Uncategorized

Dil O Janam Fida E Tu by Aniqa Ana Episode 51 Online Reading

زندگی ہماری سوچ، ہمارے اندازے سے کہیں پرے کی چیز ہے۔ یہ ہر پل ہر لمحے میں ہمیں اپنے نت نئے رنگوں سے روشناس کرواتی ہی رہتی ہے۔ ایک پل میں اپنا بن کر دلاسا دیتی ہے تو دوسرے ہی پل میں اجنبی بن کر تکلیف کا نیزہ بن کر سینے میں چبھتی ہے۔ کبھی اتنی خوشیوں سے دامن بھر دیتی ہے جی لینے کو عمر کم لگنے لگتی ہے اور کبھی ایسا درد دیتی ہے کہ ہر سانس بھاری لگتی ہے۔ لہیم جاہ کے لیے بھی زندگی خوشیوں کا جھولا کبھی نہیں رہی تھی۔ اگر بے تحاشا دولت، آسائشیں، پر تعیش طرزِ زندگی خوشیوں کی ضمانت ہوتے تو وہ دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تھا۔ خوشیاں ان چیزوں سے بھلے ملتی ہوں گی لیکن حقیقی خوشی ساتھ رہنے والے عزیز احباب، اپنے چاہنے والوں کے دم قدم سے ہوتی ہے۔ اور حقیقی خوشی کے معنوں میں وہ دنیا کا بدقسمت ترین انسان تھا۔ وہ اپنے بچپن سے لڑکپن اور جوانی کے دور پر نگاہ ڈالتا اگرچہ اسے کبھی بھی ماضی میں رہنا یا جینا پسند نہیں رہا تھا، تاہم اس کے زندگی کے یہ اہم ادوار اس کی یادداشت میں اچھی یادیں نہیں رکھتے تھےاور نہ اس نے ان سب کو یاد کرنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس کی تھی۔ مگر آج شہاب کے مرنے پر سارے زخم ایک ایک کرکے ادھڑ گئے تھے اور وہ زخم ناسور بن کر درد دینے کے درپے ہوئے تھے۔
فرانزک جانچ ہو جانے اور شہاب کی لاش وہاں سے ہٹانے اور دوسرے امور نبٹاتے نبٹاتے انھیں پوری رات گزر گئی تھی۔اس کی حالت کے پیشِ نظر عبدالمعید نے واپس جانے کا ارادہ منسوخ کرتے ہوئے وہیں ٹھہرنا مناسب سمجھا تھا۔ اسفند جاہ آنا چاہتے تھے مگر لہیم نے بڑی رکھائی سے انھیں منع کیا تھا۔ تو ایسے میں اسے شدت سے کسی اپنے کی ضرورت تھی اور وہ اپنا عبدالمعید جیسے دوست سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔عبدالمعید اسی کے کمرے میں شاور لینے گیا تھا۔ فجر کی اذان ہو چکی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر سر پکڑے بیٹھا تھا۔ آنکھیں ضبطِ گریہ سے سرخ ہو رہی تھیں۔ سر الگ درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ شہاب اس کے لیے صرف ایک گھوڑا نہیں تھا۔ وہ اس کی زندگی میں خوش رہنے کی ایک وجہ تھا۔ عبدالمعید تولیے سے بال رگڑتا باہر نکلا تو اسے یوں بیٹھے دیکھ کر اس کا دل ایک لمحے کو ٹھہر گیا تھا۔ وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے بولا:
”لہیم! ایسے مت بیٹھو، تم اس طرح بالکل اچھے نہیں لگتے۔“ اس کی ظاہری حالت میں کوئی تغیر نہ آیا تھا۔ البتہ زبان سے دل کی بات ضرور کہی تھی۔
”اس وقت میں خود کو بھی اچھا نہیں لگ رہا معید!“

Faryal Khan

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on