”خدا کو نہ ماننے والا خدا کا نام لے رہا ہے۔“ لہیم جاہ الٹے قدموں اس کے پاس سے نکل آیا تھا۔ دل عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا۔ ”کیا میں واقعی خدا کو نہیں مانتا؟“ اس نے خود سے سوال کیا تھا۔”جب خدا ہی کی نہیں مانتے تو اس کا یہی تو مطلب ہے۔“ جواب بھی ملا تھا۔”خدا کی کیا نہیں مانتا؟“ ضدی بچے کا سا انداز”مانتے بھی کیا ہو؟“ جتاتا ہوا، چبھن بھرا سوال”بس اس کا نام ہی تو نہیں لیتا۔“”اور یہ بھی کتنا بڑا ظلم کرتے ہو۔ وہ بھی پتا ہے کس پر؟ خود پر۔۔۔ اللہ تو بے نیاز ہے اس سے کہ تم اسے یاد کرو یا نہ کرو۔ وہ تو صرف ہمارے بھلے کے لیے ہمیں اپنی یاد کی طرف بلاتا ہے۔“ ضربان کرمانی کے اس ایک جملے نے ایسی ضرب لگائی تھی کہ اس بت میں دراڑ پڑی تھی۔”مجھے تو نہیں بلاتا۔“ سرکش شیطان نے پھر سر اٹھایا تھا۔”تم نے قدم بڑھائے؟ وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے۔“ اسے قائل کرنے کی کوشش جاری تھی۔”بچہ روٹھ جائے تو کیا ماں خود ہی اس کی طرف قدم نہیں بڑھاتی؟ یا اسے اکیلا چھوڑ دیتی ہے؟ خیر۔۔۔“ وہ ہنسا تھا۔”مجھے تو نہ میری ایک ماں نے پیار دیا نہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے خدا نے۔۔۔“ اس کی تلخ ہنسی خاموش فضا میں بکھر گئی تھی۔”تم خود قدم بڑھا لیتے، ہدایت بن مانگے نہیں ملتی۔۔۔“”میں نے مانگی ہی نہیں۔۔۔“ وہ دراڑ وہ رخنہ پھر سے بھرنے لگا تھا۔”یہ دولت یہ شہرت یہ سب کچھ بن مانگے مل جاتا ہے بس ایک ہدایت ہی نہیں ملتی۔“ اسے توڑنے کی ایک اور کوشش ہوئی تھی۔”میں نے تو کچھ بھی نہیں مانگا اور جو مانگنے کی طلب ہوئی وہ۔۔۔“ اس کا خیال تابعہ کی طرف گیا۔ وہ کمرے کے بند دروازے کے سامنے آن کھڑا ہوا۔”اس نے طلب کرنے سے پہلے ہی دے دی۔“ دروازے کے سامنے سے گزر کر میز کی طرف آتے اس نے فون اٹھایا اور موصول ہونے والے پیغام دیکھنے لگا تھا۔”میں مانگوں یا نہ مانگوں مجھے وہ کچھ نہیں ملتا، جس کی میں دل سے خواہش کرتا ہوں۔“ اس نے تابعہ کا پیغام پڑھا اور دماغ کی رگیں تن گئی تھیں۔ اس نے تابعہ کے فون میں عماد کے نام سے اپنا ہی نمبر محفوظ کیا تھا۔ وہ شروع کے ان کچھ دنوں میں تابعہ کا اپنے گھر والوں سے رابطہ چاہتا ہی نہیں تھا۔ تاہم اسے بہلانے اور سوالوں سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر عماد کا نام استعمال کیا تھا۔“”میری چھٹی حس کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔“ وہ پھر سے اپنے خول میں سمٹا تھا۔ کچھ گھنٹوں پہلے والی وہ سرشاری، وہ محبت کو پا لینے والا گدگداتا ہوا لطیف سا احساس ایک پل میں اپنی موت آپ مر گیا تھا۔”کیا محبت ہو گی جب کہ اعتبار ہی نہ ہو۔“ اس نے تلخی سے سوچا اور فون پھینکنے کے سے انداز میں میز پر پٹخا تھا۔”محبت اب نہیں ہو گی یہ کچھ دن بعد ہو گی۔“ وہ پھر سے وہی تلخی بھری ہنسی ہنس دیا تھا۔”تمھیں اس کی ذہنی و قلبی حالت کا اندازہ ہونا چاہیے لہیم جاہ! وہ جن حالات سے گزری اور اب گزر رہی ہے ایسے میں یہ اس کا یہ سب باتیں سوچنا یا کرنا کچھ غلط بھی نہیں ہے۔“ اس نے سر جھٹکا تھا۔”ایسے میں جب اسے اکیلا نہیں چھوڑا جانا چاہیے تھا تم نے اسے اکیلا چھوڑ دیا وہ بھی ایسی خوف ناک اجنبی جگہ پہ۔۔۔“ اس کا اشارہ اس کے تنہائی بھرے سیاہی مائل گھر کی طرف تھا۔ صوفے پر بیٹھ کر ٹانگیں میز پر پھیلائیں اور دونوں بازو دائیں بائیں رکھتے، سر پیچھے کو گرایا تھا۔”یہ لڑکیاں بہت نازک ہوتی ہیں لہیم جاہ! تتلی کے رنگوں جیسی یا نازک آبگینوں کی مانند۔۔ سختی برتو گے تو ان کے رنگ بکھر جائیں گے اور آبگینے کرچی کرچی ہو جائیں گے ۔”میں تمھارے بغیر مر جاؤں گی!“ اسے پھر راجعہ یاد آئی تھی اور کیوں یاد آئی وہ یہ نہیں سمجھ سکا تھا۔”تو مر جاؤ!“ پھر اپنی بات بھی یاد آئی تو اب سمجھا کہ شاید بلکہ یقیناً اس کے الفاظ کی سختی نے اسے بھی کرچی کرچی کر دیا ہو گا اتنا زخم خوردہ کیا کہ وہ یوں جل کر۔۔۔ اذیت کی ایک شدید لہر پورے وجود میں سرایت کر گئی تھی۔ وہ بے چین ہو کر سیدھا ہوا تھا۔”کاش میں تب تھوڑی نرمی برت لیتا۔“ پچھتاوے سے پہلی بار اس کا سامنا ہوا تھا۔ کاش، کیوں، اگرچہ جیسے لفظ اس کی لغت میں نہیں تھے لیکن آج کیا ہوا تھا کہ اس کی زندگی نئے معنی سے روشناس ہونے لگی تھی۔”نہ میں اتنی سنگ دلی کا مظاہرہ کرتا نہ وہ یوں مرتی اور نہ ضربان کرمانی تابعہ کے ساتھ یہ سب کرتا۔“”یہ میں کیا سوچ رہا ہوں؟“ اس نے سر جھٹکا تھا۔”وہ سب نہ ہوتا تو تابعہ میری میری زندگی میں، یہاں میرے گھر میں کیسے آتی؟“”تو تم مانتے ہو کہ یہ سب مقدر کا لکھا تھا۔“ وہی آواز پھر سے بلند ہوئی تھی۔”نہیں! قسمت کے کھیل نہیں ہوتے۔ انسان کی اپنی قوتِ فیصلہ ہوتی ہے۔“”یعنی تم راجعہ کے مرنے اور تابعہ کے اس حال میں پہنچنے کی ذمہ داری قبول کر رہے ہو۔“ وہ دونوں ہی صورتوں میں گھر کر رہ گیا تھا۔ کہیں جاے فرار نہ تھی کوئی روزن نہیں مل رہا تھا جہاں سے وہ فرار ہو جاتا۔”نہیں!“ وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا تھا۔”تم مان کیوں نہیں لیتے کہ تمھارے مقدر میں یہی لکھا تھا یوں ہی ہونا لکھا تھا۔ تمھاری اذیتوں اور خود ساختہ تنہائی کا سامان یوں ہی ہونا تھا۔“ اس کی جھنجھلاہٹ کا گراف کم ہونے لگا تھا۔”وہ ابھی تکلیف میں ہے اور اکیلی بھی، تم دونوں ہی نے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے، ایک دوسرے کو سنبھالنا ہے۔ یوں بدگمان ہونا اور متنفر ہونا تم ایسے باشعور مرد کو زیبا نہیں دیتا۔“ اس نے ٹھندے دل و دماغ سے خود کو تابعہ کی جگہ رکھ کر دیکھا تو اسے وہ یہ سب کہنے میں حق بجانب لگی تھی۔”میں ہی تمھارا سب کچھ ہوں۔“ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہےخرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہےیہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میںہوائے شام میں مہکیں ذرا جو تو چاہےتجھے تو علم ہے کیوں میں نے اس طرح چاہاجو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا جو تو چاہے(مجید امجد)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭”شہرین! میں نے دن میں تم سے بہت برے طریقے سے بات کی، اس کے لیے معافی چاہتی ہوں۔“ گھر آئی تو نماز سے فارغ ہو کر چائے بنا کر اپنے کمرے میں آئی تھی۔ جہاں شہرین فون ہاتھ میں لیے بات بار کسی کا نمبر ملا رہی تھی۔”کیا؟ ہاں وہ۔۔؟“ وہ ایک دم چونک گئی تھی۔ یہ کہنا بجا تھا کہ چونکی کم خوف زدہ زیادہ ہوئی تھی۔”میں نے بھی کوئی کم بدتمیزی نہیں کی تھی۔ تم بھی مجھے معاف کر دو۔“ اس بات کو یاد کرکے پھر واصب کا خیال آیا تھا۔”چلو یہ معاملہ ٹھیک ہو گیا۔ نہ میں تم سے خفا نہ تم ہی مجھ سے ناراض، تو پھر مسکرا دو اور چائے پیو۔“ اسے چائے کا مگ پکڑا کر اس کے سامنے بیٹھی اور چائے کا ایک گھونٹ بھر کر چسکی سی لے کر بولی:”تم چائے پی کیوں نہیں رہی؟ پیو تو سہی! دیکھو تو سہی کہ میں نے آج کتنے مزے کی چائے بنائی ہے۔“ کَہ کر اس کا چائے والا ہاتھ ہلایا اور اس کا چہرہ دیکھنے لگی جو چائے کا گھونٹ بھر رہی تھی۔ پہلا گھونٹ بھرتے ہی اس کے چہرے پر ستائشی تاثر ابھرا تھا۔”واقعی مطیبہ! آج تو تم نے بہت مزے کی چائے بنائی ہے۔“”ہاں! آج دل سے بنائی ہے۔“ وہ ہلکا سا مسکرا کر اپنی چائے پینے لگی۔”کافی عرصے بعد اتنے دل سے بنائی ہے۔“ شہرین نے یوں ہی ایک بات کی تھی۔”ہاں! کافی عرصے بعد۔۔۔ دل کو کچرا دان جو بنا رکھا تھا، کرنے والے کام ہی نہیں کرتا تھا۔ آج اسے صاف کیا تو اب بے کار نہیں رہے گا، کرنے والے کام کرے گا تو ہر کام ایسے ہی اچھا ہو گا۔“ اس نے اسے بتایا کم اور خود کو تسلی زیادہ دی تھی۔ اس نے اسی وقت سکول سے نکلنے سے بھی پہلے واصب کا نمبر بلاک کرکے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ دل سے ہر گزری بات گزری ہےکس قیامت کی رات گزری ہےہائے وہ لوگ خوب صورت لوگجن کی دھن میں حیات گزری ہےتمتماتا ہے چہرۂ ایامدل پہ کیا واردات گزری ہےکسی بھٹکے ہوئے خیال کی موجکتنی یادوں کے سات گزری ہےپھر کوئی آس لڑکھڑائی ہےکہ نسیم حیات گزری ہےبجھتے جاتے ہیں دکھتی پلکوں پہ دیپنیند آئی ہے رات گزری ہے(مجید امجد)اب اسے کسی بھی غیر ضروری شخص کی خاطر اپنا ذہنی سکون اور خوشی تباہ نہیں کرنی تھی۔ خاص کر ہر اس شخص کے لیے جو اسے استعمال کی چیز سمجھتا تھا۔”تم پریشان کیوں ہو؟“ اس نے سر جھٹک کر ہر خیال کو پرے دھکیلا اور شہرین سے سوال کیا۔ جس کا چہرہ صاف بیان کر رہا تھا کہ وہ کسی بات کو لے کر بہت پریشان تھی جب کہ منھ سے برابر جھٹلا رہی تھی۔”میں اپنے ننھیال میں کسی سے رابطے میں نہیں رہنا چاہتی تو بس اسی لیے واصب کو دیکھ کر پریشان ہوئی تھی۔“ اس نے ایک بار پھر جھوٹ بولا تھا۔ کاش وہ اب بھی سچ بولنے کی ہمت کرکے مطیبہ کو واصب کی حقیقت سے آگاہ کر دیتی تو۔۔۔”بس یہی بات ہے؟“ مطیبہ نے پھر پوچھا تھا۔”مجھے لگ شاید وہ تمھارا کزن تم سے کچھ بدتمیزی کر گیا تھا تب تم اتنی گھبرائی ہوئی تھیں۔“ چائے کے خالی کپ ایک طرف رکھتے ہوئے اس نے اپنی سوچ بیان کی تو وہ اس کے درست اندازے پر گہری سانس بھر کر رہ گئی تھی۔”نہیں، نہیں! ایسا کچھ نہیں تھا۔“ وہ چور سی ہوئی تھی لیکن سچ بتانے کی ہمت پھر بھی نہیں جٹا پائی تھی۔”مجھے چہرے پڑھنے نہیں آتے شہرین! لیکن پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ تم کچھ چھپا رہی ہو۔ ایسا کچھ بھی ہے تو بلا جھجک کَہ دو۔ میں ابو جی سے یا امی سے بات کروں گی۔“ شہرین کا دل اس کے خلوص اور محبت پر بھر آیا تھا مگر وہ پھر بھی اسے جھٹلا کر جھٹ سے نفی میں سر ہلا کر بولی: ”ایسا کچھ نہیں ہے لیکن اگر کچھ ہوا تو بے فکر رہو سب سے پہلے تمھیں ہی بتاؤں گی۔“ اس کا ہاتھ دبا کر تسلی دیتے ہوئے وہ چائے کے خالی مگ اٹھا کر اس کے مزید سوالوں سے بچنے کے لیے وہاں سے اٹھ گئی تھی۔دُکھ بولتے ہیں جب سینے اندرسانس کے دریا ڈولتے ہیں جب موسم سرد ہوا میںچپ سی گھولتے ہیں دُکھ بولتے ہیں جب آنسو پلکیں رولتے ہیں جب سب آوازیں اپنے اپنے بستر پہ سو جاتی ہیں تب آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہیںدُکھ بولتے ہیں (فرحت عباس شاہ)مطیبہ اس کے گریز کو کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھی لیکن سچ یہ تھا کہ اس کا دل کچھ عجیب سے بے چینی اور گھبراہٹ کا شکار تھا اور اپنی ان کیفیات کو وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔؎ خط کوئی بھیج خیریت والے کیا عجب دن ہیں تعزیت والے(فریحہ نقوی)٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دن کچھ اور سرک گئے تھے۔ برسات کا موسم عروج پہ تھا۔ گلی محلے، کھیت کھلیان جل تھل ہو گئے تھے۔ کبھی بادل ایسا ٹوٹ کر برستا کہ لگتا جیسے آج ہی سارا کا سارا برس کر ہی دم لے گا اور کبھی ایسے غائب ہو جاتا کہ کئی کئی دن شکل ہی نہ دکھاتا تھا۔ نجی و سرکاری اداروں میں تعطیلات ختم ہونے کو تھیں۔ اگست کے مہینے کا آغاز ہوا تو نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے اساتذہ کو مختلف ورکشاپوں یا جدید کورسز کے نام پر معمول کی طرح اسکول حاضر ہونے کا علانیہ جاری کر دیا تھا وہیں دوسری طرف یونی ورسٹی میں بختاور اور قیام کی بھی اکا دکا کلاسیں ہو رہی تھیں۔ بختاور اس اکا دکا کلاس میں حاضری لگوا کر اپنے کمرے میں آ کر جوں بیٹھتی تو رات گئے تک وہیں بیٹھی رہتی۔ اس دن پروفیسر عباد بدر کے گھر سے واپسی کے بعد سے وہ اپنے ہاسٹل آئی تھی تو اس کا قیام ہارون سے دوبارہ سامنا نہیں ہوا تھا نہ اس نے ہی کوئی رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ابھی اس کا سارا دھیان اپنی پڑھائی کی طرف تھا۔ اچانک گھر چلے جانے سے جو حرج ہوا تھا وہ اس کی کمی پوری کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔ ایسے میں اس نے اپنی شعوری کوشش کے ذریعے پروفیسر عباد بدر اور دیگر کسی بھی معاملے سے دھیان ہٹا کر ساری توجہ پڑھائی پہ لگائی تھی۔خواب کیا کوئی دیکھے، نیند کے انجام کے بعدکس کو جینے کی ہوس، حشر کے ہنگام کے بعدعشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تقسیم کہ، ابوہ مجھے یاد تو آتا ہے، مگر کام کے بعدتھک کے میں بیٹھ گئی اب مگر اے سایہ طلبکس کی خیمے پہ نظر جاتی تھی ہر گام کے بعد(پروینؔ شاکر)”ہیلو! میں ٹھیک ہوں۔“ اس کا ارتکاز فون کی گھنٹی نے توڑا تھا۔ سکرین پر قیام کے دوست شاہ زمان کا نمبر دیکھ کر اس نے اچنبھے سے کچھ پل سوچا پھر قلم بند کرکے ایک طرف رکھتے فون اٹھایا تھا۔”نہیں! میں ایک ہفتے سے اس کے گھر نہیں گئی۔ ہماری کلاسوں کے اوقات کار بھی الگ ہیں تو یونی ورسٹی میں بھی میری ملاقات نہیں ہوئی۔“ وہ شاید اس سے قیام کے بارے میں استفسار کر رہا تھا۔”وہ بھلا مجھے کیوں بتائے گا کہ آج کل کدھر مصروف ہوتا ہے؟ تم اس کے دوست ہو تمھیں پتا ہونا چاہیے۔“ وہ اس کی بات پر جھنجھلا کر بولی تھی:”میں اس کی سرپرست نہیں ہوں جو وہ مجھے بتا کر ہر کام کرے گا زمان! بہتر ہو گا کہ تم خود اسی سے پوچھ لو اور اگر وہ بات ہی نہیں کر رہا تو اس کے ڈیڈی یا ممی سے جا کر مل لو۔ مجھے کچھ نہیں معلوم، مجھے دوبارہ پریشان مت کرنا۔“ اس نے درشتی سے جواب دیتے کھٹ سے فون بند کیا اور بڑبڑائی تھی:”اب مجھے کیا پتا کہ قیام صاحب آج کل کن ہواؤں میں ہیں۔“ لکھنے یا پڑھنے کا تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔(میں اتنا اچھا نہیں ہوں بختاور کہ اپنی محبت خود کسی اور کے حوالے کر دوں۔) پھر اچانک ہی اسے یاد آیا کہ وہ کن ہواؤں میں تھا۔”دماغ خراب ہو گیا ہے اس کا۔۔۔“ قلم کھولا اور پھر بند کیا تھا۔ ”لیکن وہ آج کل ہوتا کدھر ہے؟“ اس نے سوچا۔ اختلاف اپنی جگہ، پسند نا پسند سے ہٹ کر بھی ان دونوں میں اچھی علیک سلیک تھی۔ کئی مقامات پر جب اسے کسی جذباتی سہارے کی ضرورت تھی تو ایک وہی تھا جو اس کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ اسے یک دم ہی اس کی فکر لاحق ہوئی تھی۔ نوٹس بند کرتے ہوئے اس نے فون اٹھا کر پہلی فرصت میں قیام ہارون کا نمبر ملایا تھا۔”زہے نصیب۔۔۔“ فون ایک بار بج کر بند ہوا پھر دوسری مرتبہ اٹھایا گیا تو سلام دعا کا تکلف نبھائے بغیر قیام کی شوخ، چڑاتی ہوئی سی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔”یہ میری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں؟ کہ آنسہ بختاور صاحبہ مجھ ناچیز و خاکسار کو فون کر رہی ہیں۔“ انداز سراسر اسے تپانے والے تھے۔”تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟“ اس نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا۔”اپنے فون کی سکرین پر تمھارا نام چمکتا ہوا دیکھنا اپنے آپ میں ایک الگ تاثیر رکھتا ہے۔ “وہ کسی پرانے عاشق کی طرح بولا تھا۔قیام! سنجیدہ ہو جاؤ! کہاں ہوتے ہو؟ نہ خود فون کرتے ہو نہ ملتے ہو۔ تم ٹھیک تو ہو۔“ قیام نے اس کے لہجے میں محسوس کی جانے والی فکرمندی واضح محسوس کی تھی۔”تم مجھے یاد کر رہی تھیں؟“ اس ایک جملے میں شوق کا ایک جہان آباد ہوا تھا۔”کہیں میری سماعتوں کو دھوکا تو نہیں ہوا؟“ اس نے کان پہ ہاتھ مار کر گویا اپنی سماعت کی جانچ کی تھی۔”تھیں زیادہ خوش فہم ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ شاہ زمان کا فون آیا تھا۔ اسے ہی تمھاری فکر لگی ہوئی تھی کہ کئی دنوں سے تم اس سے نہیں ملے۔ اسی نے بتایا کہ تم یونی بھی نہیں آ رہے ہو۔“ محبت و شوق کا جہان بسنے سے پہلے ہی اجڑ گیا تھا۔حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے۔”یہاں میں کسی کی جاسوسی پر مامور ہوں اور ادھر وہ گدھا میری جاسوسی کرتا پھر رہا ہے۔“ وہ منھ ہی منھ میں بڑبڑایا تھا۔”کچھ کہا تم نے۔۔۔؟ “اس نے حیرت سے دریافت کیا تھا۔ “”کچھ نہیں! تم کیسی ہو؟“ اب کی بار سنجیدگی سے دریافت کیا تھا۔”زیادہ روتی تو نہیں ہو؟“ وہ نہ چاہ کر بھی پوچھ بیٹھا تھا۔” فرصت ہی نہیں ملتی۔۔۔ “وہ چور سی ہوئی تھی۔ ”تم ٹھیک ہو؟“ اس نے بھی پوچھا تھا۔”مجھے بھی فرصت نہیں ملتی یہ دیکھنے کی کہ میں کیسا ہوں۔ “قیام ہارون کا جواب اسے خاموش کر گیا تھا۔”تم پاگل ہو۔ “کچھ دیر کی خاموشی کو بختاور نے توڑا تھا۔”تم نے فون کیوں کیا تھا؟ “”تمھاری خیریت۔۔۔ “”اب پتا چل گیا نا کہ میں زندہ ہوں تو فون بند کر دو۔ دوبارہ تنگ مت کرنا۔ بالفرض اگر مجھے کچھ ہو بھی جاتا ہے تو پتا چل جائے گا۔“ اس نے کَہ کر اس کی سنے بغیر فون بند کر دیا تھا۔ جب کہ اس بات پر بختاور کا دل بری طرح لرزا تھا۔”کچھ ہو جاتا۔۔۔“ یہ خیال ہی سوہان روح تھا۔”بدتمیز، گنوار، جاہل۔۔۔ پتا نہیں خود کو سمجھتا کیا ہے۔ کیسے منھ پھاڑ کر کَہ دیا کہ۔۔۔“ وہ اسے کتنی ہی دیر برا بھلا کہتی رہی۔ پتا نہیں کیا ہوا تھا کہ اس کی آنکھیں آپ ہی آپ چھلک گئی تھیں۔جہان گریۂ شبنم سے کس غرور کے ساتھگزر رہے ہیں تبسم کناں گلاب کے پھولیہ میرا دامن صد چاک یہ ردائے بہاریہاں شراب کے چھینٹے وہاں گلاب کے پھولخیال یار ترے سلسلے نشوں کی رتیںجمال یار تری جھلکیاں گلاب کے پھولیہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں بانہیںچھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھولکٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجدؔمری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول(مجید امجد)٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دل رات سے بے چین تھا۔ یہ بے کلی تو کتنے دنوں سے اسے
کسی پل چین نہیں لینے دے رہی تھی۔ رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ کھلی تھی۔ ضروریات سے فارغ ہو کر جو بستر پہ لیٹی تو نیند آنکھوں میں آ کر نہ دی۔ کچھ دیر کروٹیں بدلتی رہی پھر اٹھ بیٹھی تھی۔”امی!“ چند ثانیے گزرے کہ وہ رضیہ کے سرہانے کھڑی دبی ہوئی آواز میں انھیں پکار رہی تھی۔” کیا ہوا مطیبہ۔۔؟“وہ پریشان ہو کر ایک دم سے اٹھنے لگی تھیں کہ اس نے ہاتھ بڑھا کر روک دیا۔”مجھے نیند نہیں آ رہی۔ عجیب سا ڈر لگ رہا ہے۔ آپ کے پاس لیٹ جاؤں؟“ وہ نیند میں ہونے کے باوجود حیرت سے اسے دیکھ کر رہ گئیں۔ اندھیرے کے باعث اس کا چہرہ تو نظر نہیں آیا البتہ آواز میں گھلی نمی انھیں صاف محسوس ہوئی تھی۔”ہاں ہاں! آ جاؤ!“ انھوں نے چارپائی پر تھوڑا ادھر کو کھسک کر اس کے لیے جگہ بنائی تو وہ چھوٹے اور خوف زدہ بچے کی طرح ان کے سینے میں سر گھسا کر لیٹ گئی تھی۔ وہ ایسی کبھی نہیں رہی تھی۔ بچوں سے بہت پیار کرنے کے باوجود خود انھوں نے کبھی ان کے زیادہ لاڈ نہیں اٹھائے تھے لیکن طیبہ اور زعیم اکثر ان سے لپٹ جاتے اور جان بوجھ کر ان سے پیار لینے کے لیے انھیں کئی طرح سے اکثر اوقات زچ بھی کر دیتے تھے لیکن مطیبہ ان سے الگ تھی۔ باتوں ہی باتوں میں اپنے پیار کا اظہار کرتی، دور ہی رہتی، اپنے آپ میں گم، اپنی دنیا میں مگن۔۔ کوئی پریشانی یا تکلیف ہوتی بھی تو ان سے کبھی تذکرہ ہی نہیں کرتی تھی۔ یہ کہنا بھی سچ تھا کہ ماں ہونے کے باوجود وہ اس کی دلی کیفیات سے انجان ہی رہتی تھیں۔” کیا ہوا مطیبہ۔۔؟ “اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے انھوں نے نرمی سے دریافت کیا تھا۔”کچھ بھی نہیں ہوا امی! “ اب آواز کی نمی پہ شاید وہ قابو پا چکی تھی۔”بس آپ سے لپٹ کر سونے کا دل کر رہا تھا کیا پتا کل میں رہوں نہ رہوں۔ “اس نے کہا اور مزید ان کے قریب ہوئی تھی جب کہ اس کے آخری جملے نے انھیں یک بارگی لرزا کر رکھ دیا تھا۔ وہ اسے ٹوکتیں اس سے پہلے ہی وہ سو چکی تھی۔” اللہ تمھیں میری بھی عمر لگا دے۔ “دعا کی قبولیت کے بھی تین درجات ہیں اللہ وہی عطا کرے جو مانگا جائے، کوئی مصیبت دور فرما دے یا آخرت کے لیے ذخیرہ کر دے۔ انسان تو بس مقدور بھر کوشش کرتا ہے کبھی دعا سے تو کبھی دوا سے۔۔۔ دعا کو قبولیت اور دوا سے شفا تبھی حاصل ہوتی ہے جب رب چاہتا ہے ورنہ۔۔۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

