قسط_34اس کی نگاہیں سامنے دروازے پر ٹکی تھیں جہاں موجود شخص نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔اسے تو ان کا چہرہ بھی یاد نہیں تھا ٹھیک سے ۔۔”نور میری بچی” فرطِ جذبات سے ان کی آنکھیں نم ہوئی تھی آہستہ سے چلتے وہ اسکے پاس آ بیٹھے ۔۔”میری پیاری بیٹی”اس کے سر پر ہاتھ رکھتے وہ رو دئیے تھے اور اتنے سالوں بعد باپ کا ہاتھ اپنے سر پر محسوس کر اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں ہوا تھا۔۔۔وہ بے اختیار اپنے بابا کے سینے سے لگی تھی۔۔۔”میں بہت تڑپا ہوں بہت ڈھونڈا میں نے ۔۔۔۔ میں آنا چاہتا تھا ملنا چاہتا تھا مجھے معاف کردو میری بچی” وہ اس سے معافی مانگ رہے تھے مگر نورے کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا اسکا دل پھٹ رہا تھا اپنے باپ کا لمس محسوس کر وہ روئے جا رہی تھی اور ان دونوں کو دیکھ پلوشہ خان کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھیں۔۔ان دونوں کو پرائیویسی دینے کی خاطر وہ کمرے سے خاموشی سے نکل گئیں۔”اپنے بابا کو معاف کردو میری وجہ سے میری غلطی کی وجہ سے ان لوگوں نے تمہیں مجھ سے چھین لیا۔۔۔””بابا آپ معافی مت مانگیں”ان کے جڑے ہاتھ دیکھ وہ تڑپی۔۔۔”میری غلطی ہے سب میں نے غلط کیا تھا لیکن میں نے جان کر اسے نہیں مارا تھا سب غلطی سے ہوا تھا۔۔۔””بابا کیا آپ مجھے سب سچ بتائیں گے؟ مجھے جتنا سچ پتا ہے وہ آدھا ادھورا ہے “اس کی بات پر انیس یزدانی نے اسے دیکھا اور پھر گہرا سانس بھرتے انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔اب وقت آگیا تھا کندھوں پر پڑے اس بوجھ کو اتارنے کا۔۔۔انہوں نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسے سب بتاتے چلے گئے۔۔۔۔جسے سن نورے کا پورا وجود تھما تھا وہ بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔۔۔”کہیں نا کہیں ہم سب تم لوگوں کے گناہگار ہیں مجھے معاف کردو نورے””بابا اتنا بڑا سچ ؟ آپ کیسے سب سے چھپا سکتے ہیں آپ جانتے ہیں نا اگر کسی کو پتا چلا تو کیا قیامت آ سکتی ہے؟”اسے شاکڈ لگا تھا اتنا بڑا سچ سب سے چھپا ہوا تھا۔۔۔”میں نے یہ سب جان کر نہیں کیا تھا میں بس مداوا کرنا چاہتا تھا۔۔۔”ایسے کیا آپ نے مداوا آپ جانتے ہیں اس معصوم بچی نے کتنی تکلیفیں برداشت کی ہیں اپنی ماں باپ دونوں کی محبت کو ترسی ہے؟” اسے سمجھ نہیں آرہا تھا جیسے اپنے جذبات کو لفظوں کا روپ دے۔۔یہ ایسا سچ تھا جس نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔”آپ نے یہ بہت غلط کیا بابا آپ کا ایک فیصلہ دو دو لوگوں کو برباد کرگیا۔۔۔”آپ جانتے بھی ہیں اس لڑکی کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ ساری زندگی وہ محبت کے لئے ترسی تھی مجھے پہلے سمجھ نہیں آتا تھا مگر اب ہر وجہ سمجھ میں آ رہی ہے”اسکی بات پر انیس یزدانی کا سر شرم سے جھکا تھا ۔۔”آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا بابا میں آپ کی بیٹی ہوں میں آپ کو معاف کر سکتی ہوں مگر ۔۔۔” وہ رکی تھی۔”آپ جانتے ہیں یہ سچ کتنے لوگوں کی زندگی میں طوفان لے آئے گا؟””ہممم۔۔۔” ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔”مجھے واپس حویلی جانا ہے ” انہیں کہتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔”میں چھوڑ دیتا ہوں” وہ فوراً سے اٹھے تھے جب وہ چادر اوڑھے باہر نکلی پلوشہ خان اور ولی سکندر سے ملنے کے بعد وہ خان حویلی سے اپنے باپ کے ہمراہ باہر نکلی ہی تھی جب اچانک ان کے سامنے ایک گاڑی جھٹکے سے آکر رکی اور پھر اس گاڑی سے نکلتا جاذب شاہ نور ہے اوسان خطا کر گیا۔۔۔۔”جاذب””گاڑی میں بیٹھیں نورے یزدانی”وہ جو اسکی طرف سے ڈانٹ کی منتظر تھی اسکے ان پانچ لفظوں کے جملے پر چونکی۔۔۔”جاذب میری بات سنو””نورے کیا آپ کو میری آواز سنائی نہیں دی بیٹھیں گاڑی میں”وہ اتنا تیز بولا تھا کہ نورے فوراً سے انیس یزدانی کا ہاتھ چھوڑتے گاڑی کی جانب بڑھی تھی ۔”تم میری بیٹی سے ایسے بات نہیں کر سکتے جاذب””آپ مجھے مت سیکھائیں کہ مجھے میری بیوی سے کیسے بات کرنی ہے اور کیسے نہیں۔۔””دیکھو جاذب میں جانتا ہوں جو ہوا غلط تھا مگر”,”مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی آئندہ میری بیوی سے دور رہیئے گا”اسکی بات پر نور کے ماتھے پر بل پڑے تھے آخر وہ ہوتا کون تھا اسکے بابا سے ایسے بات کرنے والا اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی جاذب وہاں سے ہٹتا گاڑی میں آکر بیٹھا تھا اسکے جبڑے بھینچے ہوئے تھے ہاتھ کی نسیں نمایاں تھی۔لمحے کو نور کو اسکی خاموشی سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔گاڑی حویلی کے احاطے میں ایک جھٹکے سے رکی تھی۔گاڑی سے اتر کر اسکی جانب آتا وہ اسکا بازو دبوچے اسے تقریباً گھیسٹتے اندر کی طرف بڑھا۔”جاذب میرا ہاتھ چھوڑو مجھے درد ہو ہو رہا ہے” اپنا ہاتھ چھڑانے کی خاطر اس نے مزاحمت کی تھی مگر وہ بنا اسکی سنتا اسے لئے سیدھا کمرے میں لایا اور ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑا تھا۔نورے نے بےاختیار دیوار کا سہارا لیا نا لیتی تو بری طرح زمین پر کرتی اسکا دل خوف سے سمٹا تھا اگر وہ گر جاتی تو اس کے بے بی”اس سے آگے اس سے سوچا ہی نہیں گیا۔۔”کیوں گئی تھیں اپنے باپ سے ملنے ہاں ۔۔۔ اگر میں نے تمہیں آزادی دی تو کیوں دھوکہ دیا مجھے نورے؟”وہ چیخا تھا۔۔”میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا آئی سمجھ اور کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے ہمت کیسے ہوئی مجھے دھکا دینے کی میں گر سکتی تھی نا؟” وہ اس سے ڈبل آواز میں دھاڑی تھی ۔”تو گر جاتی مجھے فرق نہیں پڑتا کسی بات سے”جاذب کی بات پر اسکا دل ٹوٹا تھا چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس نے دو قدم پیچھے لئے۔”جانتی ہوں تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ تمہارے لئے میں ایک خون بہا میں آئی لڑکی ہوں جو مرے یا جئے تمہیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا وہ اس کمرے میں گھٹ کر مر جائے تب بھی تمہیں فرق نہیں پڑنا تھا میں بیوقوف تھی جو تم جیسے انسان سے اچھے کی امید رکھ رہی تھی۔وہ رو رہی تھی طبعیت کا بوجھل پن اور اوپر سے جاذب کی باتیں اسکا رویہ۔۔۔”ہاں ٹھیک کہا تم نے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے میں ردابہ سے شادی کر رہا ہوں بہت جلد تم اپنی اصل جگہ پر ہونگی اور میری بیوی اس کمرے میں”اسکی بات کسی تیز دھار آلے کی طرح اسکا دل چیر گئی تھی۔وہ یک ٹک اسکا چہرہ دیکھنے لگی وہ جو اپنی بات کہہ چکا تھا اسے یوں خود کو دیکھنے پر الجھا تھا جو عجیب خالی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔”انتظار کروں گی تمہاری شادی کا ” بہت دیر بعد وہ بولی بھی تو کیا ۔۔اس سے پہلے جازب کچھ کہتا وہ اسکی آنکھوں سے اوجھل ہوتے واشروم میں بند ہوئی تھی۔۔۔جبکہ اسکے یوں جانے پر غصے سے مٹھیاں بھینچتے اس نے اپنا ہاتھ دیوار پر مارا تھا۔۔۔۔______________”زارون اٹھو اور اپنے روم میں جاؤ” ضوریز نے کوئی تیسری بار اسے پکارا تھا۔عمائم نے بمشکل اپنی ہنسی چھپائے ان دونوں باپ بیٹے کو دیکھا۔زارون صاحب صبح ان کے کمرے میں آگئے تھے اور اب سو بھی چکے تھے۔۔”ضوریز سونے دیں نا””ہونہہ”اسکے ہونہہ کہنے پر عمائم ہنس پڑی۔۔”اچھا اب بس کریں نا اٹھیں آفس بھی جانا ہے” اسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کندھے پر سر رکھتے وہ لاڈ سے کہتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔”ایک کس پلیز” اپنا گال آگے کر اس نے اشارہ کیا جس پر عمائم نے اسے گھور کر دیکھا۔۔”آپ کچھ زیادہ ہی بدتمیز ہوگئے ہیں اٹھیں اب””عمائم” اسکی ضد پر عمائم نے آہستہ سے اسکے گال پر لب رکھے۔۔”صرف یہ””ضوریز” اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ضوریز اسکے چہرے پر جھکتے اسکی بولتی بند کرگیا ۔۔اس سے پہلے وہ مزید گستاخیاں کرتا ضوریز کے فون بجنے پر وہ بدمزہ ہوتا اسے خود سے آزادی دے گیا۔۔۔عمائم نے گھور کر اسے دیکھا اور فوراً سے اس سے دور ہوتی ڈریسنگ روم میں بند ہوئی تھی اسے جاتے دیکھ وہ مسکراتا کال ریسیو کرتے فون کان سے لگا گیا۔۔۔”میں آرہا ہوں”دوسری جانب سے بات سنتے وہ فوراً سے بیڈ سے اٹھتے اپنے کپڑے لیتا واشروم میں بند ہوا تھا۔۔۔عمائم باہر آئی تو وہ تیار ہو رہا تھا۔۔”کہاں جا رہے ہیں ضوریز ؟””ایک ضروری کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں جلدی واپس آجاؤں گا میں نے کامران کو بول دیا ہے آج ایک میٹنگ ہے عمائم وہ میٹنگ آپ کامران کے ساتھ اٹینڈ کریں گی” اسے کہتے عمائم کے ماتھے پر پیار کرتے وہ عجلت میں وہاں سے نکلا تھا۔عمائم کو اسکا یوں جلدی جلدی بنا ناشتے کے جانا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا مگر ضرور کوئی اہم کام تھا جس کی وجہ سے وہ یوں نکلا تھا۔۔اسکے جانے کے بعد اپنے کچھ ضروری کام نبٹاتے وہ خود بھی افس کے لئے نکلی تھی۔۔۔_____________
Dil Ishqam By FN Episode 34

