کمرے کی فضا اس وقت عجیب سی ہو رہی تھی صوفے پر بیٹھے ضوریز نے ایک طائرانہ نگاہ پورے کمرے پر ڈالی اور پھر سامنے بیٹھے افتخار ماموں کو دیکھا۔۔جو چہرے پر کرخت تاثرات لئے اسکے سامنے بیٹھے تھے ۔۔”بھائی صاحب ہم عمائم کا رشتہ لے کر آئے ہیں تو” اس سے پہلے شائستہ بیگم اپنی بات مکمل کرتیں افتخار ماموں نے ہاتھ اٹھاتے انہیں کچھ بھی بولنے سے روک دیا۔۔ضوریز نے ماتھے پر تیوری چڑھائے ان کا یہ انداز دیکھا۔۔”شاید عابدہ نے آپ کو بتایا نہیں عمائم کا رشتہ میرے بیٹے سے طے ہو چکا ہے اور اسی ہفتے ان دونوں کا نکاح ہے” رابعہ بیگم کی بات پر شائستہ بیگم نے پریشانی سے ضوریز کو دیکھا جو رابعہ بیگم کی بات پر سر ہلا گیا۔۔عابدہ بیگم نے پریشانی سے ان لوگوں کو دیکھا۔۔عمائم اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی کہ اسے راحیل سے شادی نہیں کرنی اور وہ جانتی تھیں وہ کبھی ہاں نہیں کرے گی۔۔اس لیے انہوں نے افتخار صاحب کے حوالے یہ فیصلہ کیا تھا۔۔”لیکن عمائم کے لئے راحیل سے بہتر ضوریز صاحب ہیں اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں عمائم کا رشتہ ضوریز صاحب سے کرنے کے لئے تیار ہوں” افتخار صاحب کی بات پر سب نے جھٹکے سے انہیں دیکھا تھا ہاں انہیں جھٹکا ہی تو لگا تھا صبح تک تو وہ راضی نہیں تھے اور اب اچانک ۔۔”یہ آپ کیا بول رہے ہیں؟””کیا آپ کو کم سنائی دیتا ہے ؟” رابعہ بیگم کو تبیہی نگاہوں سے دیکھتے انہوں نے عابدہ بیگم کو دیکھا کو شاکڈ تھیں۔۔ایسا کچھ تو ان کے بھائی نے نہیں کہا تھا۔۔شائستہ بیگم کو ان کے فیصلے سے خوشگوار سی حیرت ہوئی تھی۔۔”بہت شکریہ بھائی صاحب۔۔۔””ہمم۔۔۔ نکاح کی تاریخ ایک ہفتے بعد کی رکھ لیتے ہیں کیا خیال ہے”وہ اب نکاح کی تاریخ رکھ رہے تھے ان کے بدلے انداز وہاں سب کے لئے شاکڈ کا باعث بنے تھے سوائے ایک کے جو مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھا موبائل پر کسی کو شکریہ کا میسج بھیج رہا تھا۔۔۔_____________”آپ کو اچانک کیا ہوا صبح تک آپ اس رشتے کے خلاف تھے اب اچانک کیسے راضی ہوگئے ؟”رابعہ بیگم کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔”میں نے جو فیصلہ لیا ہے بالکل ٹھیک ہے””کیا مطلب ہے کیا کچھ ہوا آپ مجھے بتائیں نا””ابا ۔۔ شروع سے طے تھا عمائم سے میری شادی ہوگی ابا مجھے آپ کا فیصلہ نا منظور ہے”.راحیل کی بات پر افتخار صاحب نے ناگواری سے اسے دیکھا۔”صبح وکیل کی کال آئی تھی وہ سب ضائع ہوگئی ہے””کیا مطلب ؟” وہاں بیٹھے باقی دونوں نفوس کو ان کی بات پر جھٹکا لگا تھا۔۔”مجھے نہیں پتا بس اتنا سمجھو اب عمائم کے پاس ایک پھوٹی کوڑی نہیں ہے خالی ہے بالکل””ایسا کیسے ہوسکتا ہے اس باپ””ہاں اسکا باپ اسکے نام الگ سے کچھ جائداد کرکے مرا ہے مجھے بھی یہی لگا تھا مگر میں غلط تھا آج ہی وکیل سے بات ہوئی ہے میری “”پھر تو آپ نے بالکل ٹھیک کیا ہمارے راحیل کو لڑکیوں کی کمی ہے کیا ؟”انہوں نے بھی فوراً پلٹا کھایا تھا۔۔راحیل نے بے بسی سے اپنے ماں باپ کو دیکھا۔۔اب وہ چاہے کتنا بھی کچھ کرلیتا ان دونوں کو راضی کرنا ناممکن تھا۔افتخار صاحب کے باہر جاتے ہی وہ اٹھ کر رابعہ بیگم کے سامنے آکر بیٹھا۔”امی۔۔۔ میں کسی اور سے شادی نہیں کروں گا مجھے عمائم سے شادی کرنی ہے””دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا آخر ہے کیا اب اسکے پاس “”جو بھی ہے آپ بابا سے بات کریں میں سوائے اسکے کسی سے شادی نہیں کروں گی۔۔”اپنی بات کہتے وہ رکا نہیں تھا اسے جاتے دیکھ رابعہ بیگم نے سر جھٹکا۔۔جاری ہے
Dil Ishqam By FN Episode 15

