قسط_32″امی آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں ؟”عمائم ابھی ابھی کچن میں ساری تیاریاں چیک کر کے آئی تھی جب اسکی نگاہ شائستہ بیگم پر پڑی۔۔”ارے بیٹا بس جا رہی تھی فون آیا تھا وہی سننے آئی تھی مگر کوئی بولا ہی نہیں۔۔۔””اچھا آپ جلدی سے تیار ہو جائیں مہمانوں کے آنے سے پہلے آپ کو تیار ہونا ہے””میں تو ہوجاؤں گی تیار مگر برتھ ڈے بوائے کی مما کو بھی تو تیار ہونا چاہیے نا ” ان کی بات پر وہ مسکرا اٹھی۔۔آج زارون کی برتھ ڈے تھی پچھلے تین مہینے اسکے لئے کافی مشکل رہے تھے گھر کے ساتھ آفس مینج کرنا۔۔شائستہ بیگم چاہتی تھیں وہ کام سیکھے اپنا مگر وہ اپنی زمہ داریوں کو چھوڑ نہیں سکتی تھی وہ زارون کی ماں تھی اسکی ساری زمہ داری بنا کسی کے کہے ہی وہ اپنے ہاتھوں میں لے چکی تھی۔اس نے کم وقت میں کافی کچھ سیکھ لیا تھا اور اسکا کریڈٹ صرف اور صرف ضوریز کو جاتا تھا۔وہ اسکی شکر گزار تو تھی مگر ساتھ ہی وہ اسکی حرکتوں سے زچ ہوجایا کرتی تھی۔۔ضوریز کی بڑھتی قربتیں اسکے حواس جھنجھلا کر رکھ دیتی تھیں۔ان تین مہینوں میں وہ ضوریز کے کافی قریب آگئی تھی۔۔وہ شخص کب اسکے دل کی مسند پر براجمان ہوا اسے بالکل بھی احساس نہیں تھا مگر اب اس شخص کے بغیر گزارا ناممکن سا لگتا تھا۔ان دونوں کے بیچ بھلے ہی اظہار محبت نہیں ہوا تھا مگر وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے اپنی فیلنگز سے واقف تھے۔۔ساری تیاریوں کو ایک نظر دیکھ وہ اپنے کمرے میں آگئی سامنے ہی نیوی بلو کلر کی فراک رکھی تھی۔۔جلدی سے شاور لے کر وہ تیار ہونے لگے۔۔ڈریس کے حساب سے لائٹس سا میک اپ کئے اس نے سلور کلر کی جھمکیوں کو کانوں کی زینت بنایا تھا وہ آج زارون کی تیاری سے بے فکر تھی کیونکہ اسکا بابا اور کامران نے اسے تیار کرنے کی زمہ داری اپنے سر لے لی تھی۔۔اپنی تیاری کو آخری ٹچ دیتے وہ بالوں کو کرل کر رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا تھاعمائم نے یونہی گردن موڑ کر دیکھا جہاں ضوریز کھڑا مہبوت سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔اسکی نگاہوں کی تپش پر عمائم کو اپنی ہتھیلیاں بھیگتی محسوس ہوئی تھیں ۔۔”آپ لیٹ ہو جائیں گے جلدی سے تیار ہو جائیں” ماحول میں چھائی معنی خیز سی خاموشی کو توڑ کر کہتے وہ جلدی سے اپنے بال سیٹ کرنے لگی جبھی ضوریز آہستہ سے چلتا اسکے پیچھے آ رکا۔”یو لک یو پریٹی” اسکے گرد حصار باندھتے ضوریز نے اپنی ٹھوڑی عمائم کے کندھے پر ٹکائی۔۔۔”ضوریز پلیز میرا میک اپ خراب مت کیجئے گا” عمائم کے کہنے پر وہ ہنس پڑا اور پھر ضوریز نے اپنی پاکٹ سے کچھ نکالا تھا۔۔”آنکھیں بند کریں””نہیں “”عمائم آپ بند کر رہی ہیں آنکھیں یا میں اپنے طریقے سے کرواؤں ؟” ضوریز کی دھمکی پر عمائم نے فوراً سے آنکھیں بند کیں اس انسان کا کوئی بھروسہ نہیں تھا اسکا اچھا خاصا میک اپ خراب کر دیتا۔۔کچھ لمحے بعد اسے اپنی گردن پر ضوریز کی انگلیوں کے لمس کے ساتھ کچھ سرکتا محسوس ہوا تھا۔”اب کھولیں آنکھیں” ضوریز کے کہتے ہی عمائم نے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا جہاں اسکی گردن میں جگمگاتا موتی چمک رہا تھا۔”ضوریز””میں نے منہ دیکھائی پہلے ہی دے دی تاکہ آگے ہمارا وقت ضائع نا ہو” آنکھ ونک کر کے کہتا وہ عمائم کو شرم سے لال کر گیا۔۔۔اسکی بات کے پیچھے چھپے مطلب کو وہ اچھے سے سمجھ گئی تھی۔اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ضوریز نے اسکا رخ اپنی جانب کر اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپایا تھا۔۔”ضوریز پلیز سب آنے والے ہیں””جانتا ہوں بس تھوڑی دیر”یونہی اسے حصار میں لئے وہ خاموشی سے کھڑا تھا”ضوریز””ریچارج ہونے دیں تھک گیا ہوں بہت”اسکے بالوں سے اٹھتی دلفریب خوشبو ضوریز کے جذبوں میں طغیانی لانے کا سبب بنی تھی اس سے پہلے وہ کوئی گستاخی کرتا کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا تھا۔۔”مما۔۔۔۔” زارون کی آواز پر عمائم نے فوراً سے اپنے قدم پیچھے لئے وہیں ضوریز نے گھور کر اپنے دشمن کو دیکھا تھا۔۔”ماشاءاللہ مائے پرنس” زارون کو بلیک پینٹ کوٹ میں دیکھ عمائم نے فوراً سے دعا پڑھتے اس پر دم کیا تھا۔”ایسا دم ہم پر بھی کردیں ” ضوریز کے کہنے پر وہ ایک دم ہنس دی ۔”آپ پہلے تیار ہو کر آئیں جلدی سے” زارون کو بیڈ پر بیٹھاتے وہ ضوریز کو کپڑے دیتے زبردستی واشروم کی جانب دھکیل گئی۔”مما میں اچھا لگ رہا ہوں نا؟””یس بالکل ہیرو جیسے” اسکے کان کے پیچھے کاجل کا ٹیکا لگائے وہ محبت سے اسے دیکھنے لگی تبھی واشروم کا دروازہ کھلا تھا اور ضوریز صاحب باہر آئے تھے جلدی سے تیار ہوتے عمائم نے ان تینوں کو ایک ساتھ آئینے میں دیکھا۔”میری تعریف نہیں کرینگی بیگم؟؟””کروں گی نا سکون سے ابھی چلیں مہمان آگئے ہیں”وہ جانتی تھی تعریف کرنے کا مطلب ضوریز کو بے لگام چھوڑ دینا فلحال وہ اسکے قریب جانے کا رسک نہیں لے سکتی تھی عمائم کی چالاکی سمجھتے ضوریز نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔”آنا میرے پاس ہی ہے آج بخشش بھی نہیں ہوگی” اسکی بات پر عمائم شرم سے گلنار ہوتے زراون کو ہاتھ تھامے کمرے سے نکلی تو ضوریز نے بھی ان کے پیچھے ہی اپنے قدم بڑھائے تھے۔۔لان کو خوبصورت طریقوں سے سجایا گیا تھا جب شائستہ بیگم کی نظر ان تینوں کی جانب اٹھی ۔وہ تینوں ساتھ اتنے مکمل لگ رہے تھے کہ کچھ لوگوں نے تو پلٹ کر انہیں دیکھا تھا۔شائستہ بیگم نے جلدی سے دعا پڑھ کر ان تینوں پر دم کیا تھا۔۔”اللہ ہر بری بلا سے بچائے” انہوں نے صدق دل سے دعا کی تھی۔۔مگر کون جانے یہ دعا قبول ہوئی بھی تھی کہ نہیں۔۔۔۔______________
Dil Ishqam By FN Episode 32

