Web Special Novels

Dil O Janam Fida E Tu By Aniqa Ana Episode 71

”سر! ہمیں دیر ہو رہی ہے۔ وقت گزر رہا ہے۔“ لہیم جاہ اور عبدالمعید کو کسی بات پر بحث کرتے دیکھ کر، نکاح کی کارروائی کے لیے منتظر بیٹھے رجسٹرار نے گھڑی میں وقت دیکھ کر انھیں بلایا تھا۔”تو۔۔۔؟ وقت گزر رہا ہے تو کیا کریں؟ اس کا کام ہی گزرنا ہے۔“ اس دخل اندازی پر لہیم جاہ نے اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ”وہ سر۔۔۔!“ وہ بے چارا منمنایا تھا۔”کیا آپ کی بھی کوئی شبھ گھڑی ہوتی ہے کہ جو بیت گئی تو کام خراب ہو جائے گا۔“ وہ اب کیا جواب دیتا؟ پہلے ہی بول کر پھنس گیا تھا۔ محض ماتھے پر آیا پسینہ پونچھ کر رہ گیا تھا۔”کیا ہے تمھیں؟ انسان کبھی موقع محل بھی دیکھ لیتا ہے۔“ عبدالمعید نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ دیا تھا۔”تمھارے کہنے کا مطلب شبھ گھڑی کا انتظار کروں؟“ وہ شرارت سے کہتا مسکرایا تو عبدالمعید نے ماتھا پیٹا اور اگلے پل اسے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا تھا۔”اب یہ بالکل نہیں بولے گا۔ آپ نکاح کا آغاز کریں۔“ لہیم جاہ کا دل دھڑکا تھا۔ اس نے اپنے چہار جانب دیکھا تھا۔ سامنے رکھی میز کے اس پار نکاح رجسٹرار اور وکیل موجود تھے۔ بائیں طرف رکھی دو کرسیوں میں سے ایک پر عماد بدر ہاتھ بیٹھے، مضطرب سا بیٹھا تھا۔ عین اسی لمحے خالی کرسی پہ عبدالمعید نے نشست سنبھالی تھی۔ اس نے دیکھا کہ عماد بدر کے چہرے پر پھیلا اضطراب اور ان سب کے بیچ میں تنہائی کا احساس اس کے بیٹھنے سے کم ہوا تھا۔ پھر اس نے دائیں طرف اپنے ساتھ بیٹھے اپنے باپ اسفند جاہ کو دیکھا تھا۔ جن کا دل اس خوشی کا مدتوں سے منتظر تھا آج آخر کار جب وہ لمحہ آیا تھا تو انھیں یہ ہی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ خوشی کا اظہار کیسے کریں اور یہ سوچتے ہوئے ان کے الفاظ ہی کہیں کھو سے گئے تھے۔ بس وارفتگی سے اسے دیکھے جا رہے تھے اور ان کی محبت پاش نگاہوں کی تپش وہ بخوبی محسوس کر سکتا تھا۔ پھر اس نے بائیں طرف کی خالی جگہ کو دیکھا اور بس تبھی۔۔۔ تبھی اس کا دل بے چین ہوا تھا۔”سر! یہاں سائن۔۔؟“ رجسٹرار نے ڈرتے ڈرتے اسے بلایا تھا۔ مبادا وہ پھر نہ اسے ڈانٹ دے۔ کمرے میں خاموشی تھی۔ کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا۔ سب کی نظریں اس پر تھیں جب کہ خود اس کی نگاہیں جس کی متلاشی تھیں وہ اسے کہیں دکھائی کیوں نہیں دے رہا تھا؟ یہ چیز ہی اسے پریشان کر رہی تھی۔”شجاع فرید!!“ اس کی گھمبیر اور بلند آواز نے کمرے کے سکوت کو توڑا تھا۔ جہاں عبدالمعید کو اس کی بے چینی سمجھ میں آئی تھی، وہیں دروازے سے لگ کر کھڑے شجاع فرید کی جان میں جان آئی تھی۔ وہ جو یہ سوچ کر دل گرفتہ و ملول تھا کہ اسے فراموش کر دیا گیا ہے، لہیم جاہ کے منھ سے اپنے نام کی پکار سن کر گویا پھر سے جی اٹھا تھا۔”جی سر۔۔!!“ جان قربان کرتا فدائیہ انداز، وہ بوتل کے جن کی طرح اندر آیا تھا۔”کہاں تھے تم؟ تمھیں نہیں معلوم تھا کہ تمھیں سب سے پہلے یہاں موجود ہونا چاہیے تھا؟“ اتنے اہم موقعے پر وہ اس کی غیر موجودگی کیسے برداشت کر سکتا تھا؟”میں یہاں باہر ہی تھا۔“ وہ سر جھکا کر بولا تھا۔”اب اور کتنے دن تمھاری غیر حاضری برداشت کرنا پڑے گی؟ تمھیں پتا بھی ہے کہ تمھارے بغیر میں کتنا اکیلا پڑ چکا ہوں؟“ اس کے سینے پہ پٹی ابھی بھی بندھی تھی۔ ڈاکٹر نے چلنے پھرنے کی اجازت تو دے دی تھی مگر پھر بھی احتیاط لازمی تھی۔”ایک بھی دن نہیں سر!“ شجاع فرید تو اپنے مالک کی ان باتوں پر جی اٹھا تھا۔ وہ جو اس کے ایک اشارے پہ مرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ اس کی طرف سے ملنے والی اتنی اہمیت پر پھولا کیوں نہ سماتا؟”بیٹھ جاؤ یہاں۔۔“ اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے لہیم جاہ نے رجسٹر اپنے آگے کیا تھا۔ وہ جو ایک اکیلا ہی اپنے سب کاموں کے لیے کافی ہوتا تھا، آج اگر شجاع فرید کا اپنے ساتھ ہونا اہم قرار دے رہا تھا تو اس کا یہی مطلب تھا کہ وہ اپنے سے وابستہ اہم لوگوں کی نہ صرف قدر کرنا جانتا تھا بلکہ انھیں ان کی قدر کا احساس دلانا بھی اسے خوب آتا تھا۔”تم جتنے خبیث اور کمینے ہو، اس سے کہیں زیادہ اچھے ہو۔“ عبدالمعید نے محبت سے اسے دیکھا تھا۔ جو اپنے مخصوص سیاہ لباس میں آج بھی نظر لگ جانے کی حد تک دل کش اور پُر کشش لگ رہا تھا۔اس کالے لباس کو لے کر بھی دونوں میں پھر بحث ہوئی تھی۔”تم اس کالے رنگ کی جان چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟“ گہرے سیاہ رنگ کی پیٹ پہ دن کی طرح روشن سفید شرٹ پہ سیاہ ہی ویسٹ کوٹ پہنے وہ آئینے کے سامنے کھڑا سیاہ کوٹ پہن رہا تھا، جب عبدالمعید اندر آیا تھا۔”تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟“ اس نے چہرہ ذرا سا ترچھا کرکے اسے چڑایا تھا۔”تمھاری جان میں مر کر ہی چھوڑوں گا۔“ وہ قریب آ کر پرفیوم کی بوتل اٹھاتے ہوئے اسی کے سے انداز میں بولا تھا۔”اف! یہ میرے نام نہاد عاشق بے چارے۔۔۔“ اس کے لبوں کی تراش میں دل نشیں مسکراہٹ ٹھہری تھی۔”تمھارے ان نیلے پیلے رنگوں سے زیادہ تو میرا یہ سیاہ رنگ ہر رنگ پہ چھا جاتا ہے۔“ اس کے کافی براؤن رنگ کے سوٹ پر چوٹ کرتا ہوا وہ آئینے میں دکھائی دیتے دونوں کے عکس پر نظر جما کر شرارت سے سے گویا ہوا تھا۔ عبدالمعید سر جھٹک کر مسکرایا تھا۔ وہ اس کی ان باتوں بلکہ صرف انھیں باتوں پہ کیا موقوف وہ تو اس کی کسی بھی بات پر کان نہیں دھرتا تھا۔ نکاح خواں کی آواز پر وہ چونکا تھا۔ وہ اس کے سامنے ہی بیٹھا تھا۔”تم اسی قابل ہو کہ سب پر چھا جاؤ۔“ عبدالمعید مسکرایا تھا۔ جو اپنے سیاہ لباس اور کرشماتی شخصیت کے بل پر ہمیشہ ہی سب پر چھا جاتا تھا۔ جس کی فنکارانہ انگلیاں اپنا پسندیدہ سیاہ رنگ کا قلم ہاتھ میں لیے اب دستخط کر رہی تھیں۔ ”اللہ تمھیں اپنی محبت اور مکمل خوشی سے نوازے میرے دوست!“ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو دل سے دعا نکلی تھی۔ کم و بیش ایسی ہی دعا وہاں موجود ہر شخص کے لبوں پہ تھی۔ آخر کار وہ شبھ گھڑی آ ہی گئی تھی۔ عماد بدر کے دل میں اطمینان کی ایک لہر اتری تھی۔ اپنی اپنی جگہ سبھی اس کے لیے دعا گو تھے۔ ایک وہ خود تھا جس کا دل پہلے تو ایسا دھڑکا تھا گویا ابھی قیامت برپا کر دے گا اور اب ایسی چپ سادھے ہوئے تھا کہ اس کے گزر جانے کا گمان ہونے لگا تھا۔ سب نے دعا کے بعد چہروں پر پھیرے تھے۔ وہ جیسے اسی کا منتظر تھا، فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اسے تابعہ کو وہاں سے لے کر جانا تھا۔ وہ شجاع کو باہر آنے کا اشارہ کرتا باہر نکلا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭واصب حقانی نے وہ رات کلرکہار کے ایک گیسٹ ہاؤس میں گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ خواجہ ہارون اگر گھر پر ہوتے تو وہ یقیناً ان کا مہمان ہوتا مگر اب وہ خود اس کے گھر مہمان بن کر گئے ہوئے تھے تو وہ گیسٹ ہاؤس میں ہی آ گیا تھا۔ اس کے کمرے کی کھڑکی سے علاقے کی پہاڑیوں کا نظارہ بھلا معلوم ہوتا جو اگر وہ شام کے وقت یہاں آتا۔”نجانے وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جنھیں یہ گھاس پھونس، پہاڑ اور پتھروں کی خوب صورتی متاثر کرتی ہے۔“ وہ سر جھٹک کر سوچتا رہا۔ پھر کھڑکی کا پردہ برابر کرتا ہوا بیڈ پر آ بیٹھا تھا۔”مجھے تو اللہ کی بنائی اس نازک مخلوق کا حسن اور دل کشی ہی خوش کرتی ہے۔“ کوٹ کی جیب سے موبائل نکال کر گیلری میں موجود مطیبہ کی تصویر نکالی تھی۔ اس نے یہ تصویر اس کے اسکول فنکشن پہ لی تھی۔”تمھیں اندازہ ہی نہیں ہے مطیبہ کہ تم کس قدر خوب صورت ہو۔“ تصویر کو قدرے بڑا کرکے وہ اس سے مخاطب ہوا تھا۔”حسن جب اپنے آپ سے لاپروا ہوتا ہے تب اس کے شکاری گھائل بھی زیادہ ہوتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ میں تمھارے لیے اتنا بےصبر ہو رہا ہوں۔“ اس کے داہنے ہاتھ کا انگوٹھا سکرین پر اس کے ہونٹوں کو چھو رہا تھا۔ اسے شعر و شاعری سے شغف نہیں تھا تاہم اب اسے نصاب میں پڑھا میر تقی میر کا مشہور زمانہ اور زبان زدِ عام شعر یاد آیا تھا۔؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہےاس سے مل کر آنے کے بعد سے اب تقریباً چھ سات گھنٹے بیت چکے تھے۔ اس دوران میں اس نے مطیبہ کو دو تین پیغام بھیجے مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔”تم مڈل کلاس لڑکیاں۔۔۔“ اس نے غصے سے سر جھٹک کر موبائل پرے پھینکا تھا۔”ہر تعلق کی انتہا شادی ہی کیوں سمجھتی ہیں؟ بے وقوف، جاہل مخلوق۔۔۔“ وہ غصے کا گراف کم کرنے کے لیے کمرے میں ٹہلنے لگا تھا۔”جب وقت پہ ضرورت پوری کرنے کا سامان میسر ہو تو ساری عمر کے لیے یہ عذاب کیوں مول لوں؟“”تحمل واصب تحمل! صبر سے کام لو۔ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔“ اب وہ خود سے بات کرتا، خود ہی کو پرسکون کرنے لگا تھا۔”کتنا تحمل برتوں؟ اب لگتا ہے صبر کا پھل میٹھا نہیں، خراب ہونے والا ہے۔“ وہ ٹہلتے ٹہلتے تھک گیا تو کرسی پہ آ بیٹھا تھا۔ ٹھوڑی کھجاتا وہ کچھ سور سوچنے لگا تھا۔”ہو سکتا ہے ابھی وہ غصے میں ہو، یا میری بات سے صدمے میں ہو۔“ وہ مطیبہ سے کی گئی اپنی باتیں یاد کرنے لگا۔ جن پر اسے کوئی شرمندگی یا پچھتاوا نہیں تھا۔ تاہم مطیبہ کا یوں خاموش ہو جانا، بات نہ کرنا، یہ سب اس سے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔”کچھ دن اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، فی الوقت کے لیے شہرین پر توجہ مرکوز کرو۔“ دماغ نے راہ سجھائی تھی۔ ”ہوں۔۔۔“ اس نے لمبا سا ہنکارا بھرا تھا۔”یہ بھی ٹھیک ہے۔ اب ذرا ڈیڈی کی اس بھتیجی یا بھانجی سے بھی مل لوں۔ عرصہ ہوا اس ہراساں ہرنی کا ڈرا سہما روپ نہیں دیکھا۔ مدت ہوئی ہے اس کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے وہ خوف کے سائے نہیں دیکھے۔“ ہ تصور میں شہرین کا چہرہ لاتا ہوا بولا تھا۔ وہی خوف سے زرد پڑتا چہرہ جب وہ اس کے کمرے میں، اس پہ گرفت پانے کو ہی تھا کہ عین وقت پر زینت نے آ کر کام خراب کر دیا تھا۔ وہ سب یاد آیا تو شکار کے ہاتھ سے نکل جانے ہر منھ کا ذائقہ ایک بار پھر خراب ہوا تھا۔ البتہ یہ بھی تسلی رہتی تھی کہ زینت جیسی لڑکی کے مزے بھی خوب لیے تھے۔”آہ۔۔! بےچاری زینت! کون کہتا ہے کہ ہر معاملے میں اپنی ٹانگ اڑانی چاہیے۔ اب تم ناحق اپنی جان گنوا بیٹھی نا! خاموش رہتی تو زندہ بھی رہتی۔۔۔“ ذہن مطیبہ سے ہوتا شہرین اور اب زینت پہ جا ٹھہرا تھا۔ اس نے تیزی سے سر جھٹک کر اس کا خیال جھٹکا اور اٹھ کھڑا ہوا تھا۔”کل پھر شہرین سے ملتا ہوں۔ ڈیڈی کا حکم ٹال دوں، اتنا بھی نافرمان نہیں ہوں۔“ ایک کمینی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیلی تھی۔”کیا گھر جانا چاہیے؟“ ایک نیا سوال”نہیں! گھر نہیں! کیا خبر دونوں ہی مل کر کوئی تماشا نہ بنا دیں۔ آخر دونوں ہیں تو جذباتی اور بے وقوف سی لڑکیاں ہی۔۔۔“ وہ صبح شہرین کے سکول جانے کا ارادہ کرتا۔ کمرے کی لائٹ بند کر کے سونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نکاح کی شبھ گھڑی خیر و عافیت سے گزری تو عماد بدر نے ان سے جانے کی اجازت چاہی تھی۔”اب ہمیں اجازت دیں سر!“ وہ عبدالمعید کے پاس آیا تھا۔ لہیم جاہ جو شجاع فرید سے اپنی رہائش پہ جانے کی بابت کچھ بات چیت کر رہا تھا عماد بدر کے منھ سے۔ ”ہمیں“ سن کر شجاع فرید کو سارے انتظامات دیکھنے کا کہتا، ان دونوں کی طرف آیا تھا۔ ”یہ ہمیں سے کیا مراد ہے تمھاری؟“ تیکھے چتون لیے، اس سے پوچھا تھا۔”میں اور تابعہ۔۔۔“ اس کا سنجیدہ انداز دیکھ کر عماد بدر کی سانس گویا تھم گئی تھی۔”تابعہ اب میری بیوی ہے اور میری بیوی کو کوئی دوسرا شخص میری اجازت کے بغیر کہیں نہیں لے جا سکتا۔“ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے وہ سختی سے بولا تھا۔”اس کا بھائی بھی نہیں۔۔۔“ عبدالمعید کو کچھ بولنے کے لیے منھ کھولتا دیکھ کر، اس کی بات کہنے سے پہلے ہی سمجھ کر اس نے مزید کہا تھا۔”لیکن سر!“ عماد بدر نے کچھ کہنے کی کوشش میں بےبسی سے عبدالمعید کو دیکھا تھا۔”وہ میرے ساتھ میرے گھر ہی جائے گی۔ تمھیں کوئی شک، کوئی ابہام ہے تو تم اپنی بہن کے ہم راہ اس کے گھر آ سکتے ہو لیکن میری بیوی اپنے بھائی کے ساتھ اس کے ”باپ“ کے گھر نہیں جائے گی۔“ اس نے بات کے دوران میں خاص طور پر ”باپ“ بہت زور دیا تھا۔ یہ بات عبدالمعید تو سمجھ سکتا تھا کہ لہیم جاہ کیوں تابعہ کو بھیجنا نہیں چاہتا تھا مگر وہ عماد بدر کو کیسے سمجھاتا؟ کہ وہ کیوں اپنی بہن کو ساتھ نہیں لے جا سکتا یا لہیم جاہ کو کیسے سمجھاتا کہ غصے میں اولاد کو کچھ کَہ دینے یا ڈانٹ ڈپٹ دینے سے رشتے نہیں ٹوٹ جاتے۔ خون کے رشتے اتنے کچے نہیں ہوتے کہ ذرا سی ٹھیس لگنے سے کانچ کی طرح بکھر جائیں۔ خون کے رشتے تو ٹوٹ کر پھر بھی جڑ سکتے ہیں، جڑ جاتے ہیں۔ یہ ناراضیاں، یہ خفگی اور غصہ سب وقتی ہوتا ہے۔ مگر وہ یہ سب باتیں محض سوچ سکتا تھا۔ لہیم جاہ کو سمجھانا یا منوانا اس کے بس میں نہیں تھا۔ وہ کسی ضدی گھوڑے کی طرح اڑیل تھا۔ جب کوئی بات منھ سے نکال دیتا تو کر کے ہی دم لیتا تھا۔ یہاں تو معاملہ پھر اس کی محبت کا تھا۔”اور ہاں! دوبارہ مجھے یہ سر کَہ کر مت بلانا۔ مجھے یہ طرزِ تخاطب پسند نہیں آیا۔ میں تمھاری اکلوتی بہن کا شوہر ہوں تو آئندہ مجھے اسی حوالے سے مخاطب کرنا۔“ انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کرتا وہ عبدالمعید کو غصے سے گھورتا ہوا تابعہ کے کمرے میں گیا تھا۔ وہ جو اس کے منھ سے یہ سب سن کر مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کرتا ہوا منھ جھکائے کھڑا تھا۔ اس کے جانے کے بعد عماد بدر سے مخاطب ہوا تھا:”عماد! وہ تابعہ کو تمھارے ساتھ کبھی نہیں بھیجے گا۔ عقل مندی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ابھی جو وہ چاہتا ہے ویسا ہی کیا جائے۔“ ”لیکن سر!“ عماد نے بےچینی سے اس کی بات قطع کی تھی۔”تم سارے معاملے سے آگاہ ہو۔ اپنے والد کی باتیں سن چکے ہو۔ ان کا ردعمل بھی تم نے ملاحظہ کر ہی لیا ہے۔ اب تمھیں پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود اپنے منھ سے تابعہ کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟“ عبدالمعید نے کہا تو اسے بھی خیال آیا تھا۔ اس بارے میں تو اس نے ابھی تک کچھ سوچا ہی نہیں تھا۔”ابھی تم اکیلے گھر جاؤ۔ پروفیسر صاحب سے ملو اور اس کے بعد جو تمھیں ٹھیک لگے اس بارے میں مجھے فون پہ بتانا یا کسی بھی وقت فون کرکے میرے دفتر یا میرے گھر چلے آنا۔“ اس کا کندھا تھپتھپا کر اسے سمجھایا اور وہ سمجھ بھی گیا تھا۔”تابعہ اور تم میرے ساتھ چلو گے۔“ عبدالمعید اندر آیا تو لہیم جاہ کو اسفند جاہ سے الجھتے پایا تھا۔ اس نے وہیں اپنا ماتھا پیٹا تھا۔”یہ عجیب مسئلہ ہے۔“ لہیم جاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔”کبھی اس کے بھائی کا میلو ڈرامہ چلتا ہے تو کبھی اپ کا یہ جذباتی سین شروع جاتا ہے۔ اب بس بھی کریں ڈیڈی!“ اس نے تقریباً اپنے بال ہی نوچے تھے۔”میری صرف شادی ہوئی ہے میں نے کسی کو اپنی مرضی کا یا آزادی کا مالک نہیں بنا دیا جو ہر کوئی میری مرضی جانے بغیر اپنے فیصلے سنا رہا ہے۔“ اسفند جاہ کو وہ پھر وہی پرانا لہیم جاہ لگا تھا۔ اکھڑ، بد لحاظ اور ان سے بہت دور۔۔۔”بیٹے کی شادی کے بعد اسے باپ کے گھر آنا چاہیے بیٹا۔!“ انھوں نے ہمیشہ کی طرح اس کی ہر کڑوی کسیلی بات کو شہد کی طرح پیتے ہوئے اسے رسان سے سمجھایا تھا۔”بیٹے کو باپ کے گھر جانے پہ کوئی اعتراض نہ ہوتا جو اگر وہاں اس عورت کا وجود نہ ہوتا، جس سے میری کوئی خوشی برداشت نہیں ہوتی۔“ وہ نرم پڑا مگر لہجہ ہنوز سخت تھا۔”وہ تمھاری ماں۔۔۔“”ڈیڈی!“ وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے ان کے قریب آیا تھا:”میں جتنی بھی کوشش کر لوں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ آپ کی بیوی میری ماں ہے لیکن نہیں۔۔۔“ سر کو دائیں بائیں ہلاتے شدت سے بولا تھا:”وہ مجھے نقصان پہنچانے اور مجھے تکلیف دینے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔“ اسفند جاہ نے کرب سے آنکھیں میچی تھیں کہ وہ کَہ تو سچ ہی رہا تھا۔”مجھے اپنی جان کی پروا نہیں ہے ڈیڈی! مگر میں تابعہ کے لیے کوئی رسک نہیں لینا چاہتا۔“ وہ بات مکمل کرکے رکا نہیں تھا۔ جیکسن گاڑی نکال چکا تھا۔ شجاع فرید یہی بتانے اسے اندر آیا تھا۔

وہ تابعہ کے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔ دروازے کے قریب پہنچ کر وہ رکا تھا۔ وہ نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھنے کے بعد پہلی مرتبہ اس کا سامنا کرنے جا رہا تھا۔ اسے تابعہ سے محبت تھی لیکن یہ محبت ابھی کچھ ایسی دھواں دھار قسم کی بھی نہیں تھی کہ وصال کے اس لمحے کی تڑپ میں دل بےچین ہوتا یا بے صبری سے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے اس کا قرب پانے کے کیے تڑپ رہا ہوتا۔ نہ کچھ دونوں کا عشق ہی ایسا منھ زور تھا کہ جینا محال ہوتا اور وہ اس کا سامنا کرتے ہوئے اتنا گھبراتا۔ مگر جن حالات میں اس کی شادی ہوئی تھی، ان حالات نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ وہ خود کو کم زور سا انسان سمجھنے لگا تھا۔ معمول سے ہٹ کر اور بالکل اچانک سے، ایسے میں یہ سب کچھ قبول کرنا قدرے مشکل تھا۔ اگرچہ اس جیسے مضبوط قوتِ ارادی والے شخص کے لیے مشکل کچھ نہیں تھا مگر گزشتہ دنوں وہ جن حالات سے گزرا تھا اور جیسے اس نے اپنے عزیزوں کو خود سے دور ہوتے، ان سے بچھڑنے کا تجربہ کیا تھا۔ وہ اب خود کو بہت کم زور محسوس کرنے لگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تابعہ کے سامنے جاتے اس کا مضبوط ترین دل بھی ایک دائمی مریض کے زخم خوردہ دل کی مانند لرز رہا تھا۔”تابعہ!“ پہلا قدم اندر دھرا تھا اور دھیمے لہجے میں محبت سے اس کا نام پکارا تھا۔ وہ جو اپنے مخصوص انداز میں دونوں ہاتھ پہلو میں گرائے سر جھکائے بیٹھی تھی۔ ایک دم سے، لرز گئی تھی۔ اس کے جسم کا رواں رواں سامع بن کر اپنے محبوب کی آواز کو سماعت کرنے کے لیے تیار ہوا تھا۔ دل جیسے کانوں میں بجنے لگا تھا۔ اس نے نظر نہیں اٹھائی تھی۔ بس اس کی آنکھوں نے سیاہ جوتوں میں مقید اس کے قدموں کی آہٹ سنتے، اسے اپنے قریب آتے دیکھا تھا۔ نگاہ تو لہیم جاہ نے بھی نہیں اٹھائی تھی کہ دل تو اس کا اپنا بھی باغی ہوا تھا۔ اس شدت سے دھڑکا تھا کہ قیامت برپا ہوئی تھی۔”چلو تابعہ! اپنے گھر چلتے ہیں۔“ وہ اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔ اتنا قریب کہ اس کے وجود سے اٹھتی اس کے دل فریب کلون کی مہک اس کی روح تک کو سرشار کرنے لگی تھی۔ اس نے یوں ہی نگاہ جھکائے دائیں جانب رکھی وہیل چیئر کی طرف دیکھا وہ اس کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔”آج سے میں ہی تمھارا دل ہوں میں ہی تمھارا جسم ہوں۔“ وہ ایک قدم اور آگے بڑھا تھا۔”آج سے میں ہی تمھاری آنکھیں ہوں اور میں ہی تمھارے کان ہوں۔“ اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔ تابعہ نے قدرے جھجک کر اپنا ہاتھ اس کی کشادہ اور مضبوط ہتھیلی پر رکھا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس مے کچھ آگے کو جھکتے ہوئے اسے اپنی بانہوں میں لیتے، گود میں اٹھایا تھا۔”اور میں ہی ہوں جو تمھارے ساتھ قدم قدم رہوں گا۔ کیوں کہ میں ہی تمھارا سب کچھ ہوں۔“ اس کی گھمبیر آواز اس کے کانوں میں رس گھولتی اور اس کی اس درجہ قربت اسے شرم سے مزید سر جھکانے پر مجبور کر گئی تھی۔”میں ہی تمھارا سب کچھ ہوں۔“ اس کا دل اس جملے پر پہلے سے زیادہ زور سے دھڑکا تھا۔”جس لمحے میں نے اللہ سے آپ کو مانگا تھا تو وہ لمحہ ہی قبولیت کا تھا۔“ اس نے سوچا اور تشکر سے آنکھیں موند لی تھیں۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Khan Mahnam

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *