Web Special Novels

Dil O Janam Fida E Tu By Aniqa Ana Episode 69

مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بَسر ہیں ہم محو تماشائے سرِ راہ گُزر ہیں حسرت سی برستی ہے دَر و بام پہ ہر سُوروتی ہوئی گلیاں ہیں ، سِسکتے ہُوئے گھر ہیں آئے تھے یہاں جن کے تصور کے سہارےوُہ چاند ، وُہ سُورج ، وُہ شب و روز کِدھر ہیں ؟سوئے ہو گھنی زُلف کے سائے میں ابھی تک اے راہِ رواں، کیا یہی اندازِ سفر ہیں ؟ وہ لوگ قدم جن کے لئے کاہکشاں نےوہ لوگ بھی اے ہم نفسو ہم سے بشر ہیںبِک جائیں جو ہر شخص کے ہاتھوں سرِ بازارہم یُوسفِ کنعاں ہیں، نہ ہم لعل و گہر ہیںہم لوگ مِلیں گے تو مُحبّت سے مِلیں گےہم نزہتِ مہتاب ہیں، ہم نورِ سَحر ہیں(حبیب جالب)”کیا ہوا مطیبہ؟ کن سوچوں میں مگن ہو۔“ خضریٰ نے اس کے سامنے چائے کا کپ رکھا تو کپ کے میز پر رکھے جانے کی ہلکی سی آہٹ پر وہ چونکی تھی۔”تم کب آئی؟“ اس نے چائے کے لیے تشکر سے اسے دیکھا تھا۔ اس وقت شدت سے طلب ہو رہی تھی۔”جب تم مراقبے میں تھی، میں تب آئی تھی۔“ خضریٰ اپنا کپ اٹھا کر اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھی تھی۔ دونوں اندر سٹاف روم میں تھیں۔”شہرین کہاں ہے؟“ ”وہ ابھی کلاس میں جا رہی تھی۔“ وہ شاید یہ اطمینان کر لینا چاہتی تھی کہ شہرین آس پاس نہ ہو۔”میں نے تم سے واصب کا ذکر کیا تھا نا۔۔!!“ ”ہوں! کیا ہوا؟“ مطیبہ نے مختصر الفاظ میں اسے واصب سے ہوئی بات بتائی تھی۔”کیا ہوا مطیبہ؟“ خضریٰ نے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا تھا۔ بس خاموشی سے اس کے بولنے کی منتظر رہی تھی۔”ہوا تو کچھ نہیں ہے۔ بس دل عجب سے بھنور میں پھنسا ہوا لگتا ہے۔ واصب کی باتوں پہ اعتبار کرنے کو جی نہیں چاہتا مگر دل ہے کہ اس کی طرف لپکتا ہے۔“ وہ اپنی ان کیفیات کو سمجھنے سے خود بھی قاصر تھی۔”یہ دل انسان کو اکثر ہی ذلیل و خوار کراتا ہے۔“ خضریٰ نے کہا تھا۔”اور مجھے تو کچھ زیادہ ہی کراتا ہے۔ شاید میں اتنے ہی کم زور کردار کی ہوں۔“ وہ ٹوٹے ہوئے سے لہجے میں بولی تھی۔ نجانے کون کون سی سوچیں تھیں جو یک لخت اس پہ حملہ آور ہوئی تھیں۔”ایسا نہیں ہے مطیبہ!“ خضریٰ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نرمی سے دباتے ہوئے بھرپور تسلی دیتے ہوئے کہا تھا۔”جنسِ مخالف میں کشش محسوس ہونا فطری ہے۔ ہو جاتا ہے ایسا، اس میں کردار کی کم زوری کی بات کہاں سے آ گئی؟“”میں نے تمھارے منھ سے تو کبھی نہیں سنا کہ تمھیں کوئی ایسے اچھا لگا ہو یا۔۔۔“”مطیبہ!! تم کیوں یہ سب باتیں سوچ رہی ہو؟ ہر ایک کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔“”مزاج ہی کی بات آ گئی نا پھر۔۔!!“”مزاج اور کردار میں فرق ہوتا ہے مطیبہ!“”کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ہمارا مزاج ہی ہمارا کردار بیان کرتا ہے۔“ وہ خود کو کوئی بھی رعایت دینے کے حق میں نہیں تھی۔ ”ایسا مت سوچو مطیبہ! کیسی الٹی سیدھی باتیں سوچ رہی ہو۔“ خضریٰ کو سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کیسے سمجھائے؟”پتا نہیں! مجھے نہیں معلوم کہ میں یہ سب کیوں سوچ رہی ہوں؟ یا کیوں میرے ساتھ ہی یہ سب ہوتا ہے۔“ وہ بےبسی سے سر پکڑ کر بیٹھی تھی۔حد سے زیادہ سوچنا بھی ذہنی پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ خود کو مصروف رکھا کرو۔“ ایسے وقت میں خضریٰ اسے اور کیا کہتی؟”کوئی بات پریشان کر رہی ہے؟ جو بھی ہے بلا جھجک کَہ ڈالو!“ ”میں ڈھیر سارا رونا چاہتی ہوں خضریٰ! اتنا کہ دل کا سارا غبار، سارا بوجھ آنسوؤں کے رستے بہ جائے۔ میں بہت تھک گئی ہوں۔ اپنی ناقدری اور بے وقعتی کا احساس کئی دن سے مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔“ وہ اتنی پریشان تھی کہ یہ سب کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے۔”اے پاگل! یہاں مت رونے بیٹھ جانا۔“ خضریٰ ایک دم سے اٹھ کر اس کے قریب ہوئی تھی اور اسے چپ کرواتے ہوئے بولی:”ابھی کوئی ٹیچر آ گئی تو کیا کہو گی؟ اور پھر کس کس کو وضاحت دیتی پھرو گی۔“”کوئی جگہ ہی تو نہیں ملتی، نہ گھر میں نہ باہر، کہ جہاں دل کھول کر رو سکوں۔“ واصب کی باتیں یاد آتی تو پھر دل نئے سرے سے محبت کرنے کو ہمکتا تھا لیکن اندر کہیں کوئی عجیب سا خوف یا وہم بھی کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔ جسے وہ کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھی۔”واصب نے کچھ کہا ہے کیا۔۔؟“ خضریٰ نے اندازہ لگایا تھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔”ایسے کیسے مل لیں کہیں۔۔ یہ اس کا امریکہ نہیں ہے۔“ اسے واصب پہ غصہ آیا تھا۔”امریکہ کے نقشِ قدم پہ تو ہے۔“ اس کیفیت میں بھی مطیبہ کو ہنسی آ گئی تھی۔”ہاں تو۔۔؟ اگر وہ سنجیدہ ہے تو سیدھے سبھاؤ رشتہ لے آئے ورنہ اسے کہو کہ میرا دماغ خراب نہ کرے۔“ خضریٰ نے بے سمت سوچوں کو ایک راہ دی تھی۔ ”رشتہ؟ مطلب شادی؟“ وہ چونکی؛ اس نہج پر تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔”ہاں! شادی! تم وقت گزاری کرنے کے لیے نہیں ہو مطیبہ! اگر وہ سنجیدہ ہوا تو فوراً اپنے والد محترم کو لے آئے گا نہ ہوا تو۔۔۔“ مطیبہ کی سوچ اس کے خیالات کو ایک راہ ملی تو دل جیسے مطمئن ہوا تھا۔ وہ شاید اتنی بے چین تھی کہ اس بارے میں سوچ ہی نہیں سکی تھی۔”یہ تو میں نے سوچا ہی نہ تھا۔“ اس نے چہرہ دوپٹے کے پلو سے صاف کیا تھا۔”دل میں اتنی باتیں جمع رکھو گی تو کام کی باتیں کیسے سوچو گی؟ پہلے ذکر کیا ہوتا تو۔۔۔“ خضریٰ نے اسے نارمل ہوتے دیکھا تو شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔”پہلے کیسے ذکر کرتی؟ جو چیز جب ہونا طے ہو، تبھی تو ہوتی ہے۔“ اس نے اٹھ کر پانی کا گلاس بھرا اور پانی پینے کے بعد بولی:”زندگی اور موت کی طرح ہر چیز کا وقت مقرر ہی تو ہے۔“ خضریٰ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ وہ خوش تھی کہ مطیبہ کچھ پر سکون ہو گئی تھی۔”خضریٰ! تمھارا ہونا نعمت ہے۔“ مطیبہ نے تشکر سے اسے دیکھا تھا۔ ”تمھارا بھی۔۔۔“ دونوں ہی مسکرا دی تھیں۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

لہیم جاہ کی خواہش کے مطابق اگلے ڈیڑھ سے دو گھنٹوں میں نکاح خوان اور وکیل دونوں ہی وہاں موجود تھے۔ اسفند جاہ بھی یہ سن کر سناٹے میں آ گئے تھے کہ ان کا بیٹا یہ سب کر رہا ہے۔”تم چوروں کی طرح نکاح کیوں کر رہے ہو؟ ایسی کیا آفت آن پڑی ہے کہ تمھیں یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑ رہا ہے؟“ عبدالمعید کی زبانی انھیں تابعہ کے اغوا سے لے کر اس کی بازیابی اور شجاع کو گولی لگنے تک کے تمام واقعات کا علم ہو چکا تھا۔”میں چوروں کی طرح چھپ کر نکاح کروں یا ڈاکوؤں کی طرح دن دیہاڑے میری مرضی!“ وہ پہلے کب انھیں جواب دہ تھا جو اب سیدھا جواب دیتا۔ صد شکر کہ اس وقت وہ دونوں ہی وہاں تنہا تھے۔”یوں بھی آپ کے لیے اہم یہ حالات نہیں، میرا نکاح ہے۔“ اسفند جاہ دل ہی دل میں تو بےحد خوش تھے لیکن ایک باپ ہونے کی حیثیت سے وہ تابعہ کے باپ کی غیر موجودگی میں اس سب کے قائل نہیں تھے یہی وجہ تھی کہ اس سے استفسار کر بیٹھے تھے۔”یہ حالات ہی تو اہم ہیں۔ کہیں تم نے خود ہی تو یہ سب نہیں کیا؟ تاکہ یہ نکاح کر سکو؟“”ڈیڈی!!!“ پروفیسر عباد بدر نے جب اس پہ الزام لگایا تھا تب بھی وہ تڑپ اٹھا تھا لیکن جتنی تکلیف اب اپنے ہی باپ کے منھ سے وہ سب سن کر ہوئی تھی اتنی اس وقت نہیں ہوئی تھی۔ حالاں کہ پروفیسر صاحب کے تو الفاظ بھی ناوک و خنجر سے کہیں زیادہ تیز دھار تھے۔؎ دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی(حفیظ جالندھری)”آپ کی ذات پہ انگلی اٹھانے اور کیچڑ اچھالنے والا کوئی غیر ہو تو ہم چپ رہ سکتے ہیں کہ غیر تو غیر ہے وہ آپ کو جانتا نہیں ہے لیکن کیا کیا جائے جب کیچڑ اچھالنے والا کوئی اپنا ہی ہو۔۔۔؟؟“ اسفند جاہ کو احساس ہوا کہ اس سے جلد بازی کا گلا کرتے کرتے وہ خود جلد بازی میں بہت کچھ غلط کَہ گئے ہیں۔”میرے کہنے کا مطلب۔۔۔“”ڈیڈی پلیز! آپ کی وضاحتیں آپ کے الفاظ کی تلخی کو کم نہیں کر پائیں گی۔“ وہ ہاتھ اٹھا کر انھیں مزید بولنے سے منع کر گیا تھا۔”اپنی ماں کو نہیں بلاؤ گے؟“ انھوں نے ایک تیر اور پھینکا تھا۔”کیا آپ نہیں چاہتے کہ ہمارے تعلقات میں یہ جو تبدیلی آئی ہے یہ برقرار رہے؟“ وہ ابرو چڑھائے ان سے پوچھ رہا تھا۔”کچھ خوشی آپ خراب کر چکے ہیں جو بچا ہوا خوشی کا احساس باقی ہے وہ میں آپ کی نصف بہتر کو بلا کر ختم نہیں کرنا چاہتا۔“”وہ تمھاری ماں ہے لہیم!“ اسفند جاہ کبھی اس سے بحث نہیں کرتے تھے لیکن آج پتا نہیں کیوں جب بحث نہیں کرنی تھی تبھی کیے جا رہے تھے۔”اس میں اگر میرا کوئی بس چلتا، کوئی اختیار ہوتا تو میں کبھی ایسا ہونے نہ دیتا ڈیڈی!“ وہ پہلے سے زیادہ اکھڑ پن سے بولا تھا۔”عجب قانونِ قدرت ہے کہ جن کے ساتھ ساری عمر رہنا ہوتا ہے ان کے انتخاب کا اختیار ہمارے بس میں نہیں ہوتا اور جن کے انتخاب کا اختیار ہاتھ میں ہو، انھیں آپ ماں باپ چننے نہیں دیتے۔“ اسے بے طرح غصہ آیا اور وہ بولتا چلا گیا تھا۔”کبھی ذات پات تو کبھی حسب نسب اور کبھی آپ لوگوں کی نام نہاد عزتوں کے اونچے شملے۔۔۔ ایک طرف وہ شخص ہے جو دنیا بھر کے بچوں کو علم بانٹتا پھرتا ہے اور اعتبار و یقین کی باتیں کرتا ہے۔ لیکن اپنی اولاد پہ یقین کی بات آتی ہے تو اپنی ہی پیدا کی ہوئی اولاد کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔“ وہ اتنا اونچا بول رہا تھا کہ باہر کھڑے عبدالمعید اور عماد بدر نے ایک ایک لفظ سنا تھا۔ دونوں ہی نے سن کر سر جھکا لیا تھا۔ عماد کے لیے اپنے بابا جان کا رویہ تکلیف دہ بلکہ شرم ناک تھا اور عبدالمعید کے لیے لہیم جاہ کا آج ہی کے موقع پر یوں پھٹ پڑنا باعثِ تشویش تھا۔”ایک بات یاد رکھیے گا ڈیڈی۔۔! وہ لڑکی تابعہ! میری زندگی ہے۔ جس دن اس کے باپ نے اسے اپنی زندگی سے بے دخل کیا تھا۔ میں نے اسی دن یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب سے اس کی زندگی کی ہر خوشی ہر تکلیف، ہر سکھ ہر دکھ کا تعلق صرف اور صرف مجھ سے ہو گا۔“ عماد نے یہ سب سن کر تشکر سے سر اٹھایا تھا۔ عبدالمعید کی آنکھوں میں اپنے جان سے عزیز دوست کے لیے محبت تھی تو عماد کی آنکھیں شکر کے جذبات سے لبریز تھیں۔”جو شخص دکھ اور تکلیف کے لمحات میں آپ کو اکیلا چھوڑ دے اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ آپ کی خوشیوں میں شریک ہو۔“ عبدالمعید بخوبی واقف تھا کہ وہ اب کیا کہنے والا ہے۔”میں مسز ایلسی جاہ کو کوئی حق نہیں دیتا کہ وہ میری زندگی کے اہم ترین دن میں شریک ہوں۔ میں آپ کے آنے کی قدر کرتا ہوں لیکن اگر آپ کو ان کے نہ آنے کا غم ہو تو پھر آپ۔۔۔“”لہیم! تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے؟“ اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی جب سرعت سے دروازہ کھولتے ہوئے عبدالمعید اندر آیا تھا۔ لہیم سمجھ گیا تھا کہ وہ اتنی تیزی سے اندر کیوں آیا تھا؟ ”ڈیڈی! میں چاہتا ہوں کہ آپ میری زندگی کے اس اہم دن میں میرے ساتھ شریک ہوں۔“ اسفند جاہ جو اس کی ادھوری بات کے مکمل ہونے ہی کے انتظار میں تھے اور یہ سوچ کر لرزاں تھے کہ کہیں وہ انھیں جانے کا نہ کَہ دے۔ یہ سب سننے کے بعد انھوں نے سکون بھری ایک گہری سانس بھری اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر محبت سے گویا ہوئے تھے:”میں ہر قدم پر تمھارے ساتھ ہوں بیٹا۔“ وہ پھر کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن عبدالمعید کی گھوری نے اسے چپ ہو جانے پر بمشکل آمادہ کیا تھا۔”ایک تو یہ شجاع! میں اس سے تنگ آ گیا ہوں۔ اب اس نے اور کتنے دن بستر سنبھالے رکھنا ہے؟ اسے نہیں معلوم کہ میرے کتنے ہی کام اس کی توجہ کے متقاضی ہیں۔“ اسے غصہ کہیں تو نکالنا ہی تھا اور وہ کہیں شجاع کے علاوہ ابھی کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ بولتا ہوا منظر سے ہٹ گیا تھا۔ اسے دراصل وہاں سے ہٹنے کا بہانہ ہی چاہیے تھا۔”آپ پریشان نہ ہوا کریں انکل! سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ اس کے جانے کے بعد عبدالمعید نے اسفند جاہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا تھا۔”اب دیکھیں نا! کہاں وہ شادی کا ذکر تک نہیں کرتا تھا اور کہاں یک لخت نکاح کے لیے بے چین ہو گیا ہے۔ جہاں اتنی تبدیلی آئی ہے وہاں اور بھی آ جائے گی۔ اللہ سے اچھی امید رکھیں۔“ انھوں نے سمجھ کر سر ہلایا تھا۔”کیا کچھ پتا چلا کہ یہ سب کس نے کیا تھا؟“ ”ابھی تک تو کچھ بھی پتا نہیں چل پا رہا۔ کچھ آدھے ادھورے سے نقوش ابھرے تو ہیں مگر کچھ بھی واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا۔“ ”وہ میں نے کل۔۔۔“”جی انکل! کہیے۔۔“ وہ اس سے ایلسی سے ملنے آئے اس شخص کا ذکر کرنا چاہتے تھے لیکن پھر بات بدل گئے تھے۔”کچھ نہیں بیٹا! تم کام کرو، وقت کم ہے۔“ وہ بات پھر کبھی پہ اٹھا رکھتے اسے ٹال گئے تھے۔ وہ سر ہلاتا وہاں سے نکلا تھا جب کہ وہ ایلسی جاہ کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔ انھیں رہ رہ کر ان کی عدم موجودگی کا قلق ہو رہا تھا۔ جو بھی تھا وہ آخر لہیم جاہ کی ماں تھیں۔ اس موقعے پر انھیں یہاں ہونا چاہیے تھا۔”کیا وہ واقعی ماں کے رتبے اور فرض کو پوری طرح ادا کر پائی تھیں؟“ یہ سوال ان کے اندر سے آیا تھا۔ المیہ تو یہ تھا کہ اس کا جواب ان سے بہتر کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭”تم نے تو کہا تھا کہ ہر مقام، ،ہر قدم پر میرا ساتھ دو گے مگر تم نے تو خود ہی آگے بڑھ کر میری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔“ وہ بری طرح اس پر برسی تھی۔”تم تو سب کچھ جانتے تھے قیام؟ پھر تم خود ہی کیسے اس رشتے کے لیے ہامی بھر سکتے ہو؟ تم تو میری زندگی کے میر جعفر و میر صادق ثابت ہوئے ہو۔“ قیام نے تاسف سے اسے گھورا تھا جو غصے میں زبان و بیان کی ساری حدود پار کر رہی تھی۔”تم اتنی بد لحاظ، منھ پھٹ اور بدتمیز ہو اس سب کے باوجود پتا نہیں کیوں میں تم سے محبت کر بیٹھا ہوں۔“ اس نے بھی زبان پہ بند باندھنے کی کوشش نہیں کی تھی اور جو دل میں تھا اس کے منھ پر کَہ دیا تھا۔”ہاں تو مت کرو نا مجھ سے محبت۔! کہا کس نے تھا کہ مجھ ایسی بدتمیز، بد زبان اور بدلحاظ لڑکی سے محبت کرو۔“ اسے اتنے صاف الفاظ میں اپنی تعریف کیے جانا پسند نہیں آیا تھا اسی لیے تڑخ کر جواب دیا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی قیام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔”کیوں کہ تمھاری سب بدتمیزیاں اور یہ اکھڑ مزاج سہنے کا حوصلہ تمھارے ان پروفیسر صاحب میں بھی نہیں ہے۔ یہ صرف میں ہی ہوں جو تمھارا ہر رنگ ڈھنگ ہنس کر برداشت کر لیتا ہوں۔“ اس نے اپنے تئیں بختاور کو لاجواب کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوا تھا مگر وہ بختاور ہی کیا جو اتنی جلدی ہار مان جائے؟”تم اپنے وعدے سے مکر رہے ہو قیام۔“ لاجواب ہوئی تھی لیکن پیچھے نہیں ہٹی تھی۔”میں اب بھی ہر قدم پر تمھارے ساتھ ہوں۔“ وہ اپنی کہی بات پر قائم تھا۔”زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ہر اونچ نیچ میں، ہر دکھ سکھ میں۔۔۔“ وہ مسکرایا اور شریر لہجے میں اپنے دل کی بات اس تک پہنچائی تھی۔”تو تم پروفیسر عباد بدر تک میرے دل کی بات پہنچانے میں میرا ساتھ دو گے؟“ وہ خوشی سے معمور ہو کر بولی تھی۔”تمھارا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم کنویں میں چھلانگ لگانے جاؤ گی تو میں خود تمھیں دھکا دینے پہنچ جاؤں گا۔“ وہ برا سا منھ بنا کر پاس پڑہ بید کی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا تھا۔”تم ایسا نہیں کر سکتے قیام؟“ اس کی خوشی ماند پڑی تھی۔”ہاں! کیوں کہ تم جو کر رہی ہو وہ تو بالکل ٹھیک ہے۔“ وہ بھی چڑ کر بولا۔ چہرے مہرے سے خفگی صاف عیاں تھی۔”محبت پہ بس نہیں چلتا قیام۔“ وہ کچھ نرم پڑی تھی۔ جانتی تھی کہ ایک وہی تھا جو اس کی مدد کر سکتا تھا، اس کا ساتھ دے سکتا تھا۔”یہی بات تم کیوں نہیں سمجھتی کہ محبت پہ بس نہیں چلتا۔“”تم اتنے خود غرض کیوں بن رہے ہو؟“ وہ پھر غصے سے تلملا کر بولی تھی۔”تم جو بھی کہو بختاور! لیکن میں اتنا بھی حاتم طائی نہیں ہوں کہ قسمت سے ملتی اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں سے ٹھکرا دوں۔“ بختاور کچھ پل کے لیے چپ سی ہو گئی تھی۔ کچھ بول ہی نہیں پائی تھی۔ وہ اٹھ کر اس کے عین سامنے آیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا:”میں ایک عام سا انسان ہوں بختاور! اور عام انسان ہی کی طرح مجھے بھی اپنی محبت چاہیے، کسی بھی طرح، کسی بھی قیمت پر۔۔“ اپنی بات مکمل کرکے وہ اس کے جواب کے انتظار میں کھڑا نہیں رہا تھا۔ بس ایک بھرپور نظر سے اس کے چہرے کے خد و خال حفظ کرتا وہاں سے چلا گیا تھا۔ وہ اکیلی کھڑی پیچ و تاب کھاتی رہی تھی۔ اب اسے خود ہی کرنا تھا جو بھی کرنا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

”تم بھی چلتی ہمارے ساتھ مطیبہ!“ رضیہ نے بازار سے کچھ چیزیں لینی تھیں۔ مطیبہ کا دل نہیں تھا تو انھوں نے شہرین کو تیار ہونے کا کہا تھا۔ شہرین نے چادر سے چہرے پر نقاب سیٹ کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر کہا تھا۔”سچ میں شہرین! میں ابھی بہت تھکی ہوئی ہوں۔ اگر امی کو بہت ضروری کام نہیں ہے تو آج رہنے دیں کل ہم دونوں سکول سے لے آئیں گے۔“ اس نے منع کیا ساتھ ہی ایک تجویز بھی پیش کی تھی۔”نہیں! میں نے آج ہی سامان لانا ہے۔ کل یا پرسوں تمھارے ابو لاہور جا رہے ہیں تو بھائی کے لیے کچھ سامان بھیجنا ہے۔“ لاہور کے ذکر پر شہرین کا دل دھڑکا تھا۔ اپنا گھر، اپنا آنگن بری طرح یاد آیا تھا۔ اس کے دل نے بھی وہاں جانے کی تمنا کی تھی۔ مگر تایا ابو کا خیال آتے ہی دل کی بات دل میں رہنے دی تھی۔”زعیم اور تمھارے ابو کسی بھی وقت گھر آ جائیں گے۔ اچھا ہے تم گھر رہو۔ تمھاری بھابھی ہوتیں تو مجھے فکر نہ ہوتی۔“ رضیہ نے کہا تھا۔ شہرین ان کے ساتھ گھر سے نکلی تھی۔ وہ بالکل اکیلی تھی۔ بھابھی دو دن پہلے ہی اپنی بہن کے گھر راول پنڈی گئی تھیں۔ سالن امی بنا چکی تھیں۔ کرنے کو کوئی کام نہیں تھا تو وہ وقت گزاری کے لیے ٹیب پہ فلم لگا کر بیٹھ گئی۔”ہیلو!“ میسج کی ٹون بجی اور موبائل کی سکرین روشن ہوئی تھی۔ ”کہاں ہو مطیبہ؟“ واصب کا بے وقت میسج اور اس پہ مستزاد اس کا بے تکا سوال۔۔۔”گھر ہوں، اور کہاں ہونا ہے۔“ فلم دلچسپ تھی اور وہ پوری توجہ لگائے ہوئے تھی۔ بے دھیانی میں جو ذہن میں آیا لکھ دیا تھا۔”میرے ساتھ، میرے پاس۔۔۔“ ایک دل اور ایک آنکھ مارتی ایموجی کے ساتھ اس کا پیغام موصول ہوا تھا۔”دن میں خواب دیکھنا بند کر دیں۔“ اس نے مچلتے بہکتے دل کو ڈپٹ کر چپ کرواتے ہوئے اسے جواب دیا تھا۔”میں خواب دیکھتا نہیں بلکہ اوروں کے خواب دیکھنے کا سامان کرتا ہوں۔“ اس کی بات پر اس نے سر جھٹکا تھا۔”میں مصروف ہوں۔“ لکھ کر فون رکھنا ہی چاہا تھا جب میسج موصول ہوا تھا۔”اب کیا گھر آئے مہمان کو دروازے سے ہی رخصت کر دو گی؟“ وہ یک دم چونکی تھی۔ فلم بند کرتے، باہر کان لگائے تو باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی تھی۔”میرا وہم ہو گا۔ وہ یہاں کہاں سے آنے لگا۔۔!؟“ میسج کا جواب دینے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بجی تھی۔”ابو یا زعیم کے آنے کا وقت تو نہیں ہوا ابھی۔۔۔“ وہ اب بھی واصب کی بات کو مذاق ہی میں لے رہی تھی۔”کون؟“ عادت کے مطابق اس نے دور سے ہی ہانک لگائی تھی۔ ایک ہاتھ میں فون تھا دوسرے ہاتھ سے جلدی میں دوپٹے کا ایک پلو سر پر رکھتے وہ دروازے کے قریب آئی تھی۔”دروازہ کھولو مطیبہ!“ اس آواز نے اس کے قدم جکڑے تھے۔ ایک سحر زدہ شخص کی مانند اس نے دروازہ کھولا تھا۔”آپ۔۔۔!!“ خاکی پینٹ پہ گہری نیلی شرٹ اور نیلا ہی کوٹ پہنے اپنی خوب صورتی کے تمام تر ہتھیاروں کو تیز کیے، پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا غور سے اسے دیکھتا واصب، یک بارگی اس کے دل کو پوری شدت سے دھڑکا گیا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Khan Mahnam

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *