6قسط_
عبیرہ اسے اپنے گھر لے کر آئی تھی۔۔عبیرہ نے اسے بتایا کہ اسے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔۔۔۔۔”مجھے وہاں جانا ہے عبیرہ وہ لوگ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے میں اس حال پر پہنچی ہوں “وہ پینک ہو رہی تھی عبیرہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔”آئی ایم سوری میری جان مجھے تمہیں وہاں نہیں لے کر جانا چاہیے تھا””میں وہاں جاؤں گی مجھے ابھی جانا ہے “”شہرے ” اسے کھڑا ہوتے دیکھ عبیرہ نے اسے پکارا جو اس وقت کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔شال اپنے گرد اچھے سے لپیٹے وہ وہاں سے نکلی تھی عبیرہ اسکے ساتھ جانا چاہتی تھی مگر وہ اسے منع کرگئی۔۔وہ اپنی وجہ سے عبیرہ کی نوکری خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔وہ خود ٹوٹ چکی تھی مگر نوکری جانے کی خبر نے اسکے اندر آگ سی بھر دی تھی۔۔وہ کس طرح اس ہوٹل تک پہنچی تھی صرف وہ جانتی تھی۔اس وقت وہ اس ہوٹل کے منیجر کے سامنے کھڑی تھی۔۔”آپ کیسے کر سکتے ہیں میں نے ایسا کیا کیا ہے؟””دیکھو شہرینہ””کیا دیکھوں سر۔۔۔ کیا دیکھوں ۔؟ میں یہاں مجبوری کے تحت آئی تھی آپ سب نے کیا کیا میرے ساتھ میری مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش اور اب مجھے بنا کسی جواز کے نوکری سے نکال دیا کہاں غلط تھی میں آخر کہاں؟” وہ رو رہی تھی بے حد بے تحاشہ سارے غم اکھٹے ہوگئے تھے۔۔”شہرینہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے ہم وہی کرتے ہیں جو ہمیں کہا جاتا ہے کرنے کے لئے””چاہے پھر کسی کی عزت چلی جائے یا کسی کی جان؟” اسکی بات پر مینجر نے نگاہیں چرائیں۔۔افسوس سے انہیں۔دیکھتے وہ وہاں سے نکل آئی تھی اس دنیا میں اسکے لئے کوئی نہیں تھا کوئی ایک بھی اپنا نہیں ۔۔۔عبیرہ کے گھر آکر وہ بستر پر گری تھی اب اور ہمت نہیں بچی تھی خود سے لڑنے کی وہ بس اب سکون چاہتی تھی۔۔۔___________ہوٹل کے روم میں وہ بڑی شان سے صوفے پر بیٹھا اپنے سامنے رکھی فائل کو دیکھ رہا تھا۔سامنے ہی ہاتھ باندھے کھڑا ظہیر اسے اب آگے کی ڈیٹیلز دے رہا تھا اسٹیو کو اس نے اپنے آفیشل کام کے لئے رکھا تھا جبکہ ظہیر اسکا بہت خاص آدمی تھا۔”سر انہیں ان کی ماں نے گھر سے نکال دیا تھا وجہ ان کا سوتیلا بھائی تھا۔وہ اب اسے پوری ڈیٹیلز دینے لگا۔۔”دیکھا تم نے معصوم بنی گھومتی لڑکیاں بالکل بھی معصوم نہیں ہوتیں بلکہ یہ عورتیں معصوم ہوتی ہی نہیں ہیں اس لئے نفرت کرتا ہوں میں ان عورتوں سے”فائل ٹیبل پر پھینکتے وہ اٹھ کر کھڑکی تک آگیا۔۔”ابھی کہا ہے وہ؟””سر وہ ابھی اپنی دوست کے گھر پر ہیں””تیاریاں کرو ظہیر آج رات ہم واپس جا رہے ہیں””اوکے سر””اور ہاں جانے سے پہلے میں اس لڑکی سے مل کر جانا چاہتا ہوں گاڑی تیار رکھوانا”اسکی بات پر ظہیر چونکا تھا۔۔”اوکے سر” اس نے کیوں کیا کیسے جیسے سوال نہیں کئے تھے کیونکہ مامون شیرازی کو ایسے سوال پسند نہیں تھے۔۔_________

