واصب حقانی کی باتیں سن کر قیام ہارون نے اسے یوں دیکھا جیسے اس کی ذہنی حالت پہ شبہ ہو۔”آپ ہوش میں ہیں؟“ کانوں میں انگلی گھما کر اپنی سماعتوں کے درست ہونے کا اندازہ کیا پھر خود کو چٹکی کاٹی کہ کہیں وہ مدہوشی کے عالم میں تو نہیں سن رہا تھا۔”ہاں!“ یک لفظی جواب دے کر وہ اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوا تھا۔”میں یہ سب کرنے کے لیے آپ کا ساتھ نہیں۔۔۔“”تم بختاور کے لیے میرا ساتھ دے رہے ہو۔“ وہ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بولا تھا۔اف!“ وہ جھنجھلا کر چپ ہوا تھا۔”مت بھولو کہ اگر میں نے بھی تمھارا ساتھ دینے سے منع کر دیا تو تم کبھی بھی بختاور کو حاصل نہیں کر سکو گے۔“ اور یہ ایک ایسا نکتہ تھا جہاں آ کر وہ ہمت ہار جاتا تھا۔ کچھ واصب کی وقتاً فوقتاً کی جانے والی باتیں اسے بختاور کے لیے مزید اکساتی تھیں۔ واصب اس سے یہ سب باتیں کرتا بھی اسی لیے تھا کہ وہ بختاور کے لیے مزید سنجیدہ ہو جائے۔ پتھر پہ بھی قطرہ قطرہ پانی گرے تو اس میں سوراخ ہو جاتا ہے وہ تو پھر ایک سادا سا انسان تھا۔ روزانہ ایک ہی بات کی تکرار سے کیسے نہ اثر لیتا؟ ”تم صرف بائیک پہ مجھے وہاں تک لے جانا۔ باقی میں خود کر لوں گا۔“ اس نے اس کی مشکل آسان کی تھی۔”بائیک؟ گاڑی میں نہیں جائیں گے کیا؟“” گاڑی لے جانا زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اسے بآسانی شناخت کیا جا سکتا ہے۔“ واصب نے اس کی تجویز کر رد کیا تھا۔”میں نے سنا ہے کہ تمھارے پاس بہت اعلی قسم کی موٹر بائیکس ہیں۔”کیا میری ہیوی بائیک لے جانا خطرناک نہیں ہو گا۔۔؟“ وہ بھوں چڑھا کر تیکھے لہجے میں بولا تو واصب نے بڑی مشکل سے اسے خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا تھا۔”میرا خیال ہے کہ میں نے غلط آدمی کا انتخاب کر لیا ہے بالکل ایسے جیسے ڈیڈی نے بختاور کے لیے۔۔۔“ وہ اس کی کم زوری سمجھتا تھا اسی لیے خوب تاک کر نشانہ لیتا تھا۔”کوئی بات نہیں! میں اپنی پرانی بائیک نکال لاؤں گا۔“ آخر اس نے فیصلہ کر ہی لیا تھا۔ اسے اب ہر قیمت پر بختاور کو ”حاصل“ کرنا تھا۔ وہ قسمت سے بس یوں ہی مل جائے گی وہ اب اس سب پہ تکیہ کر کے بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا۔”یہ ہوئی نا بات!“ واصب مسکرا کر اس کا کندھا تھپک کر بولا تھا۔ اچھا! میں ابھی چلتا ہوں۔ پھر ملتے ہیں۔“ اسے ہاتھ ہلا کر کمرے سے باہر نکلا تھا۔ واصب ان دنوں کبھی ہوٹل میں رک جاتا تو کبھی ان کے مہمان خانے میں ہی۔ تاکہ اس کے وہاں زیادہ رکنے سے کسی کو شک نہ ہو۔ ابھی بھی وہ ان کے گھر پہ ہی تھا۔ قیام باہر نکلا تو سامنے ہی بختاور کو کھڑا پایا تھا۔”تم۔۔!! تم یہاں کب آئی؟“ پیچھے مڑ کر دروازہ بند کرکے اس نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا جو بنا اطلاع کیے وہاں آئی تھی۔ ”میں کچھ دیر پہلے ہی آئی تھی۔ کتنی بار تو تمھیں فون کر چکی ہوں اور تم ہو کہ فون ہی بند کیے بیٹھے ہو یا میرا نمبر ہی بلاک کر چکے ہو۔“ اسے دیکھ کر بختاور نے خفگی سے کہا تھا تو قیام نے فوراً جیب سے موبائل نکالا تھا۔”ایک بار بھی فون نہیں بجا۔ بھلا میں کیوں تمھارا نمبر بلاک کروں گا؟“ اس نے فون کی سکرین پر ٹیپ کیا تھا فون خاموش موڈ پہ تھا لیکن وہاں کوئی ایک بھی مس کال نہیں تھی۔”یہ ان لاک کیوں نہیں ہو رہا؟“ انگوٹھا لگانے سے فون ان لاک نہ ہوا تو اسے حیرت ہوئی پھر اگلے پل جب وال پیپر پہ دھیان دیا تو سر پر ہاتھ مار کر بولا:”تمھارے بھائی کا اور میرا فون سیٹ ایک سا ہے تو غلطی سے میں نے اس کا فون اٹھا لیا۔“ وہ فون ہاتھ میں پکڑے ہنسا تھا اور دوبارہ اندر کی طرف گیا تو بختاور بھی اس کے پیچھے پیچھے ہی اندر کمرے میں داخل ہوئی تھی۔”واصب کب سے یہاں آیا ہوا ہے؟“” تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“ وہ بہن کو دیکھ کر یوں چونکا جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔”تم سے ملنے آئی ہے۔ میں نے ہی بتایا کہ تمھارا بھائی بھی یہیں موجود ہے۔“ قیام چپکے سے بختاور کو آنکھ مارتے ہوئے، خاموش رہنے کا اشارہ کرکے اس میز کی طرف آیا جدھر سے اس نے فون اٹھایا تھا۔ واصب کا سارا خیال بختاور کی طرف تھا تو اس نے غیر محسوس انداز میں فون جلدی سے واپس رکھتے ہوئے پاس پڑا اپنا فون اٹھایا تھا۔”مجھ سے ملنے؟ مجھے کہا ہوتا میں ہاسٹل میں تم سے ملنے آ جاتا۔“ وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بات بنا کر بولا تھا۔ باری باری دونوں کا چہرہ اور آخر میں بختاور کو غور سے دیکھا تھا کہ کہیں قیام نے اسے اس معاملے سے آگاہ تو نہیں کر دیا۔”تم نے کب بتایا تھا کہ تم یہیں ہوتے ہو۔“”میں بھی ان سے یہی کَہ رہا تھا کہ انھیں اپنی بہن کا خیال رکھنا چاہیے۔“ قیام نے بروقت درمیان میں لقمہ دے کر بختاور کو سوچنے اور واصب کو تلملانے پر مجبور کیا تھا۔ خود اس کے ہونٹوں پر بہت دل جلانے والی مسکراہٹ رقصاں تھیں۔”اسے تو جیسے پتا نہیں کہ بہن کا خیال بھی رکھا جانا چاہیے۔ تمھیں اس کا استاد بننے کی ضرورت نہیں ہے۔“ جہاں بختاور اس کی شرارت سمجھ کر زچ ہوئی تھی وہیں واصب کو خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں قیام ہارون نے بختاور کے سامنے سب کچھ اگل تو نہیں دیا۔ اس سے کچھ بعید بھی نہیں تھا۔” ارے نہیں! میں کیوں انھیں اپنی شاگردی میں لوں گا؟ استاد تو یہ میرے ہیں۔ بہت کچھ سیکھ رہا ہوں میں آج کل ان سے۔۔۔“ شریر و متبسم لہجے میں کہتے وہ واصب کو آنکھ مار کر بولا:”ہے نا واصب بھائی!“ جان بوجھ کر واصب کے ہم راہ بھائی کا لاحقہ استعمال کیا تھا۔ اس کا یہ حال کہ نہ ٹوک سکتا تھا نہ کچھ کَہ ہی پا رہا تھا۔”آج کل یہ مجھے مچھلیاں شکار کرنے کے بہت مفید داؤ پیچ سکھا رہے ہیں۔“ واصب نے بےطرح کھانس کر اسے بولنے سے منع کیا تھا وہیں بختاور نے اسے گھورا اور بولی:”تمھاری یہ لایعنی اور فضول باتیں کبھی ختم بھی ہوں گی؟“ اس نے نفی میں سر ہلا کر اسے مزید تپایا تھا۔”تم سے بات کرنا ہی فضول ہے۔ بھاڑ میں جاؤ تم!“ وہ غصے سے کہتی، زور سے دروازہ کھول کر تن فن کرتی باہر نکل گئی تھی۔”تمھارا دماغ ٹھیک ہے قیام؟ اس کے سامنے یہ سب باتیں کرنے کی کیا ضرورت تھی۔“ اب واصب نے اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔”پہلے بہن کیا کم تھی جو اب بھائی صاحب بھی شروع ہو گئے۔“ وہ کان کھجاتے ہوئے لاپروائی سے بولا تھا۔ جب کہ دروازے کے باہر بختاور اپنا ذکر سن کر وہیں ٹھہر گئی تھی۔”قیام! آئندہ اپنی زبان پہ قابو رکھنا۔ میں نہیں چاہتا کہ بختاور کو اس معاملے کی بھنک بھی پڑے۔“ اس کے نداز میں تنبیہ تھی۔”کس معاملے کی؟ مچھلیوں کی یا مچھلیوں کے شکار کی۔۔۔؟“ وہ کَہ کر قہقہے لگاتے اس کا فشارِ خون بلند کر گیا تھا۔”یہ دونوں آخر کر کیا رہے ہیں؟“ اسے کچھ گڑبڑ لگی لیکن پھر سر جھٹک کر کندھے اچکاتے ہوئے وہ اندر صاعقہ کی طرف بڑھ گئی جو یقیناً اب تک چائے بنا کر اس کا انتظار کر رہی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”آپ کے باس چھوٹے بچے تو یقیناً نہیں ہوں گے کہ جن کی گمشدگی کی رپورٹ کروانے آپ محض اٹھارہ گھنٹے بعد ہی چلے آئے۔“ عبدالمعید نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کا کہا تھا۔”چھوٹے بچے ہوتے تو آٹھ گھنٹے بعد ہی پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ لکھوا دی ہوتی۔ وہ باشعور ہیں اپنی مرضی سے کہیں بھی جا سکتے ہیں لیکن۔۔۔“ اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی اور عبدالمعید کو دیکھا تھا۔”جہاں وہ گئے ہیں وہاں سے واپسی کی امید کم ہی کی جا سکتی ہے۔“ اس کی بات سے وہ کچھ کھٹکا لیکن اپنے چہرے کو یوں پر سکون رکھا جیسے اس کی ان باتوں کے معنی سمجھنے سے ان جان تھا۔”کیا آپ کھل کر بتائیں گے کہ آپ کے صاحب کہاں گئے ہیں؟“ اس نے گھڑی میں وقت دیکھ کر اسے جلدی جلدی بات ختم کرنے کا کہا تھا۔”مجھے جلدی کہیں پہنچنا ہے۔ اس لیے اپنی آمد کا مقصد بیان کریں۔“ اس نے وقت دیکھا، لہیم جاہ بھی بس مطلوبہ مقام پہ پہنچنے والا تھا۔”آپ سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ وہ کہاں گئے ہیں؟“ اس نے پھر مبہم سی بات کی تھی۔”آپ۔۔۔!!“ اس نے بہ مشکل خود کو کچھ برا کہنے سے روکا تھا۔”مجھے لگتا ہے کہ آپ یہاں صرف میرا وقت برباد کرنے کے لیے آئے ہیں لیکن میرے پاس آپ کی ان لایعنی باتوں کے لیے نہ وقت ہے نہ برداشت۔۔۔“ اس نے لگی لپٹی رکھے بغیر اسے سنایا اور مزید بولا:”اور گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے کے لیے آپ غلط محکمے میں تشریف لے آئے ہیں۔ بہتر ہو گا پولیس اسٹیشن جائیں۔ اب آپ جا سکتے ہیں۔“ سخت لہجے میں اسے جانے کا کہتا وہ اٹھنے کو تھا کہ موبائل فون پر بجتی اطلاعی گھنٹی سن کر پھر رک گیا تھا۔ وٹس ایپ پہ ایک ان جان نمبر سے وڈیو موصول ہوئی تھی۔ دو منٹ سے بھی کم دورانیے کی اس ویڈیو نے اسے بےچینی سے پہلو بدلنے پر مجبور کیا تھا۔ پھر خود ہی ہنس پڑا تھا۔ موبائل بند کرکے واپس رکھا، کوٹ کا بٹن کھولا پھر بند کیا اور سامنے بیٹھے شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا:”شجاع فرید پہ گولی تم نے چلائی تھی یا تمھارے باس نے؟“ اس نے اچانک ہی یہ سوال کرکے زمان کریم کو چونکنے پر مجبور کیا تھا۔”کس شجاع فرید کی بات کر رہے ہیں؟ میں کسی شجاع فرید کو نہیں جانتا۔“ چہرہ پُر سکون رہا مگر آنکھوں کی پتلیوں کا پھیلنا عبدالمعید جیسے زیرک شخص سے مخفی نہ رہا تھا۔ ”تابعہ بدر کو اس گھر کے قریب سے اغوا کرنے والے تم تھے یا تمھارا باس؟“ ایک اور سوال۔۔۔ ”یہ آپ کیسی عجیب باتیں کر رہے ہیں؟ میں اس نام کی کسی لڑکی کو بھی نہیں جانتا۔“ اب آواز کے زیر و بم میں ارتعاش برپا ہوا تھا۔”کمال کی خود اعتمادی ہے تم لوگوں کی۔۔“ عبدالمعید اپنی بے ساختہ امنڈ آنے والی ہنسی روک نہیں پایا تھا۔”کمال کرتے ہو تم بھی یار۔۔۔!“ سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے وہ ہنستے ہوئے اتنی بے تکلفی سے بولا جیسے دونوں کے مابین برسوں کا یارانہ ہو۔ جب کہ زمان کریم اس کایا پلٹ پہ حیرت زدہ سا اسے دیکھے گیا تھا۔”بہ ہر حال! میں آپ پہ واضح کر دوں کہ ڈھونڈا انھیں جاتا ہے جو گم ہو جائیں، انھیں نہیں جو خود اپنی مرضی سے کہیں چلے جائیں۔“ اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا۔ اسے نہ تو عبدالمعید کے ہنسنے کا سبب سمجھ میں آیا تھا نہ وہ اس کی اس بات کا مطلب ہی سمجھا تھا۔”اب آپ گھر جا کر آرام کیجیے۔ آپ کے باس خود ہی واپس آ جائیں گے اگر وہ آنا چاہیں گے تو۔۔۔“ آخری جملے پہ خاص طور پر زور دیا تھا۔”اب آپ جا سکتے ہیں۔“ اسے جانے کا کَہ کر کسی کو فون ملایا تھا۔ زمان گومگو کی سی کیفیت میں کچھ ثانیے کھڑا رہا پھر جب عبدالمعید نے ہاتھ کے اشارے سے باہر کا راستہ دکھایا تو اس نے فون پہ ہیلو کہا تھا۔”ہاں! وہ میرے دفتر سے نکل چکا ہے۔ باقی سنبھال لینا۔“ فون بند ہی کیا تھا کہ لہیم جاہ کا نام سکرین پر جگمگایا تھا۔”کل ہی شادی ہوئی ہے اور تمھیں آج بھی سکون نہیں ہے۔“ وہ شریر لہجے میں اسے چھیڑتے ہوئے بولا تھا۔”سکون کس گلی سے ملتا ہے؟“ اس کی سنجیدگی وہی تھی روزِ اول جیسی، گہری اور جامد۔۔۔”تم نہیں سدھرو گے۔“ اس نے تاسف سے کہا تھا اور دفتر سے نکلنے کی تیاری کرنے لگا تھا۔”تم ابھی تک نکلے نہیں ہو؟“”بس نکل ہی رہا ہوں۔ سب ایک اچانک اور ضروری کام بیچ میں آ گیا تھا۔ جس کا مکمل کرنا بھی ضروری تھا۔“ وہ کرسی کی پشت سے کوٹ اٹھا کر بازو پر لٹکاتے باہر نکلا تھا۔”اگلے بیس منٹ میں تم میرے سامنے نہ ہوئے تو میں چلاجاؤں گا۔“ اس نے فوراً ہی کلائی سامنے کرتے گھڑی میں وقت دیکھ کر سرد آہ بھری تھی۔ آفس سے اس ہوٹل تک پہنچنے میں ہی پچیس منٹ لگ جانے تھے۔”جو حکم سرکار!“ فون بند کیا اور جیب سے اپنی گاڑی کی چابی نکالی اور پاس آتے ڈرائیور کو دکھائی تھی۔”تم چھٹی کرو۔ میں اپنی گاڑی لے جاؤں گا۔“ وہ سمجھ کر سر ہلاتا واپس ہو لیا تھا۔”اب تمھارا کیا کیا جائے زمان کریم!“ اسٹیئرنگ پہ مضبوطی سے ہاتھ جمائے، نظریں سڑک پہ مرکوز اس کے ذہن میں یہی خیال تھا۔ وہ لہیم جاہ کے سامنے جانے سے پہلے ہی اپنے ذہن سے یہ سوچیں جھٹک دینا چاہتا تھا اگر اسے بھنک بھی پڑ جاتی تو وہ اگلوا کر ہی دم لیتا اور یہی وہ چاہتا نہیں تھا۔ فی الوقت ان خیالات کو جھٹک کر گاڑی کی رفتار بڑھائی تھی۔ وقت بیت رہا تھا اور لہیم جاہ سے کچھ بعید نہیں تھا کہ وہ اٹھ کر ہی چلا جاتا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گھڑی کی سوئی نے گیارہ کا ہندسہ پار کیا اور نئے دن کے آغاز کا عندیہ دیا تھا۔ مطیبہ موہوم سی امید کے ساتھ زیرو پاور بلب کی مدھم نیلگوں روشنی میں موبائل ہاتھ میں لیے لیٹی ہوئی تھی۔”سال گرہ مبارک ہو زندگی!“ پچھلے سال کی چیٹ کھلی ہوئی سامنے پڑی تھی۔ یہی وقت اور یہی تاریخ ہوتی تھی کہ جب تاریخ بدلتے ہی پہلا پیام اسی دشمنِ جاں کا موصول ہوتا تھا اور اسے لگتا تھا کہ اس کا دن بن گیا ہے۔ پھر نہ ہجر و فراق ستاتا تھا نہ فرقت و برہ کی راتیں طویل لگتی تھیں۔؎ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں(جگر مراد آبادی)اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔ پتا نہیں کیوں وہ اسے یاد آیا تھا۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن آنسو تھے کہ بہتے ہی چلے گئے تھے۔ ”اللہ! کب ختم ہو گی یہ دربدری۔۔۔ کب سکون میسر آئے گا؟ آئے گا بھی یا۔۔۔“ موبائل ایک طرف رکھ کر اس نے بہتے چلے جانے والے آنسوؤں کو بہنے دیا تھا۔کچھ سمے عشق بلا خیز کی من مانی میںاور کچھ دل کے آنگن کی ویرانی میںشہرِ لا علم میں یوں عمر بِتا دی ہم نے(نامعلوم)”کیوں رو رہی ہو مطیبہ! ایک بار جب قبول کر لیا ہے کہ زندگی یوں ہی چلے گی۔ تمھاری قسمت شاید یوں ہی رہے گی تو پھر رونا کس بات کا ہے؟“ وہ خود کو سمجھانے کی کوشش میں ڈپٹ کر خود سے ہم کلام ہوئی تھی۔ ہلکی سی سسکی نکلی لیکن پنکھے کے شور میں گم ہوئی تھی۔ اس نے بروقت خود پہ قابو پایا مبادا شہرین نہ جاگ جاتی اور سختی سے آنکھیں میچ کر سونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔ دوسری طرف اس کی مدھم سی سسکیاں سنتی شہرین نے بہ مشکل خود کو اٹھنے اور اس کے پاس جانے سے روکا تھا۔ وہ کل ہی فون پر خضری کے ساتھ مل کر آج مطیبہ کی سال گرہ کے سلسلے میں ایک سرپرائز پارٹی کا سارا انتظام کر چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے جان بوجھ کر اسے سال گرہ کی مبارک بھی نہیں دی تھی اور اب بھی اسے خاموشی سے اکیلے رو لینے دیا تھا تاکہ رو کر جی کا بوجھ ہلکا کر لے اور صبح تک ٹھیک ہو جائے۔ دونوں ہی اپنی اپنی سوچ میں گم جلد ہی نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھیں کیوں کہ نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے۔صبح بڑی ہنگامہ خیز ثابت ہوئی تھی۔ شہرین ناسازی طبع کے باعث دو دن سے سکول نہیں گئی تھی۔ آج اسے ہر حال میں سکول جانا تھا لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ معدے میں اچانک ہی شدید درد اٹھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے سکول سے چھٹی کرنا پڑی تھی۔ تاہم اس نے ارادہ یہی کیا کہ جوں ہی طبیعت سنبھل جائے گی وہ اسکول چلی جائے گی۔ جب کہ مطیبہ جیسے ہی گھر سے نکلنے لگی اس کی چادر دروازے کی کنڈی میں اٹک کر کونے سے پھٹتی چلی گئی۔”لو بھئی! اب یہ عجب مصیبت ہے۔“ وہ چادر کا پھٹا ہوا کونا ہاتھ میں لیے منھ بنا کر کھڑی تھی۔ رات کی افسردگی ہمیشہ کی طرح چہرے سے عیاں نہیں تھی۔ وہ ایسی ہی تھی رات کو رو رو کر بھلے تکیہ بھگوتی رہتی دن میں سب کے سامنے ہشاش بشاش اور مضبوط تر دکھائی دیتی۔ ”آج کا دن ہی برا ہے۔“ چادر اتار کر گولا سا بنا کر دور اچھالی اور منھ بناتے ہوئے الماری کھول کر دوسری چادر تلاش کرنے لگی تھی۔”کام اپنے سیدھے نہ ہوں تو دنوں کو برا نہیں کہتے۔“ رضیہ نے اس کی بات سن کر اسے ڈپٹا تھا۔”ہزار مرتبہ تمھیں سمجھایا کہ اپنی چیزیں یاد سے سنبھال کر رکھا کرو مگر تم ہو کہ سنتی ہی نہیں ہو۔“ ایک تو رکشہ باہر آ چکا تھا اس پہ امی کی ڈانٹ۔۔۔ اس کے غصے کا گراف بلند ہونے لگا تھا۔”نہیں مطیبہ نہیں! آج کے دن غصہ نہیں کرنا۔“ اس نے گہری سانس لے کر خود کو پُرسکون کیا اور انھیں جواب دیا تھا:”چیزیں سنبھالتی تو ہوں امی!“ اور چادر ڈھونڈنے کی تگ و دو میں ساری الماری اتھل پتھل ہو گئی تھی۔”کچھ زیادہ ہی سنبھال دیتی ہو۔“ انھوں نے اسے گھورا تھا۔”میں چیزیں رکھ کر بھول جاتی ہوں۔ ایسا لگتا ہے گجنی کا عامر خان بن گئی ہوں۔“ اس بات پر شہرین کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔”تم میری چادر لے جاؤ۔“ اس نے اس کی مشکل آسان کی تھی۔”سفید چادر۔۔۔ کوئی داغ دھبہ لگ گیا تو۔۔۔“ وہ متذبذب ہوئی۔”دھل جائیں گے۔ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔“لیکن تم کیا اوڑھو گی۔“ میں دوسری چادر ڈھونڈ لوں گی۔“ شہرین کے اصرار پر اس نے چادر اوڑھی اور حافظ کہتی گھر سے نکل گئی تھی۔ لیکن دل، دل تھا کہ عجیب سی اداسی اور بے کلی میں گھرا ہوا اتنا چپ جیسے موت سے پہلے کی خاموشی۔۔۔کیوں اجڑ جاتی ہے دل کی محفلیہ دیا کون بجھا دیتا ہےوہ نہیں دیکھتے ساحل کی طرفجن کو طوفان صدا دیتا ہےشور دن کو نہیں سونے دیتاشب کو سناٹا جگا دیتا ہےاس کی مرضی ہے وہ ہر راحت میںرنج تھوڑا سا ملا دیتا ہےدکھ تو دیتا ہے ترا غم لیکندل کو اکسیر بنا دیتا ہےتجھ سے پہلے دل بے تاب مجھےتیری آمد کا پتا دیتا ہےاب تسلی بھی اذیت ہے مجھےاب دلاسا بھی رلا دیتا ہے(سیف الدین سیف)٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ آج اسکول ضرور جائے گی؟ پچھلے دو دن سے وہ گھر سے باہر نہیں نکلی۔“ قیام ہارون نے پستول کی گولیاں چیک کرتے واصب سے پوچھا تھا۔”کیا تمھیں یقین ہے کہ تم یہ کام کرنا چاہتے ہو؟“ واصب نے الٹا اسی سے سوال پوچھا تھا۔”کیا تمھیں یقین ہے کہ جو تم کرنے جا رہے ہو بختاور وہ سب جاننے کے بعد بھی تمھیں قبول کر لے گی؟“ قیام ہونٹ دانتوں میں چباتا بے چینی سے پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔ اس بات کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ البتہ اس کی بات نے واصب کو قائل ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔”ابھی میرے پیش نظر آپ کا کام ہے جس کے پورا ہونے کے بعد آپ نے مجھ سے بختاور کی شادی کروانے کا وعدہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ اپنا وعدہ پورا کریں گے۔“ قیام ہارون نے پستول ہاتھ میں پکڑی تھی۔ دل میں کہیں یہ خیال کنڈلی مارے بیٹھا اسے ڈس رہا تھا کہ وہ جو کرنے جا رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اپنی محبت کے حصول کے لیے کسی کی جان لینا، یہ کسی طور ٹھیک نہیں تھا۔ محبت کرنے والے کسی کی جان نہیں لیتے۔”محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔“ اس نے یہ کَہ کر خود کو تسلی دی اور واصب کو دیکھا جو انا اور ضد میں اندھا ہو گیا تھا۔ وہ اپنی محبت کو پانے کے لیے تو واصب اپنی انا پہ لگی چوٹ کے مرہم کے لیے، آج کسی کی جان کی بازی لگانے جا رہے تھے۔”میری محبت اور اس کی جنگ۔۔۔ ہاں! محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔“ اس نے چیختے چلاتے اپنے ضمیر کو تھپک تھپک کر سلایا تھا۔”اف! یہ بے وقوف لڑکیاں۔۔“ واصب نے مطیبہ کا نمبر ملایا تھا۔ اس امید پر کہ شاید اب وہ اسے ان بلاک کر چکی ہو گی لیکن اس بار مطیبہ اس کی سوچ سے کہیں زیادہ پکی ثابت ہوئی تھی۔ غصے سے بڑبڑاتے ہوئے اس نے اسکول کا نمبر ملایا تھا۔”کیا میں مس مطیبہ سے بات کر سکتا ہوں؟“ فون کے دوسری جانب خضریٰ تھی۔ جو اس کی آواز پہچان کر فون بند کرنا ہی چاہتی تھی لیکن ایک دم کچھ سوچ کر بول اٹھی تھی۔”مطیبہ آج اسکول نہیں آئی۔ اس کی طبیعت خراب تھی۔“ ”اور شہرین۔۔؟“ واصب نے پوچھا تھا۔”وہ ابھی کلاس میں ہے اور کلاس کے دوران میں فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔“” اوکے بہت شکریہ!“ واصب نے فون بند کیا اور قیام کی طرف دیکھا۔”آج یہ کام کرکے ہی دم لوں گا۔“ ایک گھنٹے میں اسے چھٹی ہو جائے گی۔”بائیک تم چلاؤ گے اور اس کی گلی میں پہلے سے موجود ہوں گے۔“ وہ اسے ایک بار پھر سارا لائحہ عمل بتانے لگا تھا۔”کیا پتا وہاں کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ۔۔۔“”نہیں ہے۔“ واصب نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹی تھی۔”تم نے بھی دیکھا تھا اور میں بھی کئی مرتبہ وہاں جا کر چیک کر چکا ہوں۔“ کچھ ہی دیر میں وہ اس گلی میں داخل ہو چکے تھے۔ گرمیوں کے باعث دوپہر کے وقت ہر طرف سناٹا تھا۔ گلی کے نکڑ پر موجود کریانہ اسٹور بھی اس وقت بند تھا۔ قیام نے بائیک کو گلی کے بند سرے تک لے جا کر واپس موڑا تھا۔”وہ رکشے پہ آ رہی ہے۔ رکشے سے اتر کر فوراً گھر میں داخل ہو جائے گی تو آپ۔۔۔“ تبھی ایک لڑکی ایک ہاتھ میں بکے، ایک میں کیک کا ڈبہ اٹھائے گلی میں داخل ہوتی نظر آئی تھی۔”وہ سامنے دیکھو۔۔!!!“ واصب نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا تھا۔”یعنی آج تو قسمت بھی خوب ساتھ دے رہی ہے۔“ وہ عجیب سے انداز میں ہنسا تھا۔”میری قسمت ہمیشہ ہی میرا ساتھ دیتی ہے۔“ وہ فخر سے سر اٹھا کر اکڑ کر بولا تھا۔”اب چلو۔۔۔“ قیام نے بائیک کو ہلکے سے کک لگاتے ہلکی رفتار سے حرکت دینا شروع کی تھی۔ وہ لڑکی اپنے گھر سے محض چھ سات قدم دور تھی اور ان سے پندرہ قدم کی دوری پر ہو گی کہ واصب نے دائیں طرف کو جھکتے ہوئے جیب سے پستول نکال کر پہلی گولی چلائی تھی۔ گولی کی آواز سناٹے کو چیرتی اس کی دائیں ٹانگ میں پیوست ہوئی تھی۔ خون کا فوارہ تھا جو اس کی ٹانگ سے بہا تھا۔ اس کی دل خراش چیخ نے قیام کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ پیدا کی تھی۔ اس نے بڑی مشکل سے بائیک کو لڑکھڑانے سے روکا تھا۔ واصب نے دوسری گولی عین تاک کر اس کے دل کا نشانہ لیتے ہوئے چلائی تھی۔ گولیوں کی آواز اور اس کی دل دہلا دینے والی چیخیں اس سناٹے کی فضا کو درہم برہم کر گئی تھیں۔ بہت جلد آس پاس کے گھروں سے لوگ نکلنا شروع ہو جاتے۔ واصب نے قیام کو فوراً وہاں سے نکلنے کا کہا تھا۔”قیام! جلدی چلو!“ قیام تو جیسے اپنے آپ میں تھا ہی نہیں۔ بائیک کو ریس دیے بغیر، خون میں لت پت پڑی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔”قیام۔۔! بھاگو یہاں سے۔۔“ واصب نے چیختے ہوئے اسے کہا تھا۔”اوہ شٹ!“ اور دریں اثنا اس کی نظر بےجان و ساکت وجود پر پڑی تو ںے ساختہ اس کے منھ سے نکلا تھا۔ قیام ہارون نے کسی کے بھی گلی میں آ جانے سے پہلے بائیک وہاں سے نکال لی تھی۔”کیا ہوا؟ آپ ابھی کس بات پہ حیران ہوئے تھے؟“ سڑک پر آنے کے بعد، جب اس کے حواس مجتمع ہوئے تو اس نے واصب سے پوچھا تھا۔”آں ہاں! کچھ نہیں ہوا۔۔“ وہ سر جھٹک کر بات ٹال گیا۔ اب وہ اسے کیا بتاتا کہ انھوں نے غلط لڑکی کو مار دیا تھا۔”اس کا مطلب ہے آج مطیبہ نہیں، شہرین چھٹی پہ تھی۔ اس کی دوست نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا۔“ اس کا دماغ تیزی سے سارے الجھے تانے بانے سلجھانے میں مصروف تھا۔”میں اسے پہچاننے میں کیسے غلطی کر گیا۔۔؟“ کیا صرف چادر کی وجہ سے وہ اتنی بڑی غلطی کر گیا تھا؟ اسے اب خود پر غصہ آ رہا تھا لیکن خیر۔۔۔ جو ہونا تھا ہوا۔ ابھی اس کے پاس شہرین کو سبق سکھانے کا ایک موقع اور بھی تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لہیم جاہ کے نکلنے کے کچھ دیر بعد ہی نرس آ گئی تھی۔ تابعہ نے اس کی مدد سے تازہ دم ہو کر ناشتہ کیا تھا۔ اپنی دوا لے کر وہیل چیئر پر کمرے کی کھڑکی کے پاس آئی تھی۔ کچھ دن کا روشن اجالا اور کچھ ساتھ نرس کی موجودگی کا اثر تھا کہ رات جیسی تنہائی اور وحشت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ ”کیا ساری عمر اسی گھر میں یوں ہی اکیلے گزارنی پڑے گی؟“ کھڑکی کے پردے ہٹا کر باہر دیکھا تھا۔ دھوپ میں شدت تھی۔ کمرے میں اے سی کی خنکی میں گرمی کا احساس نہیں ہو رہا تھا تاہم باہر چمکتی دھوپ سے اندازہ ہو رہا تھا کہ گرمی زوروں پر ہے۔”یہ نرس بھی، جب میں تن درست ہو جاؤں گی، تو یہ بھی نہیں آئے گی۔“ پردہ برابر کر کے ذرا سا رخ موڑ کر صوفے پر بیٹھی نرس کو دیکھا جو موبائل میں منہمک تھی۔ ”پھر وہی تنہائی ہو گی۔“ آہٹ ہوئی تو نرس نے موبائل سے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پیشہ ورانہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی اور دوبارہ فون کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔”میں تو پہلے بھی تنہا ہی ہوتی تھی۔“ اس نے خود کو تسلی دینے کی ادنیٰ سی کوشش کی تھی۔”لیکن ایسی تنہائی۔۔۔ نہ پاس باپ نہ ساتھ بھائی۔۔۔“کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہاہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہاشام تنہائی کی ہے آئے گی منزل کیسےجو مجھے راہ دکھا دے وہی تارا نہ رہااے نظارو نہ ہنسو مل نہ سکوں گا تم سےتم مرے ہو نہ سکے میں بھی تمھارا نہ رہاکیا بتاؤں میں کہاں یوں ہی چلا جاتا ہوںجو مجھے پھر سے بلا لے وہ اشارہ نہ رہا(مجروح سلطان پوری)تکلیف دہ سوچوں کی یلغار اور بے بسی کا عالم تھا کہ وہ وہیل چیئر کی ہتھی پہ سر ٹکائے بے تحاشا روتی چلی گئی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

