قسط_33ہوش کی دنیا میں آتے ہی اسے اپنے اردگرد عجیب سی آوازیں سنائی دی تھیں کسی عورت کی پھر کسی مرد کی۔۔بمشکل آنکھیں کھولے اس نے آس پاس کے ماحول سے مانوس ہونا چاہا جب نگاہیں سیدھا خود پر جھکی اس سفید لباس اور سیاہ دوپٹے والی عورت سے ٹکرائیں جس کے ہاتھ میں سوئی تھی جو کچھ دیر بعد اسے اپنی نبض میں چبھتیمحسوس ہوئی تھی۔”اہ۔۔۔” زرا سی تکلیف بھی اسے زیادہ لگی تھی۔۔”انہیں ہوش آگیا ہے ” ڈاکٹر کی آواز پر ایک طرف کھڑی پلوشہ خان اس کی جانب بڑھیں۔انجان چہرے انجان جگہ ۔۔نورے ایک دم سے خوفزدہ ہوئی تھی ۔۔”میں کہاں ؟””بچے وہ خان حویلی میں ہو ڈرو مت” پلوشہ بیگم کی نرم آواز پر وہ ان کا چہرہ دیکھنے لگی ایک نرمی سی تھی جو ان کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔۔”ڈاکٹر یہ اب کیسی ہیں؟””دیکھیں بس تھوڑی کمزوری ہے ایسی حالت میں ہوجاتا ہے ایسا”ڈاکٹر کی بات پر وہ الجھ کر انہیں دیکھنے لگی۔۔”ایسی حالت مطلب ؟’اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرتے وہ ہلکان ہوئی تو پلوشہ خان نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بٹھایا۔”آپ ماں بننے والی ہیں کیا آپ کو اس بات کا علم نہیں؟””ہاں ؟” ایک جھٹکا تھا کو اسے لگا تھا ہونق بنی ڈاکٹر کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔”جی آپ ون منتھ پریگننٹ ہیں” ڈاکٹر کی بات پر اسکے کان سائیں سائیں کر رہے تھے بے یقینی سی بے یقینی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ خوش ہو یا اداس ہو ۔۔۔”آپ ان کا خیال رکھئے گا اس ڈرپ کو ختم ہونے میں ایک گھنٹہ لگے گا ایک گھنٹے بعد نرس آکر اسے ہٹا دے گی”اسکی سوچوں تو انجان ڈاکٹر پلوشہ خان سے کہتے سن کے ہمراہ باہر بڑھ گئی جبکہ اسکا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔۔۔گھڑی رات نو بجا رہی تھی وہ دوپہر سے حویلی سے نکلی تھی۔۔”یا اللّٰہ حویلی میں کسی کو پتا چلا تو میں کیا کروں گی” ایکدم ہی خوف چہرے پر سمٹ آیا تھا۔”مجھے جانا ہوگا”،”ارے نورے یہ کیا کر رہی ہیں بیٹا” اسے ڈرپ نکالتے دیکھتے پلوشہ خان نے فوراً سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔”مجھے واپس حویلی جانا ہے آنٹی””بچے رات بہت ہوگئی ہے حویلی میں فلحال کوئی نہیں جو آپ کو چھوڑ کر آ سکے اس لئے آپ یہاں سکون سے رہو””نہیں میں یہاں نہیں رہ سکتی میں ۔۔۔ حویلی ” وہ بری طرح گھبرا رہی تھی۔”میری جان آپ تھوڑا صبر کریں ابھی تھوڑی دیر میں خان آپ کے بابا کو یہاں لا رہے ہیں کیا آپ اپنے بابا سے نہیں ملنا چاہیں گیں ؟”اپنے بابا کے لفظ پر چونکتے وہ پلوشہ خان کا چہرہ دیکھنے لگی ۔۔”میرے بابا؟””ہاں آپ کے بابا خان میرا مطلب میرے شوہر انہیں لینے گئے ہیں””دادو ۔۔۔ یہ کون ہیں ؟”اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی کمرے کی اوٹ سے ایک چہرہ اندر جھانکتا نظر آیا تھا وہ سبز آنکھوں والا خوبصورت سا بچہ۔۔۔”ارے ولی سکندر آجائیں بچے”اجازت ملتے ہی وہ اپنی دادی کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا جس کی عمر شاید نو یا دس سال تھی۔۔۔۔”دادی یہ کون ہیں؟””شہزادے یہ یہاں مہمان ہیں “”اسلام وعلیکم مہمان ” اسکا سلام کرنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ نور اتنی ٹینشن میں بھی مسکرا اٹھی۔۔”وعلیکم السلام پیارے شہزادے””دادو ڈاکٹر آنٹی بول رہی تھی نا ان کے بے بی ہے کہاں ہے بے بی میں بے بی دیکھنے آیا ہوں” ولی سکندر کی بات پر نورے کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا وہیں پلوشہ خان بےاختیار ہنس دیں۔۔۔”ابھی بے بی نہین آیا ہے جب آئے گا تب آپ ملنا اس سے ابھی آپ دیکھو آغا جان کہاں ہیں؟”ان کی بات پر سر ہلاتے وہ فوراً سے وہاں سے باہر نکلا تھا جبکہ اسکے جانے کے کچھ لمحے بعد ہی سبطین خان اور انیس یزدانی کے آنے کی خبر ملی تھی۔۔ناجانے کتنے سالوں بعد وہ اپنے باپ سے ملنے والی تھی دل عجیب خالی سا تھا کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا۔۔۔”مجھے ان سے نہیں ملنا” دھڑکتے دل کے ساتھ کہتے وہ پلوشہ خان کو چونکا گئی۔۔”اتنے سال تڑپے ہیں وہ نورے آپ کی ایک جھلک کے لئے کیا اتنا بھی انکا حق نہیں کہ وہ آپ کو دیکھ سکیں،؟””انہوں نے مجھے خود سے دور کردیا تھا ۔۔””انہوں نے نہیں کیا تھا وہ بے قصور ہیں نورے ایک بار بس ایک بار اپنے بابا کو موقع تو دیں”وہ اس سے درخواست کر رہی تھی نورے کا سر آہستہ سے اثبات میں ہلا تھا۔۔۔__________وہ پچھلے پانچ گھنٹوں سے نورے کو پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا مگر اسکا کوئی پتا نہیں تھا۔ تھک کر وہ حویلی آیا تھا جہاں سب لاؤنج میں ہی موجود تھے۔،”دیکھ جازب تجھے میری بات بری لگتی ہے مگر مجھے یہی لگتا ہے وہ لڑکی اپنی مرضی سے یہاں سے گئی ہے ویسے بھی تو وہ اس حویلی سے جانا چاہتی تھی جان چھڑانا چاہتی تھی” اسکے پاس بیٹھتے کشور بیگم نے کہا وہ کہاں باز آنے والی تھیں اپنی فطرت سے۔۔۔”پھپھو پلیز””دیکھ جاذب تیرے پلیز کہنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی مجھے تو لگتا ہے وہ ضروراپنے باپ سے ملنے گئی ہوگی کیونکہ کل انیس یزدانی کو حویلی کے آس پاس دیکھا گیا تھا۔۔ان کی بات پر جازب بری طرح چونکا۔”ایسا کچھ نہیں وہ کبھی میرے خلاف جا کر ان سے نہیں ملے گی مجھے بتائے بغیر تو بالکل بھی نہیں”اسکا دل کہہ رہا تھا وہ اسے دھوکہ نہیں دے گی اسے ملنا بھی تھا تو وہ جاذب شاہ کو بتائے گی ضرور وہ پیٹھ پیچھے کام کرنے والوں میں سے نہیں تھی ۔”چل ٹھیک یے اگر وہ ایسی نہیں ہوئی تو میں اسی وقت یہ حویلی چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور اگر وہ واقعی اپنے باپ سے ملی تو” انہوں نے دانستہ اپنی بات ادھوری چھوڑی۔۔”تو ؟””تو تجھے ردابہ سے شادی کرنی ہوگی اس لڑکی کو بتانا ہوگا کہ دھوکہ دینے والوں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے،”ان کی شرط عجیب تھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا خاموشی سے وہاں سے اٹھ گیا جبکہ اسکے جاتے ہی کشور بیگم مسکرائی تھیں ۔۔۔”سائیں سائیں ؟” وہ جو باہر نکلا تھا جلال کو تیزی سے اپنی جانب آتے دیکھ چونکا”کیا ہوا جلال؟””نورے بی بی کا پتا چل گیا ہے””کہاں ہے وہ ٹھیک تو ہے نا؟” اسکا روم روم کان بن گیا تھا اس لڑکی نے چند گھنٹوں میں جاذب شاہ کی جان نکال دی تھی اسے احساس دلایا تھا کہ نفرت تو اسکے لئے کہیں تھی نہیں اگر کوئی جذبہ تھا تو صرف اور صرف محبت کا۔۔اسکا دل دعا کر رہا تھا کہ وہ ٹھیک ہو۔۔”خان حویلی میں ہیں۔۔۔ سبطین خان اور انیس یزدانی کے ساتھ” جلال کی اگلی بات پر اسکے سر پر پہاڑ گرا تھا۔۔بے یقینی سے وہ جلال کا چہرہ دیکھنے لگا۔تو کیا اسکی محبت کی مدت اتنی تھی اسے دھوکہ ملنا تھا؟؟؟______________
Dil Ishqam By FN Episode 33

