش کیوں تھا وہ کچھ بول کیوں نہیں رہا تھا۔اسٹیو نے اسکے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔ اسکے بیٹھتے ہی مامون اسکے برابر میں آکر بیٹھا تھا۔۔پورا سفر خاموشی سے گزرا ۔گاڑی پورچ میں آکر رکی اس سے پہلے شہرے خود کو باہر نکلتی مامون گاڑی سے اترتا اسکی سائیڈ پر آیا تھا۔شہرے نے ناسمجھی سے اسے دیکھا جو گاڑی کا ڈور کھولے کھڑا تھا۔شہرے نے جھجھکتے باہر کی جانب بڑھنا چاہا جب بنا اسے کوئی بھی موقع دئیے مامون نے اسے بانہوں میں بھرا۔۔”چھو۔۔۔ چھوڑیں مجھے نیچے اتاریں” اسٹیو اور دوسرے ملازم کی موجودگی میں مامون کی اس حرکت پر شہرے کا کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔مامون نے دلچسپی سے اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھا تھا۔۔پیر کی ٹھوکر سے دروازہ کھول کر اندر آتے مامون نے اسے احتیاط سے بیڈ پر بیٹھایا اور خود اسکے پاس بیٹھا اسکے قریب بے حد قریب۔۔شہرے نے غیر محسوس طریقے سے اپنے اور مامون کے درمیان فاصلہ بنانا چاہا جب مامون نے کمر سے تھام اسے قریب کرتے اسکی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔۔شہرے کے کندھے پر پڑے بالوں کو پیچھے کرتے مامون نے اسکی گردن پر اپنی ناک مس کی۔۔”آئندہ کبھی ایسی حرکت مت کرنا ورنہ انجام بہت برا ہوگا لٹل گرل۔۔۔ اگر آئندہ تم نے ایسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی تو میں تمہاری زندگی جہنم کردوں گا ” اسکے بالوں کی خوشبو کو سانسو میں اتارتے وہ مزید شہرے کے قریب ہوا تھا کہ اب ان کے درمیان انچ بھر کا فاصلہ رہ گیا تھا۔۔”دور ہو مجھ سے مجھے نفرت ہے تم سے ڈیول” اسکے سینے پر ہاتھ مارتے شہرے اسکے حصار میں مچلی تھی ۔۔”تمہیں کیا لگتا ہے تم مجھے اس طرح مار کر کوئی نقصان پہنچا سکتی ہو؟”وہ جیسے اسکا مذاق اڑا رہا تھا شہرے کا نازک وجود اسکے توانا وجود کے آگے چھپ سا گیا تھا۔۔۔”میں تمہاری جان کے سکتی ہوں ڈیول” غصے سے کہتے شہرے نے اسکے بازو میں ناخن چبھوئے تھے وہ اپنے ناخنوں سے اسکے ہاتھ پر زخم کرگئی تھی۔مگر اس دیو پر تو زرا سا بھی اثر نہیں ہوا تھا البتہ اس نے گہری نظروں سے شہرے کو دیکھا جس کا خون اسکی نگاہوں کی تپش سے ہی خشک ہوا تھا۔۔۔”میں بتاؤں سامنے والے کو بے بس کرنا کسے کہتے ہیں” ؟سوال اور پھر اسکی آنکھوں کی سرد مہریشہرے کا سر بے ساختہ نفی میں ہلا تھا۔”نو لٹل گرل یو آر لیٹ” کہتے ساتھ شہرے کی گردن اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتا وہ اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے گیا ۔اسکے لبوں کو اپنی لبوں کی گرفت میں لیتے وہ اپنی گرفت سخت سے سخت کرتا جا رہا تھا۔۔شہرے کی سانسیں تھمنے لگی تھیں وہ ابھی اتنی مضبوط نہیں تھی کہ مقابل کی شدتیں برداشت کر پاتی۔۔اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑے دوسرا ہاتھ اسکے سینے پر رکھے وہ اپنی سانسوں کو رہائی دلانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی مگر مقابل اسکے لبوں کی نرماہٹ محسوس کرتا ہوش بھلا گیا تھا۔وہ مدہوش سا اسکے لبوں کا جام پینے میں مصروف تھا شہرے کی کمر پر دباؤ بڑھاتے وہ جیسے اسے اسی کے کہے لفظوں کی سزا دے رہا تھا ۔۔منتشر ہوتی سانسوں کے ساتھ وہ اسکی شرٹ کو دبوچے مسلسل اسکے سینے پر ہاتھ مارتے اپنی آزادی کے کئے کوشش کر رہی تھی اور پھر طویل لمحے بعد مامون نے اسکے لبوں کو آزادی دیتے نرمی سے اسکے نچلے لب کو اپنے لمس سے مہکاتا شہرے کے چہرے پر خون چھلکا گیا۔۔۔”اب پتا چلا بے بسی کسے کہتے ہیں ؟”آنکھ ونک کرتے کہتا وہ شہرے کو آگ لگا گیا۔۔۔بے دردی سے اپنے لب صاف کرتے اس نے غصے سر رخ پھیرا۔۔”میں ابھی افس جا رہا ہوں شام تک آجاؤں گا اپنا خیال رکھنا ہے اور دوا لینی ہے ۔۔۔ پھر میرے واپس آنے کے بعد ہم کہیں باہر چلیں گے” اسکے بال سنوارتے وہ عادت کے برخلاف کافی نرمی سے کہہ رہا تھا۔۔”میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی ڈیول۔۔۔ آئی ہیٹ یو جانے دو مجھے”وہ پوری طاقت لگا کر چیخی تھی۔مامون نے منہ بناتے اپنے دونوں ہاتھ کان پر رکھے۔۔”سنو نا ڈیول مجھے نہیں رہنا یہاں” اسے اٹھتے دیکھ وہ واپس سے چیخی تھی مگر وہ ان سنا کرتا سیٹی بجاتا کمرے سے باہر آگیا۔ملازمہ کو شہرے کا خیال رکھنے کا کہتا وہ وہاں سے نکلا تھا۔آج اسکی ایک بہت اہم میٹنگ تھی اس لئے اسے وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا۔۔گاڑی میں بیٹھتے اس نے ڈرائیور کو چلنے کا کہا اور خود باہر کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔___________
Dil Ishqam By FN Episode 10

