کمرے میں نیم ملگجا سا اندھیرا چہار سو پھیلا ہوا تھا۔ کھڑکی کے بلائنڈز ہٹے ہوئے تھے اور بس اس ایک حصے میں پڑتی روشنی اور اس کھڑکی کے پاس دیوار کے ساتھ رکھے کمپیوٹر سسٹم کی روشن اسکرین سے جھلکتی روشنی نے کمرے کے اتنے ہی حصے کو اندھیرے سے بچا رکھا تھا جتنا ضروری تھا۔ دروازے کا لاک کھلنے کی آواز آئی تھی۔”اندر آ جاؤ زمان! تمھیں کب سے اجازت لینے کی ضرورت پڑ گئی!؟“ کی بورڈ پر تیزی سے کام کرتی اس کی انگلیاں پل بھی کر رکی تھیں۔ زمان اندر آیا تو پھر سے حرکت میں آئی تھیں۔”بند دروازے اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ کوئی چیز راز رکھی گئی ہے اس لیے دستک کے بغیر جانا اخلاقیات کے منافی ہے۔“ زمان نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چند اخبار اس کی میز رکھتے ہوئے کہا تو ضربان کرمانی نے چہرے پر مرعوب ہو جانے والے تاثرات لیے اسے دیکھا اور بولا:”تمھارے یا میرے منھ سے اخلاقیات کی بات جچتی نہیں ہے ویسے۔۔۔“ وہ کمپیوٹر کی اسکرین بند کر کے ایک اخبار اٹھا کر دیکھنے لگا تھا۔”قاعدے اور اخلاق تو مجرم بھی رکھتے ہیں سر!“”تو تم نے مان لیا کہ ہم مجرم ہیں؟“ اس نے اخبار سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ جس کی ذہنی کشمکش ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔”دنیا کی عدالت میں ہوں یا خود اپنے ضمیر کی، جرم تو ہم نے کیا ہے۔“ وہ ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔”جب سزاوار کو سزائیں پوری نہ ملیں تو وہ مزید جرم پر سر اٹھاتا ہے۔“ ضربان کرمانی اس کی بات سن کر معنی خیزی سے مسکرا دیا تھا۔”بہت گنجلک باتیں کرنے لگے ہو زمان! جرم اور مجرم کے بارے میں اتنا سوچنا کہیں خود تمھیں مجرم نہ بنا دے۔“ اس نے اخبار بند کر کے میز پر واپس رکھی تھی۔ ایسی کوئی خاص اور قابلِ ذکر خبر نہیں تھی جس کا وہ منتظر تھا۔”میں تو سزا دینے والے منصف کو سوچتا رہتا ہوں کہ اس نے معاملہ ادھورا کیوں چھوڑ دیا جب کہ بازی ہمارے ہاتھ میں تھی۔“ زمان کا غصہ ابھی تک کم نہیں ہوا تھا۔ مگر مجبوری یہ تھی کہ ضربان کرمانی کے سامنے اس کی ایک نہ چلتی تھی۔”لہیم جاہ کو مار کر اسے ایک ہی بار ہر رنج و الم سے رہائی دینا، یہ ایسی کوئی بڑی سزا نہیں تھی زمان!“ وہ نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولا تھا۔”ایک ایک لمحہ گھٹ گھٹ کر جینا اور موت کی آرزو کرنا، اس سے بڑی کوئی سزا نہیں ہے اور میری عدالت نے لہیم جاہ کی یہی سزا تجویز کی تھی۔“ زمان کریم مطمئن ہوا یا نہیں مگر اس نے مزید کچھ نہیں کہا تھا۔”بہ ہر حال! چھوڑو یہ سب، تم یہ بتاؤ کیا ان علاقوں میں کہیں صفِ ماتم بچھا؟ کیا کہیں کوئی درد بھری آواز گونجی جسے سن کر دل کو قرار آئے یا ویرانے میں بہار آئے؟“ موضوع بدلنے کی غرض سے وہ شگفتگی سے بولا تھا۔”ایسا کچھ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے روم جل جانے کے باوجود نیرو چین کی بانسری بجا رہا ہے۔ نہ کہیں آگ بھڑکتی دیکھی نہ کسی نے دھواں اٹھتا ہی دیکھا۔ جیسے ان سب کا وجود ہی عنقا ہو گیا ہے۔“ ضربان کرمانی نے حیرت سے اسے دیکھا گویا اس کی بات کی وضاحت طلب کر رہا ہو۔”اتنے دنوں سے لہیم جاہ اور اس کا دوست معمول کے مطابق اپنے اپنے دفتر جا رہے ہیں۔ شجاع فرید زندہ ہے یا مر گیا، اس بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔“ وہ چونکا تھا۔”شجاع گولی لگنے کے باوجود کیسے بچ سکتا تھا؟ اور اگر وہ واقعی بچ گیا تو کسی بھی ہسپتال میں داخل کیوں نہیں تھا؟“ وہ اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا تھا۔”اور اگر وہ مر گیا ہے تو وہ جس قدر لہیم جاہ کے قریب تھا، اس کا حق تھا کہ اسے پوری شان سے سپردِ خاک کیا جاتا۔“ اس کی خود کلامی سنتا زمان ان تمام پہلوؤں پر پہلے ہی سوچ چکا تھا لیکن اسے بھی کوئی جواب نہیں ملا تھا۔”اور اس لڑکی کے بارے میں کیا اطلاع ہے؟“ اب تابعہ کے بارے میں سوال ہوا تھا۔”اس کے باپ نے سارا الزام لہیم جاہ پر لگانے کے بعد اس سے لاتعلقی اختیار کرنے کا کہا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک اس لڑکی کا بھی کوئی اتا پتا نہیں ہے۔“ زمان کریم نے بتایا تھا۔ ضربان کرمانی ٹھوڑی کھجاتا، سوچ میں غلطاں ہوا تھا۔”ایسا کیسے ممکن ہے کہ دونوں ہی کو کچھ نہ ہوا ہو۔“ اسے یاد تھا کہ شجاع فرید کو ماری گئی گولی نے اس کے چیتھڑے اڑا دیے تھے۔ اس کا بچنا ممکن نہیں تھا۔ تابعہ کے زخم بھر جاتے تو وہ بچ جاتی مگر شجاع فرید کا بچنا۔۔۔ ناممکن تھا۔”ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟“ یہ سب سوچتے ہوئے وہ یہ بھول چکا تھا کہ انسان کسی کی جان لینے کے کتنے ہی درپے کیوں نہ ہو؛ مالکِ کون و مکاں، خالقِ دو جہاں جب تک نہ چاہے کسی کی سانسوں کا سلسلہ ٹوٹ نہیں سکتا۔”میں نے کہا تھا آپ سے کہ کام ادھورا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہم اس لڑکی کو دوسرے مقام پر منتقل کر سکتے تھے۔ ایسے میں لہیم جاہ کو جو چوٹ پہنچتی، اس کا درد اسے مدتوں یاد رہتا۔“ زمان کریم کو اب بھی اس سے شکایت تھی جس نے عین وقت پر نجانے کیا سوچ کر تابعہ کو اس زخم خوردہ اور برہنہ حالت میں اس ویرانے میں چھوڑ دیا تھا۔”میں چاہوں تو اب بھی بازی پلٹ سکتا ہوں۔“ اسے اب بھی یقین تھا کہ وہ لہیم جاہ کو تباہ کر سکتا ہے۔”حد سے بڑھا ہوا اعتماد انسان کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔“ زمان کریم نے پھر کہا تھا۔ انداز ہنوز خفگی لیے ہوئے تھا۔”زمان! جو چبھن اور خلش میں لہیم جاہ کو دینا چاہتا ہوں وہ میں خود لے کر جینا نہیں چاہتا۔ ضمیر مر رہا ہے مگر کچھ سانسیں ابھی باقی ہیں تو باقی رہنے دو۔ اسے جینے دو۔“ وہ عجیب سے تاثرات کا شکار ہوا تاہم کچھ بولا نہیں تھا۔”لیکن اب آپ کیا کریں گے؟“ کچھ پل کی خاموشی کے بعد سوال کیا تھا۔”میں لہیم جاہ سے ملوں گا۔ بہت ہوا یہ چوہے بلی کا کھیل، اب وقت آ گیا ہے کہ کھل کر سامنے سے وار کیا جائے۔“ زمان حیرت سے بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔ جو خود اپنے ہی قول و فعل کے تضاد کا شکار ہو رہا تھا۔ اس کے بعد دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہموہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی(نصیر الدین نصیر)دروازہ وا ہوتے ہی واصب نے اپنے لہجے میں چاشنی اور محبت سموتے، کچھ اٹک کر کچھ ٹھہر کر شعر سنایا تھا۔ مطیبہ منھ کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ میسج پر وہ اکثر شاعری بھیجتا ہی رہتا تھا لیکن موبائل فون پر اس جیسے شخص کے لیے بھی شاعری گوگل کرنا کون سا مشکل تھا جسے سادا سی اردو بھی مشکل سے سمجھ میں آتی تھی لیکن وہ یوں اسے شعر سنا دے گا یہ اس نے نہیں سوچا تھا۔ اگلے ہی پل اس نے مطیبہ کی سوچ کو لفظ دیے تھے۔”آپ یہاں۔۔۔؟“”ڈیڈی نے کہا تھا شہرین سے ملوں تو میں نے اس حکم کو موقع غنیمت جانتے ہوئے تم سے ملنے کا وسیلہ سمجھا۔“ ”شہرین گھر پہ نہیں ہے۔“ واصب نے اس کے عقب میں نگاہ دوڑائی۔ گھر میں پھیلے سناٹے گواہ ہوئے کہ وہ گھر پر اکیلی ہے۔”تمھیں میرے جذبات کی قدر کرنی چاہیے مطیبہ! تم اندازہ کر سکتی ہو گی کہ اتنا مشکل شعر یاد کرنے میں مجھے کتنا وقت لگا ہو گا۔“ اسے گہری نظر سے سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے وہ دو قدم چل کر دروازے سے اندر آیا تھا۔”مجھے قدر ہے۔“ وہ پیچھے ہوتی، آہستگی سے بولی تھی۔ فون پر پردے میں رہتے ہوئے بات کرنا اور بات تھی اور یہاں اس کا سامنے کھڑے ہونا اور۔۔۔ اس کی دھڑکنیں تیز تر ہوئی تھیں یہاں تک کہ اپنے دھڑکتے دل کی آواز اس نے کانوں سے سنی تھی۔ مزید جب واصب نے بائیں ہاتھ سے دروازہ بند کیا تو تنہائی کے خیال سے پیشانی عرق آلود ہوئی تھی۔”قدر کرتی تو ملنے میں ہچکچاتی نہیں۔۔۔“ وہ اس کے بالکل سامنے نہایت قریب کھڑا تھا۔ اتنا کہ ہاتھ بڑھاتا تو چہرے کو چھو لیتا۔”مجھے ایسے ملنا پسند نہیں ہے۔“ جی کڑا کر کے اس نے کہا تھا۔”پھر کیسے ملنا پسند ہے؟“ بائیں آنکھ کا کونا دباتے، وہ مخمور لہجے میں بولا تو مطیبہ کے دل کو کچھ ہوا ، ساتھ ہی کچھ ان ہونی کا احساس ہوتے ہی دماغ نے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔”جب پسند کرتے ہیں تو اس طرح چھپ کر ملنا کیا معنی رکھتا ہے؟“ اس کا اعتماد بحال ہونے میں لمحہ لگا تھا۔”میں تو سب کے سامنے بھی ملنے کو تیار ہوں، تمھیں ہی نہیں ملنا تھا۔“ ”سب کے سامنے، لیکن کس رشتے اور تعلق سے۔۔۔؟“”اوہ اچھا۔۔!“ وہ اب جا کر اس کا مدعا سمجھا تھا۔ سر پیچھے کو جھٹک کر دھیرے سے ہنسا، اس کی بات کو مذاق میں اڑاتی ہوئی سی ہنسی۔۔۔”میں تمھیں پسند کرتا ہوں مطیبہ مگر۔۔۔“ وہ اس کے چہرے پہ آئی بالوں کی ایک شریر سی لٹ کو اپنی انگلی پہ لپیٹتے ہوئے بولا تھا۔ مطیبہ کا ذہن اس ”مگر“ کے آگے کے ادھورے جملے کو مکمل کرنے میں الجھ گیا تھا۔ اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ اس کا ہاتھ اس کے چہرے کے بےحد قریب ہے۔”مگر تم جیسی لڑکیوں سے صرف وقت گزاری کی جا سکتی ہے۔ ساری زندگی ان کے ساتھ نہیں گزاری جاتی۔“ واصب نے انگلی پہ لپٹی اس کے بالوں کی لٹ کو جھٹکا دے کر آزاد کیا تھا۔ اس ہلکے سے جھٹکے اور اس کی زبان سے نکلے الفاظ سے مطیبہ کا دل بھی جھٹکا کھا کر کرچی کرچی ہوا تھا۔(مجھ جیسی لڑکیاں۔۔۔) وہ پھر الجھی تھی۔”پتا ہے مطیبہ! جب کسی مرد کو کوئی عورت بغیر کسی محنت کے دستیاب ہو تو وہ مرد اس عورت کی کبھی عزت نہیں کرتا کجا کہ عمر بھر کا ساتھی بنائے۔ شاید کچھ مرد کر بھی لیتے ہوں مگر واصب حقانی کے لیے ایسی عورت ایک ٹشو پیپر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔“ اس کی آنکھیں یکایک نمکین پانی سے لبریز ہوئی تھیں۔ تبھی اس نے اپنے اور واصب کے درمیان کم ہوتے فاصلے کو محسوس کیا اور گھبرا کر پیچھے ہوئی تھی.(تو کیا وہ بھی اس لمحے واصب کو بغیر محنت کے دستیاب تھی؟) یہ سوچ ہی اس کے نسوانی پندار کو ریزہ ریزہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ واصب عجیب سے انداز میں مسکرایا تھا۔ وہ اس کے چہرے پہ در آتے ایک ایک خیال کو گویا کاغذ پہ لکھی تحریر کی طرح پڑھ رہا تھا۔”بےفکر رہو! جب تک تمھاری مرضی نہیں ہو گی میں تمھیں ہاتھ تک نہیں لگاؤں گا۔“ اس نے صاف الفاظ میں اسے کہا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اپنے اور اس کے مابین فاصلہ بناتی پیچھے ہوئی تھی اور اس وقت کو کوسنے لگی تھی جب اس نے گھر پہ اکیلے ہونے کے باوجود، بلا خوف و خطر واصب حقانی کی آمد پر دروازہ کھول کر اسے اندر آنے دیا تھا۔ وہ بے دھیانی میں دروازہ کھول بیٹھی تھی اور اب اس کا رواں رواں خوف سے کانپا تھا۔”کیا ہر کس و ناکس کے لیے گھر کا دروازہ ایسے ہی کھول دیتی ہو؟“ اس کا لہجہ! مطیبہ کی نگاہ نہیں اٹھی تھی۔ ایک لمحے کی بے اختیاری نے اسے کس قدر ذلیل کروایا دیا تھا۔”محبت وحبت کچھ نہیں ہوتی مطیبہ! جو ہے وقت گزاری ہے۔ جو ہے آج ہے، اگر تم چاہو تو۔۔۔“ اس کے چہرے پہ نگاہ جمائے خباثت سے کہتے واصب نے بائیں آنکھ کا کونا دبایا تھا۔”شہرین جب آئے گی میں اسے آپ کی آمد کا بتا دوں گی۔ آپ اب جا سکتے ہیں۔“ اس نے ہر خیال کو جھٹک کر اسے جانے کا کہا تھا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاتی۔”جیسی تمھاری مرضی! ورنہ ابھی موقع بھی تھا اور حالات بھی ساتھ۔۔۔“ وہ دروازے کی چوکھٹ پہ دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر دائیں بائیں دیوار پر رکھے، اس کے عین سامنے کھڑا گویا اپنے نفس اور اس کی برداشت کا امتحان لے رہا تھا۔ مطیبہ کا دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئے مگر کمال ضبط سے کھڑی رہی تھی اب اسے اندر بلا کر ایک غلطی تو کر ہی چکی تھی۔ اس کے سامنے رو کر مزید کم زور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔”چلو جب تمھارا بھی جی چاہا، مجھے بلا لینا۔ میرا نمبر تو ہے نا تمھارے پاس۔۔۔” اس نے ”جی چاہا“ پر خاصا زور دے کر کہا تھا. ”میں ہمیشہ تمھاری دل بستگی کا سامان کرنے کے لیے موجود ہوں گا۔ تمھاری ایک فون کال کا منتظر سویٹ ہارٹ!!“ شہادت کی انگلی سے اس کے سرد پڑتے چہرے کو چھوتے وہ ہاتھ ہلاتے گھر کی دہلیز پار کر گیا تھا۔ اس نے سرعت سے دروازے کی کنڈی لگائی تھی مبادا وہ دوبارہ واپس ہی آ جائے اور خود وہیں دروازے کے قریب نچلی سیڑھیوں پہ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ اپنی کم مائیگی اور بے وقعتی کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”میں تابعہ کی طرف سے گواہ بنوں گا۔“ عبدالمعید نے پرس سے آئی ڈی کارڈ نکال کر میز پر پہلے سے پڑے عماد بدر کے کارڈ کے اوپر رکھا تھا۔ عماد جو ابھی یہی سوال کرنے والا تھا خوشی کے عجیب سے احساس میں گھرا اسے تشکر سے دیکھ کر رہ گیا تھا۔”میں وجہ جان سکتا ہوں؟“ لہیم جاہ نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا تھا۔ اسے تو یہی گمان تھا کہ وہ اس کی طرف کے گواہوں میں ہو گا مگر اس نے تو اچانک ہی سب کو حیران کر دیا تھا۔”تمھیں یہ بتانے کے لیے کہ تابعہ کو کبھی تنگ کرنے کا سوچنا بھی مت! میں بھی اس کا بھائی ہوں۔“ وہ اسے گھورتا رہا پھر بولا:”یہ منھ بولے بھائی بہنیں، مجھے زہر لگتے ہیں۔“ پاکستان آنے کے بعد اس نے کئی مردوں کو بلا روک ٹوک گھر آتے دیکھا تھا جنھیں ایلسی جاہ ہمیشہ اپنا منھ بولا بھائی یا ایسا ہی کچھ کَہ کر متعارف کرواتی تھیں۔ پاکستان اور خصوصاً چکوال جیسے قدامت پسند شہر میں رہنے کے باوجود انھوں نے جتنی جلدی اس ماحول میں خود کو ڈھالا تھا بلکہ اپنے مزاج کے مطابق ایسے چور راستے بھی ڈھونڈ لیے تھے کہ اسفند جاہ جیسا ذہین شخص بھی ان کے ارادے بھانپ نہیں پاتا تھا۔ ایلسی جاہ نے ایسی ہی تو محبت کی پٹی ان کی آنکھوں پر باندھ رکھی تھی۔ البتہ لہیم جاہ جو اسفند جاہ کی ذہانت اور ایلسی جاہ کی چالاکی کا ہی حسین ترین امتزاج تھا۔ وہ سب دیکھتا اور بخوبی سمجھتا تھا۔ ماں کی عیاریوں پہ کڑھتا تو باپ کی بے وقوفی پہ ہنستا تھا۔ مگر اس طمانچے کے بعد اس نے ایسی چپ سادھی تھی کہ سب کچھ دیکھتے، سنتے ہوئے بھی اندھا، گونگا اور بہرہ بن چکا تھا۔”میں تمھاری جان لے لوں گا۔“ عبدالمعید کو کیا نہیں پتا تھا؟ وہ ساری بات سمجھ کر ہوا میں مکا لہرا کر آگے بڑھا لیکن پھر رک گیا اور ہاتھ ہلا کر اسے سامنے سے ہٹ جانے کا کہتے ہوئے بولا:”جاؤ! معاف کیا۔ اب منھ پہ چوٹ کے نشان کھائے دلہا بھی اچھا نہیں لگے گا۔“ لہیم جاہ کا بلند قہقہہ کمرے کی محدود فضا میں گونجا تھا۔اس نے نکاح کا رجسٹر اٹھا کر عماد کے ہاتھ میں دیا اور دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اندر کمرے میں تابعہ کے پاس آئے تھے۔ وہ اکیلا پن محسوس نہ کرے اور اسے تیاری میں مدد ملے، اسی مقصد کے لیے عبدالمعید نے اپنی بیوی کو بلا لیا تھا۔ وہ بھی ان سب کی طرح لہیم جاہ کی شادی کے انتظار میں تھی تو پہلے ہی بلاوے پر بچوں کو نانی کے پاس چھوڑ کر اسلام آباد سے وہاں آئی تھی۔ اس کے خیال میں لہیم جاہ یا عبدالمعید کو اتنا ہوش نہیں ہونا تھا کہ تابعہ کے لباس یا اس تیاری کی طرف دھیان دیتے تو وہ خود ہی اس کے لیے ایک کام دار سوٹ خرید لائی تھی۔ جسے پہلی نظر میں ہی عبدالمعید نے ناپسند کر دیا تھا۔”کمال کرتی ہو مائدہ! اس کے زخم ابھی پوری طرح مندمل نہیں ہوئے، حالات ابھی بہتر بھی نہیں ہیں۔ ایسے میں وہ اتنا بھاری بھرکم سوٹ پہننے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔“ اس نے مائدہ کا لایا لباس ایک طرف کرتے ہوئے، ایک دوسرا شاپر اٹھا کر اس میں سے ایک اور سوٹ نکالا تھا۔”میں نے کل شام یہ لباس لیا تھا۔“ سوکھی مہندی کے رنگ جیسا، ڈھیلا ڈھالا کاٹن کا وہ سوٹ دیکھ کر مائدہ کا منھ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔”یہ سوٹ لائے ہو تم!؟ تم اسے نکاح کے لیے تیار کروانا چاہتے ہو یا لیبر روم میں بھیج رہے ہو؟“ عبدالمعید نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہہ ضبط کیا تھا۔”ہنسو مت!“ وہ خفگی سے بولی تھی۔ اپنا لایا لباس مسترد کرنے کا اسے بڑا غم لگا تھا۔”معید! کیا ہو گیا ہے تمھاری فیشن سینس کو؟“ اس کے لائے سوٹ کا از سرِ نو جائزہ لیتے ہوئے وہ سر پیٹ کر بولی تھی۔”میں سوٹ اپنی بیوی کے لیے نہیں خرید رہا تھا جو فیشن سینس کام میں لاتا۔ یہ اس لڑکی کے لیے لے رہا تھا جو ابھی تک بیمار ہے۔“”ہاں لیکن۔۔۔“ اس نے کچھ کہنا چاہا تھا مگر عبدالمعید نے ہاتھ اٹھا کر اسے منع کیا تھا۔”اب جلدی چلو! لہیم کے دو فون آ چکے ہیں تیسرے کے بعد صرف فون نہیں طوفان آئے گا۔“ جب منزل پر پہنچے تو اس کے اندازے کے مطابق وہ شدت سے ان کا منتظر تھا۔ ماتھے کی شکن بتا رہی تھی کہ غصہ ضبط کرنا کتنا دشوار ہو رہا تھا۔”تم کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں آ گئے؟“ ان دونوں کو دیکھتے ہی اس کی کاٹ دار آواز گونجی تھی۔”تابعہ کے لیے کچھ کپڑے لینے تھے تو اسی لیے دیر ہو گئی۔“ مائدہ نے کہا اور عبدالمعید کا لایا سوٹ بیگ سے نکال کر اس کے سامنے کیا تھا۔”وہ میں لے آیا تھا۔“ اس نے میز پر رکھے شاپنگ بیگ کی طرف اشارہ کیا تھا۔”میں تمھیں کَہ کر گیا تھا کہ میں لے آؤں گا۔“”وہ میری ذمہ داری ہے تو نبھانی بھی مجھے ہی ہے۔“ اس نے سر جھٹکا۔ ”چلو اچھا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سوٹ تمھارے لائے سوٹ سے تو بہت اچھا ہو گا۔“ ان کی بحث طول پکڑے، مائدہ نے اس سے پہلے ہی شاپنگ بیگ اٹھایا اور عبدالمعید کی ہم راہی میں تابعہ کے کمرے میں آئی تھی۔ جہاں وہ پاؤں لٹکائے، دونوں ہاتھ پہلوؤں میں رکھے، سر جھکائے بیٹھی تھی۔ عبدالمعید نے کیمرے کی مدد سے اکثر و بیشتر اسے اسی حالت میں بیٹھے دیکھا تھا۔”کیسی ہو تابعہ؟ میں مائدہ ہوں۔“ اس غیر مانوس اور زنانہ آواز پہ سر اٹھا کر دیکھا تھا۔”تابعہ! یہ مائدہ، میری نصف بہتر۔۔۔“ عبدالمعید نے تعارف کروایا تھا۔ اس نے محض سر ہلایا، ایک نظر ان دونوں پہ ڈالی اور پھر سر جھکا لیا تھا۔ چند باتوں کے بعد وہ باہر گیا تو مائدہ نے بیگ سے سوٹ نکالا تھا۔”اف لہیم! میں کیا ہی کہوں اب تمھیں۔۔۔“ سوٹ سامنے آیا تو ایک نظر اسے دیکھتے ہی مائدہ بےچارگی سے کراہ کر رہ گئی تھی۔ اس کے نام پہ اس کے جامد وجود میں جنبش ہوئی تھی۔ سر اٹھا کر مائدہ کے ہاتھ میں پکڑے سوٹ کو دیکھا تھا۔ ساتھ ہی اس کی بات پر بھی کان دھرے تھے۔”اب نکاح پہ کالا رنگ کون پہنتا ہے۔“ کالے رنگ کی قمیض پہ جامنی رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھولوں کی کڑھائی تھی۔ دامن اور آستین پر کڑھائی سے ملتی جلتی لیس لگی تھی۔ رنگ کے قطع نظر دیکھا جاتا تو سوٹ بہت خوب صورت تھا۔ تابعہ کی آنکھوں میں ستائش اتری تھی۔ آج اتنے دنوں میں ڈر یا تکلیف سے ہٹ کر اس کی آنکھوں میں یہ وہ پہلا تاثر تھا جو ابھرا تھا۔ لہیم جاہ یہ تاثرات دیکھ لیتا تو شاید اس پہ فدا ہو جاتا۔”میں یہ پہن لوں گی۔“ اس نے مائدہ سے کپڑے لیے تھے۔”پہننا تو پڑے گا ہی، اس کے سوا چارہ جو کوئی نہیں ہے۔“ وہ شانے اچکا کر بولی تھی۔”کوئی شک نہیں کہ لہیم جاہ کی پسند بہت اچھی ہے۔“ وہ لباس تبدیل کر کے آئی تو نرس نے اسے وہیل چیئر سے کرسی پر بیٹھنے میں مدد دی تھی۔ پاؤں کے تلووں پہ جلنے سے جو زخم بنے تھے انھیں ابھی پوری طرح ٹھیک ہونے میں وقت لگنا تھا۔ چلنے پھرنے میں دشواری آتی تھی تو اس کے لیے مکمل تن درست ہونے تک وہیل چیئر کا استعمال ضروری تھا۔ اس کی صحت کو ذہن میں رکھتے ہوئے مائدہ نے اس کا اتنا روپ سنوار دیا کہ تصویروں میں اس کے چہرے کی زردی چھپ جائے اور زخم نمایاں نہ ہوں۔چہرے پہ گال تک آتا چاقو سے دیا گیا وہ زخم میک اپ کے باوجود چھپ نہیں پایا تھا۔ مائدہ نے آئینہ اسے تھمایا تھا۔ ”یہ زخم نہ ہوتے تو شاید میں خوب صورت لگتی۔“ اس کے ذہن میں خیال آیا تھا۔”یہ زخم نہ ہوتے تو کیا تم میرے ہو سکتے تھے؟“ ایک دوسرے خیال نے بے چین دل کو مزید بے چین کیا تھا۔ تابعہ بدر کے دل میں لہیم جاہ کی محبت کی جو کونپل ایک خود رو جھاڑی کی مانند پھوٹ پڑی تھی وہ آج پھر سے ہری ہونے لگی تھی۔ وہ پہلے اسے وہی شخص سمجھی تھی جس نے اسے اغوا کیا تھا مگر پھر عبدالمعید اور عماد، دونوں ہی نے اسے سمجھایا تھا۔ دروازے پہ ہونے والی دستک نے اسے حقیقتِ حال میں لا کھڑا کیا تھا۔ اس نے رجسٹر اٹھائے عماد اور اس کے ساتھ عبدالمعید کو اندر آتے دیکھا تھا۔ ایجاب و قبول کے مرحلے طے ہوئے، اس نے پین ہاتھ میں لیا تھا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ پین کی خوب صورتی اور بناوٹ کی جی بھر کر تعریف کرتی لیکن ابھی تو دل کسی اور ہی لَے میں تھا۔ عماد نے نکاح نامے کے اس مقام پر انگلی رکھی جہاں اس نے دستخط کرنے تھے۔ یک بارگی اس کا دل اتنی زور سے دھڑکا کہ اس نے کانوں میں دھڑکنوں کو سنا تھا۔ ہاتھوں کی لرزش وہاں موجود تینوں نفوس نے محسوس کی تھی۔ فضا میں گہرا سکوت تھا۔”تابعہ! دل سے ہر خدشے، ہر قسم کے ڈر یا خوف نکال کر زندگی کے نئے سفر کی شروعات کرو۔“ اس سکوت کو عبدالمعید کی آواز نے توڑا تھا۔”تو یہ طے تھا کہ مجھ جیسی عام سی لڑکی کو تمھاری زندگی میں اس طرح شامل کرکے خاص بنانا تھا۔“ دستخط ہو گئے تھے۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

