اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوا تھا؟ پھر چند لمحے رک کر سوچتی کہ وہی تھا جو اسے خود محبت کے جھانسے دے رہا تھا لیکن پھر دماغ اس کی ہر دلیل بری طرح رد کر دیتا یہ کَہ کر کہ:”وہ بچی تو نہیں تھی، وہ کیوں اس کے جھانسے میں آ گئی تھی؟“ بےبسی یہ تھی کہ وہ یہ باتیں کسی سے کَہ بھی نہیں پا رہی تھی۔ واصب حقانی ریسپشن سے ہٹ کر اندر کمرے میں گیا تو اس کے ذہن میں پھر وہی جنگ چھڑی تھی۔”میرے ساتھ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے؟ کیا میں اسی قابل ہوں کہ مجھے محض استعمال کی شے سمجھ لیا جائے؟“ ذہن بھٹکا تو کیا کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا؟ ایک کے بعد ایک سوچ آتی گئی اور زخموں پہ نمک چھڑکتی گئی تھی۔ وہ جو کام کر رہی تھی اس پہ بھی دھیان نہ رہا۔ کیسا کام؟ کہاں کا کام؟ وہ تو اپنے ہی ماضی کی خاک چھاننے لگی تھی۔”میں نے زیادہ کی خواہش تو کبھی نہیں کی تھی اللہ! پھر کیوں مجھے ہی۔۔۔“ سامنے کا منظر دھندلا گیا تھا۔ غم و یاس کی وہ کیفیت اتنی شدید تھی کہ آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر بہنے کو بے تاب ہوئے تھے۔”کچھ دل محبت کے لیے نہیں بنائے جاتے۔“ اس کے دل نے سوچا تھا۔”تو کیا یہ طے تھا کہ میرا دل بھی انھیں میں سے ایک ہے؟“ اس سوچ پہ دل کرلایا تھا۔”کیوں مجھے حسرتوں کی آگ میں جلتے ہی رہنا ہے؟“ دل اتنا غم زدہ تھا کہ آنسو اس کا چہرہ بھگو گئے تھے۔ کسی کو رونے کا کیا جواز پیش کرتی؟ یا کیا ہوا؟ ان سوالات کا جواب دینے سے بچنے کے لیے اس نے چہرہ نیچے جھکا لیا اور یوں ظاہر کرنے لگی جیسے کام میں غرق ہو۔ شہرین کب اندر آئی؟ کب گئی؟ اسے پتا نہیں چلا تھا۔ ”حسرتوں کے ساتھ جینے سے اچھا ہے بندہ مر جائے۔“ بہتے آنسو رجسٹر پہ گر کر روشنائی پھیلانے لگے تو اس نے زور سے رگڑ کر اپنا چہرہ صاف کیا تھا۔ ایسی وسعت کہ چمکتے ہیں ستارے دل میںاس کو رہنا ہی نہیں آیا ہمارے دل میںسب نے آ آ کے مرا ذہنی توازن چھیڑالوگ جو جو بھی محبت سے اتارے دل میںاس کی آنکھوں سے جو دیکھے تھے انہی خوابوں نےآج کل آگ لگا رکھی ہے سارے دل میں(آل عمر)لگ بھگ پندرہ منٹ بعد اس نے دروازہ کھلنے اور پھر زور سے بند ہونے کی آواز سنی تھی اور پھر بھاری قدموں کی چاپ اس کے قریب تر ہوتی چلی گئی۔ قدموں کی آہٹ اس کے پاس پہنچ کر پل بھر کے لیے معدوم ہوئی تھی۔ نہ اس نے سر اٹھا کر دیکھا نہ وہ ہی وہاں ایک لمحے سے زیادہ رکا تھا۔ وہ دہلیز پار کر گیا تو اس نے سر اٹھا کر اس رہگزر کو دیکھا تھا۔ ”تو تمھارے لیے میں صرف ایک کھلونا تھی۔ تُف ہے مجھ پر جو میں نے تمھیں پہچاننے میں غلطی کر دی۔“ تبھی وہاں شہرین آئی تھی۔ زرد چہرہ اور پھولی ہوئی سانس۔۔۔”مطیبہ! تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ واصب آیا ہے؟“ واصب سے ملنے کا ڈر اور خوف، غصے و جھنجھلاہٹ کی صورت میں مطیبہ پر نکلا تھا۔”اس نے کہا کہ تمھارے ماموں کا بیٹا ہے اور تم سے ملنا چاہتا ہے۔“”تو تمھیں مجھ سے پوچھنا تو چاہیے تھا کہ کیا میں بھی اس سے ملنا چاہتی ہوں یا نہیں؟“ شہرین کی عادت نہیں تھی ایسے بحث کرنے یا بات بڑھانے کی لیکن وہ اس وقت جس خوف سے گزر رہی تھی ایسے میں اس کا رویہ اگر مطیبہ سچائی سے آگاہ ہوتی تو اسے حق بجانب ہی سمجھتی۔ مگر سارا مسئلہ ہی یہی تھا کہ شہرین نے اسے کچھ نہیں بتایا تھا اور اب بھی بتانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔”اب مجھے کیا پتا تھا کہ تم اپنے کزن سے ملنا نہیں چاہو گی۔ ایسا ہی تھا تو اندر جانے سے پہلے تمھیں خود ہی پوچھ لینا چاہیے تھا۔“ مطیبہ نے بھی کھردرے سے انداز میں جواب دیا تھا۔ اس وقت وہ جس ذہنی کیفیت سے گزر رہی تھی اگر شہرین کو پتا ہوتا تو وہ بھی اپنے ڈر کو قابو کر کے اس سے بحث ہرگز نہ کرتی۔ شاید دونوں ہی اپنی طرف سے اس طرح روکھا انداز اپنا کر، اپنے اپنے تاثرات ایک دوسرے سے چھپا لینا چاہتی تھیں۔ مطیبہ بات کَہ کر سر جھکائے کام میں مصروف ہوئی تو شہرین کو وہاں ٹھہرے رہنا بےکار لگا تھا۔ وہ بھی کلاس کی جانب بڑھ گئی تھی۔”اب اس میں مطیبہ کا کیا قصور؟ اسے تو نہیں پتا تھا نا کہ میں واصب سے ملنے سے ڈرتی ہوں۔“ کچھ دیر میں جب دل و دماغ معمول پر آئے تو سیڑھیاں چڑھتے اس نے سوچا تھا۔”میں بلا وجہ ہی اس پر غصہ کر آئی۔“ کلاس تک پہنچتے پہنچتے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔”ابھی کلاس ختم ہوتی ہے تو نیچے جا کر اس سے معذرت کروں گی اور اسے ساری بات بھی بتاؤں گی۔“ وہ ایک فیصلے پر پہنچ کر مطمئن ہوئی اور کلاس میں داخل ہوئی تھی۔”کیا ہو گیا تھا تمھیں مطیبہ؟ تم شہرین اسے اتنے روکھے لہجے میں بات کیوں کر رہی تھی؟“ شہرین کے جانے کے بعد ایسی ہی کچھ سوچ مطیبہ کے ذہن میں بھی آئی تھی۔”تمھارا موڈ خراب ہے اس کے بارے میں شہرین کو تو نہیں پتا تھا۔“ اسے بھی اب افسوس ہونے لگا تھا۔”کوئی بات نہیں! اب آئے گی تو میں اس سے معافی مانگ لوں گی۔“ وہ سوچ کر کچھ پرسکون ہوئی تو ذہن سے ہر خیال جھٹک کر کام پر توجہ مرکوز کی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لہیم جاہ نے گاڑی کی فرنٹ پہ اسے بٹھایا تو وہ جو اس کی قربت، اس کے وجود سے اٹھتی دل فریب مہک اور خود کو اس طرح اس کی بانہوں میں ہونے پر شرم و حیا کا پیکر بنی نگاہیں نہ اٹھا پا رہی تھی۔ اس کے پیچھے ہٹتے ہی ایسے سانس بحال کی جیسے دم اٹکا ہوا ہو۔ یہ بات لہیم جاہ نے بھی محسوس کی تھی۔ بڑی ہی بے ساختگی میں اس نے تابعہ سے کہا تھا:”تمھارا شکریہ کہ تم دھان پان سی ہو۔ تھوڑا سا وزن زیادہ ہوتا تو ایسا ہی کچھ حال میرا ہوتا۔“ وہ جو شرم سے سر جھکائے ہوئے تھی، اس بات پر اس کی آنکھیں پٹ سے کھل گئی تھیں۔ جو مسکراتا ہوا اس کی جانب کا دروازہ بند کرکے سامنے سے گھوم کر اب ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آ رہا تھا۔ وہ اسے بہت زیادہ جانتی تو نہیں تھی مگر پھر بھی اسے لہیم جاہ جیسے سنجیدہ اور خاموش طبع انسان سے اس قسم کے جملے کی توقع ہرگز نہیں تھی۔”کیا سیٹ پیچھے کی طرف کر دوں؟ تم ٹھیک سے بیٹھ جاؤ۔“ سیٹ بیلٹ لگاتے ہوئے اس نے تابعہ سے پوچھا تھا۔ بٹن پر ہاتھ رکھ کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا تھا۔ نظریں اس کے چہرے پر تھیں۔ جہاں چاقو کا گہرا زخم اس کے حسن کو گہنا رہا تھا لیکن اسے اس گہن کی پروا نہیں تھی وہ تو ہر صورت میں اپنے چاند کا عاشق تھا۔ محبت، شوق، لگن، وارفتگی اور جذبات کا موجزن سمندر نہ جانے ان نظروں میں کیا کیا کچھ نہیں تھا۔ تابعہ کی پیشانی عرق آلود ہوئی اور دل کی دھڑکنیں معمول سے بڑھ گئی تھیں۔”نہیں! نہیں میں ایسے ٹھیک ہوں۔“ چہرے کا رخ باہر کی طرف کرتے اس نے کہا تھا۔”رخ پھیر لینے سے کیا میری محبت کی آنچ تم تک نہیں پہنچے گی؟“ وہ بڑبڑایا تھا۔ تابعہ پھر حیران ہوئی تھی۔ اس نے تو ہمیشہ اسے سر جھکائے دنیا و مافیہا سے بے نیاز بس کتب بینی میں مگن ہی دیکھا تھا۔ ایک ساکت و جامد مجسمے کی مانند، ایک دیوتا کی مانند، جو اونچی مسند پر براجمان ہر ایک کو، آنکھ کی ایک جنبش سے اپنا اسیر کرنے کا فن رکھتا تھا۔ تابعہ بھی تو اسی ایک جنبش سے اس کی محبت کی ڈور میں الجھ گئی تھی۔ یہ بھی تو اسے عماد نے بتایا تھا کہ اغوا کرنے والے نے لہیم جاہ کو اذیت دینے کے لیے ہی اسے اغوا کیا تھا۔ ”انسان تبھی تکلیف محسوس کرتا ہے جب کوئی اپنا اذیت میں ہو۔“ تب عماد کی بات سن کر اس نے سوچا تھا۔(کیا میں واقعی اس شخص کو عزیز ہوں؟) پھر جب عماد نے نکاح کی بات کی تو اس کے اس خیال کو تقویت ملی تھی کہ جب بچپن سے پالتے آئے باپ نے ایک لمحے میں اسے خود سے الگ کر دیا تھا، تب اس شخص نے اسے اپنانے میں ایک ساعت نہ لگائی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی اپنی سوچوں میں گم تھی۔”آپ گاڑی کیوں نہیں۔۔۔“ جب کافی دیر تک گاڑی نہ چلی تو اس نے بولتے ہوئے پلٹ کر دیکھا جو ایک ہاتھ اسٹیئرنگ وہیل پہ اور دوسرا ہاتھ سیٹ بیلٹ پہ رکھے محویت سے اسے ہی دیکھ رہ تھا۔ وہ ایک بار پھر گڑبڑا کر رہ گئی تھی۔”اگر تم میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے میں سہولت محسوس نہیں کر رہی تو۔۔۔“ اس نے سٹارٹ بٹن دباتے ہوئے کہا تھا اور دانستہ طور پر بات ادھوری چھوڑی تھی۔”تو۔۔۔؟“ وہ ادھوری بات کے معنی اخذ کرنے لگی تھی۔”تو بھی تمھیں یہیں بیٹھنا پڑے گا۔ تمھیں میں اچھا لگتا ہوں یا برا، مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ تم میرے بارے میں کیا سوچتی ہو؟ کیا چاہتی ہو مجھے اس کی بھی پروا نہیں ہے۔ جب میں نے طے کر لیا ہے کہ تمھیں اب میرے ساتھ رہنا ہے تو ہر حال میں ہی رہنا ہے۔“ وہ ہق دق منھ کھولے اسے سنتی رہی تھی۔”آپ۔۔۔!!“ اس نے چہرے کو ذرا سا ترچھا کرکے، بھوں چڑھا کر اسے دیکھا تھا گویا پوچھ رہا ہو کیا؟”آپ گاڑی کیوں نہیں چلا رہے؟“ اسے اور کچھ نہ سوجھا تو یہی کہا تھا۔”تمھیں اتنی جلدی کیا ہے؟ ہو سکتا ہے یہ آخری دن ہو جب تم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہی ہو۔ اور یہ آخری لمحات ہوں جب تم یہ روشن دن اور چمکتا سورج دیکھ رہی ہو۔“ اس نے جان بوجھ کر گہری سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے کہا تھا ساتھ ہی اس کے چہرے کے تاثرات ملاحظہ کیے تھے جہاں ایک دم خوف کے سائے ہلکورے لینے لگے تھے۔(ابھی بہت دن لگیں گے لہیم جاہ! جب یقین کی ڈور اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ ذرا سی بات پر چہرے کا رنگ فق نہیں ہو گا۔ ابھی دن لگیں گے۔) اس نے سر جھٹکا۔ موبائل اٹھا کر اپنی پلے لسٹ میں سے مصطفیٰ زیدی کی لکھی اور مسرت نذیر کی گائی غزل چلائی تھی۔چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہدریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھواٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہزمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میںپیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہیوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دیناخطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہاس کے بعد ان دونوں میں کتنی ہی دیر کوئی بات نہیں ہوئی تھی یہاں تک کہ گاڑی پکی سڑک سے اتر کر اس ذیلی راستے پر چڑھی جو لہیم جاہ کی رہائش گاہ کی طرف جاتا تھا۔”میں نے اپنے دل کی طرح اس گھر کے دروازے بھی ہر خاص و عام کے لیے ہمیشہ بند رکھے ہیں تابعہ!“ گاڑی مخصوص روش پر جا کر رکی تو اس نے اتنی دیر میں اب کچھ کہا تھا۔ گاڑی کی محدود فضا میں اس کی گھمبیر آواز گونجی تھی۔”لیکن جس طرح اس دل کے دروازے کو تم نے کھولا اور اس کی مکین ہو گئی ایسے ہی اب اس گھر کی بھی مکین ہو جانا۔“ تابعہ کا دل پھر زور سے دھڑکا تھا۔ آج جس طرح اس کی دھڑکنیں انتشار کا شکار ہو رہی تھیں اس خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں دل دھڑکنا ہی نہ بند کر دے۔”لہیم جاہ کے دل اور گھر میں خوش آمدید تابعہ!“ اس نے آگے جھک کر اس کے ماتھے کو محبت سے چوما تھا۔ اس لمس کی تاثیر تھی یا محبت کا اعجاز تھا یا کیا تھا؟ تابعہ کو سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ اسے بس یہ پتا تھا کہ اس کے پورے وجود میں سنسنی سی پھیلی تھی اور سانس معمول سے بڑھ کر تیز ہوئی تھی۔مرے لیے ترے الطاف کی وہ اُجلی رُتعذابِ مرگ میں تھی زندگی کی آمیزشوہ چاند بن کے مرے جسم میں پگھلتا رہا لہُو میں ہوتی گئی روشنی کی آمیزشزمیں کے چہرے پہ بارش کے پہلے پیار کے بعدخوشی کے ساتھ تھی حیرانی کی آمیزش(پروین شاکر)گاڑی کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اس نے سامنے دیکھا ایک خوش گوار حیرت سے اس کا چہرہ جگمگا اٹھا تھا۔ اس کے قدموں سے گھر کے اندرونی دروازے تک کی ساری رہگزر سرخ پتیوں سے مزین تھی۔ سامنے ہی شجاع دست بستہ ہاتھ باندھے کھڑا اسے خوش آمدید کَہ رہا تھا۔ تشکر، محبت اور اپنائیت کے احساس سے لہیم کہ آنکھیں نم ہوئی تھیں۔ اس نے فوراً سے رخ پھیر کر آنکھوں میں در آئی نمی کو پیچھے دھکیلا پھر آگے بڑھ کر تابعہ کی طرف آیا اور دروازہ کھولتے ہوئے ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تھا۔”آؤ تابعہ!“ وہ اب اس کے ساتھ پہلے کی طرح جانے میں متامل ہوئی تھی وہ بھی تب جب کہ شجاع اور کچھ اور لوگ بھی وہاں موجود تھے۔”میں وہیل چیئر پہ۔۔۔“ اس نے ہاتھ بڑھایا بھی مگر نہ بڑھانے جیسا۔۔۔”میں ہی تمھاری وہیل چیئر ہوں۔“ اس نے اس کی سیٹ بیلٹ کھولتے ہوئے ایک دم سے اسے بانہوں میں اٹھایا تھا۔ وہ اس کی گردن میں بازو ڈالے شدت سے آنکھیں میچ گئی تھی۔ جیسے یوں آنکھیں بند کر لینے سے سب منظرِ عام سے ہٹ جائیں گے۔ ایسا ہی ہوا تھا۔ لہیم جاہ کے ایک اشارے پر سب ایک لمحے میں وہاں سے ہٹ گئے تھے۔”تم اس دل کی مکین ہوئی ہو تو تم دیکھو گی تابعہ کہ یہ شخص کیسی محبت کرتا ہے۔“ وہ ایک ایک قدم چلتا دل ہی دل میں اسے خوش رکھنے کا عہد کرتا اندر بڑھنے لگا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”تم!؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“ پروفیسر عباد بدر نے دروازہ کھولا تو بختاور کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے تھے۔ عماد ان کے بالکل پیچھے کھڑا تھا۔ وہ اگر بختاور کو دیکھ نہ چکا ہوتا تو انھوں نے فوراً دروازہ بختاور کے منھ پر بند کر دینا تھا۔ اب مجبوری یہ تھی کہ عماد اسے دیکھ چکا تھا۔ نہ صرف دیکھ چکا تھا بلکہ اس کے بارے میں سوال بھی کر بیٹھا تھا۔”یہ لڑکی کون ہے بابا جان؟“ ”السلام علیکم سر! کیا آپ مجھے اندر نہیں بلائیں گے؟ یوں دروازے پر کھڑے ہونا کچھ معیوب بھی لگتا ہے۔“ وہ اتنی بے تکلفی سے گویا ہوئی جیسے بہت اچھے تعلقات رہے ہوں۔”یہ تو آپ کی شاگرد ہے نا۔۔“ اس کے سر کہنے پر عماد کو یاد آیا تھا کہ یہ وہی لڑکی تھی جو انھیں ہوٹل میں بھی ملی تھی۔”وعلیکم السلام! آپ آئیں اندر مس۔۔؟“ اس نے بختاور کو اندر آنے کو کہا تھا اور نام جاننا چاہا تھا۔ ”میں بختاور حقانی۔۔“ وہ بلا جھجک اندر آئی اور ایک طائرانہ نظر چاروں طرف ڈالی تھی۔ اس کے بنگلے کے سامنے ان کا گھر کہیں چھوٹا تھا۔ جس عیش و آرام کی وہ عادی تھی وہ تو اسے یہاں رہ کر میسر بھی نہیں ہونا تھا۔ ”محبت میں یہ سب چیزیں معنی نہیں رکھتیں۔“ اس نے سر جھٹک کر ہر خیال کو ذہن سے نکالا اور پروفیسر عباد بدر کی طرف دیکھا جو شعلہ بار نگاہوں سے اسے گھور رہے تھے البتہ بیٹے کی موجودگی میں زبان پہ قفل لگائے کھڑے تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات دیکھتے، ان کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے اس نے ان کے بیٹے کی موجودگی کو غنیمت جانا تھا۔ وہ ہمت کر کے وہاں آ تو گئی تھی مگر اب دل ہی دل میں خوف زدہ بھی تھی کہ نہ جانے اب وہ کیسے پیش آتے ہیں یا کیا سلوک کرتے ہیں؟ ”آپ کھڑی کیوں ہیں؟ بیٹھیں مس بختاور!“ عماد اس کی آمد کا مقصد تو نہیں جانتا تھا تاہم میزبان ہونے کے ناطے اپنا فرض نبھا رہا تھا۔”عماد! تم چائے بنا کر لاؤ۔ مجھے بختاور سے کچھ بات کرنی ہے۔“ عباد بدر نے اسے وہاں سے جانے کا کہا تھا۔ وہ دل میں یہ سوچتا ہوا کہ:”ایسی کون سی بات تھی جو انھوں نے اس لڑکی کو اکیلے گھر بلا لیا تھا؟“ شک کا ناگ بڑا سا پھن اٹھائے کھڑا ہوا تھا۔”یہاں کیوں آئی ہو؟ تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر آنے کی؟“ وہ سختی سے اس سے بازپرس کرنے لگے تھے۔ آواز حتی المقدور نیچی رکھی تاکہ عماد کچھ سن نہ پائے۔”آپ جانتے ہیں کہ میں یہاں کیوں آئی ہوں؟“ پہلے جو دل میں ذرا سا ڈر تھا اب کی آواز کی پستی اور عماد کی موجودگی کے باعث وہ معمولی سا ڈر بھی ختم ہو گیا تھا۔ وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے ازلی اعتماد کے ساتھ ان کے سامنے تن کر کھڑی ہوئی تھی۔”مجھے آپ سے محبت ہے سر! اور میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔“ وہ بلا خوف و خطر بولی تھی۔ ان کا ہاتھ یک بارگی ہوا میں بلند ہوا اور اگلے لمحے فضا میں ہی معلق رہ گیا تھا۔ بڑی مشکل سے انھوں نے خود پہ قابو پایا تھا۔”لگتا ہے کہ تم اس دن والا تھپڑ بھول چکی ہو۔“”اسی دن کے تھپڑ نے تو مجھے اتنی ہمت دی ہے کہ میں اپنے ڈیڈی سے بھی بغاوت کرنے پر مجبور ہو گئی ہوں۔“ انھوں نے اس کا بازو پکڑ کر بری طرح سے اسے جھنجھوڑ دیا تھا۔”تمھارا دماغ خراب ہو چکا ہے بختاور! بہتر ہو گا ابھی اسی وقت میرے گھر سے نکل جاؤ۔“ کَہ کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا تھا۔”میں ایسے نہیں جاؤں گی سر! اس سے اچھا موقع بھلا کب ملے گا؟ آپ صرف اپنے بچوں کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں نا!“ وہ ہیجانی کیفیت میں ان کا وہی ہاتھ تھام کر بولی، جس سے وہ اسے دھکا دے رہے تھے۔”پاگل مت بنو بختاور! میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔ مزید پریشان مت کرو۔ اپنا اور میرا تماشا مت بناؤ۔“ وہ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے پہلے سے زیادہ سختی سے بولے تھے۔”میں تماشا نہیں بنا رہی سر! میں تو تماشا ختم کرنے آئی ہوں۔ ابھی آپ کا بیٹا بھی گھر پہ ہے۔ ہم اس سے بھی بات کر لیتے ہیں۔ یقیناً اسے بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔“ یہی وہ وقت تھا جب بختاور نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور اسی لمحے عماد ٹرے میں چائے کے دو کپ لیے وہاں آیا تھا۔ سامنے کا منظر دیکھتے ہی اس کی آنکھوں نے یقین کرنے سے انکار کیا تھا۔ ٹرے اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گری تھی۔ برتنوں کے چھنک جانے اور فرش پر گرنے سے پیدا ہوئے شور نے پروفیسر عباد بدر کو اپنی جگہ منجمد کر دیا تھا۔”بابا جان! تو کیا اس سب کے لیے آپ تابعہ کو گھر واپس لانے سے انکاری تھے؟ تاکہ آپ ہماری غیر موجودگی میں یہ سب۔۔۔“ اس نے جو دیکھا جو سمجھا وہ بالکل غلط تھا۔ وہ کیا سمجھ رہا تھا یہ سوچ ہی عباد بدر کو زندہ زمین میں گاڑ گئی تھی۔ عماد بدر کی بات سن کر جب بختاور کو یہ احساس ہوا کہ وہ اس سارے منظر نامے کا کیا مطلب اخذ کر رہا تھا، تو اس نے ایک لمحے سے بھی کم وقت میں ان کا ہاتھ چھوڑا تھا۔”ایسا کچھ نہیں ہے عماد!“ ان کی آواز گہرے پاتال سے آتی محسوس ہوئی تھی۔”اور کیسا ہے بابا جان؟“ اس کے لیے باپ کا یہ روپ قبول کرنا مشکل تھا۔”شاید مجھے آج یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔“ عماد بکھرے ہوئے سے لہجے میں کہتا وہاں سے گیا تھا۔ پہلے تابعہ کو لے کر ہوئی ان سے بحث اور اب یہ سب۔۔۔ اس کے دل کو بڑی ٹھیس پہنچی تھی۔”عماد! میری بات سنو بیٹا! عماد۔۔۔“ وہ اسے پکارتے اس کے پیچھے جانے لگے لیکن پھر رکے اور کچھ پل کھڑے گہری سانسیں لیتے، خود کو پرسکون کرتے رہے پھر جب فشار خون قدرے بہتر ہوا تو بختاور کی طرف آئے تھے۔”تم نے ابھی کے لیے جتنا تماشا کرنا تھا کر چکی ہو۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے بیٹے کی سوچ کو عملی جامہ پہناؤں اور غصے اور بے بسی میں کچھ الٹا سیدھا کر بیٹھوں، بہتر ہو گا تم اسی وقت یہاں سے دفع ہو جاؤ۔“ آخر چند الفاظ انھوں نے اتنی بلند آواز سے چیخ کر کہے تھے کہ بختاور کا نازک سا دل بے طرح خوف سے لرز اٹھا تھا۔ ان کے لہجے کی سنگینی اور لال انگارہ آنکھوں سے خائف ہوتے اس نے ان کے گھر سے نکلنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔”شاید مجھے آج یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔“ اس نے بھی عماد کی طرح ہی سوچا تھا۔ اس چھوٹی گلی سے نکل کر باہر بڑی گلی میں آئی تو ٹھٹک کر رک گئی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

