Uncategorized

Dil O Janam Fida e Tu By Aniqa Ana Episode 68

”تم تو مجھے بھول ہی گئی مطیبہ! کوئی ایسے بھی کرتا ہے کیا؟“ اس نے اپنائیت بھرا شکوہ کیا۔ مطیبہ کا دل اس کے لہجے کی چاشنی اور مٹھاس میں ڈوب کر رہ گیا تھا۔ اس بات سے بے خبر کہ یہ لب و لہجے، یہ تبسم و محبت بھری باتیں سب فریب ہیں، دھوکا ہیں۔”نہیں! ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔“ وہ مدھم سی آواز میں بولی تھی۔”پھر کیسا ہے؟“”پتا نہیں۔۔۔“ ہچکچاہٹ آمیز انداز، واصب سے اس کے معاملے میں صبر نہیں ہو رہا تھا۔ ”کیا ہم کہیں مل سکتے ہیں؟“ اس نے پوچھا تو دوسری جانب گہری خاموشی چھا گئی تھی۔ وہ بےصبری سے اس کی ہاں یا نہ کے انتظار میں تھا۔”نہیں“ یک لفظی جواب نے اس کی امیدوں پہ پانی پھیرا تھا۔”ابھی میں سکول میں ہوں۔ سکول سے چھٹی کے بعد میٹنگ ہے تو گھر جاتے جاتے دیر ہو جائے گی۔“”تو میں تمھیں گھر تک چھوڑ دوں گا۔“ اس نے پیش کش کی تھی۔”شوفر بننے کا اتنا ہی شوق کیوں ہے آپ کو؟“ مطیبہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ واصب نے مٹھی بھینچتے ہوئے اس کی بات برداشت کی تھی۔ ”میری ہر بات کو مذاق میں ٹال دیتی ہو، یہ عادت اچھی نہیں ہے۔“ وہ خفیف سی خفگی کا عنصر لیے گویا ہوا تھا۔ انداز سراسر جتانے کا سا تھا۔”آپ کی باتیں ہوتی ہی ایسی ہیں کہ میرے پاس سوائے ٹال دینے کے کوئی چارا نہیں ہوتا۔“ وہ شاید اس کی خفگی کو بھانپ گئی تھی۔”شہرین کیسی ہے؟“ اس نے بات بدلتے ہوئے آج گفت گو کے دوران میں پہلی بار اس کے بارے میں دریافت کیا تھا۔”یہ اسے ہی پتا ہو گا کہ وہ کیسی ہے؟“ وہ اس کے سوال پر حیران ہوئی مگر اس پہ اظہار نہ ہونے دیا تھا۔”میں چکوال آیا ہوا ہوں اور دادو نے اس کے لیے کچھ چیزیں بھیجی تھیں۔ کیا تمھارے گھر پر تم سے ”ملاقات“ ہو سکتی ہے؟“ اس نے لفظ ملاقات پر بطورِ خاص زور دیا تھا۔”مطلب؟؟“ وہ چونکی، دل میں انجانے سے خدشے نے سر اٹھایا تھا۔”میرا مطلب ہے تمھیں گھڑی دو گھڑی جی بھر کر دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے؟“ اس نے فوراً بات بنائی تھی۔”میں کچھ کَہ نہیں سکتی۔“ نا نہ کہی تھی نا ہاں ہی کہا تھا۔”تمھیں ابھی تک مجھ پر بھروسہ نہیں ہوا۔“ اس نے شکوہ کیا تھا ”ایسا نہیں ہے۔ ایسا کوئی وقت آیا تو ثابت ہو جائے گا۔“ اس نے ٹالنے کے سے انداز میں کہا تھا۔”بغیر کسی سانحے یا حادثے کے تمھیں مجھ پر اعتبار آ بھی تو نہیں سکتا۔“”اعتبار کے لیے سانحہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اعتبار بس آ جاتا ہے۔“”تو ملتی کیوں نہیں ہو؟“”آپ کیا چاہتے ہیں کہ حادثہ ضروری ہے؟“”محبت بذاتِ خود ایک حادثہ ہے۔ اس سے بڑا حادثہ اور کیا ہو گا مطیبہ؟“ وہ چپ ہو گئی تھی۔ ”مطیبہ!“ اس کی چپ توڑنی چاہی تھی۔”میں ابھی مصروف ہوں۔“ اس نے جھٹ سے کہا تھا اور فون کاٹ دیا تھا۔ ”محبت۔۔۔“ چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی منتشر ہوتی سوچوں پہ بند باندھنے کی غرض سے وہ بلا وجہ ہی سامنے رکھا رجسٹر کھول کر بیٹھ گئی تھی۔”محبت۔۔۔ اب نہیں کرنی۔“”محبت ہوتی کب ہے مطیبہ؟ یہ تو ہو جاتی ہے۔“ ”مجھے ہی کیوں ہوتی ہے؟“”تم بہت خاص ہو اس لیے!!“”نہیں! میں بہت بے وقوف ہوں اس لیے!“ اس کی جی چاہا خود پر زور زور سے ہنسے، اتنا ہنسے کہ محبت نام کا یہ جذبہ اس کے قہقہوں کے شور میں ڈوب کر مر جائے۔”تم مان لو مطیبہ کہ تمھیں واصب حقانی سے محبت ہو چکی ہے۔“ اس کا دل پہلے ہی قدم پر ہار مان بیٹھا تھا۔ اعتراف کر رہا تھا۔ ایک ایسے منھ زور جذبے کا جس نے اسے پہلے ہی کہیں کا نہ رکھا تھا۔محبت ہو تو جاتی ہے محبت کی نہیں جاتییہ شعلہ خود بھڑک اٹھتا ہے بھڑکایا نہیں جاتامحبت کے لیے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیںیہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتامحبت اصل میں مخمورؔ وہ راز حقیقت ہےسمجھ میں آ 1گیا ہے پھر بھی سمجھایا نہیں جاتا(مخمور دہلوی)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ڈھیر سارا رو لینے کے بعد جب دل ہلکا ہو گیا تو تابعہ نے عماد سے گھر جانے کی ضد کی تھی۔”میں گھر جانا چاہتی ہوں عماد! بابا جان بہت پریشان ہوں گے! مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ کتنے دن بیت گئے؟ پتا نہیں وہاں بابا جان پہ کیا گزر رہی ہو گی؟“ وہ ایک ہی سانس میں سب بولتی چلی گئی تھی۔”کچھ نہیں گزر رہی ہو گی ان پہ۔۔۔“ وہ تلخی سے مگر مدھم آواز میں بولا تھا۔ ”تمھیں پتا ہے تابعہ کہ بابا جان کو یہ لگتا ہے تم اس شخص کے ساتھ اپنی مرضی سے کہیں چلی گئی تھی۔“ عماد نے اسے کسی خوش فہمی میں نہیں رہنے دیا تھا۔ اسے جتنا صدمہ سہنا تھا وہ سہ چکی تھی۔ اب وقت تھا کہ وہ حقیقت کا سامنا کرتی۔”اس شخص۔۔۔؟؟“ بے یقینی، دکھ، تکلیف اور نجانے کون کون سی کیفیات تھیں جن سے وہ اس ایک لمحے میں دوچار ہوئی تھی۔ ”بابا جان کو ایسا کیوں۔۔۔؟“ صدمے کی شدت ایسی تھی کہ وہ کچھ کَہ بھی نہیں پائی تھی۔”کیوں کہ وہ تمھیں ایک مرتبہ اس کے ساتھ دیکھ چکے تھے۔“”میں تو ٹھیک سے اس شخص کو جانتی بھی نہیں ہوں۔“ وہ بے چینی سے کبھی ہاتھوں کی مٹھیاں بناتی تو کبھی بالوں میں ہاتھ پھیرتی۔ کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہے یا کیا کرے؟”تم کسی اور کے ساتھ دکھائی دیتی تو شاید بابا جان اسی کے ساتھ تمھیں۔۔۔“ عماد جو کچھ سن اور دیکھ کر آیا تھا اس کے بعد سے ان سے بہت زیادہ برگشتہ دکھائی دیتا تھا۔”بابا جان ایسا نہیں کر سکتے۔“ تابعہ کی آواز اس کے گلے میں اٹکی تھی۔”مجھے بھی ایسا ہی کچھ یقین تھا لیکن اب۔۔۔ اب سوچتا ہوں کہ وہ جو ہم پہ یقین و اعتماد کا دعویٰ کرتے تھے۔ صرف لفاظی ہی تھی۔ حقیقت تو تب سامنے آئی جب اعتماد کا اصل وقت آیا ہے۔“ اسے بابا جان سے اس درجہ ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ نیوٹن کے قوانین کے مطابق ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے وہ بھی ان کے شدید عمل کے جواب میں اتنا ہی شدید ردعمل دکھا رہا تھا۔”نہیں عماد! بابا جان ایسا نہیں کریں گے۔ وہ ایسے نہیں ہیں۔“ تابعہ نے زور سے نفی میں سر ہلاتے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا۔”بابا جان ایسے ہی ہیں۔ انھوں نے تمھیں تلاش کرنے یا تم سے کسی قسم کا بھی تعلق رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔“ اس کا چہر فق ہوا تھا۔ دل ڈوبنے لگا تھا مگر پھر بھی اسے عماد کی باتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔”میں تو اسے ٹھیک سے جانتی بھی نہیں ہوں۔ عماد! تم مجھے ابھی بابا جان کے پاس لے چلو! میں انھیں بتاؤں گی کہ میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ میں انھیں یقین دلاؤں گی کہ۔۔۔“ وہ ہذیانی سی ہوئی تھی یہاں تک کہ عماد کو اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑنا پڑا تھا۔”ہوش میں آؤ تابعہ! پاگلوں سی باتیں مت کرو۔ یقین انھیں دلایا جاتا ہے جنھیں آپ پر تھوڑا سا بھی یقین ہو۔“”تو بابا جان کو مجھ پر تھوڑا سا یقین تو ہو گا نا۔۔۔“”نہیں ہے۔ اب نہیں رہا تابعہ۔۔!“ وہ رو پڑا تھا۔ تابعہ اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔(اگر بابا جان مجھے چھوڑ دیں گے تو میرے لیے اس خطۂ زمیں پر کوئی جاے پناہ رہے گی بھی یا نہیں!؟) غم کی شدت تھی یا کیا کہ اس کی آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا تھا۔ عماد آنسو پونچھتا چپ سا ہوا تھا۔ ایک گہری و جامد خاموشی نے دونوں کے درمیان دیوار بنائی تھی۔”میں نے سنا تھا محبت سراب ہوتی ہے یہ نہیں سنا تھا کہ یک طرفہ محبت سراب ہی نہیں عذاب بھی ہوتی ہے۔“ اس کی سرگوشی فضا میں ارتعاش پیدا کر گئی تھی۔ ”یک طرفہ محبت۔۔۔“ عماد کا جی چاہا اس کی بات پر ہنس دے اور اسے بتائے کہ جسے وہ یک طرفہ محبت سمجھ رہی ہے وہ اس اکیلی کی محبت نہیں ہے۔ وہ اسی شخص کی محبت کے خمیازے میں تو اس حال کو پہنچی تھی۔ تاہم وہ یہ سب لہیم جاہ پہ چھوڑ کر خاموش ہو رہا تھا۔”اب میں کیا کروں گی عماد؟ میں گھر نہیں جاؤں گی تو کہاں۔۔۔“”کس نے کہا تم گھر نہیں جاؤ گی؟ تم گھر جاؤ گی ضرور جاؤ گی مگر بابا جان کے گھر نہیں، تم اپنے گھر جاؤ گی۔“ عماد نے محبت سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے نرمی سے کہا تھا۔”اپنے گھر؟“ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔”تابعہ! مجھے تم پر یقین ہے کیا تمھیں اپنے بھائی پر یقین ہے؟“ وہ اس کے چہرے پر نگاہیں جمائے، اس سے بات کرتا، اسے آنے والے وقت کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے لگا تھا۔ وہ اس ساری تمہید کا مقصد سمجھنے سے قاصر تھی مگر پھر بھی اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔”تمھیں یقین ہے نا کہ تمھارا بھائی تمھارے بارے میں کچھ غلط نہیں سوچے گا۔“”ہاں! مجھے یقین ہے۔“ وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی۔”مجھے یقین ہے تابعہ! کہ تم اس شخص کے ساتھ اتنی خوش رہو گی کہ یہ سب کچھ، یہ تکلیف بھرے دن بلکہ ان دنوں کی یاد تک بھول جاؤ گی۔“ ”میں سمجھی نہیں عماد!“ ”میں تمھیں سمجھا بھی نہیں سکتا تابعہ! بس یہ یاد رکھنا کہ جن لوگوں سے قسمت ہمیں حادثاتی طور پر ملا دیتی ہے ان سے دل کے تار بڑی اندر تک جڑے ہوتے ہیں۔“ اس نے اب بھی مبہم سی بات کی تھی۔”کسی بھی قسم کی بدگمانی یا برا خیال ذہن میں مت آنے دینا۔ کچھ ہی گھنٹوں میں تمھاری زندگی کا ایک نیا باب شروع ہونے والا ہے۔“ اس کے سر پر نرمی سے ہاتھ رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا تھا۔”کہاں جا رہے ہو؟“ وہ گھبرا گئی تھی۔”تم آرام کرو۔ میں باہر ہی ہوں۔“”نہیں! یہیں رکو نا میرے پاس!“ ”پریشان مت ہو۔ میں یہیں ہوں تابعہ!“ اس کا ہاتھ تھپتھپا کر، نرمی سے سمجھاتے ہوئے وہ کمرے سے باہر آیا تھا۔ جہاں لہیم جاہ اس کا منتظر تھا۔”مجھے یقین ہے کہ تم نے اسے بتا دیا ہو گا۔“ بے تابی و بے قراری اس کے ایک ایک لفظ سے مترشح تھی۔ عماد نے سر ہلایا تھا۔”مجھے بھی یقین ہے کہ وہ آپ کے ساتھ خوش رہے گی۔“ ایک ذمہ دار بھائی والی فکر خود بخود اس کے لہجے میں در آئی تھی۔”میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں کوشش کروں گا۔ نہ کوئی اور بات ہی کروں گا۔“ وہ اپنے مخصوص انداز میں بولا تھا۔”کوشش کم زور لوگ کرتے ہیں اور صرف باتیں کرنا مرد کا شیوہ نہیں ہے۔ فی الوقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔“ اس کے سحر انگیز انداز کے سامنے کس کی مجال تھی جو ٹھہر جاتا۔ عبدالمعید جیسا حاذق بھی اس کے آگے چپ ہو جاتا تھا تو عماد بدر کی کیا مجال تھی؟ لہیم جاہ اسے پاس رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے خود کسی کو فون کرنے کے لیے باہر نکلا تو اس نے عبدالمعید کو کہتے سنا تھا۔”بھلے کچھ باتیں قبل از وقت ہوتی ہیں لیکن انسانیت کے تقاضے کے تحت انسان کسی کی تسلی و تشفی کی خاطر کوئی ایسا جملہ بول ہی دیتا ہے جو سامنے والے کی تسکین کا سبب بنے۔ تم عماد سے ایسا کچھ بول دیتے تو کیا جاتا تمھارا؟“ وہ دوسرے لفظوں میں اسے لتاڑ رہا تھا۔”جو کام مجھ سے ہو نہیں سکتا میں وہ کرنے کا یارا بھی نہیں رکھتا۔“ وہ تیکھے پن سے گویا ہوا تھا۔”اس کی تسلی ہو جاتی۔“”میں نے ہر کس و ناکس کی تسکین کا ساماں کرنے کی ذمہ داری نہیں لے رکھی۔“ ”میں ہر کسی کی بات نہیں کر رہا۔ تمھاری اپنی کوئی بہن ہوتی تو تمھیں ایک بھائی کی فکر کا اندازہ ہوتا۔“ عبدالمعید نے بات اسے سمجھانے کی غرض سے کہی تھی مگر سامنے لہیم جاہ تھا جو اس کی کسی بھی بات کو اپنی مرضی کے رنگ دینے میں ماہر تھا۔”مسٹر اینڈ مسز اسفند جاہ کے لیے میرا ہونا ہی ناقابلِ برداشت رہا ہے تم ایک بہن کی بھی بات کرتے ہو۔“ وہ تلخی سے ہنسا تھا تو اسے ایک لمحے کو چپ سی لگ گئی تھی۔”تمھیں ہر خوشی کے موقعے پر بھی رونے کی عادت کیوں ہے لہیم؟“ اس نے دانت پیس کر بولتے ہوئے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا۔”کیوں کہ تمھیں ہر موقع پر میرا باپ بننے کا بہت شوق ہے۔“ وہ بھی کہاں ادھار رکھتا تھا۔”اب تمھیں کوئی سمجھائے بھی نہیں۔“ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔”سمجھنا سمجھانا میرے خمیر میں نہیں ہے۔“ جواب میں عبدالمعید کا قہقہہ اسے سر تا پا جلا گیا تھا۔”یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں لہیم جاہ صاحب! ایک بار شادی ہو لینے دو۔ پھر جب ایک خاتون سے دن رات واسطہ پڑے گا تو جناب کو وہ وہ چیزیں بھی سمجھ میں آنے لگیں گی جن کا عنصر تک خمیر میں پایا نہیں جاتا۔“ شادی کے نام اور تابعہ کے خیال نے اس کے دل کو گدگدایا تھا۔”یہ شادی مجھے نہیں بدلے گی۔“ پورے یقین سے کہا گیا تھا۔”اور نہ وہ خاتون ہی۔۔۔“ یقین بھرا ایک اور جملہ۔”کس نے کہا کہ یہ شادی یا وہ خاتون تمھیں بدل سکتی ہے؟“ وہ اس سے زیادہ پر یقین لہجے میں بولتا ہوا اس کے قریب آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا۔”تمھیں اس خاتون سے تمھاری محبت بدلے گی۔ یہ محبت ہی ہے جس سے تمھارے خمیر میں نئے شگوفے پھوٹیں گے اور تم خود کو بھی پہچان نہیں پاؤ گے۔“ ”اب جانے بھی دو، یہ محبت و الفت کے قصے۔۔۔“ وہ اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا تھا۔”بہتر ہو گا کہ تم باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے جو کرنے کے کام ہیں وہ کرو۔“ عبدالمعید ہنسی چھپاتا وہاں سے چلا گیا تھا۔ وہ کچھ دیر اس کی باتوں کے حصار میں کھڑا رہا پھر سر جھٹک کر فون ملانے لگا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭وہ خواجہ ہارون اور صاعقہ کے ہم راہ قیام کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔ ان سب کا آنا طے تھا لیکن وہ اتنے لوازمات اور تیاری کے ساتھ آئیں گے یہ اندازہ نہیں تھا۔”یہ سب کیا ہے ہارون؟“ شبیر حقانی پھلوں اور مٹھائی کے ٹوکرے اور گھر بھر کے جدید ملبوسات کے علاوہ کئی پیک شدہ تحائف دیکھ کر استفسار کیے بغیر نہ رہ سکے تھے۔”تم پہلی مرتبہ تو نہیں آ رہے تھے۔“ انھیں خواجہ ہارون کا اتنے تکلفات میں پڑنا اچھا نہیں لگا تھا۔”بیٹیوں کے لیے خالی ہاتھ جانا اچھا نہیں لگتا شبیر! اسے تکلف نہیں میری محبت کا اظہار سمجھو۔“ مجبوراً انھیں خاموشی اختیار کرنا ہی پڑی تھی۔”ہماری بیٹی کیسی ہے؟“ بختاور ملنے آئی تو وہ پہلے سے کہیں زیادہ لگاوٹ اور محبت سے اس سے ملے۔ اپنی نشست سے اٹھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔”میں۔۔ میں ٹھیک ہوں انکل!“ ان کے انداز، صاعقہ کا اسے محبت پاش نظروں سے دیکھنا، وہ سارے لوازمات اور ان سب سے بڑھ کر قیام ہارون کی لاتعلقی۔۔۔ اسے کہیں کچھ کھٹکا تھا۔ کچھ تو تھا جو ٹھیک نہیں تھا۔ وہ لوگ دن کے کھانے سے کچھ دیر پہلے ہی پہنچے تھے تو کھانا کھانے تک بختاور کو وہیں ان کے ساتھ رکنا پڑ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے، ان سب کی گفت گو پہ کان دھرے، وہاں موجود رہی تھی۔ صاعقہ نے خود ہی اسے باتوں میں لگائے رکھا تھا۔ وہ مختصر سے جملوں میں یا ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی تاکہ صاعقہ کو اس کا رویہ اکھڑا ہوا سا نہ لگے۔ اپنا مزاج ایک طرف، میزبانی کے تقاضے نبھانا بھی ضروری تھا۔کھانے کے بعد سب لاؤنج میں آ بیٹھے تھے۔ بختاور خانساماں کو چائے کا کَہ کر اندر آ رہی تھی جب اس کے کانوں نے خواجہ ہارون کو کہتے سنا تھا:”بات تو ہم دونوں میں طے ہو چکی ماں جی! یہ ملاقات تو مل بیٹھنے کا ایک بہانہ ہے۔“ وہ تہمینہ حقانی سے کچھ کَہ رہے تھے۔”کون سی بات؟“ وہ رک کر سوچنے لگی تھی۔ خودکلامی اتنی بلند تھی کہ پاس سے گزرتی ثمینہ نے بھی سنی تھی۔ وہ رک کر اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے بولی:”اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتیں آپ بیٹا! کہ کوئی کسی کے گھر اتنے بہت سے ساز و سامان کے ساتھ اپنے بیٹے کو لے کر کیوں جاتا ہے؟“ وہ جب سے چکوال جا کر رہنے لگی تھی اس کے مزاج میں غور کی جانے والی نرمی در آئی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ ثمینہ اس سے بات کرنے کی ہمت کر پائی تھی۔ پہلے والی بختاور ہوتی تو ثمینہ نے جواب دینے کی خواہش دل میں دبائے اس کے پاس سے چپکے ہو کر گزر جانا تھا۔ وہ اب بھی نہیں سمجھی تھی۔”وہ اپنے بیٹے کے لیے تمھارا رشتہ لے کر آئے ہیں۔“ اس کے چہرے پر پھیلے ناقابلِ فہم تاثرات دیکھتے ہوئے ثمینہ نے وضاحت کی تھی۔ وہ تو بتا کر وہاں سے چلی گئی تھی مگر اسے طوفان کی زد میں گھرا چھوڑ گئی تھی۔”قیام اور میں۔۔۔“ یہ سوچ ہی سوہانِ روح تھی۔ وہ پروفیسر عباد بدر کے علاوہ کسی اور کا سوچ سکتی تو یقیناً اس رشتے پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر اب، اب معاملہ دوسرا تھا۔ اسے جلد از جلد قیام سے بات کرنا تھی۔ بھلا وہ کیسے اس رشتے کی ہامی بھر سکتا تھا جب کہ وہ تو سب کچھ جانتا تھا۔ جانتی تو صاعقہ بھی سب کچھ تھیں لیکن انھیں بختاور کی محبت کی شدت و گہرائی کا اندازہ نہیں تھا۔ شکوہ تو قیام سے تھا، جو سب جانتے ہوئے بھی رضامند ہو گیا تھا۔ قیام سب کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ وہ اس سے بات کرنے کے لیے مہمان خانے کی طرف گئی تو وہ اسے وہاں نہیں ملا تھا۔ وہ کچھ سوچ کر مہمان خانے کے عقبی جانب بنے لان میں آئی تھی۔ جہاں اسے قیام سدا بہار پھولوں سے بھری ایک کنج کے قریب بنے سہ نشین کے ستون سے ٹیک لگائے کھڑا پھولوں پر منڈلاتی تتلیوں کو دیکھتا نظر آیا تھا۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی اور اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔ قیام کو شاید اس کے وہاں آنے کا ہی انتظار تھا۔ اسی لیے اس کے چہرے پر حیرت یا تعجب جیسے کوئی اثرات نہ تھے۔ اسے یقین تھا کہ وہ جلد یا بدیر وہاں ضرور آئے گی۔ قیام نے یک بارگی اس کے صبیح لیکن پر شکن چہرے کو نظر بھر کر دیکھا تھا۔”یہ میں کیا سن رہی ہوں قیام؟“ لہجہ ایسا تیکھا تھا گویا اسے کچا چبا جائے گی۔”وہی جسے سننے کے لیے میری سماعتیں کب سے منتظر تھیں۔“ قیام کا پھوار برساتا نرم لہجہ بھی اس کے غصے و خفگی کو کم کرنے میں ناکام رہا تھا۔”تم ایسا کیسے کر سکتے ہو قیام۔۔۔؟“ بے یقینی کا شکار ہوتی وہ چٹخی تھی۔”کیوں کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“ وہ محبت پاش لہجہ، وہ نرمی کا تاثر لیے اس کی سیاہ آنکھوں کی اندر تک اتر جانے والی گہری نظر۔۔۔ بختاور کے ضدی و خود سر دل نے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دھڑکن مِس کی تھی۔یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو ، میری بات سنوہم اِسی چھوٹی سی دنیا کے ، کسی رَستے پراتفاقاً ، کبھی بُھولے سے ، کہیں مل جائیںیہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو ، میری بات سنواِس خامشی کے اندھیروں سے ، نکل آئیں ، چلوکسی سلگتے ہُوئے لہجے سے ، چراغاں کر لیںچن لیں پھولوں کی طرح ، ہم بھی متاعِ الفاظاپنے اُجڑے ہُوئے دامن کو ، گلستاں کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  1. ↩︎

Khan Mahnam

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may also like

Uncategorized

Yar Yaroon sy nah Hon Juda By Zainaib Khan

  Yar yaroon sy nah hn juda by Zainaib khan season 2 Episode(1_19)   . is a Classic, Urdu, Romantic,
Uncategorized

Dil dharky tery liye By Warda makkawi

dharky dil twry liye by Warda makkawi is a Classic, Urdu, Romantic, & Social Novel.  It was published online on