Childhood Nikha Based Romantic Novels Rude Hero

Dil Ishqam By FN Episode 7

مجھے کیوں بلایا ہے کیا صرف میری شکل دیکھنے کے لئے بلایا ہے؟” اسکے مسلسل دیکھنے پر وہ تڑخ کر بولی تھی یہ شخص اب اسکے حواس جھنجھلا رہا تھا۔۔”اپنی بیوی کو صرف شکل دیکھنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ” وہ پراسرار سا مسکرایا تھا جبکہ بیوی لفظ پر نور نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔”کیا بکواس ہے یہ کون تمہاری بیوی؟””سب سے پہلے تو تمیز سے بات کرو ” جاذب کے چہرے پر ناگواری بھرا تاثر ابھرا تھا۔”مجھے جانے دو جاذب شاہ بہت ہوگیا ہے ورنہ” انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی وہ اسکی نگاہوں کی تپش پر ایک دم سے چپ ہوئی تھی اگلے الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔”ورنہ؟” ماتھے پر بل لئے وہ پورے قد کے ساتھ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔نور نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیر اٹھی انگلی خود بخود نیچے ہوئی تھی۔۔”دیکھو مجھ سے دور رہو” اسکے بڑھتے قدموں پر وہ پیچھے ہوتی دھڑام سے بیڈ پر گری تھی اس سے پہلے وہ سنبھل کر اٹھتی۔۔جاذب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے بیڈ پر پیچھے دھکیلتے اپنے دونوں ہاتھ اسکے دائیں بائیں ٹکاتے اسکی فرار کی راہیں مفقود کی تھیں۔۔۔”ورنہ کیا نور صاحبہ کیا کریں گی آپ میرے ساتھ” اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کئے وہ تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا جو اسکے اتنے قریب آنے پر اپنی سانسیں تک روک گئی تھی۔۔۔جاذب کے کلون کی خوشبو اسکے اپنے دماغ میں چڑھتی محسوس ہو رہی تھی۔۔اپنے گال پر جاذب کی سانسوں کی تپش محسوس کر اس نے ہمت کر اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ اسے خود سے دور دھکیلنا چاہا مگر وہ اس چٹانی وجود کو ایک انچ بھی نہیں ہلا سکی تھی۔”مجھ سے دور رہو ورنہ میں دنیا کو بتاؤ گی یہ شریف بنا انسان ایک نمبر کا گھٹیا آدمی ہے”اسکی بھاری وجود کا بوجھ خود پر محسوس کر اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں مگر زبان اب بھی نہیں رکی تھی۔”تمہیں مجھ سے ڈرنا چاہیے نور فاطمہ یزدانی”اسکے نڈر انداز پر چوٹ کرتا وہ اپنا گال اسکے گال سے مس کرتا وہ اسے ساکت کر گیا۔۔”تم گھٹیا انسان دور رہو مجھ سے ” ہوش میں آتی وہ چلاتے اسے خود سے دور کرنے کی خاطر ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی جب اسکا ہاتھ جازب شاہ کی مضبوط گرفت میں آئے تھے اسکے دونوں ہاتھ مضبوطی سے تھام اسکے سر پر لگاتے وہ اسکی بےبسی پر مسکرایا تھا ۔۔۔”بالکل ایسے ہی ۔۔۔ ہاں بالکل ایسے ہی تو دیکھنا چاہتا چاہتا ہوں میں تمہیں اور تمہارے خاندان کو تڑپتے ہوئے روتے ہوئے سسکتے ہوئے ۔۔۔ کہ تم مجھ سے اپنی آزادی کی بھیک مانگو اور میں تمہیں بتاؤں کہ قید آخر ہوتی کیسی ہے” وہ اسکے منہ پر غرایا خوف سے نورے کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔”میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا مجھے جانے دو خدا کے لئے” اسکے ارادے اور اسکی قربت۔۔وہ واقعی ڈر گئی تھی ساری بہادری پل میں ہوا ہوئی تھی۔۔”جانے دوں ؟ اب تو موت کے بعد ہی تم میری قید سے آزاد ہوسکتی ہو”اسکی بات پر نورے نے اسے دیکھا جو اب مسکرا رہا تھا۔۔”موت ؟” اسکے لب پھڑپھڑائے۔۔۔”ہاں موت۔۔۔ میری یا پھر تمہاری” اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ اسکی سانسیں روکنے پر تلا تھا۔”یو نو وائفی کتنا انتظار کروایا ہے مجھے؟””میں تمہاری بیوی نہیں ہوں سمجھ آئی دور رہو مجھ سے خدا کے لئے ” اسکی ڈھیلی پڑتی گرفت کا فائدہ اٹھاتے نور ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلتے خود اٹھ کر دروازے کی جانب بھاگی تھی جو لاک تھا۔۔جازب نے بیڈ پر پڑے پڑے زرا سی گردن ترچھی کر اسے دیکھا جو دروازہ زور زور سے پیٹ رہی تھی۔۔سیدھے ہو کر لیٹتا وہ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا جو بس یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی دوپٹہ ایک سائیڈ پڑا تھا بال بکھر رہے تھے۔۔۔چہرے پر وحشت تھی اسکی حالت دیکھ جاذب کے ہونٹ سختی سے بھینچے۔۔”بھاگنے سے پہلے سائیڈ والی دراز میں ہمارہ نکاح نامہ ہے اور اسکے ساتھ ہمارے نکاح کی تصویر ۔۔۔ایک نظر انہیں دیکھ لو”جازب کی بات پر دروازہ بجاتے اسکے ہاتھ تھمے۔۔”اور تمہیں لگتا ہے میں تم جیسے سائیکو آدمی پر یقین کروں گی؟”اسکے سوال پر جازب نے کندھے اچکائے تھے۔۔نور نے بے بسی سے اسے دیکھا کہاں پھنس گئی تھی وہ آخر۔۔۔۔۔”مجھے یہاں سے جانے دو پلیز میری امی میرا انتظار کر رہی ہونگی””وہی امی جو اصل میں تمہاری امی ہیں ہی نہیں؟”وہ اسکی بات پر چونکی نہیں تھی وہ بڑا آدمی تھا اسکے لئے یہ سب جاننا کوئی مشکل بات نہیں تھی۔۔۔”اوہو لگتا ہے تمہیں اپنی ماں کے بارے میں پتا ہے مگر کیا تمہیں یہ پتا ہے دس سال پہلے تمہارے گھر والوں نے تمہیں اس عورت کے حوالے کردیا تھا اور ہر مہینے تمہارے نام پر ڈھیروں رقم اسکے اکاؤنٹ میں دیتے رہے ہیں؟”اب کی بار وہ چونکی تھی بری طرح سے ۔۔اسکے گھر والے پیسے؟””کک۔۔۔کیا مطلب ہے اس بات کا؟”اب کی بار جازب شاہ کھل کر مسکرایا تھا ۔۔۔”تو میری جان آپ کو واقعی نہیں پتا کہ آپ کے گھر والے آج بھی اس عورت سے رابطے میں ہیں؟””تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔””اہاں۔۔۔ مجھے جھوٹ بول کر کیا ملے گا پورا گاؤں جانتا ہے تم میری ملکیت ہو میرے نکاح میں ہو اور تمہارے گھر والوں نے تم سے جان چھڑانے کے لئے تمہیں اس رات روڈ پر چھوڑ دیا تھا اور اپنی عورت بھیج دی تھی تاکہ وہ تمہیں لے جائے ۔۔۔ اور پھر وہ کہے گی تم اسے سڑک پر ملی تھیں تو اس بات کا یقین کرنا اتنا مشکل تو نہیں نا ؟”جاذب شاہ کی باتیں۔۔ اسکا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔۔”چلو ایک ڈیل کرتے ہیں” اسکی ذہنی کیفیت سے بے نیاز وہ اپنی ہی کہہ رہا تھا۔۔نورے نے نگاہیں اٹھائے اسے دیکھا۔۔”تم جاؤ اور اپنی ماں سے سچ پوچھو اگر میرا کہا سچ ثابت ہوا تو تم میرے ساتھ چلو گی اس نکاح کو قبول کرو گی””اور اگر تم جھوٹے نکلے تو؟”اسکی بات پر جاذب نے اسے دیکھا چہرے کے تاثرات پل میں تبدیل ہوئے تھے۔”جاذب شاہ جھوٹ نہیں بولتا اور جھوٹ بولنے والے کو کبھی نہیں چھوڑتا””مجھے تمہاری بات پر اب بھی یقین نہیں نا تمہارے دعوت پر یقین ہے””یہ تو شام ہونے سے پہلے پتا چل جائے گا جاؤ ابھی کے لئے آزاد ہو ایک آخری بار اپنی مرضی کی سانسیں لے لو”اپنی جگہ سے اٹھتے وہ قدم بہ قدم چلتا اسکے پاس آکر رکا ۔ہاتھ بڑھا کر اس نے کوڈ ڈائل کر دروازہ کھولا تھا۔۔”شام میرے ساتھ چلنے کے لئے تیار رہنا””خوش فہمی ہے تمہاری تم ایک جھوٹے انسان ہو” ایک ایک لفظ چبا کر کہتی وہ تیزی سے اپنا سامان سمیٹتے وہاں سے نکلی تھی۔ اور وہ اسے جاتا دیکھتے رہا۔”آپ نے انہیں جانے کیوں دیا سائیں ؟””شکار کا کمزور ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اجمل اور اس وقت میرا شکار کچھ زیادہ ہی مضبوط ہے”اجمل کا کندھا تھپتھپاتے وہ آگے بڑھا مگر پھر وہ رکا تھا۔۔”گاؤں جانے کی تیاری کرو اب وقت آگیا ہے واپس جانے کا”گلاسس آنکھوں پر لگاتا وہ پوری شان سے وہاں سے نکلا تھا۔کسی فاتح کی طرح۔۔۔۔

__________

Zoila

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels Social Novels

Rishta Dil Ka Written by Rayed

Rishta Dil Ka written by Rayed is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on Classic
Classic Novels Latest Novels New Writer Novels Romantic Novels

Sarangae Written by Harmia Murat Episode 1

Sarangae Written by Harmia Murat  Episode 1 is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on