Uncategorized

Dil Ishqam by FN Episode 5

“اسلام وعلیکم امی” گھر میں داخل ہوتے اس نے چادر اتار کر ہاتھ پر رکھتے صحن میں بیٹھیں عابدہ بیگم کو سلام کیا۔۔
“وعلیکم السلام کیسا رہا انٹرویو ؟”
سامان سمیٹ کر اٹھتے ساتھ انہوں نے اس سے سوال بھی کیا۔۔۔
“میری شکل سے آپ کو کیا لگ رہا ہے؟” صوفے پر بیٹھتے اس نے عابدہ بیگم کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیا۔۔
“کیوں خود کو تھکا رہی ہو عمائم۔۔ تمہارے ماموں ممانی ناراض ہو رہے تھے کہ کیا ضرورت ہے تمہیں اتنی خواری اٹھانے کی جب وہ کفالت کر رہے ہیں” ان کی بات پر اس کے ماتھے پر بل پڑے ۔
“امی وہ کفالت تو کر رہے ہیں مگر مفت میں نہیں۔۔۔ آپ سے سارے کام لیتے ہیں اور مجھ سے اپنے اپنی بچی اور پوتی کو مفت کی ٹیوشنز دلاتی ہیں کہیں باہر جائیں گی تو پانچ ہزار تو لازمی بنیں گے”
گلاس ٹیبل پر رکھتے وہ سچ بولنے سے باز نہیں آئی تھی عابدہ بیگم نے گھور کر اسے دیکھا ۔
“اس سے زیادہ کیا ہے انہوں نے ہمارے لئے “
“ہاں کیا ہے نا آپ کو ممانی جان اپنے کپڑے دیتی تھیں اور مجھے اپنی بہو تو کبھی بیٹی کے۔۔ آپ کو یاد ہے آخری بار انہوں نے اپنے پیسوں سے کب نیا سوٹ دیا تھا آپ کو”؟
اپنی ماں کو ان کی حمایت میں بولتا دیکھ اسکے ماتھے پر بل پڑے ۔۔
“خدا کا خوف کرو عمائم بھابھی بالکل نئے جوڑے دیتی ہیں بس ایک یا دو بار ہی پہنے ہوتے ہیں انہوں نے اور اب بس فضول ہی بحث بند کرو”
اسے کچھ کہنے کو منہ کھولتا دیکھ وہ اسے فوراً سے ٹوک گئیں۔۔ جس پر اس نے منہ بنایا۔۔
“شام اپنے ماموں کے پاس ہو آنا یاد کر رہے تھے تمہیں”
“ان سے میں رات میں مل لوں گی شام میں کہیں اور بھی جانا ہے مجھے “
“کیا مطلب کہاں جانا ہے؟”
“جب تک اچھی نوکری نہیں ملتی تب تک ہوم ٹیوشنز لوں گی اور آپ پلیز اب کچھ اعتراض مت کیجئے گا ” انہیں کہتے ساتھ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔۔
اسکی دوست نے اسے ایک ہوم ٹیوٹشن کا بتایا تھا اور آج اسے اسی سلسلے میں اس جگہ جانا تھا۔
اس نے کمرے میں آتے ہی اپنی اور عابدہ بیگم کی مشترکہ الماری کھولی۔۔ پچھلی عید اس نے ٹیوشن کی فیس سے اپنے اور عابدہ بیگم کے لئے سوٹ بنایا تھا اپنی کمائی سے حاصل ہوئی چیز کو دیکھ ایک سکون سا اسکے دل میں اترا تھا۔
سوٹ نکال کر بیڈ پر رکھتے وہ سدرہ کو کال کرنے لگی۔
“ہیلو سدرہ؟”
“ہاں عمائم؟ تم آ رہی ہو نا شام میں ؟” جو بات وہ خود کرنا چاہ رہی تھی سدرہ نے خود ہی کر دی۔۔
“ہاں ہاں میں پانچ بجے تک آجاؤں گی”
“ٹھیک ہے ایک کام کرنا سیدھا اپیا کے گھر جانا وہ تمہیں اپنے ساتھ وہاں لے جائیں گی اچھے لوگ ہیں بہت میرے بہنوئی کی فیملی میں سے ہیں مجھے پورا یقین ہے تمہیں وہاں اچھا لگے گا “
“اچھا نا بھی لگے سدرہ مجھے بس جاب چاہیے پیسے کمانے ہیں “
“سب ہو جائے گا میری جان ڈونٹ وری۔۔ کچھ بھی پرابلم ہو فوراً کال کرنا ٹھیک ہے ؟”
سدرہ اسکی کالج فرینڈ تھی ان دونوں نے کالج سے یونیورسٹی تک کا سفر ایک ساتھ طے کیا تھا سدرہ نے ریگولر اور اس نے پرائیویٹ ۔۔۔
مختصر سی بات کے بعد وہ کال بند کرچکی تھی اب اسے شام کی تیاری کرنی تھی۔۔


“شہرے۔۔ میری جان تم ٹھیک ہو نا؟” نور فکر مند سی اسکے سرہانے بیٹھی تھی جس کا پورا وجود اس وقت بخار کی شدت سے جل رہا تھا۔
مندی آنکھیں کھول اس نے خود پر جھکی پریشان سی نور کو دیکھا۔۔
“میں ٹھیک ہوں” بمشکل اٹھتے اسکے ہاتھ کپکائے۔۔
“لیٹی رہو۔۔ آرام کرو”
“تم کالج نہیں گئیں؟”
“آج ایوننگ کلاسز ہیں میں بس جا ہی رہی تھی”
“میں ٹھیک ہوں نورے تم جاؤ تمہیں کالج کے لئے لیٹ ہو رہا ہے” اٹھ کر بیٹھتے اس نے دیوار سے ٹیک لگائی۔۔
“ہونے دو لیٹ تم بیٹھو میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں پھر دوا کھانا۔۔
“نورے۔۔ مجھے اتنی توجہ کی عادت نہیں ہے تم جاؤ میں ٹھیک ہوں بس اب اٹھوں گی”
اسکا انداز بہت سادہ سا تھا مگر نورے کو اسے ایسے دیکھ دکھ ہوا تھا وہ خود اپنے ماں کے پیسے پر اپنی تعلیم مکمل کر رہی تھی اسکے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ شہرے کو دے سکتی وہ بہن ہو کر بھی اسکی کوئی مدد نہیں کرسکتی تھی۔۔
“میں امی سے بات کروں گی وہ کم از کم تمہارے ایڈمیشن کی فیس تو دے سکتی ہیں نا”
“بالکل بھی نہیں تم ایسا کچھ نہیں کرو گی ۔۔ وہ پہلے ہی بہت محنت کر رہی ہیں تاکہ تم اچھی جگہ پڑھ سکو نورے۔۔ میں ان پر اپنا بوجھ نہیں ڈال سکتی میں ٹھیک ہوں بالکل “
نور کا ہاتھ تھام وہ نرمی سے بولتے واپس سے آنکھیں موند گئی جس کا مطلب تھا وہ اب مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔
“اچھا تم اب گھر میں رہو باہر جانے کی ضرورت نہیں امی جا چکی ہیں میں بھی جا رہی ہوں” اسکے چہرے پر پڑے بال سنوارے وہ محبت سے کہتی اٹھی تھی۔۔
“ہمم” وہ محض اتنا ہی کہہ سکی اسکے دل میں ایک طوفان مچا ہوا تھا آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے تھے۔۔
نور نے ایک اداس نظر اس پر ڈالی اور پھر اپنا بیگ اٹھائے وہ کمرے سے نکلتی گھر سے بھی نکلتی چلے گئی۔۔
اسکے جاتے ہی کوئی شخص خاموشی سے ان کے گھر کا دروازہ کھول اندر داخل ہوا تھا۔
خاموش چاپ۔۔ چوروں جیسی۔۔

Admin2

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on