شہرین کی طبیعت سنبھل تو گئی تھی لیکن ابھی بھی اتنی نقاہت تھی کہ اس کے بارہا کہنے کے باوجود رضیہ نے اسے اسکول جانے نہیں دیا تھا۔”جانے دیں نا پھوپھو! آج ہم کولیگز نے اسے سرپرائز پارٹی دینی ہے۔ ساری تیاری مکمل ہے۔“ وہ ان کے منع کرنے پر دل مسوس کر رہ گئی تھی۔”طبیعت ٹھیک ہو گی تو پارٹیاں بھی ہوتی رہیں گی۔ گھر بیٹھو اور آرام کرو۔“ وہ کسی صورت اس کے جانے کے حق میں نہیں تھیں۔”لیکن پھوپھو میں اب ٹھیک ہوں نا!“ ”کیا خاک ٹھیک ہو؟ رنگ دیکھو کیسا ہلدی جیسا پیلا ہو رہا ہے۔“ وہ اسے نظر بھر کر دیکھ کر گویا ہوئی تھیں۔”مطیبہ کیا سوچے گی کہ۔۔۔“ ”وہ کچھ بھی نہیں سوچے گی۔ یہ دیکھو! آج اسی کے لیے تو بڑے گوشت کا پلاؤ بنا رہی ہوں۔ زعیم کیک لے آئے گا۔ تم سمجھو یہ بھی سرپرائز ہو گیا اور دیکھنا وہ اسی میں خوش ہو جائے گی۔“ ان کے لہجے میں بیٹی کے لیے محبت کا سمندر موج زن تھا۔ شہرین سن کر ہنس پڑی تھی۔”اب تمھیں کیا ہوا؟“ لہسن چھیلتے ہوئے انھوں نے مصروف سے انداز میں اس سے اچانک ہنسنے کی وجہ پوچھی تھی۔”طیبہ باجی ٹھیک ہی کہتی ہیں کہ آپ اور مطیبہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔“ وہ وضاحت طلب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔”لڑتی جھگڑتی بھی رہیں گی اور ایک دوسرے کے بغیر گزارا بھی نہیں ہے۔“ اب کی بار وہ بھی ہنس دی تھیں۔”ہاں! کہتی تو طیبہ سچ ہی ہے۔ بس اللہ جلدی اسے اپنے گھر کا کرے تو میں بھی سکون سے مر سکوں۔“ انھوں نے دل کی بات کہی۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ مطیبہ کی شادی کو لے کر اکثر ہی پریشان رہا کرتی تھیں۔ وہ تو مقدر پہ بس نہیں چلتا تو چپ ہو رہتیں ورنہ نہ جانے کیا کرتیں۔”مرنے کی باتیں کیوں کرتی ہیں پھوپھو۔۔؟“ اس نے خفگی سے انھیں دیکھا تھا۔”آپ دیکھیے گا بہت جلد وہ اپنے گھر۔۔۔“ ٹھاہ کی آواز کے ساتھ اس کی آواز بیچ میں رہ گئی تھی۔”الٰہی خیر!“ رضیہ کے ہاتھ سے چھری چھوٹ کر پلیٹ میں گری تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭”مطیبہ نہیں آئی؟“ خضری نے سفید چادر کی جھلک دیکھی تھی اور سر اٹھائے بغیر ہی پوچھا تھا۔”میں نہیں آئی تو تمھارے سامنے میرا بھوت کھڑا ہے؟“ وہ کمر پہ ہاتھ رکھے لڑاکا طیارہ بنی تھی۔”اوہ! تمھاری چادر۔۔۔“ اب کی بار اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور سر پر ہاتھ مارا تھا۔”سفید چادر اوڑھتی جو نہیں ہو اور چادر ہے بھی شہرین کی تو مجھے لگا کہ وہی ہے۔“”چادر اس کی ہے لیکن شکل تو میری ہی ہے۔“ اسے پتا نہیں کیوں غصہ آ رہا تھا؟”اچھا نا! غلطی ہو گئی، معاف کر دو۔“ اس نے ہاتھ جوڑے اور سر ہلا کر بولی:”پتا نہیں صبح صبح کیا کھا کر آئی ہو؟“ وہ جانتی تھی کہ اس نے سال گرہ کی مبارک نہیں دی اور اب اس بات کا غصہ کسی نہ کسی طرح تو نکلنا ہی تھا۔”زہر نہیں ملا ورنہ وہی کھا آتی۔“ وہ تڑخ کر کہتی اپنی نشست سنبھال گئی۔ خضری نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا تھا اور ایک پل کو جی چاہا کہ اسے مبارک دے ہی دے لیکن شہرین کی سختی سے ہدایت کی تھی کہ اسے کسی نے ایک پیغام تک نہیں دینا ورنہ سرپرائز کا کیا فائدہ؟”مطیبہ!“ اس نے آواز لگائی۔”ہوں!“ سر اٹھائے بغیر جواب دیا تھا۔”شہرین کیوں نہیں آئی؟“ ”اسی سے پوچھ لو۔“”انگارے کیوں چبا رہی ہو؟ تم ہی بتا دو نا! میرا پیکج ختم ہو گیا ہے ورنہ اسی سے پوچھ لیتی۔“ اس نے پیار سے پچکار کر کہا تھا۔”صبح تیار تھی آنے کے لیے، پھر اچانک ہی طبیعت خراب ہو گئی۔“ اس نے بتایا اور پھر سر جھکا کر اپنا کام کرنے لگی تھی۔”آج میرا بھی اسکول آنے کا دل نہیں کر رہا تھا پھر سوچا کہ دونوں ہی نے چھٹی کر لی تو ڈائریکٹر صاحب کا سانس ہی نہ رک جائے۔“ رجسٹر بند کرکے واپس رکھتے ہوئے اس نے مطیبہ کو کہتے سنا تھا۔”تم چھٹی کرتی تو سہی! سر کی سانس بعد میں رکتی، اس سے پہلے میں تمھارا دم روک دیتی۔“ اس نے دانت کچکچا کر کہتے اسے گھورا تھا۔”کاش کہ دم رک ہی جائے۔۔“ وہ عجیب سے دکھ بھرے افسردہ لہجے میں بولی تو خضری کے دل کو کچھ ہوا تھا۔”کیا ہو گیا ہے مطیبہ؟ ایسی فضول بکواس کیوں کر رہی ہو؟“ ”سچ کَہ رہی ہوں، دل اکتا سا گیا ہے۔“”مایوسی کفر ہے۔“”بظاہر سب کچھ ہے، کہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے لیکن پھر بھی لگتا ہے جیسے کچھ ہے جو ادھورا ہے، کچھ ہے جس کی تلاش ہے۔“ وہ پین بند کرکے رکھتی، کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی۔”اب تو جی چاہتا ہے کہ سانسوں کی مالا ٹوٹ جائے اور زندگی کی لڑی بکھر جائے۔“”مطیبہ! تم مجھے ڈرا رہی ہو۔“”مجھے خود ڈر لگ رہا ہے۔“ اس کے گلے میں جیسے ڈھیر سارے کانٹے اگ آئے تھے۔ ایک لفظ بولنا مشکل ہونے لگا تھا۔ہم محبت کے خرابوں کے مکیںوقت کے طول المناک کے پروردہ ہیںایک تاریک ازل نور ابد سے خالیہم جو صدیوں سے چلے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ساحل پایااپنی تہذیب کی پاکوبی کا حاصل پایاہم محبت کے نہاں خانوں میں بسنے والےاپنی پامالی کے افسانوں پہ ہنسنے والےہم سمجھتے ہیں نشان سر منزل پایاہم محبت کے کے خرابوں کے مکیںکنج ماضی میں ہیں باراں زدہ طائر کی طرح آسودہاور کبھی فتنۂ ناگاہ سے ڈر کر چونکیںتو رہیں سد نگاہ نیند کے بھاری پردےہم محبت کے خرابوں کے مکیں!ایسے تاریک خرابے کہ جہاںدور سے تیز پلٹ جائیں ضیا کے آہوایک بس ایک صدا گونجتی ہوشب آلام کی ”یاہو! یاہو”ہم محبت کے خرابوں کے مکیںریگِ دیروز میں خوابوں کے شجر بوتے رہےسایہ ناپید تھا سائے کی تمنا کے تلے سوتے رہے(ن ۔م راشد)”کل رات سے عجیب سی بے چینی ہو رہی ہے۔ دل کو کسی پل سکون نصیب نہیں ہو رہا۔ یوں لگتا ہے کچھ ہونے والا ہے۔“ وہ روہانسی ہوئی تھی۔”کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ تم الٹی باتیں مت سوچو! دیکھو! آج ہم نے تمھارے لیے پارٹی کا بند و بست کیا ہے۔“ اس کی کیفیت دیکھتے ہوئے خضری نے خود ہی بتا دیا تھا۔ وہ مزید اسے اتنا اداس و دل گرفتہ نہیں دیکھ پا رہی تھی۔”کیا؟ کیوں؟“ اور جیسا اس نے سوچا تھا ویسا ہی ہوا۔ وہ پل بھر میں اس اداس کرنے والی تکلیف دہ کیفیت سے باہر آئی تھی۔”تمھاری سال گرہ کی خوشی میں۔۔۔“ ”تبھی تم نے اور شہرین نے ایک بار مبارک تک نہیں دی؟“ اس نے آنکھیں دکھائیں۔”ہاں! لیکن پلیز اب منھ بند رکھنا اور یہی ظاہر کرنا کہ تمھیں کچھ نہیں پتا۔“ خضری نے اس کا موڈ بحال ہوتے دیکھ کر سکھ کا سانس لیا پھر اس کمرے کا رخ کیا جسے وہ سجانے میں مصروف تھی۔ مطیبہ کچھ دیر اسے جاتا دیکھتی رہی پھر سر جھٹک کر سر جھکا گئی تھی۔ ذہن پھر انھیں سوچوں میں گھرنے لگا تھا۔”کچھ بھی نہیں ہو گا مطیبہ! خواہ مخوا ہی پریشان ہو رہی ہو۔“ اس نے خود کو گھرکا تھا۔”تمھارے ارد گرد کتنے پیار کرنے والے اور تمھارا خیال رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ تم ان کی محبتوں پہ دھیان دو اور باقی سب باتیں ذہن سے نکال دو۔“ شہرین نہیں آ سکی تھی تاہم خضری نے باقی ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کے دن کو یادگار بنا دیا تھا۔ کچھ طلبا بھی اس کے لیے کیک لے آئے تھے جسے اس نے مطیبہ کو دیا کہ گھر لے جائے گی۔ مطیبہ کمرے میں تھی وہ اکیلی کی کاؤنٹر پہ موجود تھی جب اسکول کی فون کی گھنٹی بجی تھی۔”جی کہیے!“”مطیبہ سے بات کروا دیں۔“ بات کرنے کے انداز سے وہ سمجھ گئی کہ دوسری طرف کون ہو سکتا ہے؟”وہ۔۔۔“ وہ یک لخت بولتے بولتے خاموش ہوئی تھی اگلے ہی پل کچھ سوچ کر ایک نتیجے پر پہنچی اور بولی:”وہ آج چھٹی پہ ہے۔“”اور شہرین؟“ شہرین کے ذکر نے اس کے یقین پہ مہر لگائی تھی۔”وہ کلاس میں اور کلاس کے دوران میں فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔“ اس نے سرعت سے جھوٹ کہتے دائیں ایک بار بھی نہیں سوچا تھا کہ کہیں اس جھوٹ کا خمیازہ کسی اور کو نہ بھگتنا پڑ جائے۔ ”اب یہ جان کیوں نہیں چھوڑ دیتا؟“ واصب حقانی کو غائبانہ کوستے ہوئے اس نے ریسیور کریڈل پہ رکھا تھا۔ پھر دیگر مصروفیات میں وہ مطیبہ سے اس کا ذکر کرنا ہی بھول گئی تھی۔”تمھارا بہت شکریہ!“ مطیبہ نے فرطِ محبت سے اسے گلے لگایا تھا۔ صبح سے چھائی ہو پژمردگی اور بےزاری جیسے اڑن چھو ہو گئی تھی۔”اب زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“ دونوں آگے پیچھے ہی سکول کے دروازے سے باہر نکلی تھیں۔ کیک، سرخ گلابوں کا گل دستہ اسی نے رکشے پہ رکھوایا اور ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہتی رخصت ہوئی تھی۔ راستے میں سیاہ جیکٹ پہنے دو موٹر سائیکل سوار زن سے رکشے کے پاس سے گزرے تھے۔”اس گرمی میں بھی جیکٹ۔۔۔“ ایک سرسری ہی سی نگاہ سے دیکھ کر اس نے سوچا اگلے ہی پل ”خیر مجھے کیا۔۔!؟“ سوچ کر سر جھٹک دیا تھا۔ گھر کی گلی میں داخل نہیں ہوئی تھی کہ رکشے کی چین اتر گئی اور وہ پیدل ہی گھر کی طرف جانے والی مرکزی گلی سے ہو کر ذیلی گلی میں آئی تھی۔ ایک ہاتھ میں کیک، دوسرے میں بیگ اور گل دستہ اٹھائے، اپنے خیالوں میں گم، گھر سے کچھ فاصلے پر تھی کہ سامنے نگاہ جو پڑی تو بائیک پہ دو لڑکے دکھائی دیے۔ دور کی نظر کم زور اور عینک بھی استعمال نہیں کرتی تھی، اس لیے چہرے واضح نہیں ہوئے البتہ دل ایک دم ہیبت زدہ سا ہوا تھا۔”یہ تو شاید وہی ہیں جو کچھ دیر پہلے۔۔۔۔“ وہ اس سے آگے سوچ ہی نہ پائی کہ گولی کی آواز ساکن فضا کا سینہ چیر گئی تھی۔ اسے لگا لوہے کی گرم سلاخ اس کی ٹانگ میں گھسیڑ دی گئی ہو۔ اس کے حلق سے کرب ناک چیخ نکلی تھی۔ہاتھوں سے چیزیں چھوٹ کر ہوا میں ہوتی زمین پر آ رہی تھیں۔ دوسری گولی عین دل کے مقام پر دل کے چیتھڑے کرتی آر پار ہوئی تھی۔ دوسری گولی ایسی جان لیوا ثابت ہوئی تھی کہ اس نے اگلی سانس لینے کا بھی موقع نہیں دیا تھا۔ وہ اپنے ہی خون کے دریا میں نہاتی پل بھر میں بے حس و حرکت ہوئی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گولی کے شور میں اور بد حواسی کے عالم میں ان سب نے وہ چیخ سنی ہی نہیں جو اگر سن لیتے تو شاید ایک دوسرے سے اتنے سوال جواب نہ کرتے۔ کچھ پل گزرے کہ دوبارہ وہی آواز گونجی تھی۔ اب کی بار آواز پہلے کی نسبت زیادہ قریب سے آتی سنائی دی تھی۔ پڑوس کے بند مکان میں لگے نیم و کیکر کے درختوں پر بیٹھے پرندے آواز سے گھبرا کر، خوف زدہ ہوتے ہوئے شور مچاتے ہوئے آسمان کی طرف اڑے تھے۔”یہ۔۔ یہ آواز کیسی ہے پھوپھو۔۔!؟“ شہرین بھی اس آواز کی دہشت سے لرز گئی تھی۔”یہ آواز کیسی تھی خالہ جی!“ ان کی بہو بھی باہر صحن میں آئی تھی۔”پتا نہیں! آج کل شہر کے حالات بھی ٹھیک نہیں رہتے۔ اللہ ہمارے محلے کو اپنی امان میں رکھے۔“ وہ چارپائی سے اتری تھیں۔ باہر گلی میں شاید گھروں سے نکل کر لوگ جمع کو رہے تھے۔ دروازے کے قریب سے آتی بلند آوازیں اور شور کسی ان ہونی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ وہ آوازیں یقیناً گولیاں چلنے کی تھیں جس نے دوپہر کے اس وقت سب کو نیند سے جگا کر گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ارے یہ کیسی آواز تھی؟“”گولی چلنے کی آواز سنی تم سب نے بھی؟“ گھر کے باہر، دروازے کے سامنے محلے کی عورتیں گھروں سے نکل نکل کر جمع ہو رہی تھیں۔ رضیہ بھی لہسن کی ٹوکری ایک طرف کرتے ہوئے باہر جانے کے لیے اٹھیں ۔”میں بھی تو باہر جا کر۔۔۔“ ان کی بات منھ میں ہی رہ گئی تھی کسی نے بدحواسی میں زور زور سے ان کا دروازہ بجایا تھا۔”رضیہ! رضیہ! کدھر ہو؟“ دو گھر چھوڑ کر رہائش پذیر ان کی پڑوسن شبانہ نے دروزاہ پیٹنے کے ساتھ ساتھ بد حواسی میں انھیں بھی صدا دی تھی۔”یہ تو مطیبہ۔۔۔“ اڑتی ہوئی سی آواز ان کے کانوں میں پڑی تھی۔ ان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لیا تھا۔ ”پھوپھو یہ۔۔۔۔“ شہرین کا رنگ فق ہوا تھا۔”یہ کیا۔۔۔“ انھیں نہ ہوش رہا کہ پیروں میں چپل نہیں ہے نہ دوپٹے کا ہی دھیان رہا تھا۔ شہرین نے بھی ان کی تقلید کی تھی۔ ”مطیبہ!!!“ دروازے سے دو قدم پیچھے، خون کا تالاب اور اپنے ہی خون میں لت پت، سانسوں کی مالا کے تار روح سے منقطع، سفید چادر خون سے اٹی ہوئی، چہار سو بکھرے پھول اس بے کسی کی موت پہ آب دیدہ۔۔۔وہ وقت مری جان بہت دور نہیں ہےجب درد سے رک جائیں گی سب زیست کی راہیںاور حد سے گزر جائے گا اندوہ نہانیتھک جائیں گی ترسی ہوئی ناکام نگاہیںچھن جائیں گے مجھ سے مرے آنسو مری آہیںچھن جائے گی مجھ سے مری بے کار جوانیشاید مری الفت کو بہت یاد کرو گیاپنے دل معصوم کو ناشاد کرو گیآؤگی مری گور پہ تم اشک بہانےنوخیز بہاروں کے حسیں پھول چڑھانےشاید مری تربت کو بھی ٹھکرا کے چلوگیشاید مری بے سود وفاؤں پہ ہنسوگیاس وضع کرم کا بھی تمہیں پاس نہ ہوگالیکن دل ناکام کو احساس نہ ہوگاالقصہ مآل غم الفت پہ ہنسو تمیا اشک بہاتی رہو فریاد کرو تمماضی پہ ندامت ہو تمہیں یا کہ مسرتخاموش پڑا سوئے گا واماندۂ الفت(فیض احمد فیض)”مطیبہ!“ شہرین اور رضیہ، دونوں ہی بیک وقت چلائی تھیں۔ وہ منظر ایسا ہی کرب ناک تھا کہ دونوں چاہ کر بھی اپنی چیخوں کا گلا نہ گھونٹ سکی تھیں۔ رضیہ برہنہ پا و برہنہ سر، افتاں و خیزاں اس کے بے جان وجود تک آئی تھیں۔ گرنے کے سے انداز میں گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھ کر اسے بازوؤں سے تھام کر جھنجوڑ جھنجھوڑ کر اٹھانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔”مطیبہ! میری بچی! آنکھیں کھول۔۔۔“ اس کا سر اٹھا کر گود میں رکھے، وہ دیوانوں کی سی کیفیت میں اسے جگانے کی تگ و دو کر رہی تھیں۔ ”یہ کیا مذاق ہے مطیبہ! اٹھ بھی جا اب۔۔۔“ اس کی بھابھی نے زعیم کو فون کیا تھا۔ ان کے علاوہ کسی کو ہوش نہیں تھا کہ وہ پولیس یا ایمبولینس کو فون کرے۔ عورتیں، بچے اور کچھ مرد بھی دھیرے دھیرے گلی میں اکٹھے ہونے لگے تھے۔ شاید ان میں سے ہی کسی نے خیال آنے پر 15 پہ کال کر دی تھی۔ ”پھوپھو۔۔۔“ شہرین نے ان کے قریب آ کر نا کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔”مطیبہ نہیں۔۔۔“”خبردار۔۔!“ انھوں نے اس کا ہاتھ جھٹک کر اسے جھڑک کر پیچھے کیا تھا۔”امی! مطیبہ!“ ہجوم کو دھکیلتے ہوئے، بھیڑ کو چیر کر زعیم کچھ ہی دیر میں وہاں آ موجود ہوا تھا۔ جتنی تیزی سے وہ آج بائیک بھگا کر لایا تھا شاید اس سے پہلے اس نے زندگی میں کبھی اتنی تیز بائیک نہیں چلائی تھی۔ نہ صرف بائیک بھگائی تھی بل کہ طیبہ کے شوہر کو بھی فون پہ گھر آنے کا کہا تھا۔ طیبہ کو نہیں بتایا کہ اچانک کوئی ناگہانی خبر ملنے پر اس کی طبیعت خراب ہو جاتی تھی۔”یہ کیسے ہو گیا؟ کس نے۔۔۔“ حلق میں آنسوؤں کا پھندا لگا تھا۔ ماں کے کندھے سے لگا وہ بچوں کی طرح بلک کر رویا تھا۔ وہاں موجود ہر آنکھ اشک بار تھی۔ تبھی سائرن کی آواز دور سے سنائی دینے لگی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”آپ کا فون بج رہا ہے۔“ رونے دھونے کا شغل جاری تھا۔ فون کی بجتی گھنٹی کی طرف دھیان ہی نہیں گیا تھا۔ فون بج کر بند ہوا وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوئی تو نرس کو ہی اٹھ کر اس کے پاس آنا پڑا تھا۔”میرا فون۔۔۔؟“ اس نے سر اُٹھایا۔ نرس کو دیکھا جو ایک ہاتھ میں موبائل دوسرے میں ٹشو باکس لیے کھڑی تھی۔ اس نے ایک ٹشو کھینچا پھر موبائل پکڑا۔ کوئی ان جان نمبر تھا۔”ہیلو۔۔۔“ قدرے جھجک کر، ڈرتے ڈرتے مدھم سی آواز میں ہیلو کہا تھا۔”تابعہ! کہاں تھی تم؟“ دوسری جانب عماد اس کی آواز سنتے ہی بے تابی سے بولا تو اس کی جان میں جان آئی تھی۔”تم خود کہاں تھے؟ تمھیں اب یاد آئی ہے میری؟“ سوال کے بدلے سوال کرتی وہ پھر سے رونے لگی تھی۔”کل رات کتنی مرتبہ میں نے تمھیں فون کیا تھا اور یہ نمبر۔۔۔ نیا نمبر لیا ہے کیا؟“ عماد ایک دم چپ ہوا تھا۔ وہ اس کا نمبر تک بھول چکی تھی یعنی اتنی ذہنی پسماندگی کا شکار تھی۔ اس کے دل سے بے ساختہ ہی اس اغوا کار کے لیے بد دعا نکلی تھی۔”ہاں! نیا ہی سمجھو۔“ اس نے مبہم سا جواب دیا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھ گیا کہ ہو نہ ہو لہیم جاہ نے اس کے نام سے اپنا ہی یا کوئی دوسرا نمبر محفوظ کیا ہو گا۔”وہ رات دراصل میں بہت تھکا ہوا تھا اور فون بھی شاید خاموشی پہ تھا۔“ اس نے جھوٹ سچ کا ملغوبہ بنا کر اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی اور وہ ہو بھی گئی تھی۔”لیکن دیکھو! صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے تمھیں فون کر رہا ہوں۔ مجھے تمھارا ہی خیال تھا۔ ہاں تم نے فون کیوں کیا تھا؟ “”مجھے گھر لے جاؤ! میں نے واپس آنا ہے۔“ وہ جو لمحہ بھر کو خاموش ہوئی تھی پھر سے رونے لگی تھی۔”پاگل نہ ہو تو۔۔۔ شادی کے بعد لڑکیاں، شوہر کے گھر کی رہتی ہیں۔ ماں باپ کے گھر واپس نہیں آتیں۔“ وہ بڑوں کی طرح اسے سمجھا کر بولا تھا۔”جن لڑکیوں کی شادی میری طرح ہوتی ہے وہ واپس آتی ہیں۔“ اس نے سسکی بھری اور عماد کا دل کٹا تھا۔”تابعہ! ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو؟ کچھ ہوا ہے؟“”اب اور کیا ہونا باقی ہے؟ باپ نے زندگی سے نکال دیا۔ کسی اجنبی کی زندگی میں ان چاہی بن کر شامل ہو گئی، ساری زندگی کا نظام اتھل پتھل ہو گیا اب بھی پوچھ رہے ہو کہ ہوا کیا ہے؟“ وہ ٹوٹے کانچ کی طرح چٹخی تھی۔”تابعہ! حوصلہ! تحمل!“ وہ اسے شانت کرنے کی غرض سے قدرے نرمی سے گویا ہوا تھا۔”مر گئی تابعہ! کہاں سے لاؤں حوصلہ؟ کیسے کروں تحمل؟“ وہ تڑخ کر کہتی پھر سے رونے لگی تھی۔”اتنا کیوں رو رہی ہو؟ یار! کَہ تو رہا ہوں کہ حوصلے سے کام لو، کچھ دن لگیں گے سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ وہ اس کی ذہنی کیفیت سے واقف تھا اسی لیے اسے ٹوکنے یا ڈپٹنے کے بجائے محبت سے سمجھاتے ہوئے بولا تھا۔”امی ہمیں بچپن میں کیا سکھاتی تھیں؟ بھول گئی؟ یہی نا کہ اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ جو ہوتا ہے اسے سمجھنا ہم انسانوں کی ناقص عقل کے بس کی بات نہیں ہوتی تو ہم نے کیا کرنا ہوتا ہے؟“ وہ بچپن کی یادیں کھنگالتے ہوئے اس کی توجہ دوسری جانب مبذول کروانے کی ایک اور سعی کر رہا تھا۔”صبر اور اللہ پر یقین۔۔۔“ وہ روتے سے چپ ہو کر بولی تھی۔ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوا تھا۔”جو ہوا اور جو ہو رہا ہے وہ یوں ہی ہونا لکھا تھا۔ شکوے شکایت کرکے صرف اللہ کی ناراضی کا سبب بنو گی اور کچھ نہیں۔“ وہ عمر میں اس سے چھوٹا ضرور تھا لیکن تجربے اور شعور میں اس سے زیادہ سمجھ داری کا ثبوت دے رہا تھا۔”جہاں تک بات اجنبی کی زندگی میں ان چاہی ہونے کا سوال ہے تو ۔۔۔تابعہ!“ اس نے بات ادھوری چھوڑ کر اس کا نام پکارا یہ یقین کرنے کے لیے کہ وہ سن رہی ہے یا نہیں؟”ہوں۔۔!“ آواز میں گھلی نمی گواہ تھی کہ وہ اب بھی بے آواز رو رہی تھی۔”اتنا رو رو کر خود کی طبیعت مزید خراب کرو گی۔“ ”اب نہیں رو رہی۔“ اس نے ٹشو سے ناک رگڑی تھی۔”اکیلی ہو؟“”ہاں!“”لہیم بھائی کہاں ہیں؟“ اس نے پوچھا اور وہ اس کے طرزِ تخاطب میں کھو گئی تھی۔”بھائی؟؟“”ہاں بھائی! اب تمھارے تعلق سے بہنوئی ہوئے تو بھائی ہی کہوں گا نا۔۔!“ اتنی دیر میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ بے ساختہ ہنس دی تھی۔ یوں جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے، تتلی کے رنگ مزید نکھر جائیں، سنہری دھوپ مزید چمکنے لگے اور صحرا میں مشک و عنبر سے لبریز ہوا چلنے لگے۔”دیکھو تو۔۔۔ صرف ذکر پہ ہی ہنس دی ہو اور پھر کہتی ہو کہ اجنبی ہیں۔“ عماد ہنس کر اسے چھیڑتے ہوئے دل ہی دل میں شکر گزار ہوا تھا۔ لہیم جاہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے یہ وہ اسے سمجھا نہیں سکتا تھا۔ ان دو دنوں میں جو اس نے محسوس کیا تھا وہ سمجھانے کی چیز تھی بھی نہیں۔ بس خود ہی محسوس ہو جاتا تھا اور اسے یقین تھا کہ تابعہ کو بھی جلد محسوس ہو جائے گا۔”ایسے ہی ہنستی رہنا، جلدی ہی سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ اس نے تسلی دی تو تابعہ نے سمجھ کر سر ہلایا تھا۔ اس سے بات کرنے کے بعد ذہن پہ چھائی مایوسی اور ناامیدی کی دھند چھٹ گئی تھی۔ ذہن پہ چھایا جمود کیا ہٹا، چہار سُو اجالا محسوس ہونے لگا تھا۔”سنو!“ اس نے نرس کو آواز دی تھی۔”مجھے بھوک لگی ہے، کچھ کھانے کے لیے لا دو۔“ نرس نے سن کر خوش دلی سے سر ہلایا اور انٹرکام پہ دوسرے ملازم کو کھانے کے لوازمات لانے کا کہا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لہیم جاہ مخصوص میز پہ نشست سنبھالے شدت سے عبدالمعید کا منتظر تھا۔ وہ اسے ضربان کرمانی کے متعلق بتانا چاہتا تھا۔ ایسے ہی عبدالمعید کے پاس بھی اسے بتانے کے لیے بہت کچھ تھا۔ جیسے ہی اس نے ہوٹل کی عمارت میں قدم رکھا اور احاطے سے گزر کر اندر کی طرف آتا دکھائی دیا لہیم جاہ نے ہاتھ کے اشارے سے بیرے کو کھانا چننے کا کہا تھا۔”واہ! کھانا بھی لگ گیا۔“ وہ جان بوجھ کر حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا تاکہ اس کے غصے کا پیمانہ بھانپ سکے۔ خلافِ عادت بگڑنے یا اسے سخت سنانے کے بجائے وہ پانی پلیٹ میں کھانا منتقل کرتے ہوئے عام سے لہجے میں بولا:”ہاں! میں نے آرڈر کر دیا تھا ورنہ دیر بہت ہو جاتی اور تمھارا کام ایسا ہے کہ اچانک ہی کوئی بلاوا بھی آ سکتا ہے۔“ کرسی کھینچتے ہوئے اس کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا۔”ذرا دیکھوں تو۔۔۔ یہ بات کون کر رہا ہے؟“ چہرے پر اب سچ مچ کی حیرت تھی۔”ذرا رخِ روشن کا دیدار تو کروانا۔ پتا تو چلے کہ واقعی یہ نادر و نایاب کلمات جناب لہیم جاہ ہی کے منھ سے ادا ہوئے ہیں۔“ وہ کرسی چھوڑ کر اس کا چہرہ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش میں تھا جب لہیم جاہ نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور تیوری چڑھا کر اسے گھورا تھا۔”تم لوگوں کو عزت راس نہیں آتی کیا؟“”تم لوگوں۔۔۔“ اس نے گھوم کر آگے پیچھے دیکھا تھا۔”میرے علاوہ کون موجود ہے؟“ ”اس سستی اور گھٹیا اداکاری پہ کوئی آسکر نہیں ملے گا تمھیں۔“ وہ کھا جانے والے لہجے میں بولا تو عبدالمعید کا جان دار قہقہہ فضا میں بکھرا تھا۔”تم نے سراہ دیا بس سمجھو میری اداکاری کا حق ادا ہو گیا۔“ وہ اسے تپانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔”عوام تم لوگوں کو عزت نہ دے کر بالکل ٹھیک ہی کرتی ہے۔“ وہ جل بھن کر بولا تو اب جا کر عبدالمعید اس کی باتوں کو سمجھا تھا کہ اس کا اشارہ سرکاری ملازمین کی طرف تھا۔”تم لوگوں کے کام ہی نہیں ہوتے عزت کروانے والے۔۔۔“ اس کی ہنسی نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا۔ وہ مزید اسے جلاتے ہوئے ہنستا ہی چلا گیا تو مجبوراً لہیم جاہ کو اپنا آزمودہ حربہ استعمال کرنا ہی پڑا تھا۔”تم بیٹھو گے یا میں چلا جاؤں۔۔۔“ وہ جتنی تیزی سے کرسی گھسیٹ کر کھڑا ہوا تھا وہ اس سے بھی زیادہ جلدی بیٹھ گیا تھا۔”تم سے میری ہنسی برداشت ہی نہیں ہوتی۔“”یہ تھرڈ کلاس فلموں کے مکالمے مجھ پر مت آزمایا کرو۔“ اس نے بیٹھتے ہوئے کہا تو اسے پھر مسخری سوجھی تھی۔”تو تم ہی کہو؟ کون سے آزماؤں؟“ ساتھ ہی اسے آنکھ مار کر اپنی پلیٹ میں سلاد ڈالنے لگا تھا۔”ڈپٹی کمشن صاحب یقیناً میرے ہاتھوں پٹتے اور اخبار کی سرخی بنتے بالکل اچھے نہیں لگیں گے۔“ وہ ہنسا پھر ایک دم ہاتھ اٹھا کر سیز فائر کرتے ہوئے بولا:”بس بس! اب یقین آ گیا کہ تم ہی ہو۔ ورنہ تمھیں دیکھ کر لگا تھا کوئی پرانی فلم کا عاشق بیٹھا ہے محبوبہ کے عشق میں گھائل، اس کے تیرِ نظر کا شکار۔۔۔“ اس نے بہ مشکل ہنسی ضبط کی تھی۔ جب کہ شدتِ ضبط سے لہیم جاہ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔”کل ہی شادی ہوئی ہے بندہ گھر رہ کر نئی نویلی بیوی کے ناز نخرے اٹھاتا ہے۔ اس سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے اور یہ ہمارے مہا راج ہیں کہ دوسرے ہی روز کام پہ بھاگے چلے آئے ہیں۔“ کھانے کے ساتھ ساتھ اس کی زبان بھی فراٹے بھر رہی تھی۔”مجھے میری شادی کے وقت ایسی فراغت نصیب ہوتی تو یقیناً گھر سے قدم ہی نہ نکالتا۔“ ”تمھاری شادی ان حالات میں ہوتی تو تمھاری بیوی تمھیں خود گھر سے نکال دیتی۔“ اس نے گویا ہری مرچ چبائی تھی۔ اس نے پانی کا گھونٹ بھرتے تاسف سے سر ہلایا اور بولا:”تمھیں کہا تھا کہ ان حالات کو قبول کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ وقت لگے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ اب کی بار سنجیدگی سے بولا تھا لیکن وہ پھر بھی چڑ گیا تھا۔”اور کتنا وقت لگے گا؟“ وہ اتاولے پن سے بولا تھا۔”چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے۔ تم تو یار کمال کرتے ہو، ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہو۔“”میں ہتھیلی پر سرسوں نہیں زعفران اگانا چاہتا ہوں۔“ لہیم جاہ نے اس بے ساختگی سے کہا تھا کہ وہ پھر اپنی ہنسی روک نہیں سکا تھا۔ چکن کا ٹکڑا کانٹے سے منھ میں رکھتے ہوئے دائیں بائیں سر ہلا کر بولا:”مان لیا کہ تمھیں عشق ہو ہی گیا ہے۔“؎ عشق نے غالبؔ نکما کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کےاس جیسے سنجیدہ مزاج بندے سے ایسی باتوں کا سرزد ہونا واقعی اپنے آپ میں کمال تھا۔ ابھی وہ مزید کچھ کہتا کہ اس کے دفتری نمبر پر کال موصول ہوئی تھی اور جس نمبر سے کال آ رہی تھی وہ دیکھ کر اس کا چوکنا ہونا لازمی تھا۔ اس نمبر سے فون آنا یقیناً کسی گھمبیر صورت حال کی طرف اشارہ تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

