Uncategorized

Dil Ishqam by FN Episode 4

اس نے سر اٹھا کر اس بڑی سی بلڈنگ کو دیکھا۔۔
اس جگہ کام کرنے کی خواہش اسے یہاں لے کر آئی تھی۔۔
“ریلکس عمائم۔۔۔ ریلکس” گہرا سانس بھر کر خود کو ریلکس کرتے اس نے سر پر جما دوپٹہ ایک بار پھر ٹھیک کیا اور خود اندر داخل ہوئی۔۔
شاہ انٹر پرائز اینڈ کمپنی بورڈ پر نظر پڑتے ہی وہ مسکرائی۔۔
ریسپششن پر بیٹھی لڑکی سے بات کر وہ تھرڈ فلور پر آگئی جہاں کچھ دیر بعد اسکا انٹرویو کیا جانا تھا۔۔
اسکے علاؤہ بھی اور لوگ وہاں موجود تھے۔۔
ہچکچاتے وہ اپنی جگہ پر جا بیٹھی۔۔
اسکے پاس تعلیم تھی وہ قابل تھی نہیں تھا تو بس تجربہ۔۔
وہاں بیٹھے لوگوں کے تجربات معلوم کر اسے اپنا یہاں بیٹھنا فضول لگا تھا اس سے پہلے وہ یہاں سے اٹھ کر جانے کا ارادہ کرتی اپنی نام کی پکار پر اس نے چونک کر اس لڑکی کو دیکھا۔
“مس عمائم انٹرویو کے لئے آجائیں۔۔”
“یا اللّٰہ”
دل میں دعاؤں کا ورد کرتے وہ اس شاندار شیشوں سے بنی لابی سے گزرتے آفس کے سامنے آکر رکی جس کے اوپر نیم پلیٹ پر بڑا بڑا یہاں کے سی ای او کا نام درج تھا
“حاکم ضوریز شاہ”اتنا رعب دار نام پڑھتے ہی وہ ابھی خاصی مرعوب ہوگئی تھی۔۔
ڈور ناک کرتے اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔
“کم ان” گھمبیر بھاری مردانہ آواز۔
خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیرتے وہ بنا سامنے دیکھے اندر آئی۔
سیٹ کر بیٹھے شخص نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“بیٹھیں”
اجازت ملتے ہی وہ اسکے سامنے بیٹھی اور اپنی فائل اسکی جانب بڑھائی۔
“آپ کا انٹرویو کینسل ہوگیا تھا ؟” وہ بہت فارملی اس سے پوچھ رہا تھا جو سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے ایک بار بھی سامنے بیٹھے شخص کی جانب دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
“یس۔۔ سوری ٹو سے سر مگر آپ کی ٹیم کو چاہیے ٹائم پر انفارم کردیں تاکہ دوسرا انسان پریشان نا ہو ۔۔ آپ کو شاید اندازہ نہیں جس ملک میں کیسے کیسے ٹھرکی لوگ ہیں جو اکیلے لڑکی اور خراب حالات کا فائدہ اٹھاتے” تیز تیز کہتے اس نے نگاہیں اٹھائے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا اسکی چلتی زبان کو بریک لگے تھے۔۔
مقابل بڑی فرصت سے ٹھوڑی تلے ہاتھ جمائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“کہیں چپ کیوں ہوگئیں ؟”
“نہیں وہ۔۔۔” بری طرح گھبراتے وہ ہکلائی۔۔
“کون ٹھرکی آپ کو تنگ کر رہا تھا اس دن؟ آپ نے بتایا نہیں ؟” عمائم کو گہری نظروں سے دیکھ کر کہتا وہ اسے ٹھیک ٹھاک شرمندہ کر گیا تھا ۔۔۔
“آئی ایم سوری” وہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
“کس بات کے لئے مجھے ٹھرکی کہنے کے لئے یا غلطی سے یہاں آنے کے لئے؟”
“دیکھیں میرا وہ مطلب نہیں تھا آپ مجھے اس گھر میں لے گئے تو۔۔۔’
“تو آپ مجھے ٹھرکی سمجھ بیٹھیں ایسا کیا کیا تھا میں نے آپ کے ساتھ؟”
اسکی نگاہیں اور بات۔۔ عمائم زمین کے اندر دھنس گئی۔۔ نوکری ہاتھوں سے جاتی نظر آئی تھی۔۔

“کچھ نہیں “
“کچھ نا کرکے میں ٹھرکی ؟ کچھ کرتا تو؟”
زرا سے آگے ہوئے ضوریز نے باقاعدہ اسکی آنکھوں میں جھانکا تھا اسکی نگاہوں کے تصادم پر عمائم کو اپنی ریڈھ کی ہڈی میں سرد لہر سی محسوس ہوئی۔۔
ان کے گرد عجیب سا سرد دائرہ بن گیا تھا۔۔
اسکا سر شرمندگی سے جھک گیا۔۔
“آپ جا سکتی ہیں”
سختی سے کہتا وہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوگیا جس کا مطلب تھا آپ یہاں سے دفع ہو جائیں۔۔۔
شرمندگی سے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں ٹھیک کہتی تھی امی زبان کو قابو کرنا لازمی ہوتا ہے۔۔
اپنی فائل اٹھائے وہ مرے قدموں سے آفس سے نکلی تھی۔۔۔۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on