Web Special Novels

Dil O Janam Fida e Tu By Aniqa Ana Episode 72

وہ معمول کا ایک روشن دن تھا۔ موسم معتدل ہی تھا۔ بہار چار سو اپنے رنگ بکھیرے ہوئے تھی اور گرمیوں نے دھیمی رفتار سے اپنے قدم جمانے شروع کر دیے تھے۔ اسکول میں بھی نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا تھا۔ بچوں کا نئی کلاس میں داخلہ، نئی کتابیں اور نئی وردی، ان کے کھلے کھلے چہرے اس روشن صبح کی مانند سب بہت روشن تھا۔ مسفرہ اور فارعہ کو نئے تعلیمی سال میں نئی کلاس انچارج بنایا گیا تو تابعہ کی جگہ نئی ٹیچر بھی بھرتی ہو گئی تھی۔ یہی دنیا کا دستور ہے کہ جانے والے کی جگہ بہت جلدی بھر دی جاتی ہے۔ تابعہ کی جگہ بھی پُر تو ہو گئی تھی لیکن جو اس کے ساتھ والے تھے ان کی زندگی میں اس کے جانے سے آنے والا خلا ابھی تک جوں کا توں تھا۔ فارعہ کو اکثر اس کی یاد آتی تھی اور تب وہ روتے ہوئے اس کی خیریت کی دعا مانگا کرتی تھی اور بھلا وہ کر بھی کیا سکتی تھی؟ اس نے تابعہ کی جگہ آنے والی نئی ٹیچر کو اس کلاس میں جاتے دیکھا جو اس سال تابعہ کو ملنی تھی تو اسے پھر رونا آیا تھا۔ پھر جلدی سے سر جھٹک کر کلاس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔”السلام علیکم!“ مانوس سی جانی پہچانی آواز پر مطیبہ کے دل نے ایک دھڑکن مِس کی تھی۔ وہ کل سے اس کی باتیں سوچ سوچ کر بے حد اذیت سے گزری تھی۔ اب وہ پھر اسے پریشان کرنے آ گیا تھا۔”جی سر! کہیے؟ میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟“ خود کے جذبات کو پوری طرح قابو کرتے، اس نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں اس سے پوچھا تھا۔ چہرے پر کسی قسم کی شناسائی کی رمق تک نہیں تھی۔ واصب کے چہرے پر جان دار سی مسکراہٹ آئی تھی۔”تم میرے پیغامات یا کال کا جواب کیوں نہیں دے رہیں؟ تم نے تو میری مذاق میں کہی چھوٹی سی بات کو دل پہ ہی لے لیا مطیبہ!“ لہجے میں حیرانی سموئے وہ فکرمندی سے بولا تھا۔ مطیبہ کے جامد تاثرات میں خفیف سی ہلچل ہوئی تھی۔ واصب حقانی نے دل ہی دل میں خود کو اس کامیاب اداکاری پہ آسکر کا حق دار قرار دیا تھا۔”میں آپ کے یہاں آنے کا مقصد پوچھ سکتی ہوں؟“ جذبات میں تغیر کا وہ لمحہ بڑا مختصر تھا۔ وہ پھر سے پہچان بھلائے اس سے پوچھ رہی تھی۔”میں مس شہرین جواد سے ملنا چاہتا ہوں۔“ اس نے ایک گہری سانس بھرتے، مطیبہ سے توجہ ہٹا کر وہاں آنے کا اصل مقصد دریافت کیا تھا۔”مس شہرین ابھی کلاس میں ہیں اور کلاس ختم ہونے میں دس منٹ باقی ہیں۔ اگر آپ کو جلدی نہیں ہے تو کچھ دیر وزیٹرز روم میں بیٹھ کر انتظار کریں۔“ مطیبہ اپنی بات مکمل کر کے اس کے جواب کی منتظر تھی۔ وہ اسے یک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔”کیا آپ انتظار کرنا پسند کریں گے؟“ اس نے پین کی مدد سے میز کی سطح بجا کر اسے متوجہ کیا تھا۔”انتظار، تمھارا۔۔؟؟ دل و جان سے۔۔۔“ وہ سر کو ہلکا سا خم دے کر بولا تھا۔”آیا جی! ان صاحب کو کمرے میں بٹھا دیں اور جب گھنٹی بجے گی تو مس شہرین کو بلا لائیے گا۔“ ”جی میڈم جی! آئیں صاحب جی!“ واصب حقانی نے اپنے غصے اور جھنجھلاہٹ کو مسکراہٹ کے لبادے میں چھپایا اور آیا کے پیچھے اس کمرے میں گیا تھا جس کے باہر ”وزیٹرز روم“ کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔ ان دس منٹ میں وہ بیٹھا نہیں تھا بلکہ کمرے میں ٹہل کر دیواروں پہ لگے دست کاری کے نمونے ملاحظہ کرتا رہا جو اسکول کی آرٹ ٹیچر اور طلبا ، دونوں کے فن کا ثبوت تھے۔ اسے ان چیزوں میں قطعاً دلچسپی نہ تھی اور نہ اتنا دماغ ہی کہ ان نمونوں کو سراہتا۔ اسے تو صرف اپنا وقت گزارنا تھا۔”السلام علیکم! جی آپ کس بچے کے گھر۔۔۔“ وہ اس زاویے پر کھڑا ہوا تھا کہ جب تک کوئی دروازہ بند کر کے اندر نہ آ جاتا وہ سامنے نہ ہوتا۔ شہرین کو بھی مجبوراً اندر آ کر دروازہ بند کرنا پڑا تھا۔ اس کے باقی کے الفاظ اس ڈراؤنے خواب کو ایک بار پھر سراپا مجسم سامنے دیکھ کر اس کے منھ میں ہی رہ گئے تھے۔ کسی طالب علم کے گھر سے کوئی آیا ہو گا، وہ تو یہی سوچ کر مطیبہ سے بھی پوچھے بغیر اس کمرے میں آ گئی تھی۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سامنا واصب حقانی جیسے شیطان سے ہو جائے گا۔”کیسی ہو جانِ من!!؟“ اسے دیکھتے ہی جہاں شہرین کا رنگ فق اور بولتی بند ہوئی تھی وہیں واصب کے چہرے پر وہی شیطانی اور خبیث سی مسکراہٹ آئی تھی جو شہرین کی موجودگی میں اس کے چہرے پر رقصاں رہتی تھی۔”تمھیں اندازہ بھی ہے کہ کتنا ڈھونڈا میں نے تمھیں؟ اور اس سب کے لیے مجھے کیا کچھ نہیں کرنا پڑا؟“ وہ ایک ایک قدم چلتا اپنے اور اس کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے لگا تھا۔ ”ویسے بہت برا کیا تم نے، بھلا کوئی اپنے چاہنے والے سے ایسے بھی بھاگتا ہے، جیسے تم بھاگ گئی تھی؟“ اس کی اندر تک اترتی نظریں شہرین کو اپنے جسم کے آر پار ہوتی دکھائی دے رہی تھیں۔”آپ۔۔۔ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟“ آخر اس کے منھ سے نکلا تھا۔ ساتھ ہی اس نے ہاتھ گھما کر دروازے کی ناب پکڑنا چاہی تھی۔ واصب حقانی کی شاطر نگاہوں نے فوراً بھانپ لیا تھا کہ وہ وہاں سے بھاگنے کے چکر میں ہے تو وہ سرعت سے اس کے سامنے، بالکل قریب آ کھڑا ہوا تھا۔”تمھارے لیے آیا ہوں میری معصوم چڑیا۔۔“ شہادت کی انگلی سے اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے کہا تھا۔ شہرین نے پوری قوت سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ کم از کم یہ احساس تھا کہ وہ کمرے میں اکیلی تھی تو کیا ہوا؟ بالکل تنہا تو نہیں تھی۔”اوہ! میری سہمی ہوئی ہرنی اب بہادر شیرنی بن گئی ہے۔“ وہ اپنے جھٹکے گئے ہاتھ کو دیکھتے، اس کی بہادری کی داد دیتے ہوئے بولا تھا۔”جیسے یہاں آئے ہیں ویسے ہی واپس چلے جائیں۔“ شہرین نے مزید ہمت دکھائی تو اس نے بھی نرمی کا چولا اتار پھینکا تھا۔”یہ مت سمجھنا کہ میں یہاں کچھ کر نہیں سکتا۔ یہ تو میری اچھائی ہے کہ اب تک تم سے نرمی کا مظاہرہ کرتا آیا ہوں ورنہ۔۔۔“ وہ خباثت سے بائیں آنکھ کا کونا دبا کر بولا تھا۔ شہرین کا دل سوکھے پتے کی مانند لرزا تھا۔ جب کہ وہ مزید کچھ کَہ رہا تھا:”تمھارے اسی گریز اور ڈر نے مجھے تمھاری طرف آنے پر اکسایا تھا۔ پہلی ہی بار میں ہاں کَہ دیتی تو اب تک بات ختم ہو جاتی اور تمھارے جسم کی رعنائیوں کو خراج بخشنے کا میرا شوق بھی پورا۔۔۔“ اس سے زیادہ سننے کی اب اس میں تاب نہ تھی۔ خدا جانے اس میں اتنی ہمت ایک دم سے کہاں سے اور کیسے آئی تھی کہ یک لخت اس کا ہاتھ اٹھا اور واصب حقانی کے دائیں گال پر نشان چھوڑ گیا تھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا ہوتا تو اس تھپڑ کی گونج باہر تک سنائی ضرور دینی تھی۔”دفع ہو جاؤ یہاں سے، مجھے اتنا بھی کم زور مت۔۔۔“ تھپڑ مارنا ایک غیر ارادی فعل تھا جو اس سے سر زد ہوا تھا مگر جب ہو گیا تو اتنا کچھ کہنے کی ہمت بھی خود بہ خود ہی آ گئی تھی۔ وہ جو پہلے پہل اسی حیرت میں گم تھا کہ یہ ہوا کیا ہے؟ پھر جب اسے بولتے سنا تو فی الفور اس کا غصہ عود کر آیا تھا۔”بہت برا کیا تم نے شہرین!“ اگلے ہی پل اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں دبوچتے، اسے بات بھی مکمل نہ کرنے دی تھی اور سخت لہجے میں پھنکارتے ہوئے بولا:”مجھے تم بے وقوف لڑکیوں کی یہ بہادری بالکل پسند نہیں آتی۔ سوچا تھا ایسے ہی مان جاؤ گی تو کام آسان ہو جائے گا۔ لیکن نہیں! تم پاگل لڑکیاں جب تک خود کو جیمز بانڈ کی جاں نشین نہ ثابت کر لیں سکون سے نہیں بیٹھتیں۔“ اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ شہرین کا جبڑا دکھنے لگا تھا۔ درد اور خوف کی شدت سے آنکھیں بھی بھیگنے لگی تھیں۔”پہلے زینت اور اب تم۔۔۔ کتنا مجبور کر دیتی ہو تم لوگ مجھے کہ۔۔۔“ اس نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے کو دھکا دیتے ہوئے چھوڑا تھا۔ وہ زینت کا نام سن کر اپنی تکلیف بھول گئی تھی۔”کیا کیا تھا اس نے زینت کے ساتھ؟“ اس کا ذہن الجھا اور واصب سے دھیان ہٹا جو اسے دھمکی دیتا، سرخ چہرہ لیے وہاں سے گیا تھا۔”کہاں ہو تم زینت؟ کیا زندہ بھی۔۔۔“ دل خوف سے پھر لرزا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عماد بدر نے گھڑی میں وقت دیکھا اور گھنٹی کے بٹن پر ہاتھ رکھا تھا۔ اسے یہ اطمینان تھا کہ عباد بدر اس وقت گھر پر ہی ہوں گے۔”السلام علیکم بابا جان!“ وہ چوں کہ گھنٹی پر ہاتھ رکھ کر جیسے اٹھانا ہی بھول گیا تھا۔ عباد بدر اب اکثر اوقات نمازیں گھر پہ ہی ادا کرنے لگے تھے۔ اس وقت بھی وہ عصر کی نماز کی نیت باندھے کھڑے تھے۔ انھوں نے جلدی جلدی، جیسے تیسے سلام پھیرا اور دروازے پر آئے تھے۔ ساتھ ہی دروازے پر دستک بھی ہونے لگی تھی۔ یہ انداز تابعہ یا عماد میں سے کسی کا نہیں تھا وہ پریشان ہو گئے کہ کون ہو سکتا ہے؟ دروازہ کھلا اور سامنے عماد کو دیکھ کر ان کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی۔”اوہ! یہ تم ہو عماد! ایسی کیا آفت آ گئی تھی کہ تم بیل سے ہاتھ اٹھانا ہی بھول گئے تھے؟“ ایک طرف ہوتے ہوئے اسے اندر آنے کا رستہ دیا تھا۔”پیاس بہت لگ رہی تھی بابا جان! بس صبر نہیں ہو رہا تھا۔“ وہ بودی سی دلیل دیتا بیگ اٹھا کر اندر داخل ہوا تھا۔ انھیں یہ بات عجیب لگی مگر خود بھی ان دنوں ایسے الجھے ہوئے تھے کہ مزید اس پہ بحث نہیں کی تھی۔”تابعہ! تابعہ!“ اس نے گھر میں قدم رکھتے ہی تابعہ کو اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کی تھیں۔ ساتھ کی کن اکھیوں سے انھیں بھی دیکھ رہا تھا۔ جو ایک دم سے گھبرا گئے تھے۔ فون پر تو وہ اسے کئی ایک حیلے بہانوں سے ٹال دیتے تھے اب جب وہ سامنے موجود تھا تو کیا کرتے؟ وہ یہی تو دیکھنا چاہتا تھا کہ اب اپنے جھوٹ پر کیا پردہ ڈالیں گے یا تابعہ کے لاپتہ ہونے پر کیا کہیں گے؟”تابعہ گھر پہ نہیں ہے عباد!“ انھوں نے سپاٹ سے لہجے میں کہتے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا تھا کہ اسے پیاس لگی ہوئی تھی۔”آخر وہ ہے کہاں بابا جان؟ کتنے دن ہو گئے میری اس سے بات نہیں ہوئی، نہ اس کا فون ہی لگ رہا ہے۔ کیا وہ ٹھیک تو ہے؟“ وہ ان جان بننے کی مکمل اداکاری کرتا ہوا فکرمندی کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے بولا تھا۔ وہ کچھ نہیں بولے بس خاموشی سے کھڑے کچھ سوچتے رہے تھے۔”بابا جان! آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے؟“ فکرمندیی اور تشویش کی اس اداکاری میں مزید اضافہ ہوا تھا۔”تابعہ نہیں ہے عماد!“”میں وہی تو پوچھ رہا ہوں کہ وہ کہاں ہے؟ کیا فارعہ کی طرف گئی ہوئی ہے؟ میں ابھی اسے لے کر آتا ہوں۔“ اپنی بات مکمل کرکے وہ اسی وقت باہر جانے کے لیے اٹھا تو انھوں نے یک لخت اس کا بازو تھام کر کہا تھا:”وہ کہیں نہیں ہے عماد! وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے۔“ وہ ہکا بکا سا ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا تھا۔”کیا مطلب ہے آپ کا بابا جان؟“”یہی کہ وہ گھر سے چلی گئی ہے۔“ عماد نے بہت غور سے انھیں دیکھا تھا۔ جن کے چہرے پر ایسا کوئی تاثر نہ تھا جس سے اندازہ ہوتا کہ وہ کسی صدمے میں تھے یا بیٹی کی گم شدگی سے پریشان تھے۔ ”میں نے اسے بہت ڈھونڈا، مگر مجھے اس کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔“”اور آپ نے سوچ لیا کہ وہ گھر سے بھاگ۔۔۔“ یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے اس کی زبان اٹکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے بات ادھوری چھوڑی تھی۔”نہیں! میں نے اتنی آسانی سے یہ سب نہیں سوچا۔ کچھ شواہد ور آنکھوں دیکھے کی وجہ سے ہی مجھے لگا۔“ وہ اسی بےتاثر سے انداز میں کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھے تھے۔”ہو سکتا ہے وہ کسی مصیبت میں ہو بابا جان!“”وہ خود مصیبت میں ہے یا نہیں، مجھے نہیں معلوم لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ وہ ہمیں مصیبت میں ڈال کر چلی گئی ہے۔“ عماد بدر خود تابعہ کو دیکھ کر، اس سے مل کر نہ آ چکا ہوتا تو عین ممکن تھا کہ وہ ان کی باتوں پر آمنا صدقنا کہتے ہوئے فوراً یقین کر لیتا اور اسے اپنا آپ اور بابا جان دونوں ہی مظلوم لگتے کہ جن کی زندگیوں کو اس گھر کی بیٹی جہنم بنا گئی تھی۔ لیکن اب تو معاملہ ہی اور تھا۔ ”آپ ایسا کیوں کَہ رہے ہیں بابا جان؟ ہو سکتا ہے واقعی میں اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہو۔ وہ سچ مچ مصیبت میں۔۔۔“”جو کسی کے ساتھ غلط نہیں کرتے ان کے ساتھ کبھی غلط نہیں ہوتا عماد!“ وہ سختی سے بولے تھے۔ وہ انھیں ناسمجھی سے دیکھ کر رہ گیا تھا۔ ان کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔”تابعہ کے ساتھ بھی کچھ غلط نہیں ہوا بلکہ وہ خود ہی کچھ غلط کر گئی ہے۔“ اسے عبدالمعید یا لہیم جاہ کی باتوں پر یقین نہیں آیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے اور سننے کے بعد بھی کہیں موہوم سی امید تھی کہ ہو سکتا ہے شاید وہ صدمے میں تھے تو وہ سب کَہ گئے ہوں۔ اسے یقین تھا کہ وہ ان دونوں بہن بھائی سے بہت پیار کرتے ہیں تو وہ اتنی جلدی کیسے تابعہ پر شک کر سکتے ہیں؟ ایک باپ اپنی اس بیٹی پر کیسے اتنا بڑا الزام لگا سکتا تھا جب کہ اس بیٹی کو خود اس نے اپنے ہاتھوں سے پالا تھا اور اس کی زندگی روزِ روشن کی طرح ان پر عیاں تھی۔”آپ بغیر کسی ثبوت کے اتنی بڑی بات کیسے کَہ سکتے ہیں؟ مجھے نہیں لگتا کہ میری بہن کچھ غلط کر سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ضرور اسی کے ساتھ کچھ ہوا ہو گا۔“ وہ پوری شدت سے ان سے اختلاف کرتا ہوا بولا تھا۔”بس بہت ہوا عماد! وہ جو کچھ ہمارے ساتھ کر گئی ہے تمھاری کوئی دلیل کوئی جواز اس کا مداوا نہیں کر سکتا۔“ وہ اس سے زیادہ سخت لہجے میں اسے ڈپٹ کر بولے تھے۔”تمھیں اگر اپنی بہن پہ یقین ہے تو تم سے زیادہ مجھے اپنی بیٹی پر یقین تھا تا وقت یہ کہ میں نے اسے خود اس شخص کے ساتھ دیکھ لیا۔“(کاش! آپ نے وہ سب بھی دیکھا ہوتا جو میں دیکھ کر آیا ہوں۔) وہ ان کے بے لچک رویے پر اب بھی دل گرفتہ تھا۔”اب اس گھر میں میں تابعہ کا ذکر دوبارہ نہیں سنوں گا۔ لوگوں سے کیا کہنا ہے وہ سب میرا مسئلہ ہے۔ تم صرف اپنی زبان بند رکھنا۔“ اسے سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے وہ اسے احتجاج کا موقع بھی نہیں دے رہے تھے۔”آپ یہ سب۔۔۔“ اس نے کہنا چاہا مگر دروازے کی گھنٹی نے دونوں کا دھیان توڑا تھا۔”ایک لفظ نہ نکلے تمھارے منھ سے؛ بہتر ہے کہ اپنے کمرے میں چلے جاؤ۔“ وہ اسے منظر سے ہٹ جانے کا کہتے دروازے پر گئے تھے۔ عماد کا وہاں سے ہٹنے یا کہیں جانے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں تھا لہٰذا وہ ان کے پیچھے پیچھے ہی دروازے تک آیا تھا۔ اتنی دیر میں پروفیسر عباد بدر دروازہ کھول چکے تھے۔ ”تم۔۔۔!!“ سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر انھیں حقیقی معنوں میں ایک زور دار جھٹکا لگا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انکل ہارون اور صاعقہ آنٹی کی آمد کا مقصد کیا تھا؟ ڈیڈی اس بارے میں سوچ رہے تھے اور دادو کی کیا رائے تھی؟ بختاور ان سب باتوں کا جواب سارے حالات دیکھتے ہوئے اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔ اسے قیام سے اس طرح بدل جانے کی توقع نہیں تھی۔ اسے اس پر غصہ بھی تھا اور شدید رونا بھی آ رہا تھا۔ وہ بار ہا قیام سے ایک بار پھر بات کرنے کا ارادہ کرتی اور پھر سے ملتوی کر دیتی یہ سوچ کر کہ اب اسے قیام کا سہارا نہیں لینا۔ وہ اتنی کم زور نہیں تھی کہ بار بار اپنی عزتِ نفس کو کچل کر اس سے مدد مانگنے جاتی۔”پروفیسر عباد بدر کے اتنی بار سمجھانے اور مارنے کے بعد بھی تم ان کا خیال کیوں نہیں چھوڑ دیتی؟ وہاں اس نام نہاد عزتِ نفس کا خیال کیوں نہیں آتا تمھیں؟“ کوئی اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔”اوہ پلیز! اب یہ مت کہنا کہ تمھیں ان سے محبت ہے۔“ اس کے جواب سے قبل ہی اسی آواز نے اسے شٹ اپ کال دی تھی۔”یہ محبت وحبت کی باتیں صرف ہم خود کو تسلی دینے کے لیے کرتے ہیں ورنہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ ہم کچھ لوگوں کو ضرورت سے زیادہ ہی رعایت دیتے ہیں۔“”اور اسے ہی تو محبت کہتے ہیں۔“ بات گھوم کر اس کے ہی من پسند موضوع پر آ گئی تھی۔ وہ آواز تلملا کر معدوم ہوئی تھی۔”مجھے خود ہی کچھ کرنا ہو گا۔“ وہ ایک فیصلے پر پہنچتی پھر سے پر عزم ہوئی تھی۔ گھر کے سبھی افراد مع مہمانوں کے مہمان خانے میں رات کے کھانے کے بعد چائے سے شغل فرما رہے تھے۔ تہمینہ حقانی نے تو بچوں یعنی بختاور اور قیام کی وہاں موجودگی پہ اعتراض کیا تھا مگر یہ شبیر حقانی ہی کی خواہش تھی کہ وہ دونوں وہاں موجود رہیں تاکہ اپنے بارے میں ہونے والے ہر فیصلے سے آگاہ رہ سکیں۔ اس سب کے پیچھے کچھ خاص ان کا مقصد بختاور کے اندرونی انتشار کا جائزہ لینا تھا اور مزید وہ اسے تنہائی میں بیٹھ کر پھر سے وہی سب سوچنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس بات سے بے خبر کہ وہ تو سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی، بھری محفل کے بیچ اپنے ہی خیالوں میں مگن تھی۔”میرا خیال ہے ہم عید الاضحٰی کے بعد شادی کا معاملہ شروع کرتے ہیں۔“ یہ تجویز خواجہ ہارون کی طرف سے آئی تھی۔”بس بھی کیجیے ڈیڈی! اب اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ کم از کم ہمیں ہماری ڈگری تو مکمل کر لینے دیں۔“ ان کی بات پر اعتراض اٹھانے والا سب سے پہلا شخص قیام ہی تھا۔”تو تم دونوں مل کر ڈگری مکمل کر لینا۔“ وہ شگفتگی سے کہتے اسے چھیڑنے لگے تھے۔ قیام بختاور کی طرف سے سادھی چپ پہ حیران تھا کہ وہ کچھ بولی کیوں نہیں تھی؟ اسے کیا پتا تھا کہ وہ تو محفل میں ہو کر بھی محفل میں نہیں تھی۔ جب کہ تہمینہ حقانی کو ان باپ بیٹے کی سرِ عام ایسی گفت گو کچھ خاص بھائی نہیں تھی۔ وہ قدیم روایات اور پرانی سوچ کی حامل خاتون تھیں۔ انھیں ان معاملات میں کھلِ عام اور واشگاف الفاظ میں بچوں سے بات کرنا پسند نہیں تھا۔ صاعقہ نے ان کے چہرے کے زاویوں سے ان کی ناپسندیدگی کا اندازہ لگایا تو دھیمے سے مسکرا دی تھی۔ خود اس کی امی کا بھی تو یہی انداز تھا۔ وہ بچوں کے سامنے ایسی باتیں پسند نہیں کرتی تھیں۔”ہم ایسا کرتے ہیں یہ مبارک کام کب کرنا چاہیے اسے بعد میں دیکھ لیں گے۔ ابھی قیام کی بات بھی ٹھیک ہے۔ انھیں ڈگری مکمل کر لینی چاہیے۔“ صاعقہ نے سبھاؤ سے بات بدلی تو تہمینہ حقانی نے پسندیدگی کی نگاہ سے انھیں دیکھا تھا۔ ”ہاں! میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ بچوں کو اطمینان سے امتحان دے لینے چاہییں۔ کیوں بختاور! میں ٹھیک کَہ رہا ہوں نا!“ شبیر حقانی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے، ساتھ ہی بختاور کو بھی گفت گو میں شامل کیا تھا۔”بختاور۔۔!!“ وہ وہاں صرف ظاہری طور پر موجود تھی۔ ذہن تو کہیں اور ہی الجھا ہوا تھا۔ شبیر حقانی کو اسے دوبارہ آواز دے کر متوجہ کرنا پڑا تھا۔”جی! جی ڈیڈی! آپ ٹھیک کَہ رہے ہیں۔“ باقی کسی نے محسوس کیا ہو یا نہ کیا ہو البتہ خود انھوں نے اور قیام ہارون نے اس کی غائب دماغی واضح طور پر محسوس کی تھی۔ یا شاید وہ دونوں ہی اس کی دلی کیفیات سے آگاہ تھے تو وہ اس کی ذہنی الجھن کو محسوس کر پا رہے تھے۔”تمھاری طبیعت ٹھیک ہے؟“ شبیر حقانی نے فکر سے پوچھا تھا۔ وہ مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سر ہلاتے ہوئے انھیں مطمئن کرنے لگی تھی۔”ڈیڈی! اگر آپ برا نہ مانیں تو میں کل ہارون انکل کے ساتھ ہی چلی جاؤں؟ پہلے ہی میری پڑھائی کا بہت ہرج ہو چکا ہے۔“ وہ کچھ کہتے یا جواب دیتے اس سے پہلے ہی خواجہ ہارون بول پڑے تھے:”ہاں تو اس نے کیوں برا منانا ہے؟ آپ اپنی تیاری کریں بیٹا!“ شبیر حقانی نے سر ہلا کر ان کی تائید تو کر دی تھی لیکن کچھ عجیب سا احساس تھا جو انھیں ابھی بھی کھٹک رہا تھا۔ وہ احساس کیا تھا وہ یہ سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ کچھ ایسے ہی تاثرات سے قیام بھی دوچار تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Khan Mahnam

About Author

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *